عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ جب نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے کندھوں کے برابر تک اٹھاتے اور جب رکوع کے لیے تکبیر کہتے (تب بھی دونوں ہاتھوں کو اٹھاتے) اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تب بھی اسی طرح اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے اور "سَمِعَ الله لمن حَمِدَهُ رَبَّنَا ولك الحمد" کہتے۔ جب کہ سجدوں میں ایسا نہیں کرتے تھے۔
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نماز میں تین مقامات پر اپنے ہاتھوں کو کندھے کے برابر یا بالمقابل اٹھایا کرتے تھے۔
پہلا مقام : آغاز نماز میں تکبیر تحریمہ کے وقت۔
دوسرا مقام : رکوع کے لیے تکبیر کہتے وقت۔
تیسرا مقام : رکوع سے سر اٹھاتے اور "سمع الله لمن حمده ربنا ولك الحمد" کہتے وقت۔
آپ سجدے میں جاتے وقت اور سجدے سے اٹھتے وقت ہاتھ نہيں اٹھاتے تھے۔
فوائد
دونوں ہاتھوں کو اٹھانے میں ایک حکمت یہ پنہاں ہے کہ یہ نماز کی زینت اور اللہ تبارک و تعالی کی تعظیم ہے۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے ایک چوتھی جگہ میں بھی ہاتھ اٹھانا ثابت ہے۔ اس کا ذکر سنن ابوداود وغیرہ میں ابو حمید ساعدی کی ایک روایت میں ہے۔ یہ جگہ ہے تین اور چار رکعت والی نمازوں میں پہلے تشہد سے کھڑے ہونے کا مقام۔
آپ سے دونوں ہاتھوں کو دونوں کانوں کی لو تک، ان کو چھوئے بغیر، اٹھانا بھی ثابت ہے۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی ایک روایت میں مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم جب تکبیر کہتے تو دونوں ہاتھوں کو اٹھاکر دونوں کانوں کی لو تک لے جاتے۔
"سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ" اور "رَبَّنَا وَلَكَ الحَمْدُ" دونوں صرف امام اور منفرد کہیں گے۔ مقتدی صرف "رَبَّنَا وَلَكَ الحَمْدُ" کہے گا۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے رکوع کے بعد "رَبَّنَا وَلَكَ الحَمْدُ" کے چار صیغے نقل ہوئے ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے۔ بہتر یہ ہے کہ انسان ان تمام صیغوں کا اتہمام کرے کبھی اسے پڑھے اور کبھی اسے۔
حوالہ
صحيح البخاري (1/ 148) (735).
صحيح مسلم (1/ 292) (390).
الإلمام بشرح عمدة الأحكام، لإسماعيل الأنصاري (1/ 122).
تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، للبسام (ص151).
تنبيه الأفهام شرح عمدة الأحكام، لابن عثيمين (2/ 192).
ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے مجھے اسی طرح تشہد سکھایا، جیسے قرآن کی سورہ سکھاتے تھے۔ اس وقت میری ہتھیلی آپ کی دونوں ہتھیلیوں کے بیچ میں تھی۔ (تشہد کے الفاظ کچھ اس طرح تھے :) "التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ، وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلاَمُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلاَمُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ۔" بخاری اور مسلم میں ایک جگہ ہے : "بے شک اللہ ہی سلامتی والا ہے۔ لہذا جب تم میں سے کوئی نماز میں بیٹھے، تو کہے : "التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللهِ الصَّالِحِينَ۔" جب بندہ یہ الفاظ کہتا ہے، تو آسمان اور زمین میں رہنے والا اللہ کا ہر صالح بندہ اس کے دائرے میں آ جاتا ہے۔ "أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ"۔ پھر جو دعا چاہے، کرے۔"
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو وہ تشہد سکھایا، جو نماز میں پڑھا جاتا ہے۔ تشہد سکھاتے وقت آپ نے ان کے ہاتھ کو اپنے دونوں ہاتھوں کے درمیان رکھا ہوا تھا، تاکہ ان کی پوری توجہ آپ پر مرکوز رہے۔ آپ نے تشہد اسی طرح سکھایا، جس طرح قرآن کی سورہ سکھاتے تھے، جو اس بات کی دلیل ہے کہ آپ اس تشہد کے الفاظ اور معنی دونوں کی اہمیت کو پیش نظر رکھتے تھے۔ چنانچہ آپ نے کہا: "التَّحِيَّات لله" : اس سے مراد ہر وہ قول یا فعل ہے جو تعظیم پر دلالت کرتا ہو۔ اس طرح کے سارے اقوال اور افعال کا مستحق صرف اللہ ہے۔ "الصَّلَوَاتُ" : یعنی ساری نمازیں، فرض ہوں کہ نفل اللہ کے لیے ہیں۔ "الطَّيِّبَاتُ" : پاکی اور کمال پر دلالت کرنے والے سارے اقوال، افعال اور اوصاف اللہ تعالی کے لیے ہیں۔ "السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته" : آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہر آفت اور ناپسندیدہ چیز سے سلامتی اور ہر بھلائی میں اضافہ اور کثرت کی دعا۔ "السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين" : نمازی اور آسمان اور زمین میں رہنے والے ہر صالح بندے کے لیے سلامتی کی دعا۔ "أشهد أن لا إله إلا الله" : یعنی پورے یقین کے ساتھ اس بات کا اقرار کرتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی برحق معبود نہيں ہے۔ "وأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ ورسولُهُ" : میں آپ کے اللہ کا بندہ ہونے اور آخری رسول ہونے کا اقرار کرتا ہوں۔
اخیر میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے نمازی کو اس بات کی ترغیب دی ہے کہ وہ جو دعا چاہے، کرے۔
فوائد
اس تشہد کا محل ہر نماز کے آخری سجدے کے بعد کا قعدہ اور دو اور تین رکعت والی نمازوں میں دوسری رکعت کے بعد کا جلسہ ہے۔
تشہد میں 'التحیات' پڑھنا واجب ہے۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے ثابت الفاظ میں سے جن الفاظ میں چاہیں، تشہد پڑھنا جائز ہے۔
نماز میں پسندیدہ دعا کرنے كا جواز جب تک کہ وہ گناہ پر مبنی نہ ہو۔
دعا کرتے وقت آغاز اپنے نفس سے کرنا چاہیے۔
حوالہ
صحيح البخاري (8/ 59) (6265).
صحيح مسلم (1/ 301) (402).
الإلمام بشرح عمدة الأحكام، لإسماعيل الأنصاري (1/ 168).
تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، للبسام (ص206).
خلاصة الكلام شرح عمدة الأحكام، لفيصل آل مبارك (ص94).
عن أبي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا قام إلى الصلاة يُكَبِّرُ حين يقوم، ثم يُكَبِّرُ حين يركع، ثم يقول: سَمِعَ اللَّه لِمَنْ حَمِدَهُ، حين يَرْفَعُ صُلْبَهُ من الرَّكْعَةِ، ثم يقول وهو قائم: ربنا ولك الحمد، ثم يُكَبِّرُ حين يَهْوِي، ثم يُكَبِّرُ حين يَرْفَعُ رأسه، ثم يُكَبِّرُ حين يَسْجُدُ، ثم يُكَبِّرُ حين يَرْفَعُ رأسه، ثم يفعل ذلك في صلاته كلها حتى يقضيها، ويُكَبِّرُ حين يقوم من الثِّنْتَيْنِ بعد الجلوس، ثم يقول: أبو هريرة «إني لأشَبَهُكم صلاة برسول الله صلى الله عليه وسلم ».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے تھے، تو جس وقت کھڑے ہوتے تکبیر کہتے، پھر جب رکوع کرتے تو تکبیر کہتے، پھر رکوع سے اپنی پیٹھ اٹھاتے تو ”سَمِعَ اللَّه لِمَنْ حَمِدَهُ“ کہتے۔ پھر کھڑے ہونے کی حالت میں ”رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ“ کہتے۔ پھر جب (سجدہ کے لئے) جھکتے تو تکبیر کہتے، پھر جب (سجدے سے) سر اٹھاتے تو تکبیر کہتے، پھر جب سجدہ کرتے تو تکبیر کہتے، پھر جب (سجدے سے) سر اٹھاتے تو تکبیر کہتے۔ پھر پوری نماز میں اسی طرح کرتے یہاں تک کہ اس کو پورا کر لیتے۔ اسی طرح جب دو رکعتوں سے، بیٹھنے کے بعد اٹھتے (تب بھی) تکبیر کہتے۔ پھر ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں تم سب سے زیادہ رسول اللہ ﷺ کے مشابہ نماز ادا کرتا ہوں“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
نماز پوری کی پوری قول و فعل کے ذریعے اللہ کی تعظیم پر مشتمل ہے۔ اس حدیث میں نماز کے شعار کا بیان ہے جو کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی کبریائی اور عظمت کا اثبات ہے۔ اللہ نے اس کو نماز کا شعار اور خصوصیت بنایا کیونکہ نماز مشروع ہی اللہ کی عظمت و بزرگی کے بیان کے لئے ہوئی ہے۔
چنانچہ جب آدمی نماز میں داخل ہوتا ہے تو وہ بالکل سیدھا کھڑا ہو کر تکبیر تحریمہ کہتا ہے۔
اور جب قراءت سے فارغ ہوتا ہے اور رکوع کے لئے جھکتا ہے تو تکبیر کہتا ہے۔
جب رکوع سے اٹھتا ہے تو "سمع اللہ لمن حمدہ" کہتا ہے۔اور پوری طرح سیدھا کھڑا ہو جاتا ہے، پھر حالتِ قیام میں اللہ کی حمد و ثنا بیان کرتا ہے۔
پھر سجدے میں جانے کے لئے جھکتے ہوئے تکبیر کہتا ہے، پھر جس وقت سجدے سے اپنا سر اٹھاتا ہے تب بھی تکبیر کہتا ہے۔ پھر وہ اپنی پوری نماز میں اسی طرح کرتا ہے یہاں تک کہ اس سے فارغ ہو جاتا ہے۔ اسی طرح جب دو تشہد والی نماز میں پہلی تشہد سے اٹھتا ہے تو کھڑے ہونے کی حالت میں تکبیر کہتا ہے۔ چنانچہ شارع علیہ السلام نے ہر انتقال کو تکبیر کے ساتھ مخصوص کیا ہے سوائے رکوع سے اٹھنے کے۔
حوالہ
الإلمام بشرح عمدة الأحكام لإسماعيل الأنصاري، ط1، دار الفكر، دمشق، 1381ه
تيسير العلام شرح عمدة الأحكام للبسام، حققه وعلق عليه وخرج أحاديثه وصنع فهارسه: محمد صبحي بن حسن حلاق، ط10، مكتبة الصحابة، الإمارات - مكتبة التابعين، القاهرة، 1426 هـ
تنبيه الأفهام شرح عمدة لأحكام لابن عثيمين، ط1، مكتبة الصحابة، الإمارات، 1426ه
عمدة الأحكام من كلام خير الأنام صلى الله عليه وسلم لعبد الغني المقدسي، دراسة وتحقيق: محمود الأرناؤوط، مراجعة وتقديم: عبد القادر الأرناؤوط، ط2، دار الثقافة العربية، دمشق ، بيروت، مؤسسة قرطبة، 1408 هـ
صحيح البخاري، تحقيق: محمد زهير بن ناصر الناصر، ط1، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، 1422ه.
صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، 1423 هـ.
عن أَنَس بن مالك رضي الله عنه عَنْ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ: «اعْتَدِلُوا في السجود، ولا يَبْسُطْ أحدكم ذِرَاعَيْهِ انْبِسَاطَ الكلب».
انس بن مالك رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سجدے میں اعتدال کو ملحوظ رکھو اور تم میں سے کوئی بھی شخص اپنے بازوؤں کو کتے کی طرح نہ بچھائے“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
نبی ﷺ نے سجدے میں اعتدال کو ملحوظ رکھنے کا حکم دیا۔ اس کی صورت یہ ہے کہ نمازی سجدے میں اچھی ہیئت اختیار کرے بایں طور کہ اپنی ہتھیلیوں کو زمین پر ٹکا لے، اپنے بازوؤں کو اوپر اٹھا لے اور انھیں پہلوؤں سے دور رکھے۔ کیوں کہ یہ حالت نماز میں چستی اور دلچسپی کی غمازی کرتی ہے اور ا س اچھی ہیئت میں تمام اعضاء اس قابل ہو جاتے ہیں کہ اپنے اپنے حصے کی عبادت سر انجام دے سکیں۔ سجدے میں بازوؤں کو بچھانے سے منع کیا گیا کیوں کہ یہ سستی اور اکتاہٹ کی دلیل ہے اور اس میں کتے کی مشابہت ہوتی ہے جو کہ ایک غیر مناسب مشابہت ہے۔
حوالہ
- صحيح البخاري -الجامع الصحيح-؛ للإمام أبي عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري، عناية محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة، الطبعة الأولى، 1422هـ.
- صحيح مسلم؛ للإمام مسلم بن الحجاج، حققه ورقمه محمد فؤاد عبد الباقي، دار عالم الكتب، الرياض، الطبعة الأولى، 1417هـ.
- الإلمام بشرح عمدة الأحكام للشيخ إسماعيل الأنصاري -مطبعة السعادة- الطبعة الثانية 1392ه.
- تنبيه الأفهام شرح عمدة الأحكام -محمد بن صالح العثيمين -رحمه الله- مكتبة الصحابة -الشارقة- الإمارات العربية المتحدة، الطبعة الأولى، 1426هـ.
- تيسير العلام شرح عمدة الأحكام -عبد الله البسام- تحقيق محمد صبحي حسن حلاق -مكتبة الصحابة- الشارقة، الطبعة العاشرة، 1426هـ.
عن الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رضي الله عنهما قال: «رَمَقْتُ الصلاة مع محمد صلى الله عليه وسلم فوجدت قيامه، فَرَكْعَتَهُ، فاعتداله بعد ركوعه، فسجدته، فَجِلْسَتَهُ بين السجدتين، فسجدته، فَجِلْسَتَهُ ما بين التسليم والانصراف: قريبا من السَّوَاء».
وفي رواية: «ما خلا القيام والقعود، قريبا من السَّوَاءِ».
براء بن عازب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے محمد ﷺ کے ساتھ نماز کو غور سے دیکھا۔ آپ ﷺ کا قیام، رکوع، رکوع کے بعد سیدھا کھڑا ہونا، آپ ﷺ کا سجدہ اور دونوں سجدوں کے مابین بیٹھنا، آپ ﷺ کا (دوسرا) سجدہ اور سلام پھیرنے اور (نمازيوں کی طرف) رُخ كرنےکے مابین آپ ﷺ کا بیٹھنا، میں نے یہ سب اعمال تقریبا برابر پائے۔
ایک دیگر روایت میں ہے کہ :”سوائے قیام و قعود کے، (باقی سب اعمالِ نماز) تقریبا برابر ہوتے“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
براء بن عازب رضی اللہ عنہما نبی ﷺ کی نماز کی کیفیت کو بیان کر رہے ہیں۔ وہ یہ جاننے کے لیے غور سے آپ ﷺ کو دیکھتے تاکہ جان سکیں کہ آپ ﷺ کس طرح سے نماز پڑھتے ہیں اور یوں آپ ﷺ کی پیروی کر سکیں۔ براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں آپ ﷺ کی نماز کے اعمال باہم قریب قریب اور متناسب ہوتے تھے۔قراءت کے لیے آپ ﷺ کا قیام اور تشہد کے لیے آپ ﷺ کا بیٹھنا، آپ ﷺ کے رکوع، اعتدال اور سجدے سے مناسبت رکھتا تھا۔۔ مثلاً ایسا نہیں تھا کہ آپ ﷺ قیام کو بہت زیادہ لمبا کر دیتے اور رکوع کو مختصر یا پھر سجدے کو لمبا کر دیتے اور قیام یا جلوس کو مختصر۔ بلکہ آپ ﷺ نماز کے ہر رکن کو دوسرے رکن سے متناسب رکھتے۔
اس کا یہ مفہوم نہیں ہے کہ قیام اور تشہد کے لیے بیٹھنا، آپ ﷺ کے رکوع اور سجدہ کے برابر ہوتا تھا۔
بلکہ اس کا معنیٰ یہ ہے کہ ایسا نہیں تھا کہ آپ ﷺ ایک رکن کو مختصر کر دیتے اور دوسرے کو طویل۔
حوالہ
تيسير العلام، للبسام، الناشر: مكتبة الصحابة، الإمارات، مكتبة التابعين، القاهرة، الطبعة العاشرة، 1426هـ - 2006 م.
تنبيه الأفهام، للعثيمين، طبعة مكتبة الصحابة الإمارات، مكتبة التابعين، القاهرة، الطبعة الأولى، 1426.
تهذيب اللغة, المؤلف: محمد بن أحمد بن الأزهري الهروي، المحقق: محمد عوض مرعب, الناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت, الطبعة: الأولى، 2001م.
- تأسيس الأحكام، لأحمد بن يحيى النجمي, طبعة دار المنهاج.
صحيح البخاري، لأبي عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري، تحقيق محمد زهير بن ناصر الناصر، الناشر: دار طوق النجاة، الطبعة: الأولى 1422هـ.
صحيح مسلم، المحقق: محمد فؤاد عبد الباقي - الناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ مسجد میں تشريف لے گئے، تو ایک شخص مسجد ميں داخل ہوا۔ اس نے نماز پڑھی، پھر آکر نبی ﷺ کو سلام کیا، تو آپ ﷺنے فرمایا: ”لوٹ جاؤ، پھر نماز پڑھو، کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی“۔ اس نے لوٹ کر (دوبارہ) نماز پڑھی جیسے پہلے پڑھی تھی، پھر آیا اور نبی ﷺ کو سلام کیا، تو آپ ﷺ نے (پھر) فرمایا: ”لوٹ جاؤ، پھر نماز پڑھو، کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی“۔ (اسی طرح) تین مرتبہ (ہوا) تو اس شخص نے کہا: اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں اس سے بہتر (نماز) نہیں پڑھ سکتا ہوں۔ لہٰذا آپ مجھے سکھا دیجيے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو تکبیر کہو، پھر جتنا قرآن تم آسانی سے پڑھ سکتے ہو پڑھو، پھر رکوع کرو یہاں تک کہ رکوع میں تمھیں اطمینان حاصل ہو جائے، پھر سر اٹھاؤ یہاں تک کہ سیدھے کھڑے ہو جاؤ، پھر سجدہ کرو یہاں تک کہ سجدہ ميں تمھیں اطمینان حاصل ہو جائے، پھر سر اٹھاؤ، یہاں تک کہ اطمینان سے بیٹھ جاؤ اور اپنی پوری نماز میں اسی طرح کرو“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
نبی ﷺ ایک مرتبہ مسجد میں تشريف لے گئے، تو ایک صحابی رضی اللہ عنہ جن کا نام خلاد بن رافع تھا ،مسجد ميں آئے اور ہلکی نماز پڑھی جس ميں مکمل طور پر تمام اقوال وافعال کی ادائيگی نہيں کی۔ جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا۔ آپﷺ نے سلام کا جواب ديا، پھر ان سے فرمایا: لوٹ جاؤ پھر نماز پڑھو، کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی۔ وہ لوٹ گئے اور دوبارہ اسی طرح نماز پڑھی جس طرح پہلے پڑھی تھی، پھر نبی ﷺ کے پاس آئے، تو آپ ﷺ نےان سے کہا: لوٹ جاؤ، پھر نماز پڑھو، کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی۔ اسی طرح تین مرتبہ ہوا، وہ صحابی قسم کھا کر عرض کیا: اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمايا، میں نے جس طرح نماز پڑھی ہے اس سے بہتر نہیں پڑھ سکتا۔ لہٰذا آپ مجھے سکھا دیجئے۔ جب ان کے اندر سيکھنےکا شوق اور جذبہ پيدا ہوگيا اور وہ صحيح طريقۂ نماز جاننے کے لیے بالکل آمادہ ہوگئے، نیز بار بار لوٹانے کے بعد ان کے بھولنے کا احتمال بھی ختم ہوگيا، تو آپ ﷺ نے ان سےفرمایا: (جس کا مفہوم یہ ہے کہ) جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو تکبیرۂ تحريمہ کہو، پھر سورۂ فاتحہ پڑھنے کے بعد جتنا قرآن تم آسانی سے پڑھ سکتے ہو پڑھو، پھر رکوع کرو یہاں تک کہ اطمینان سے رکوع کرلو، پھر رکوع سے اٹھو یہاں تک کہ اطمينان کے ساتھ سیدھے کھڑے ہو جاؤ، پھر سجدہ کرو یہاں تک کہ اطمینان سے سجدہ کرلو، پھرسجدے سے سر اٹھاؤ یہاں تک کہ اطمینان سے بیٹھ جاؤ اور ان اقوال وافعال کی ادائيگی اسی طرح پوری نماز میں کرو سوائے تکبيرۂ تحريمہ کے، کيونکہ تکبيرۂ تحريمہ پہلی رکعت کے علاوہ کسی اور رکعت ميں نہيں ہے۔
اور ”مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ“ (يعنی جتنا قرآن سے آسان ہو) سے مراد کم سے کم سورۂ فاتحہ ہے، يہ بات اسی حديث کی دوسری روايات اور دوسرے دلائل سے مأخوذ ہے۔
حوالہ
صحيح البخاري (1/ 152) (757).
صحيح مسلم (1/ 298) (397).
تيسير العلام، للبسام (ص167).
تنبيه الأفهام، للعثيمين (2/ 213).
الإفهام في شرح عمدة الأحكام، عبد العزيز بن باز (ص203).
الإلمام بشرح عمدة الأحكام، لإسماعيل الأنصاري (1/ 138).
عن أبي قَتَادَةَ الأَنْصَارِيِّ رضي الله عنه قال: «أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يُصَلِّي وهو حامل أُمَامَةَ بنت زينب بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم ».
ولأبي العاص بن الربيع بن عبد شَمْسٍ رضي الله عنه : «فإذا سجد وضعها، وإذا قام حملها».
ابو قتادہ انصاری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ اُمامہ بنتِ زینب بنت رسول (ﷺ) -ابوالعاص بن ربیع بن عبدالشمس کی بیٹی- کو اٹھائے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے، جب آپ ﷺ سجدہ کرتے تو ان کو اتار دیتے اور جب کھڑے ہوتے تو اٹھا لیتے۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
نبی ﷺ اپنی نواسی امامہ بنت زینب بنت رسول اللہ ﷺ کو نماز پڑھنے کی حالت میں کندھے پر اٹھائے رکھتے، جب کھڑے ہوتے تو ان کو اپنے کندھے پر اٹھا لیتے، اور جب رکوع یا سجدہ کرتے تو انہیں محبت اور پیار سے زمین پر اتار دیتے .
حوالہ
تيسير العلام للبسام الناشر: مكتبة الصحابة، الأمارات - مكتبة التابعين، القاهرة الطبعة- العاشرة، 1426 هـ - 2006 م .
تنبيه الأفهام للعثيمين -طبعة مكتبة الصحابة الامارات - مكتبة التابعين- القاهرة- الطبعة الأولى 1426.
صحيح البخاري -أبو عبد الله محمد بن إسماعيل بن إبراهيم بن المغيرة الجعفي البخاري، تحقيق محمد زهير بن ناصر الناصر - الناشر : دار طوق النجاة -الطبعة : الأولى 1422هـ.
صحيح مسلم المحقق: محمد فؤاد عبد الباقي - الناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت.
تأسيس الأحكام -أحمد بن يحيى النجمي- دار المنهاج- القاهرة- مصر -الطبعة الأولى.
عن أَنَس بن مالك رضي الله عنه «أنّ النبي صلى الله عليه وسلم وأبا بكر وعمر رضي الله عنهما : كانوا يَسْتَفْتِحُونَ الصلاة بـ"الحمد لله رب العالمين"».
وفي رواية: « صَلَّيْتُ مع أبي بكر وعمر وعثمان، فلم أسمع أحدا منهم يقرأ "بسم الله الرحمن الرحيم"».
ولمسلم: « صَلَّيْتُ خلف النبي صلى الله عليه وسلم وأبي بكر وعمر وعثمان فكانوا يَسْتَفْتِحُونَ بـ"الحمد لله رب العالمين"، لا يَذْكُرُونَ "بسم الله الرحمن الرحيم" في أول قراءة ولا في آخرها».
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ اور ابوبکر وعمر رضی اللہ عنھما نماز ”الحمد للہ رب العالمين“ سے شروع کرتے تھے۔
اور ایک روایت میں ہے: میں نے ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنھم کے سا تھ نماز پڑھی، تو میں نے ان میں سے کسی کو بھی ”بسم اللہ الرحمٰن الرحیم“ پڑھتے ہوئے نہیں سنا۔
اور مسلم کی روایت میں ہے: میں نے نبی ﷺ، ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنھم کے پیچھے نماز پڑھی ہے، وہ نماز ”الحمد للہ رب العالمين“ سے شروع کرتے تھے اور ”بسم اللہ الرحمٰن الرحیم“ کا ذکر نہ شروع قراءت میں اور نہ آخر میں کرتے تھے۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ - متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ انھوں نے، نبی ﷺ کے ساتھ لمبی صحبت و وابستگی اور خلفاے راشدین کی ہم نشینی کے باوجود، کبھی ان میں سے کسی کو نماز میں ”بسم الله الرحمن الرحيم“ پڑھتے نہیں سنا؛ نہ ہی شروع قراءت میں اور نہ ہی آخر میں۔ وہ نماز ”الحمد لله رب العالمين“ سے شروع کرتے تھے۔
بسم اللہ کو جہراً پڑھنے کی مشروعیت کے حکم میں علماء کا اختلاف ہے۔ اس سلسلے میں کئی ایک اقوال وارد ہیں اور ان میں صحیح قول یہی ہے کہ نمازی نماز کی ہر رکعت میں فاتحہ سے پہلے بسم اللہ سراً پڑھے گا؛ نماز خواہ سری ہو یا جہری۔
حوالہ
تيسير العلام للبسام، الناشر: مكتبة الصحابة، الغمارات - مكتبة التابعين، القاهرة الطبعة- العاشرة، 1426 هـ - 2006 م .
تنبيه الأفهام للعثيمين -طبعة مكتبة الصحابة الإمارات - مكتبة التابعين- القاهرة- الطبعة الأولى 1426.
الإفهام في شرح عمدة الأحكام –عبد العزيز بن باز-اعتناء سعيد بن علي بن وهف القحطاني –الرياض –الطبعة الأولى -1435.
الإلمام بشرح عمدة الأحكام لإسماعيل الأنصاري -طبعة دار الفكر- دمشق -الأولى 1381.
خلاصة الكلام –فيصل المبارك الحريملي -الطبعة: الثانية، 1412 هـ - 1992 م.
صحيح البخاري -أبو عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري، تحقيق محمد زهير بن ناصر الناصر -الناشر : دار طوق النجاة -الطبعة : الأولى 1422هـ.
صحيح مسلم - المحقق: محمد فؤاد عبد الباقي - الناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت.
یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com