نماز میں دو سیاہوں (یعنی) سانپ اور بچھو کو مار ڈالو۔
عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «اقتلوا الأسودَين في الصلاة: الحيَّة، والعقرب».
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”نماز میں دونوں کالوں (یعنی) سانپ اور بچھو کو (اگر دیکھو تو) مار ڈالو“۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارمی نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
حدیث شریف سے واضح ہوتا ہے کہ حالتِ نماز میں سانپ اور بچھو کو مارنا مستحب ہے۔ کیوں کہ اس کا حکم وارد ہوا ہے۔ یہ اس لیے ہے کہ قتل کے لیے درکار حرکت محدود ہوتی ہے، اس سے نماز باطل نہیں ہوتی۔
حوالہ
السنن، لأبي داود سليمان بن الأشعث أبو داود السجستاني الأزدي، دار الفكر، تحقيق : محمد محيي الدين عبد الحميد.
سنن الترمذي، لأبي عيسى محمد بن عيسى الترمذي، تحقيق: بشار عواد معروف، دار الغرب الإسلامي – بيروت.
السنن، لابن ماجة أبو عبد الله محمد بن يزيد القزويني، تعليق: محمود خليل، مكتبة أبي المعاطي.
السنن، أحمد بن شعيب أبو عبد الرحمن النسائي، تحقيق: عبدالفتاح أبو غدة، مكتب المطبوعات الإسلامية – حلب، الطبعة الثانية، 1406 هـ – 1986 م.
مسند أحمد بن حنبل، لإبي عبد الله أحمد بن محمد بن حنبل، تحقيق أبو المعاطي النوري، عالم الكتب
مسند الدارمي المعروف بسنن الدارمي، تأليف الإِمَام أَبي مُحَمَّدٍ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بن الفضل الدَّارِمِيَّ، تحقيق: حسين سليم أسد.
تسهيل الإلمام بفقه الأحاديث من بلوغ المرام للحافظ أحمد بن علي بن حجر العسقلاني، شرحه الشيخ د. صالح بن فوزان الفوزان، اعتنى بإخراجه: عبد السلام السليمان،ط 1 ،1427 هـ/2006 م.
توضيح الأحكام من بلوغ المرام، لعبدالله بن عبد الرحمن البسام، مكتبة الأسدي، مكة، ط الخامسة 1423 هـ.
منحة العلام في شرح بلوغ المرام، تأليف: عبد الله بن صالح الفوزان، ط 1، 1427 هـ، دار ابن الجوزي.
یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com