میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا، آپ لوگوں کی امامت کر رہے تھے اور ابو العاص رضی اللہ عنہ کی بیٹی امامہ رضی اللہ عنہا جو نبی ﷺ کی صاحبزادی زینب رضی اللہ عنہا کی بیٹی تھیں، آپ کے کندھے پر تھیں، جب آپ رکوع میں جاتے تو انھیں کندھے سے اتار دیتے اور جب سجدے سے اٹھتے تو پھر انہیں اپنے کندھے پر بٹھا لیتے۔
عن أبي قتادة الأنصاري رضي الله عنه ، قال: «رأيتُ النبيَّ صلى الله عليه وسلم يَؤُمُّ الناس وأُمَامَة بِنْت أَبِي العَاصِ وهي ابنةُ زينب بنتِ النبي صلى الله عليه وسلم على عاتِقِه، فإذا ركَع وضَعها، وإذا رفَع مِن السُّجُود أعَادَها».
ابو قتادہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کو دیکھا، آپ لوگوں کی امامت کر رہے تھے، اور ابو العاص رضی اللہ عنہ کی بیٹی امامہ رضی اللہ عنہا جو نبی ﷺ کی صاحبزادی زینب رضی اللہ عنہا کی بیٹی تھیں، آپ کے کندھے پر تھیں، جب آپ رکوع میں جاتے تو انھیں کندھے سے اتار دیتے اور جب سجدے سے اٹھتے تو پھر انہیں اپنے کندھے پر بٹھا لیتے۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
حدیث شریف اس بات کی وضاحت کر رہی ہے کہ نبی ﷺ ابی العاص اور اپنی صاحبزادی کی بیٹی امامہ کو اٹھائے ہوئے لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے، رکوع اور سجدے کی حالت میں انہیں اتار دیتے اور جب کھڑے ہو جاتے تو انہیں اٹھا لیتے اور اسی طرح کیا کرتے تھے، (آپ ﷺ کا یہ فعل) اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ حالتِ نماز میں بچوں کو اٹھا لینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
حوالہ
صحيح البخاري، نشر: دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى، 1422هـ.
صحيح مسلم المحقق: محمد فؤاد عبد الباقي - الناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت.
توضيح الأحكام من بلوغ المرام للحافظ أحمد بن علي بن حجر العسقلاني، عبدالله بن عبد الرحمن البسام ، مكتبة الأسدي، مكة ، ط الخامسة 1423هـ.
منحة العلام في شرح بلوغ المرام، تأليف: عبد الله بن صالح الفوزان، ط 1، 1427هـ، دار ابن الجوزي، الرياض.
تسهيل الإلمام بفقه الأحاديث من بلوغ المرام للحافظ أحمد بن علي بن حجر العسقلاني، شرحه الشيخ د. صالح بن فوزان الفوزان، اعتنى بإخراجه: عبد السلام السليمان،ط 1، 1427ه/2006م.
یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com