یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ نمازی سجدے میں جاتے وقت گھٹنوں سے پہلے اپنے ہاتھوں کو رکھے گا۔ تاہم وائل بن حجررضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیث اس سے ٹکراتی ہے، جس میں آیا ہے کہ: نمازی جب سجدے کے لیےجھکے، تو اپنے ہاتھوں سے پہلے گھٹنے رکھے۔در حقیقت یہ ایک اجتہادی مسئلہ ہے، جس میں کشادگی ہے۔ اسی وجہ سے بعض فقہا نے نمازی کو دونوں میں سے کسی پر بھی عمل کرنے کا اختیار دیا ہے؛ اس بنا پر کہ یا تو دونوں طرح کی حدیثوں میں ضعف ہے یا پھر ان میں تعارض پایا جاتا ہے اور ان کی نظر میں ترجیح کی کوئی صورتبھی نہیں بنتی۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ اس سلسلے میں کشادگی ہے اور دونوں صورتوں میں سے کسی کو بھی اپنا لینے کا اختیار ہے۔
صحيح ابن خزيمة، أبو بكر محمد بن إسحاق بن خزيمة، المحقق: محمد مصطفى الأعظمي، الناشر: المكتب الإسلامي، بيروت. إرواء الغليل في تخريج أحاديث منار السبيل، محمد ناصر الدين الألباني، إشراف: زهير الشاويش، المكتب الإسلامي، بيروت، الطبعة: الثانية 1405هـ، 1985م. نيل الأوطار، محمد بن علي الشوكاني اليمني، تحقيق: عصام الدين الصبابطي، الناشر: دار الحديث، مصر، الطبعة: الأولى، 1413هـ، 1993م. بلوغ المرام من أدلة الأحكام، أحمد بن علي بن حجر العسقلاني، دار القبس للنشر والتوزيع، الرياض، المملكة العربية السعودية، الطبعة: الأولى 1435هـ، 2014 م.