سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

ابن عمر رضی اللہ عنہما (نماز میں سجدے میں جاتے ہوئے) اپنے ہاتھوں کو اپنے گھٹنوں سے پہلے (زمین پر) رکھتے تھے اور فرماتے کہ رسول اللہ ﷺ بھی ایسے ہی کیا کرتے تھے۔

كان ابن عمر يَضع يديه قبل رُكْبَتَيِه، وقال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يَفعل ذلك.
ابن عمر رضی اللہ عنہما (نماز میں سجدے میں جاتے ہوئے) اپنے ہاتھوں کو اپنے گھٹنوں سے پہلے (زمین پر) رکھتے تھے اور فرماتے کہ رسول اللہ ﷺ بھی ایسے ہی کیا کرتے تھے۔
اسے ابنِ خزیمہ نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ نمازی سجدے میں جاتے وقت گھٹنوں سے پہلے اپنے ہاتھوں کو رکھے گا۔ تاہم وائل بن حجررضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیث اس سے ٹکراتی ہے، جس میں آیا ہے کہ: نمازی جب سجدے کے لیےجھکے، تو اپنے ہاتھوں سے پہلے گھٹنے رکھے۔در حقیقت یہ ایک اجتہادی مسئلہ ہے، جس میں کشادگی ہے۔ اسی وجہ سے بعض فقہا نے نمازی کو دونوں میں سے کسی پر بھی عمل کرنے کا اختیار دیا ہے؛ اس بنا پر کہ یا تو دونوں طرح کی حدیثوں میں ضعف ہے یا پھر ان میں تعارض پایا جاتا ہے اور ان کی نظر میں ترجیح کی کوئی صورتبھی نہیں بنتی۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ اس سلسلے میں کشادگی ہے اور دونوں صورتوں میں سے کسی کو بھی اپنا لینے کا اختیار ہے۔

حوالہ

صحيح ابن خزيمة، أبو بكر محمد بن إسحاق بن خزيمة، المحقق: محمد مصطفى الأعظمي، الناشر: المكتب الإسلامي، بيروت. إرواء الغليل في تخريج أحاديث منار السبيل، محمد ناصر الدين الألباني، إشراف: زهير الشاويش، المكتب الإسلامي، بيروت، الطبعة: الثانية 1405هـ، 1985م. نيل الأوطار، محمد بن علي الشوكاني اليمني، تحقيق: عصام الدين الصبابطي، الناشر: دار الحديث، مصر، الطبعة: الأولى، 1413هـ، 1993م. بلوغ المرام من أدلة الأحكام، أحمد بن علي بن حجر العسقلاني، دار القبس للنشر والتوزيع، الرياض، المملكة العربية السعودية، الطبعة: الأولى 1435هـ، 2014 م.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
نماز کا طریقہ

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com