سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

سجدے میں اعتدال کو ملحوظ رکھو اورتم میں سے کوئی بھی شخص اپنے بازوؤں کو کتے کی طرح نہ بچھائے۔

عن أَنَس بن مالك رضي الله عنه عَنْ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ: «اعْتَدِلُوا في السجود، ولا يَبْسُطْ أحدكم ذِرَاعَيْهِ انْبِسَاطَ الكلب».
انس بن مالك رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سجدے میں اعتدال کو ملحوظ رکھو اور تم میں سے کوئی بھی شخص اپنے بازوؤں کو کتے کی طرح نہ بچھائے“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

نبی ﷺ نے سجدے میں اعتدال کو ملحوظ رکھنے کا حکم دیا۔ اس کی صورت یہ ہے کہ نمازی سجدے میں اچھی ہیئت اختیار کرے بایں طور کہ اپنی ہتھیلیوں کو زمین پر ٹکا لے، اپنے بازوؤں کو اوپر اٹھا لے اور انھیں پہلوؤں سے دور رکھے۔ کیوں کہ یہ حالت نماز میں چستی اور دلچسپی کی غمازی کرتی ہے اور ا س اچھی ہیئت میں تمام اعضاء اس قابل ہو جاتے ہیں کہ اپنے اپنے حصے کی عبادت سر انجام دے سکیں۔ سجدے میں بازوؤں کو بچھانے سے منع کیا گیا کیوں کہ یہ سستی اور اکتاہٹ کی دلیل ہے اور اس میں کتے کی مشابہت ہوتی ہے جو کہ ایک غیر مناسب مشابہت ہے۔

حوالہ

- صحيح البخاري -الجامع الصحيح-؛ للإمام أبي عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري، عناية محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة، الطبعة الأولى، 1422هـ. - صحيح مسلم؛ للإمام مسلم بن الحجاج، حققه ورقمه محمد فؤاد عبد الباقي، دار عالم الكتب، الرياض، الطبعة الأولى، 1417هـ. - الإلمام بشرح عمدة الأحكام للشيخ إسماعيل الأنصاري -مطبعة السعادة- الطبعة الثانية 1392ه. - تنبيه الأفهام شرح عمدة الأحكام -محمد بن صالح العثيمين -رحمه الله- مكتبة الصحابة -الشارقة- الإمارات العربية المتحدة، الطبعة الأولى، 1426هـ. - تيسير العلام شرح عمدة الأحكام -عبد الله البسام- تحقيق محمد صبحي حسن حلاق -مكتبة الصحابة- الشارقة، الطبعة العاشرة، 1426هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
نماز کا طریقہ

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com