اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم جب اپنی نماز سے نکلنا چاہتے تھے، تو دائيں اور بائيں سلام پھیرتے تھے۔ سلام پھیرنے کا طریقہ یہ تھا کہ پہلے اپنے چہرے کو دائيں جانب پھیرتے ہوئے "السلام عليكم ورحمة الله وبركاته" کہتے اور اس کے بعد بائیں جانب پھیرتے ہوئے "السلام عليكم ورحمة الله" کہتے۔
- نماز میں دو سلام ہیں اور سلام پھیرنا نماز کا ایک رکن ہے۔
- کبھی کبھی "وبركاته" بڑھا لینا مستحب ہے۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اس لفظ کا استعمال ہمیشہ نہیں کرتے تھے۔
- نماز میں دونوں سلاموں کے الفاظ کو زبان سے ادا کرنا ایک رکنِ واجب ہے۔ لیکن سلام کے الفاظ کو زبان سے ادا کرتے ہوئے منہ پھیرنا مستحب ہے۔
- "السلام عليكم ورحمة الله" منہ پھیرتے ہوئے کہنا چاہیے۔ نہ اس سے پہلے اور نہ اس کے بعد۔
سنن أبي داود (2/ 239) (997). المجموع شرح المهذب (مع تكملة السبكي والمطيعي) النووي (3/ 479). المنهاج شرح صحيح مسلم بن الحجاج، النووي (4/ 153). توضيح الأحكام شرح بلوغ المرام، لعبد الله البسام (2/ 291).