سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

ميں نے نبی ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی۔ آپ ﷺ اپنے دائیں طرف "السلام عليكم ورحمةُ اللهِ وبركاته" کہہ کر اور بائیں طرف "السلام عليكم ورحمةُ الله" کہہ کر سلام پھیرتے تھے۔

عَنْ وَائِل بن حُجرٍ رضي الله عنه قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانَ يُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ»، وَعَنْ شِمَالِهِ: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ».
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں: ميں نے نبی ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی۔ آپ ﷺ اپنے دائیں طرف "السلام عليكم ورحمةُ اللهِ وبركاته" کہہ کر اور بائیں طرف "السلام عليكم ورحمةُ الله" کہہ کر سلام پھیرتے تھے۔
رواه أبو داوددرجہحسن
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم جب اپنی نماز سے نکلنا چاہتے تھے، تو دائيں اور بائيں سلام پھیرتے تھے۔ سلام پھیرنے کا طریقہ یہ تھا کہ پہلے اپنے چہرے کو دائيں جانب پھیرتے ہوئے "السلام عليكم ورحمة الله وبركاته" کہتے اور اس کے بعد بائیں جانب پھیرتے ہوئے "السلام عليكم ورحمة الله" کہتے۔

فوائد
  1. نماز میں دو سلام ہیں اور سلام پھیرنا نماز کا ایک رکن ہے۔
  2. کبھی کبھی "وبركاته" بڑھا لینا مستحب ہے۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اس لفظ کا استعمال ہمیشہ نہیں کرتے تھے۔
  3. نماز میں دونوں سلاموں کے الفاظ کو زبان سے ادا کرنا ایک رکنِ واجب ہے۔ لیکن سلام کے الفاظ کو زبان سے ادا کرتے ہوئے منہ پھیرنا مستحب ہے۔
  4. "السلام عليكم ورحمة الله" منہ پھیرتے ہوئے کہنا چاہیے۔ نہ اس سے پہلے اور نہ اس کے بعد۔
حوالہ

سنن أبي داود (2/ 239) (997). المجموع شرح المهذب (مع تكملة السبكي والمطيعي) النووي (3/ 479). المنهاج شرح صحيح مسلم بن الحجاج، النووي (4/ 153). توضيح الأحكام شرح بلوغ المرام، لعبد الله البسام (2/ 291).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
نماز کا طریقہ

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com