سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فجر کی دونوں رکعتوں میں {قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ} اور {قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ} پڑھی۔

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ فِي رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ: {قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ}، وَ{قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ}.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فجر کی دونوں رکعتوں میں {قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ} اور {قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ} پڑھی۔
رواه مسلمدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم فجر کی نماز سے پہلے کی دو رکعت سنتوں کی پہلی رکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعد سورہ کافرون اور دوسری رکعت میں سورہ اخلاص پڑھتے تھے۔

فوائد
  1. فجر کی سنت میں سورہ فاتحہ کے بعد ان دونوں سورتوں کو پڑھنا مستحب ہے۔
  2. ان دونوں سورتوں کو سورہ اخلاص کہا جاتا ہے۔ کیوں کہ سورہ کافرون میں اللہ کے سوا پوجی جانے والی تمام چیزوں سے براءت کا اعلان کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ مشرک اللہ کے بندے نہيں ہیں، کیوں کہ ان کا شرک ان کے اعمال کو ضا‏ئع کر دیتا ہے۔ اللہ سبحانہ وتعالی ہی عبادت کا حق دار ہے۔ جب کہ سورہ اخلاص کے اندر توحید، ایک اللہ کی عبادت اور اللہ کی صفات کا بیان ہے۔
حوالہ

صحيح مسلم (1/ 502) (726). توضيح الأحكام مِن بلوغ المرام، لعبد الله البسام (2/ 390).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
نماز کا طریقہ

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com