سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

اللہ کے رسول ﷺ جب نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے کندھوں کے برابر تک اٹھاتے

عَن ابْنِ عُمَرَ رضي الله عنهما: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ، وَإِذَا كَبَّرَ لِلرُّكُوعِ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، رَفَعَهُمَا كَذَلِكَ أَيْضًا، وَقَالَ: «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبَّنَا وَلَكَ الحَمْدُ»، وَكَانَ لاَ يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي السُّجُودِ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ جب نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے کندھوں کے برابر تک اٹھاتے اور جب رکوع کے لیے تکبیر کہتے (تب بھی دونوں ہاتھوں کو اٹھاتے) اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تب بھی اسی طرح اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے اور "سَمِعَ الله لمن حَمِدَهُ رَبَّنَا ولك الحمد" کہتے۔ جب کہ سجدوں میں ایسا نہیں کرتے تھے۔
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نماز میں تین مقامات پر اپنے ہاتھوں کو کندھے کے برابر یا بالمقابل اٹھایا کرتے تھے۔ پہلا مقام : آغاز نماز میں تکبیر تحریمہ کے وقت۔ دوسرا مقام : رکوع کے لیے تکبیر کہتے وقت۔ تیسرا مقام : رکوع سے سر اٹھاتے اور "سمع الله لمن حمده ربنا ولك الحمد" کہتے وقت۔ آپ سجدے میں جاتے وقت اور سجدے سے اٹھتے وقت ہاتھ نہيں اٹھاتے تھے۔

فوائد
  1. دونوں ہاتھوں کو اٹھانے میں ایک حکمت یہ پنہاں ہے کہ یہ نماز کی زینت اور اللہ تبارک و تعالی کی تعظیم ہے۔
  2. اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے ایک چوتھی جگہ میں بھی ہاتھ اٹھانا ثابت ہے۔ اس کا ذکر سنن ابوداود وغیرہ میں ابو حمید ساعدی کی ایک روایت میں ہے۔ یہ جگہ ہے تین اور چار رکعت والی نمازوں میں پہلے تشہد سے کھڑے ہونے کا مقام۔
  3. آپ سے دونوں ہاتھوں کو دونوں کانوں کی لو تک، ان کو چھوئے بغیر، اٹھانا بھی ثابت ہے۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی ایک روایت میں مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم جب تکبیر کہتے تو دونوں ہاتھوں کو اٹھاکر دونوں کانوں کی لو تک لے جاتے۔
  4. "سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ" اور "رَبَّنَا وَلَكَ الحَمْدُ" دونوں صرف امام اور منفرد کہیں گے۔ مقتدی صرف "رَبَّنَا وَلَكَ الحَمْدُ" کہے گا۔
  5. اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے رکوع کے بعد "رَبَّنَا وَلَكَ الحَمْدُ" کے چار صیغے نقل ہوئے ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے۔ بہتر یہ ہے کہ انسان ان تمام صیغوں کا اتہمام کرے کبھی اسے پڑھے اور کبھی اسے۔
حوالہ

صحيح البخاري (1/ 148) (735). صحيح مسلم (1/ 292) (390). الإلمام بشرح عمدة الأحكام، لإسماعيل الأنصاري (1/ 122). تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، للبسام (ص151). تنبيه الأفهام شرح عمدة الأحكام، لابن عثيمين (2/ 192).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
نماز کا طریقہ

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com