سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

جب تم سجدے کرو تو اپنی ہتھیلیوں کو زمین پر رکھ دیا کرو اور اپنی کہنیوں کو اوپر اٹھائے رکھو"۔

عَنِ الْبَرَاءِ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا سَجَدْتَ، فَضَعْ كَفَّيْكَ وَارْفَعْ مِرْفَقَيْكَ».
برا بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: "جب تم سجدے کرو تو اپنی ہتھیلیوں کو زمین پر رکھ دیا کرو اور اپنی کہنیوں کو اوپر اٹھائے رکھو"۔
رواه مسلمدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ نماز کے دوران سجدے کی حالت میں دونوں ہاتھوں کو کس طرح رکھنا چاہیے۔ بتایا کہ دونوں ہتھیلیوں کو زمین پر اچھے سے رکھ دیا جائے، انگلیاں آپس میں ملی ہوئیں اور قبلہ رو ہوں، دونوں کہنیاں زمیں سے الگ اور پہلوؤں سے ہٹی ہوئی ہوں۔

فوائد
  1. نماز کی حالت میں دونوں ہتھیلیوں کو زمین پر رکھنا واجب ہے۔ دونوں ہتھیلیاں سجدے کے سات اعضا میں سے دو اعضا ہیں۔
  2. زمین سے دونوں بازوؤں کو اٹھائے رکھنا مستحب اور انھیں درندوں کی طرح پھیلانا مکروہ ہے۔
  3. عبادت میں نشاط، قوت اور رغبت کا اظہار مشروع ہے۔
  4. جب مصلی سجدے کے تمام اعضا کو زمین پر رکھ دیتا ہے، تو ہر عضو عبادت میں مشغول ہو جاتا ہے۔
حوالہ

صحيح مسلم (1/ 356) (494). سبل السلام شرح بلوغ المرام، لمحمد الصنعاني (1/ 273). توضيح الأحكام مِن بلوغ المرام، لعبد الله البسام (2/ 235). تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، لعبد الله البسام (ص162).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
نماز کا طریقہ

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com