اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ اللہ نے آپ کو نماز پڑھتے وقت سات اعضا پر سجدہ کرنے کا حکم دیا ہے۔ یہ سات اعضا اس طرح ہیں: 1- پیشانی، جو ناک اور دونوں آنکھوں کے اوپر واقع ہے۔ آپ نے چہرے کا نام لیتے وقت ہاتھ سے ناک کی جانب اشارہ کرکے بتایا کہ ناک اور چہرے ایک ہی عضو ہیں اور اس پر زور دیا کہ سجدہ کرنے والے کو اپنی ناک بھی زمین سے سٹانا چاہیے۔ 2- 3- دونوں ہاتھ۔ 4- 5- دونوں گھٹنے۔ 6- 7- دونوں قدموں کی انگلیاں۔ ساتھ میں ہمیں اس بات کا حکم دیا کہ ہم سجدے کے وقت اپنے بالوں اور کپڑوں کی حفاظت کے لیے ان کو نہ سمیٹیں۔ بلکہ ان کو زمین پر گرنے دیں، تاکہ جسم کے اعضا کے ساتھ ان کا بھی سجدہ ہو جائے۔
- نماز میں سات اعضا پر سجدہ کرنا واجب ہے۔
- نماز میں کپڑا اور بال سمیٹنے کی ممانعت۔
- نماز اطمینان کے ساتھ پڑھنا واجب ہے۔ سجدے میں اطمینان کی صورت یہ ہوگی کہ سجدے کے ساتوں اعضا کو زمین پر رکھ دیا جائے اور اطمنان کے ساتھ اس میں جو ذکر پڑھنا ہوتا ہے، اسے پڑھا جائے۔
- بالوں کو سمیٹنے کی ممانعت مردوں کے ساتھ خاص ہے۔ عورتیں اس کے دائرے میں نہیں آتیں۔ کیوں کہ عورت کو پردے کا خیال رکھنے کا حکم ہے۔
صحيح البخاري (1/ 162) (812). صحيح مسلم (1/ 354) (490). المنهاج شرح صحيح مسلم، للنووي (4/ 206). مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، لعلي القاري (2/ 718). سبل السلام شرح بلوغ المرام، للصنعاني (1/ 270). توضيح الأحكام مِن بلوغ المرام، لعبد الله البسام (2/ 229). فتح ذي الجلال والإكرام شرح بلوغ المرام، لابن عثيمين (2/ 115). منار القاري، لحمزة قاسم (2/ 202).