حدیث کا مطلب یہ ہے: ”ابن الاشعث کے زمانہ میں ایک آدمی (جس کا انہوں نے نام ذکر کیا تھا) نے کوفہ پر غلبہ حاصل کیا تو ابوعیبدہ بن عبداللہ رحمہ اللہ و رضی عن ابیہ کو اس نے حکم دیا کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں“ یہ شخص مطر بن ناجیہ تھا جیسا کہ دوسری روایت میں اس کا نام لیا گیا ہے۔ اور ابو عبیدہ یہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بیٹے تھے۔ ”وہ نماز پڑھاتے تھے جب رکوع سے سر اٹھاتے تو اتنی دیر کھڑے رہتے کہ میں یہ دعا پڑھ لیا کرتا اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ“ اتنی مقدار قومے میں ٹھہرنا واجب ہے۔ اس کے علاوہ ”مِلْء السماوات“ کا اضافہ مستحب ہے اس لیے کہ اللہ کے رسول ﷺ کا فرمان ہے کہ جب امام ”سَمِع الله لمن حَمِدَه“ کہے تو تم لوگ ”ربَّنا لك الحمد“ کہو۔ ”اللهُمَّ ربَّنا لك الحَمد“ کا معنی دعا اور اعتراف ہے۔ یعنی اے اللہ ہماری دعا قبول فرما اور تیری ہدایت اور توفیق پر تمام تعریفیں تیرے لیے ہیں۔ ”مِلْءُ السَّماوات ومِلْءُ الأرض“ اس سے مراد مقدار اور تعدار کی کثرت اور عظمت بیان کرنا ہے کہ اے ہمارے رب تو اتنی تعریف کا مستحق ہے کہ اگر تعریف کا جسم ہوتا تو زمین و آسمان اس سے بھر جاتا۔ ”ومِلْء ما شِئت من شيء بَعد“ یعنی تیری وسیع بادشاہت میں سے جو ہم نہیں جانتے۔ ”أهْل الثَّناء والمَجد“ یعنی اے ہمارے رب تو ثناء کا مستحق ہے۔ ’ثناء‘ تعریف کو کہتے ہیں اور ’مجد‘ عظمت، سلطنت اور انتہائی شرافت کو کہتے ہیں۔ جو ذات تعریف اور مطلق تعظیم کے لائق ہے وہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ ”لا مانع لما أعْطَيت“ یعنی تو جس چیز کو دینا چاہے وہ کوئی روک نہیں سکتا۔ ”ولا مُعْطِي لما مَنعت“ جسے تو اپنی حکمت اور انصاف سے محروم کرنا چاہے اسے کوئی دے نہیں سکتا۔ ”ولا يَنفع ذَا الجَّدِّ مِنْك الجَدِّ“ الجّدُّ: بمعنیٰ سخاوت یعنی مالدار کی مالداری تیرے ہاں کچھ نفع نہیں دے سکتی اور نہ ہی اسے عذاب سے بچا سکتی ہے اور نہ ہی ثواب کا فائدہ دے سکتی ہے۔ صرف اللہ کا ارادہ اور مشیت ہی نفع دے سکتی ہے بس۔ حکم کہتے ہیں میں نے یہ عبدالرحمن بن ابی لیلی سے ذکر کیا تو انہوں نے کہا میں نے براء بن عازب سے سنا وہ فرماتے تھے کہ ”رسول اللہ ﷺ کا اپنی نماز میں رکوع کرنا، اور رکوع سے سر اٹھانا پھر سجدہ کرنا اور دونوں سجدوں کے درمیان ٹھہرنا، تقریباً برابر برابر ہوتا تھا“ یعنی آپ ﷺ کی نماز کے ارکان کی مقدار قریب قریب تھی، تھوڑا بہت فرق ہوتا تھا۔ جب قیام طویل ہوتا تو رکوع بھی اتنا ہی طویل ہوتا، اسی طرح بقیہ ارکان ہوتے۔ اور جب قیام ہلکا ہوتا تو رکوع بھی اسی سے ملتا جلتا ہلکا ہوتا، اسی طرح باقی ارکان میں بھی ہوتا۔ اس حدیث کو بعض حالتوں پر محمول کیا جائے گا ورنہ تو آپ ﷺ کبھی کبھی نماز کو طویل بھی کرتے تھے۔ اسی لیے یہ حدیث بعض اوقات پر محمول کی جائے گی۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ آپ ﷺ کی نماز کے ارکان مقدار میں ایک دوسرے کے قریب قریب تھے۔ آپ کا رکوع، رکوع سے اٹھنا، سجود اور سجود کے درمیان بیٹھنا (سب تقریباً یکساں ہوتے)۔ تاہم بعض اوقات قراءت کی وجہ سے قیام لمبا کر دیتے تھے۔
صحيح مسلم، تأليف: مسلم بن الحجاج النيسابوري، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي الناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت. إكمال المعلم بفوائد مسلم، تأليف: عياض بن موسى بن عياض، تحقيق: د/ يحي بن اسماعيل، الناشر: دار الوفاء للطباعة والنشر والتوزيع، الطبعة: الأولى، 1419هـ. المنهاج شرح صحيح مسلم، تأليف: محيي الدين يحيى بن شرف النووي، الناشر: دار إحياء التراث العربي، الطبعة: الثانية 1392هـ. فتح الباري شرح صحيح البخاري، تأليف: أحمد بن علي بن حجر العسقلاني، رقمه وبوب أحاديث: محمد فؤاد عبد الباقي، الناشر: دار المعرفة - بيروت، 1379هـ. شرح سنن أبي داود، تأليف: محمود بن أحمد بن موسى، بدر الدين العيني، تحقيق: خالد بن إبراهيم المصري، الناشر: مكتبة الرشد – الرياض، الطبعة: الأولى، 1420هـ -1999م. إحكام الإحكام شرح عمدة الأحكام، تأليف: ابن دقيق العيد، الناشر: مطبعة السنة المحمدية، الطبعة: بدون طبعة وبدون تاريخ. فيض الباري على صحيح البخاري، تأليف: محمد أنور شاه بن معظم الديوبندي، تحقيق: محمد بدر عالم الميرتهي، الناشر: دار الكتب العلمية، بيروت – لبنان، الطبعة: الأولى، 1426هـ - 2005 م. مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، تأليف: علي بن سلطان القاري، الناشر: دار الفكر، الطبعة: الأولى، 1422هـ. توضيح الأحكام مِن بلوغ المرام، تأليف: عبد الله بن عبد الرحمن بن صالح البسام، الناشر: مكتبة الأسدي، مكة المكرّمة الطبعة: الخامِسَة، 1423 هـ - 2003 م. تسهيل الإلمام بفقه الأحاديث من بلوغ المرام، تأليف: صالح بن فوزان بن عبد الله الفوزان، الطبعة: الأولى، 1427 هـ _ 2006 م. فتح ذي الجلال والإكرام، شرح بلوغ المرام، تأليف: محمد بن صالح بن محمد العثيمين، الناشر: المكتبة الإسلامية، تحقيق: صبحي بن محمد رمضان، وأُم إسراء بنت عرفة.