سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

میں نے نبی کریم ﷺ کو مغرب کی نماز میں سورۃ الطور پڑھتے ہوۓ سنا۔ جب آپ اس آیت پر پہنچے ﴿ أَمْ خُلِقُوا مِنْ غَيْرِ شَيْءٍ أَمْ هُمُ الْخَالِقُونَ، أَمْ خَلَقُوا السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ ۚ بَل لَّا يُوقِنُونَ، أَمْ عِندَهُمْ خَزَائِنُ رَبِّكَ أَمْ هُمُ الْمُصَيْطِرُونَ﴾ تو قریب تھا کہ میرا دل اڑ جائے۔

عن جبير بن مطعم رضي الله عنه قال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقرأ في المغرب بالطُّور، فلما بلغ هذه الآية: ﴿أم خُلِقُوا من غير شيء أم هم الخالقون، أم خَلَقُوا السموات والأرض بل لا يوقنون، أم عندهم خزائن ربك أم هم المسيطرون﴾. قال: كاد قلبي أن يطير.
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو مغرب کی نماز میں سورۃ الطور پڑھتے ہوۓ سنا۔ جب آپ اس آیت پر پہنچے ﴿ أَمْ خُلِقُوا مِنْ غَيْرِ شَيْءٍ أَمْ هُمُ الْخَالِقُونَ، أَمْ خَلَقُوا السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ ۚ بَل لَّا يُوقِنُونَ، أَمْ عِندَهُمْ خَزَائِنُ رَبِّكَ أَمْ هُمُ الْمُصَيْطِرُونَ﴾ تو قریب تھا کہ میرا دل اڑ جائے۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

اس حدیث میں ہے کہ جبیر رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ کو مغرب کی پہلی دو رکعتوں میں سورۃ الطور پڑھتے سنا، یہ اس وقت کی بات ہے کہ جب بدر کے بعد قیدیوں کو چھڑانے کے آئے تھے، اس کے بعد یہ اسلام لے آئے۔

حوالہ

صحيح البخاري، تحقيق: محمد زهير بن ناصر الناصر، ط1، دار طوق النجاة، (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، 1422هـ. صحيح مسلم, تأليف: مسلم بن حجاج النيسابوري, تحقيق: محمد فؤاد عبدالباقي, دار إحياء التراث العربي. توضِيحُ الأحكَامِ مِن بُلوُغ المَرَام، للبسام، مكتَبة الأسدي، مكّة المكرّمة، الطبعة: الخامِسَة، 1423 هـ - 2003 م. بلوغ المرام من أدلة الأحكام، لابن حجر، دار القبس للنشر والتوزيع، الرياض، المملكة العربية السعودية، الطبعة: الأولى، 1435 هـ - 2014 م. تسهيل الإلمام بفقه الأحاديث من بلوغ المرام، تأليف الشيخ صالح الفوزان، عناية عبد السلام السليمان، مؤسسة الرسالة، الطبعة الأولى.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
نماز کا طریقہ

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com