عثمان بن ابوالعاص سے روایت ہے کہ وہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آئے اور عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! شیطان میرے، میری نماز اور میری تلاوت کے بیچ حائل ہو جاتا ہے اور مجھے الجھانے کی کوشش کرتا ہے۔ چناں چہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "وہ ایک شیطان ہے، جسے خِِنزَب کہا جاتا ہے۔ جب تمھیں اس کے خلل انداز ہونے کا احساس ہو، تو اس سے اللہ کی پناہ مانگو اور اپنی بائیں جانب تین بار تھتکارو۔" ان کا کہنا ہے کہ میں نے آپ کے بتائے ہوئے طریقے پر عمل کیا، تو اللہ نے میری اس پریشانی کو دور کر دیا۔
رواه مسلمدرجہصحيح
تشریح
عثمان بن ابوالعاص رضی اللہ عنہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آئے اور عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! شیطان میرے اور میری نماز کے درمیان حائل ہو جاتا ہے، نماز میں خشوع پیدا ہونے نہیں دیتا اور میری تلاوت میں شک پیدا کر دیتا ہے۔ چنانچہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ان سے فرمایا: وہ ایک شیطان ہے، جسے خِِنزَب کہا جاتا ہے۔ لہذا جب تمھیں اس کی دخل اندازی کا احساس ہو، تو اس سے اللہ کی پناہ مانگو اور تین بار بائیں طرف تھتکارو۔ عثمان کہتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے اس حکم پر عمل کیا، تو اللہ نے میری اس الجھن کو دور کر دیا۔
فوائد
نماز میں خشوع و خضوع اور حضور قلب کی اہمیت۔ ساتھ ہی یہ کہ شیطان نماز میں شک و شبہ پیدا کرنے کی پوری کوشش کرتا ہے۔
جب شیطان نماز کے دوران برے خیالات ڈالے، تو اس سے اللہ کی پناہ مانگنا اور تین بار بائیں جانب تھتکارنا مستحب ہے۔
صحابہ کے سامنے جب کوئی پریشانی آتی، تو وہ اس کے حل کے لیے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے رجوع کرتے۔
صحابہ کرام کے دل زندہ تھے اور انہیں صرف آخرت کی فکر دامن گیر رہتی تھی۔
حوالہ
صحيح مسلم (4/ 1728) (2203)، إكمال المعلم (7/110)، شرح النّووي على مسلم (14/190)، البحر المحيط الثجاج في شرح صحيح الإمام مسلم بن الحجاج (36/ 136).
یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com