نبی کریم ﷺ ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں سورۂ فاتحہ اور دو مزید سورتیں پڑھتے تھے اور آخری دو رکعات میں صرف سورۂ فاتحہ پڑھتے۔ کبھی کبھی ہمیں ایک آیت سنا بھی دیا کرتے تھے۔
عن أبي قتادة رضي الله عنه : «أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يقرأ في الظهر في الأوليين بأم الكتاب، وسورتين، وفي الركعتين الأخريين بأم الكتاب ويسمعنا الآية، ويطول في الركعة الأولى ما لا يطول في الركعة الثانية، وهكذا في العصر وهكذا في الصبح».
ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں سورۂ فاتحہ اور مزید دو سورتیں پڑھتے تھے اور آخری دو رکعات میں صرف سورۂ فاتحہ پڑھتے۔ کبھی کبھی ہمیں ایک آیت سنا بھی دیا کرتے تھے اور پہلی رکعت کو دوسری رکعت سے زیادہ لمبی کرتے تھے۔ عصر اور صبح کی نماز میں بھی آپ کا یہی معمول تھا۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
یہ حدیث بیان کرتی ہے کہ آپ ﷺ سرّی نمازوں، جیسے ظہر وعصر کی پہلی دو رکعتوں میں سورۂ فاتحہ کے ساتھ دوسری سورتیں بھی پڑھتے تھے اور آخری دو رکعتوں میں صرف سورۂ فاتحہ پڑھتے جس طرح تمام جہری نمازوں میں پڑھتے ہیں۔ تعلیم اور سکھلانے کی غرض سے آواز تھوڑی بلند کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
حوالہ
توضِيحُ الأحكَام مِن بُلوغ المَرَام، للبسام، مكتَبة الأسدي، مكّة المكرّمة، الطبعة: الخامِسَة، 1423 هـ - 2003 م.
بلوغ المرام من أدلة الأحكام، لابن حجر، دار القبس للنشر والتوزيع، الرياض، المملكة العربية السعودية الطبعة: الأولى، 1435هـ - 2014 م.
صحيح البخاري، تحقيق: محمد زهير بن ناصر الناصر، ط1، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، 1422هـ.
صحيح مسلم, تأليف: مسلم بن حجاج النيسابوري, تحقيق: محمد فؤاد عبدالباقي, دار إحياء التراث العربي.
منحة العلام في شرح بلوغ المرام، لعبد الله الفوزان، دار ابن الجوزي، ط1، 1428هـ.
یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com