سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

رسول اللہ ﷺ جب تکبیرِ تحریمہ کہتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو کانوں کے برابر تک اٹھاتے اور آپ ﷺ جب رکوع کرتے تو اُس وقت بھی دونوں ہاتھوں کو کانوں کے برابرتک اٹھاتے۔

عن مالك بن الحويرث رضي الله عنه «أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان إذا كَبَّر رفع يديه حتى يُحَاذِيَ بهما أُذُنَيْه، وإذا ركَع رفع يَديه حتى يُحَاذِيَ بهما أُذُنَيْه، وإذا رفع رأسه من الركوع» فقال: «سَمع الله لِمَن حَمِده» فعل مِثل ذلك.
مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب تکبیرِ تحریمہ کہتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو کانوں کے برابر تک اٹھاتے اور آپ ﷺ جب رکوع کرتے تو اُس وقت بھی دونوں ہاتھوں کو کانوں کے برابرتک اٹھاتے اور جب آپ ﷺ اپنا سرِمبارک رکوع سے اٹھاتے تو ”سَمع الله لِمَن حَمِده“ کہتے اور پھر آپ ایسا ہی کرتے (یعنی ہاتھوں کو کانوں تک اٹھاتے)۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ بیان کررہے ہیں کہ ”نبی ﷺ جب تکبیر کہتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھاتے یہاں تک کہ انہیں اپنے دونوں کانوں کے برابر کرلیتے“یعنی آپ ﷺ جب تکبیرِ تحریمہ کہتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھاتے یہاں تک کہ وہ آپ کے کانوں کے برابر آ جاتے۔ایک اور روایت میں ہے کہ ”یہاں تک کہ آپ ﷺ انہیں اپنے کانوں کی فروع (لَوْ) تک لے آتے“۔ کان کی فروع سے مراد اس کا بالائی حصہ ہے۔ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی حدیث میں ہے کہ ’’آپ ﷺ اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھاتے یہاں تک کہ انہیں اپنے کندھوں کے سامنے لے آتے‘‘۔ یعنی کندھوں کے بالمقابل اور ان کے برابر کر لیتے۔ یہ تین روایات ہیں۔ اول: آپ ﷺ اپنے ہاتھوں کو اٹھا کر اپنے کانوں کے برابر تک لے جاتے۔ دوم: آپ ﷺ اپنے ہاتھوں کو اٹھا کر اپنے کانوں کے بالائی حصے کے برابر لے آتے۔ سوم: آپ ﷺ اپنے ہاتھوں کو اٹھا کر اپنے کندھوں کے برابر لے آتے۔چنانچہ نمازی کو اختیار ہے کہ وہ ان تینوں میں سے جیسے چاہے کر لے۔ یا پھر وہ اپنے ہاتھوں کو اٹھا کر اپنے کندھوں کے برابر لے آئے بایں طور کہ اس کی انگلیوں کی کنارے اس کے کانوں کے اوپری حصے کے برابر آ جائیں، اس کے دونوں انگوٹھے کانوں کے لو کے برابر اور اس کی ہتھیلیاں کندھوں کے سامنے ہو جائیں۔ ”إذا كَبَّر رفع يَديه“ یعنی تکبیر کہنے کے ساتھ ہی آپ ﷺ اپنے ہاتھوں کو اٹھاتے۔ مسلم شریف کی ایک روایت میں ہے کہ ”آپ ﷺ پہلے ہاتھ اٹھاتے اور پھر تکبیر کہتے“ یعنی ہاتھ اٹھانے کے بعد تکبیر کہتے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ ”آپ ﷺ پہلے تکبیر کہتے اور پھر اپنے ہاتھ اٹھاتے“۔ تکبیر تحریمہ کے وقت ہاتھ اٹھانے کی یہ تین صورتیں ہیں۔اس بنا پر معلوم ہوا کہ یہ سنت کئی انداز سے آئی ہوئی ہے۔ چنانچہ نمازی آپ ﷺ سے وارد سنت کی اتباع میں ان تمام طریقوں پر عمل کرے۔ ”وإذا ركَع رفع يَديه حتى يُحَاذِيَ بهما أُذُنَيْه“ یعنی آپ ﷺ جب رکوع میں جاتے تو اپنے ہاتھوں کو اٹھا کر کانوں کے برابر کر لیتے۔ یہ وہ دوسرا مقام ہے جہاں رفع الیدین کرنا مستحب ہے۔ ”وإذا رفع رأسه من الرُّكوع فقال: سَمع الله لِمَن حَمِده“ یعنی جب رکوع سے اٹھتے تو سمع اللہ لمن حمدہ کہتے۔ یہ ذکر نماز کے واجبات میں سے ہے۔ ”فعل مِثل ذلك“ یعنی آپ ﷺ ویسا ہی کرتے جیسا آپ ﷺ تکبیرِ تحریمہ کے وقت کرتے تھے یعنی ہاتھوں کو اٹھا کر انہیں کانوں کے برابر لے آتے۔ یہ وہ تیسرا مقام ہے جہاں نماز میں رفع الیدین کرنا مستحب ہے۔نماز میں یہ کل تین مقامات ہیں جہاں رفع الیدین کرنا مستحب ہے۔ چوتھا مقام تین یا چار رکعت والی نماز میں پہلی تشہد سے اٹھنے پر رفع الیدین کرنا ہے۔

حوالہ

صحيح مسلم، تأليف: مسلم بن الحجاج النيسابوري، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي الناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت. مطالع الأنوار على صحاح الآثار، تأليف: إبراهيم بن يوسف بن أدهم ابن قرقول، تحقيق: دار الفلاح للبحث العلمي وتحقيق التراث، الناشر: وزارة الأوقاف والشؤون الإسلامية - دولة قطر، الطبعة: الأولى، 1433هـ - 2012 م. المنهاج شرح صحيح مسلم، تأليف: محيي الدين يحيى بن شرف النووي، الناشر: دار إحياء التراث العربي، الطبعة: الثانية 1392هـ مجموع الفتاوى ، تأليف: أحمد بن عبد الحليم بن تيمية الحراني، تحقيق: عبد الرحمن بن محمد بن قاسم، الناشر: مجمع الملك فهد لطباعة المصحف الشريف، المدينة النبوية، المملكة العربية السعودية. سبل السلام شرح بلوغ المرام، تأليف : محمد بن إسماعيل بن صلاح الصنعاني، الناشر: دار الحديث الطبعة: بدون طبعة وبدون تاريخ. توضيح الأحكام مِن بلوغ المرام، تأليف: عبد الله بن عبد الرحمن بن صالح البسام، الناشر: مكتبة الأسدي، مكة المكرّمة الطبعة: الخامِسَة، 1423 هـ - 2003 م. تسهيل الإلمام بفقه الأحاديث من بلوغ المرام، تأليف: صالح بن فوزان بن عبد الله الفوزان، الطبعة: الأولى، 1427هـ _ 2006 م.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
نماز کا طریقہ

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com