عن أبي واقد الحارث بن عوف رضي الله عنه أنَّ رسول الله صلى الله عليه وسلم بينما هو جالس في المسجد، والناس معه، إذ أقبل ثلاثَةُ نَفَرٍ، فأقبل اثنان إلى رسول الله، صلى الله عليه وسلم وذهب واحد، فوقفا على رسول الله صلى الله عليه وسلم ، فأما أحدهما فرأى فُرْجَةً في الْحَلْقَةِ فجلس فيها، وأما الآخر فجلس خلفهم، وأما الثالث فأدْبَر ذاهبٍا، فلما فرغ رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «ألا أُخْبِرُكُم عن النَّفَرِ الثلاثة: أما أحدهم فأَوَى إلى الله فآوَاهُ الله إليه، وأما الآخر فاسْتَحْيا فاسْتَحْيَا الله منه، وأما الآخر، فأعْرَضَ، فأعرضَ اللهُ عنه».
ابو واقد حارث بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ مسجد میں تشریف فرما تھے اور لوگ بھی آپ ﷺ کے ساتھ بیٹھے تھے کہ اتنے میں تین افراد آئے۔ دو تو رسول اللہ ﷺ کی طرف آ گیے اور ایک واپس چلا گیا۔ وہ دونوں رسول اللہ ﷺ کے پاس آ کر کھڑے ہو گیے۔ ان میں سے ایک نے حلقے میں کچھ کشادگی دیکھی تو وہاں بیٹھ گیا اور دوسرا لوگوں کے پیچھے بیٹھ گیا جب کہ تیسرا واپس لوٹ گیا۔ جب رسول اللہ ﷺ (اپنی گفتگو سے) فارغ ہوئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں تین افراد کے بارے میں نہ بتاوں؟ ان میں سے ایک نے اللہ کے پاس ٹھہرنا چاہا تو اللہ نے بھی اسے اپنے پاس ٹھہرا لیا جب کہ دوسرے نے حیا کی تو اللہ نے بھی اس سے حیا کی (کہ اسے مجلس کی برکت سے محروم نہ رکھا) اورتیسرے نے منہ موڑا تو اللہ نے بھی اس سے منہ موڑ لیا“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
حدیث میں اس بات کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ مسجد میں لوگوں کے ہمراہ تشریف فرما تھے کہ اتنے میں تین آدمی وہاں آئے۔ ان میں سے دو تو رسول اللہ ﷺ کی طرف آ گیے اور ایک واپس چلا گیا۔ وہ دونوں رسول اللہ ﷺ کےحلقے کے پاس آکر کھڑے ہوگیے۔ ان میں سے ایک کو حلقے میں خالی جگہ نظر آئی تو وہ وہاں بیٹھ گیا۔ اس حلقے میں کچھ لوگ تھے جو نبی ﷺ کے سامنے گول دائرے کی شکل میں بیٹھے ہوئے تھے۔ جب کہ دوسرا شخص ان کے پیچھے ہی بیٹھ گیا اور تیسرا شخص واپس لوٹ گیا۔ نبی ﷺ جو گفتگو فرما رہے تھے اس سے جب فارغ ہوئے تو آپ ﷺ نے اپنے صحابہ سے فرمایا کہ کیا میں تمہیں تین آدمیوں کے بارے میں نہ بتاؤں؟۔ ان میں سے ایک نے اللہ کے پاس ٹھہرنا چاہا تو اللہ نے بھی اسے اپنے پاس ٹھہرا لیا یعنی اس نے خالی جگہ پر بیٹھ کر اللہ کا ذکر سننا شروع کر دیا چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اسے اس مبارک مجلس کی فضیلت سے نوازا۔ جب کہ دوسرے نے حیا کی تو اللہ نے بھی اس سے حیا کی یعنی (کسی کو ) دھکیلے بغیر وہ حلقے کے پیچھے بیٹھ گیا چنانچہ اسے بھی اس مجلس کی برکت سے محروم نہ رکھا گیا۔ جب کہ تیسرے شخص نے منہ موڑا تو اللہ نے بھی اس سے منہ موڑ لیا یعنی وہ بلا کسی عذر کے واپس چلا گیا اس لیے مجلس کی برکت سے محروم کر دیا گیا۔
حوالہ
صحيح البخاري، تحقيق: محمد زهير بن ناصر الناصر، دار طوق النجاة، ط: الأولى، 1422هـ.
صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي – بيروت.
رياض الصالحين، للنووي، تحقيق ماهر الفحل، دار ابن كثير، دمشق -بيروت، ط: الأولى 1428هـ.
نزهة المتقين، لمجموعة من المؤلفين، مؤسسة الرسالة، ط: الرابعة عشر،1407هـ.
شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين، بإشراف مؤسسة الشيخ، دار الوطن للنشر، الرياض، ط: 1426هـ.
بهجة الناظرين، لسليم الهلالي، دار ابن الجوزي، السعودية، ط: الثالثة 1418هـ.
تطريز رياض الصالحين، تأليف فيصل آل مبارك، تحقيق د. عبد العزيز آل حمد، دار العاصمة -الرياض، الطبعة الأولى، 1423هـ.
صفات الله عز وجل الواردة في الكتاب والسنة: علوي بن عبد القادر السَّقَّاف، دار الهجرة الطبعة: الثالثة ، 1426هـ - 2006م.
عن أنس بن مالك رضي الله عنه أنَّ رَجُلاً كَانَ عِند النَبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَمَرَّ رَجُلٌ بِهِ، فقال: يا رسول الله، أنِّي لَأُحِبُّ هَذَا، فَقَال لَهُ النَبِيُّ صلى الله عليه وسلم : «أَأَعْلَمْتَهُ؟» قال: لا. قال: «أَعْلِمْهُ»، فَلَحِقَهُ، فقال: إِنِّي أُحِبُّك فِي الله، فقال: أّحَبَّك الَّذِي أَحْبَبْتَنِي لَهُ.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی ﷺ کے پاس تھا کہ اتنے میں ایک شخص کا اس کے قریب سے گزر ہوا۔ اس نے کہا: یا رسول اللہ! میں اس شخص سے محبت کرتا ہوں۔ اس پر نبی ﷺ نے اس سے پوچھا: کیا تم نے اسے یہ بات بتائی ہے؟۔ اس نے جواب دیا : نہیں۔ آپﷺ نے فرمایا: اسے یہ بات بتادو۔ چنانچہ اس آدمی نے اس شخص کے پیچھے جا کر اسے بتایا کہ : میں اللہ کی خاطر تم سے محبت کرتا ہوں۔ اس پر اس شخص نے کہا: تم سے بھی وہ ذات محبت کرے، جس کی خاطر تم مجھ سے محبت کرتے ہو۔
اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
اس حدیث شریف میں نبی ﷺ کے فرمان کی عملی تطبیق کا بیان ہے کہ انسان اگر اپنے مسلمان بھائی سے محبت کرتا ہو، تو اسے چاہیے کہ وہ اسے اس کے بارے میں بتائے۔ جب آپ ﷺ کے پاس بیٹھے ایک آدمی نے آپ ﷺ سے کہا کہ میں اس شخص سے محبت کرتا ہوں، جو ان کے پاس سے گزرا تھا، تو آپ ﷺ نے اس سے دریافت فرمایا: "کیا تم نے اسے یہ بات بتائی ہے؟"۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جب کوئی کسی مسلمان سے محبت کرتا ہو، تو اس کا یہ کہنا کہ "میں تم سے محبت کرتا ہوں" سنت ہے؛ کیوں کہ اس سے اس کے دل میں بھی محبت پیدا ہوتی ہے۔ اس لیے کہ انسان کو جب اپنے بھائی سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس سے محبت کرتا ہے، تو وہ بھی اس سے محبت کرنے لگتا ہے، اگرچہ زبانوں سے اظہار نہ بھی ہو، تب بھی دلوں میں باہم جان پہچان اور مانوسیت ہوتی ہی ہے۔
جیسا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: "روحیں لشکر کی طرح ایک جگہ مجتمع تھیں، چنانچہ جو روحیں ایک دوسرے سے آپس میں مانوس و متعارف تھیں، وہ (اس دنیا میں بھی) ایک دوسرے کے ساتھ محبت و الفت رکھتی ہیں اور جو روحیں ایک دوسرے سے ان جان و نامانوس تھیں، وہ (اس دنیا میں بھی) اختلاف رکھتی ہیں"۔ لیکن انسان کا اپنی زبان سے اظہار محبت کرنا دوسرے کے دل میں محبت کو بڑھاتا ہے۔ چنانچہ اسے کہنا چاہیے کہ میں اللہ کی خاطر تم سے محبت کرتا ہوں۔
حوالہ
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي، ط1، دار ابن الجوزي، الدمام، 1415هـ.
تطريز رياض الصالحين، للشيخ فيصل المبارك، ط1، تحقيق: عبد العزيز بن عبد الله آل حمد، دار العاصمة، الرياض، 1423هـ.
رياض الصالحين للنووي، ط1، تحقيق: ماهر ياسين الفحل، دار ابن كثير، دمشق، بيروت، 1428هـ.
رياض الصالحين، ط4، تحقيق: عصام هادي، وزارة الأوقاف والشؤون الإسلامية القطرية، دار الريان، بيروت، 1428هـ.
سنن أبي داود، تحقيق: محمد محيي الدين عبد الحميد، المكتبة العصرية، بيروت.
السنن الكبرى للنسائي، تحقيق: حسن عبد المنعم شلبي، ط1، مؤسسة الرسالة، بيروت، 1421هـ.
شرح رياض الصالحين، للشيخ ابن عثيمين، دار الوطن للنشر، الرياض، 1426هـ.
عون المعبود شرح سنن أبي داود، ومعه حاشية ابن القيم: تهذيب سنن أبي داود وإيضاح علله ومشكلاته للعظيم آبادي، ط3، دار الكتب العلمية، بيروت، 1415 هـ.
مسند الإمام أحمد بن حنبل، تحقيق: شعيب الأرنؤوط - عادل مرشد، وآخرون، إشراف: د عبد الله بن عبد المحسن التركي، ط1، مؤسسة الرسالة، 1421هـ.
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين، ط14، مؤسسة الرسالة، 1407هـ.
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قال: قال رَسُولُ الله صلى الله عليه وسلم: «إِنَّ اللهَ يَغَارُ، وَإِنَّ الْمُؤْمِنَ يَغَارُ، وَغَيْرَةُ اللهِ أَنْ يَأْتِيَ الْمُؤْمِنُ مَا حَرَّمَ عَلَيْهِ».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا : ”بے شک اللہ تعالیٰ کو غیرت آتی ہے اور بے شک مؤمن کو بھی غیرت آتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کو غیرت اس بات پر آتی ہے کہ بندہ وہ کام کرے، جسے اللہ نے اس پر حرام کیا ہے“۔
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ بے شک اللہ کو غیرت آتی ہے اور وہ نفرت اور ناپسند کرتا ہے۔ اللہ کو غیرت اس بات پر آتی ہے کہ مؤمن زنا، لواطت، چوری اور شراب نوشی جیسے گناہ کے کام کرے، جن کو اللہ نے حرام قرار دیا ہے۔
فوائد
جب اللہ کے محارم کو پامال کیا جائے، تو اس کے غضب اور اس کی سزا کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔
حوالہ
صحيح البخاري (7/ 35) (5223).
صحيح مسلم (4/ 2114) (2761).
تطريز رياض الصالحين، لفيصل المبارك (ص62).
شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (1/ 496).
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (1/ 96).
صفات الله عز وجل الواردة في الكتاب والسنة، لعلوي السَّقَّاف (ص267).
عن ابن عباس رضي الله عنهما أنه رأى رجلا انْتَفَضَ لما سمع حديثا عن النبي صلى الله عليه وسلم في الصفات -استنكارا لذلك– فقال: "ما فَرَقُ هؤلاء؟ يجدون رِقَّةً عند مُحْكَمِهِ، ويَهْلِكُونَ عند مُتَشَابِهِهِ" .
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روايت ہے کہ: انہوں نے ایک آدمی کو دیکھا کہ جب اس نے اللہ کی صفات کے بارے میں نبی ﷺ کی ایک حدیث سنی تو - بطور انکار - اس پر جھرجھری طاری ہو گئی۔ تو انہوں نے فرمایا:ان لوگوں کا خوف کیسا ہے؟ محکم (واضح) نصوص سن کر ان پر رقت طاری ہو جاتی ہے اور جب کوئی متشابہ نصوص سنتے ہیں تو ہلاک ہو جاتے ہیں (یعنی انکار کر بیٹھتے ہیں)۔
اسے ابنِ ابی عاصم نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام عبد الرزّاق نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
ابن عباس رضی اللہ عنہما اپنی مجلس میں عوام الناس میں سے حاضر ہونے والے ایسے لوگوں پر نکیر کر ربے ہیں جو اللہ کی صفات کے بارے میں کوئی حدیث سنتے ہیں تو خوف میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور بطور انکار ان پر کپکپی طاری ہو جاتی ہے۔ چنانچہ وہ لوگ اس چیز پر واجب ایمان نہیں رکھتے جو رسول ﷺ سے صحیح ثابت ہے اور انہوں نے اس کے معنی کو قرآن سے جان لیا ہے۔ جو کہ برحق ہے جس میں کوئی مومن شک نہیں کر سکتا۔اور بعض اسے اس معنی پر محمول کرتے ہیں جو اللہ کی مراد نہیں ہے، جس کی وجہ سے وہ ہلاک ہوجا تا ہے۔
حوالہ
كتاب التوحيد للإمام محمد بن عبد الوهاب ص252 ت: د. دغش العجمي . مكتبة أهل الأثر , الطبعة الخامسة , 1435ه
الجديد في شرح كتاب التوحيد لمحمد بن عبد العزيز السليمان القرعاوي, ت: محمد بن أحمد سيد , مكتبة السوادي، الطبعة: الخامسة، 1424ه
الملخص في شرح كتاب التوحيد للشيخ صالح الفوزان , دار العاصمة , الطبعة الأولى 1422ه
كتاب السنة لابن أبي عاصم ومعه ظلال الجنة للألباني, المكتب الإسلامي, ط4 1419
عن ابن مسعود رضي الله عنه قال: "جاء حَبْرٌ من الأحبار إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: يا محمد، إنا نجد أن الله يجعل السماوات على إِصْبَعٍ، والأَرَضَينَ على إِصْبَعٍ، والشجر على إِصْبَعٍ، والماء على إِصْبَعٍ، والثَّرَى على إِصْبَعٍ، وسائر الخلق على إِصْبَعٍ، فيقول: أنا الملك، فضحك النبي صلى الله عليه وسلم حتى بَدَتْ نَوَاجِذَهُ تَصْدِيقًا لقول الحبر، ثم قرأ: (وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ).
وفي رواية لمسلم: "والجبال والشجر على إِصْبَعٍ، ثم يَهُزُّهُنَّ فيقول: أنا الملك، أنا الله".
وفي رواية للبخاري: "يجعل السماوات على إِصْبَعٍ، والماء والثَّرَى على إِصْبَعٍ، وسائر الخلق على إِصْبَعٍ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک یہودی عالم رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہا: اے محمد! ہم تورات میں پاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں کو ایک انگلی پر رکھ لے گا اور زمینوں کو ایک انگلی پر، درختوں کو ایک انگلی پر ، پانی کو ایک انگلی پر، مٹی کو ایک انگلی پر اور تمام مخلوقات کو ایک انگلی پر، پھر فرمائے گا:میں ہی بادشاہ ہوں۔ اس پر نبی کریم ﷺ ہنس پڑے، جس سے آپ کے سامنے کے دانت دکھائی دینے لگے۔ در اصل آپ کا یہ ہنسنا اس یہودی عالم کی تصدیق میں تھا۔ پھر آپ ﷺ نے اس آیت کی تلاوت کی ﴿وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ﴾ ”اور ان لوگوں نے اللہ کی عظمت نہ کی جیسی عظمت کرنا چاہیے تھی اور حال یہ ہے کہ ساری زمین اسی کی مٹھی میں ہو گی قیامت کے دن“۔
اور مسلم کی ایک روایت میں ہے: ”اور پہاڑ و درخت ایک انگلی پر۔ پھر انھیں حرکت دیتے ہوئے فرمائے گا: میں بادشاہ ہوں! میں اللہ ہوں!“
اور بخاری کی روایت میں ہے: ”آسمانوں کو ایک انگلی پر، پانی و مٹی کو ایک انگلی پر اور تمام مخلوقات کو ایک انگلی پر رکھے گا“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ ایک یہودی عالم نے نبی ﷺ کے پاس آکر بتایا کہ وہ اپنی کتابوں میں پاتا ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ اپنی ایک انگلی پر آسمانوں کو، ایک انگلی پر زمینوں کو، ایک انگلی پر درخت کواور ایک انگلی پر مٹی کو اٹھائے گا۔ اور ایک روایت میں ہے کہ پانی کو ایک انگلی پر اور تمام مخلوقات کو ایک انگلی پر اٹھائے گا۔ یہ کل پانچ انگلیاں ہوئیں جیسا کہ صحیح روایات میں موجود ہے؛ البتہ اللہ کی انگلیاں مخلوقات کی انگلیوں کی طرح نہیں ہیں۔ پھر اللہ عز و جل اپنی عظمت و قدرت کا قدرے اظہار کرے گا۔ چنانچہ وہ انھیں حرکت دے گا اور اپنی حقیقی بادشاہت، مطلق کمالِ تصرف اورالوہیتِ حقہ کا اعلان کرے گا! چنانچہ آپ اس کی بات کی تصدیق کے طور پر ہنس پڑے، یہاں تک کہ آپ کے سامنے کے دانت دکھائی دینے لگے۔ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی:﴿وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ﴾ ”اور ان لوگوں نے اللہ کی عظمت نہ کی جیسی عظمت کرنا چاہیے تھی اور حال یہ ہے کہ ساری زمین اسی کی مٹھی میں ہو گی قیامت کے دن“۔
حوالہ
كتاب التوحيد للإمام محمد بن عبد الوهاب ص252 ت: د. دغش العجمي - مكتبة أهل الأثر , الطبعة الخامسة , 1435هـ.
الجديد في شرح كتاب التوحيد، لمحمد بن عبد العزيز السليمان القرعاوي, ت: محمد بن أحمد سيد , مكتبة السوادي، الطبعة: الخامسة، 1424هـ.
الملخص في شرح كتاب التوحيد، للشيخ صالح الفوزان, دار العاصمة , الطبعة الأولى 1422هـ.
صحيح البخاري, ترقيم محمد فؤاد عبد الباقي, دار طوق النجاة, الطبعة: الأولى، 1422هـ.
صحيح مسلم, ترقيم محمد فؤاد عبد الباقي, دار إحياء التراث العربي, بيروت.
عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما مرفوعاً: "يَطْوِي الله السماوات يوم القيامة، ثم يَأْخُذُهُنَّ بيده اليمنى، ثم يقول: أنا الملك أين الجبارون؟ أين المتكبرون؟ ثم يَطْوِي الأَرَضِينَ السبع، ثم يأخذهن بشماله، ثم يقول: أنا الملك، أين الجبارون؟ أين المتكبرون؟".
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”روز قیامت اللہ آسمانوں کو لپیٹ کر اپنے دائیں ہاتھ میں لے لے گا اور پھر فرمائے گا: میں ہوں بادشاہ، کہاں ہیں وہ لوگ جو سرکش بنے پھرتے تھے؟ کہاں ہیں وہ لوگ جو متکبر بنے پھرتے تھے؟ پھر اللہ ساتوں زمینوں کو لپیٹ کر اپنے بائیں ہاتھ میں لے لے گا اور کہے گا: میں ہوں بادشاہ، کہاں ہیں جو سرکش بنے پھرتے تھے؟ کہاں ہیں جو متکبر بنے پھرتے تھے؟“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
ابن عمر رضی اللہ عنہما ہمیں بتا رہے ہیں کہ نبی ﷺ نے صحابۂ کرام کو بتایا کہ قیامت کے دن اللہ عز وجل ساتوں آسمانوں کو لپیٹ کر اپنے دائیں ہاتھ میں لے لے گا اور ساتوں زمینوں کو لپیٹ کر اپنے بائیں ہاتھ میں لے لے گا اور یہ کہ وہ جب بھی ان میں سے کسی کو لپیٹے گا تو ان سرکشوں اور متکبروں کو تحقیر آمیز لہجے میں پکار کر اعلان کرے گا کہ وہی حقیقی و کامل بادشاہت کا مالک ہے، جس میں نہ کوئی کمزوری آتی ہے اور نہ ہی وہ کبھی ختم ہوتی ہے اور یہ کہ اس کے سوا ہر بادشاہ، غلام، انصاف پرور اور ظالم سب ختم ہو جانے والے اور اس کے سامنے بے حیثیت ہیں۔ اللہ اپنے کاموں کے لیے (کسی کے آگے) جواب ده نہیں اور سب (اس کے آگے) جواب ده ہیں۔
حوالہ
كتاب التوحيد للإمام محمد بن عبد الوهاب ص252 ت: د. دغش العجمي . مكتبة أهل الأثر , الطبعة الخامسة , 1435ه
الجديد في شرح كتاب التوحيد لمحمد بن عبد العزيز السليمان القرعاوي, ت: محمد بن أحمد سيد , مكتبة السوادي، الطبعة: الخامسة، 1424ه
صحيح مسلم, ترقيم محمد فؤاد عبد الباقي, دار إحياء التراث العربي, بيروت.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: "صحیح راستہ اختیار کرو اور جان ركھو کہ تم میں سے کوئی بھی اپنے عمل کی وجہ سے نجات نہیں پا سکتا"۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے سوال کیا: اے اللہ کے رسول! آپ بھی نہیں؟ آپ ﷺ نے جواب دیا: "میں بھی نہیں! مگر یہ کہ اللہ تعالی اپنی رحمت و فضل سے مجھے ڈھانپ لے۔"
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے صحابہ کو اس بات کی ترغیب دی کہ عمل کرتے رہیں، افراط و تفریط سے بچتے ہوئے جہاں تک ہو سکے اللہ سے ڈرتے رہیں، ان کے عمل کا مقصد حق جوئی ہو‘ بایں طور کہ اخلاص الہی اور اتباع سنت کے ساتھ عمل کریں، تاکہ ان کے اعمال قبول ہوں اور نزول رحمت کا سبب بنیں۔
اس کے بعد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ فقط تم میں سے کسی کا عمل اسے نجات نہيں دلا سکتا۔ بلکہ اللہ کی رحمت شامل حال ہونا ضروری ہے۔
صحابہ نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! آپ کے اتنے سارے اعمال بھی آپ کو نجات نہيں دلا سکتے؟
جواب دیا: مجھے بھی نہيں، جب تک کہ اللہ اپنے فضل ورحمت کی چادر مجھ پر نہ پھیلا دے۔
فوائد
نووی کہتے ہيں: حدیٹ کے الفاظ (سدِّدوا وقاربوا) کے معنی یہ ہوئے کہ درستگی کی تلاش میں رہو اور اس پر عمل کرو۔ اگر ایسا نہ کر سکو، تو اس سے قریب رہو۔ سداد کے معنی درستگی کے ہیں۔ یعنی افراط و تفریط کے درمیان کی راہ، نہ غلو کرو اور نہ کوتاہی کی راہ اپناؤ۔
شیخ ابن باز کہتے ہيں: جس طرح برے اعمال جہنم میں داخل ہونے کا سبب ہیں، اسی طرح اچھے اعمال جنت میں داخل ہونے کا سبب ہیں۔ یہ حدیث بتاتی ہے کہ جنت میں داخلہ محض عمل کی بنیاد پر نہيں مل سکتا بلکہ اللہ کا درگزر اور اس کی رحمت ضروری ہے۔ لوگ داخل تو ہوں گے اپنے اعمال کی وجہ سے، لیکن اس داخلے کو اللہ کی رحمت، اس کا عفو و درگزر اور اس کی مغفرت واجب کرے گی۔
بندے کو اپنے عمل پر غرور اور تکبر نہیں کرنا چاہیے، خواہ وہ جس قدر بھی ہو، کیوں کہ اللہ تعالی کا حق اس کے عمل سے کہیں بڑھ کر ہے۔ اس لیے بندے کو خوف وامید دونوں سے لیس ہونا چاہیے۔
بندوں کے اوپر تنی ہوئی اللہ کے فضل و احسان کی چادر ان کے اعمال سے کہیں زیادہ کشادہ ہے۔
نیک اعمال جنت میں داخل ہونے کا سبب ہیں اور جنت سے سرفراز ہونا محض اللہ کے فضل اور رحمت سے ممکن ہے۔
کرمانی کہتے ہیں: جب سارے لوگ اللہ کی رحمت کی بدولت ہی جنت میں داخلہ پا سکتے ہيں، تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا ذکر بطور خاص یہ بتانے کے لیے کیا گیا ہے کہ جب آپ کا جنت میں داخل ہونا یقینی ہے اور اس کے باوجود آپ اللہ کی رحمت کے بغیر جنت میں داخل نہیں ہو سکتے، تو دوسرے لوگ بہ درجہ اولی داخل نہيں ہو سکتے۔
نووی کہتے ہيں: ارشاد باری تعالی: (اپنے ان اعمال کے سبب جنت میں داخل ہو جاؤ جو تم دنیا میں کیا کرتے تھے۔) [النحل: ۳۲]، (یہ وہ جنت ہے جس کا تم وارث اپنے کیے ہوئے اعمال کے سبب بنائے گئے ہو۔) [ الزخرف : 72] اور اس طرح کی ديگر آیتیں جو یہ بتاتی ہيں کہ اعمال کی بدولت جنت میں داخلہ نصیب ہوگا، ان کے اور ان احادیث کے درمیان تعارض نہيں ہے۔ کیوں کہ ان آیتوں کے معنی بس اتنا ہیں کہ جنت میں داخلہ اعمال کے سبب سے نصیب ہوگا۔ لیکن اعمال کی توفیق، ان کے اندر اخلاص اور ان کی قبولیت اللہ کی رحمت اور فضل و کرم سے نصیب ہوتی ہے۔ یہی ان احادیث کا مقصد ہے۔ لہذا یہ صحیح ہے کہ جنت میں داخلہ اعمال کے سبب ملے گا، لیکن یہ بھی صحیح ہے کہ اعمال کی توفیق اللہ کی رحمت سے نصیب ہوتی ہے۔
ابن الجوزی کہتے ہيں: اس سے چار جوابات نکل کر سامنے آتے ہيں: 1- عمل کی توفیق اللہ کی رحمت سے ملتی ہے۔ سچائی تو یہ ہے کہ اگر اللہ کی رحمت شامل حال نہ ہو تو نہ ایمان کی دولت نصیب ہو اور نہ اطاعت کی سعادت، جن سے کہ نجات ملتی ہے۔ 2- غلام کے منافع آقا کے ہوا کرتے ہيں۔ لہذا اس کا عمل بھی اس کے آقا کا حق ہے۔ ایسے میں آقا اپنے غلام کو جو بھی انعام دے اسے اس کے فضل و کرم کا ہی نام دیا جائے گا۔ 3- کچھ حدیثوں میں آیا ہے فی نفسہ دخول جنت اللہ کی رحمت سے نصیب ہوگا اور درجات کی تقسیم اعمال کی بنیاد پر ہوگی۔ 4- نیکی کے کام کرنے میں تھوڑا سا وقت لگتا ہے، جب کہ اس کے نتیجے میں ملنے والا ثواب دائمی ہوتا ہے۔ اس لیے ختم ہو جانے والے اعمال کے بدلے میں ملنے والا دائمی انعام فضل وکرم ہی کہلائے گا۔ بدلہ نہيں۔
رافعی کہتے ہيں: کسی بھی عمل کرنے والے کے لیے مناسب نہيں ہوگا کہ نجات اور درجات کے حصول کے سلسلے میں اپنے عمل پر بھروسہ کر لے۔ کیوں کہ اس کے پاس جو اعمال ہیں، وہ اللہ کی توفیق کی بنا پر ہیں اور اگر وہ گناہوں سے محفوظ رہا ہے، تو اسے محفوظ اللہ نے رکھا ہے۔ اس لیے یہ سب کچھ اللہ کے فضل وکرم اور اس کی رحمت کا نتیجہ ہے۔
حوالہ
صحيح البخاري (7/ 121) (5673).
صحيح مسلم (4/ 2170) (2816).
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (1/ 165).
كنوز رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (2/ 321).
شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (1/ 573).
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (1/ 130).
عن أبي موسى الأشعري رضي الله عنه كان النبي صلى الله عليه وسلم إذا أتاه طالب حاجة أقبل على جُلسائِه، فقال: «اشْفَعُوا تُؤجَرُوا، ويَقْضِي الله على لسانِ نَبِيِّه ما أحب». وفي رواية: «ما شاء».
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کے پاس جب کوئی ضرورت مند آتا تو آپ اپنے ہم مجلس لوگوں کی طرف متوجہ ہوکر فرماتے: تم (اس کی) سفارش کرو، تمہیں بھی اجر ملے گا۔ اور اللہ اپنے نبی کی زبان پر جو پسند کرتاہے فیصلہ فرما دیتاہے۔
اور ایک روایت میں ہے: ”مَا شَاءَ“ یعنی (اللہ) جو چاہتا ہے (فیصلہ فرما دیتاہے)۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
یہ حدیث ایک بہت بڑے اصول اورایک بہت ہی مفید بات پر مشتمل ہے اور وہ یہ ہے کہ بندے کو چاہئے کہ وہ بھلائی کے کاموں میں کوشاں رہے چاہے ان کے مقاصد اور ثمرات و نتائج حاصل ہوں، یا ان کا کچھ حاصل ہو، یا ان میں سے کچھ بھی پورا نہ ہو۔ جیسے کہ ضرورت مندوں کی حکمرانوں، بڑے لوگوں اور جن کے ساتھ ان کی ضروریات وابستہ ہیں ان کے پاس سفارش کرنا۔ بہت سے لوگوں کو اگر یہ یقین نہ ہو کہ ان کی سفارش قبول ہوگی تو وہ سفارش کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ حالانکہ ایسا کرکے وہ اپنے آپ کو اللہ کی طرف سے ملنے والی ایک بہت بڑی بھلائی سے اور اپنے مسلمان بھائی کے ساتھ کی جاسکنے والی ایک نیکی سے اپنے آپ کو محروم کردیتے ہیں ۔ اسی لئے آپ ﷺ نے اپنے صحابہ سے فرمایا کہ ضرورتمندوں کی آپ ﷺ کےپاس سفارش کرکے ان کی مدد کیا کریں تاکہ اللہ تعالی سے اس کا فوری ثواب پاسکیں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ''سفارش کرو، تمہیں اجر ملے گا۔'' کیونکہ اچھی سفارش اللہ کو بہت محبوب اور پسندیدہ ہے ۔ اللہ تعالی فرماتے ہیں : ﴿مَّن يَشْفَعْ شَفَاعَةً حَسَنَةً يَكُن لَّهُ نَصِيبٌ مِّنْهَا﴾ (النساء: 85) ”جو شخص کسی نیکی یا بھلے کام کی سفارش کرے، اسے بھی اس کا کچھ حصہ ملے گا“۔ فوری اجر پانے کے ساتھ ساتھ وہ اپنے بھائی کے ساتھ نیکی اور بھلائی بھی کرتا ہے اور یوں اس کا اس پر احسان بھی ہوجاتا ہے ۔ اور ہو سکتا ہے کہ اس کی سفارش کی بدولت اس شخص کی پوری یا جزوی مقصد برآری بھی ہوجائے۔
اچھی چیزوں اور بھلائی کے کاموں میں سعی وکوشش کرنا جن کے حاصل ہونے یا نہ ہونے دونوں کا امکان رہتا ہے بذات خود ایک فوری نیکی ہے اور نفس کو بھلائی کے کام میں مدد کرنے کا عادی بنانا ہے اور ایسی سفارشیں کرنے کے لیے راستہ ہموار کرنا ہے جن کے قبول ہونے کا یقین،یا گمان ہوتا ہے۔
آپ ﷺ کا یہ فرمان کہ اور اللہ اپنے نبی کی زبان پر جو چاہتا ہے فیصلہ فرما دیتاہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس چیز کا ہونا یا نہ ہونا اللہ کے علم میں گذر چکا ہے اس میں سے جس چیز کا اللہ ارادہ کرتا ہے فیصلہ فرمادیتا ہے۔ چنانچہ جو شے مطلوب ہے وہ سفارش کا کرنا ہے ۔ اور اس پر ثواب مل کر رہتا ہے چاہے جس شے کی سفارش کی جائے وہ حاصل ہو یا پھر کسی رکاوٹ کی وجہ سے حاصل نہ ہوسکے ۔
حوالہ
كنوز رياض الصالحين - حمد بن ناصر بن عبد الرحمن العمار - دار كنوز اشبيليا- الطبعة الأولى: 1430 هـ
بهجة الناظرين - سليم بن عيد الهلالي - دار ابن الجوزي.
نزهة المتقين - مصطفى سعيد الخن، مصطفى البغا، محي الدين مستو، علي الشرجبي، محمد أمين لطفي - مؤسسة الرسالة ، بيروت - الطبعة الأولى : 1397 هـ 1977 م - الطبعة الرابعة عشر 1407 هـ 1987م.
شرح رياض الصالحين - محمد بن صالح بن محمد العثيمين - الناشر: دار الوطن للنشر، الرياض - الطبعة: 1426 هـ.
دليل الفالحين - محمد بن علان - دار الكتاب العربي.
رياض الصالحين- د. ماهر بن ياسين الفحل - الناشر: دار ابن كثير للطباعة والنشر والتوزيع، دمشق - بيروت - الطبعة: الأولى، 1428 هـ - 2007 م.
صحيح البخاري - محمد بن إسماعيل البخاري - دار طوق النجاة - الطبعة : الأولى، 1422هـ
صحيح مسلم - مسلم بن الحجاج أبو الحسن القشيري النيسابوري - المحقق: محمد فؤاد عبد الباقي - الناشر: دار إحياء التراث العربي - بيروت.
بهجة قلوب الأبرار وقرة عيون الأخيار في شرح جوامع الأخبار - المؤلف: أبو عبد الله، عبد الرحمن بن ناصر بن عبد الله بن ناصر بن حمد آل سعدي المحقق: عبد الكريم بن رسمي ال الدريني دار النشر: مكتبة الرشد للنشر والتوزيع الطبعة: الأولى 1422هـ - 2002م.
یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com