سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

توحيدِ اسماء وصفات

75 احادیث

کیا میں تمہیں تین افراد کے بارے میں نہ بتاؤں؟ ان میں سے ایک نے اللہ کے پاس ٹھہرنا چاہا تو اللہ نے بھی اسے اپنے پاس ٹھہرا لیا جب کہ دوسرے نے حیا کی تو اللہ نے بھی اس سے حیا کی اور تیسرے نے منہ موڑا تو اللہ نے بھی اس سے منہ موڑ لیا۔

عن أبي واقد الحارث بن عوف رضي الله عنه أنَّ رسول الله صلى الله عليه وسلم بينما هو جالس في المسجد، والناس معه، إذ أقبل ثلاثَةُ نَفَرٍ، فأقبل اثنان إلى رسول الله، صلى الله عليه وسلم وذهب واحد، فوقفا على رسول الله صلى الله عليه وسلم ، فأما أحدهما فرأى فُرْجَةً في الْحَلْقَةِ فجلس فيها، وأما الآخر فجلس خلفهم، وأما الثالث فأدْبَر ذاهبٍا، فلما فرغ رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «ألا أُخْبِرُكُم عن النَّفَرِ الثلاثة: أما أحدهم فأَوَى إلى الله فآوَاهُ الله إليه، وأما الآخر فاسْتَحْيا فاسْتَحْيَا الله منه، وأما الآخر، فأعْرَضَ، فأعرضَ اللهُ عنه».
ابو واقد حارث بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ مسجد میں تشریف فرما تھے اور لوگ بھی آپ ﷺ کے ساتھ بیٹھے تھے کہ اتنے میں تین افراد آئے۔ دو تو رسول اللہ ﷺ کی طرف آ گیے اور ایک واپس چلا گیا۔ وہ دونوں رسول اللہ ﷺ کے پاس آ کر کھڑے ہو گیے۔ ان میں سے ایک نے حلقے میں کچھ کشادگی دیکھی تو وہاں بیٹھ گیا اور دوسرا لوگوں کے پیچھے بیٹھ گیا جب کہ تیسرا واپس لوٹ گیا۔ جب رسول اللہ ﷺ (اپنی گفتگو سے) فارغ ہوئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں تین افراد کے بارے میں نہ بتاوں؟ ان میں سے ایک نے اللہ کے پاس ٹھہرنا چاہا تو اللہ نے بھی اسے اپنے پاس ٹھہرا لیا جب کہ دوسرے نے حیا کی تو اللہ نے بھی اس سے حیا کی (کہ اسے مجلس کی برکت سے محروم نہ رکھا) اورتیسرے نے منہ موڑا تو اللہ نے بھی اس سے منہ موڑ لیا“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

حدیث میں اس بات کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ مسجد میں لوگوں کے ہمراہ تشریف فرما تھے کہ اتنے میں تین آدمی وہاں آئے۔ ان میں سے دو تو رسول اللہ ﷺ کی طرف آ گیے اور ایک واپس چلا گیا۔ وہ دونوں رسول اللہ ﷺ کےحلقے کے پاس آکر کھڑے ہوگیے۔ ان میں سے ایک کو حلقے میں خالی جگہ نظر آئی تو وہ وہاں بیٹھ گیا۔ اس حلقے میں کچھ لوگ تھے جو نبی ﷺ کے سامنے گول دائرے کی شکل میں بیٹھے ہوئے تھے۔ جب کہ دوسرا شخص ان کے پیچھے ہی بیٹھ گیا اور تیسرا شخص واپس لوٹ گیا۔ نبی ﷺ جو گفتگو فرما رہے تھے اس سے جب فارغ ہوئے تو آپ ﷺ نے اپنے صحابہ سے فرمایا کہ کیا میں تمہیں تین آدمیوں کے بارے میں نہ بتاؤں؟۔ ان میں سے ایک نے اللہ کے پاس ٹھہرنا چاہا تو اللہ نے بھی اسے اپنے پاس ٹھہرا لیا یعنی اس نے خالی جگہ پر بیٹھ کر اللہ کا ذکر سننا شروع کر دیا چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اسے اس مبارک مجلس کی فضیلت سے نوازا۔ جب کہ دوسرے نے حیا کی تو اللہ نے بھی اس سے حیا کی یعنی (کسی کو ) دھکیلے بغیر وہ حلقے کے پیچھے بیٹھ گیا چنانچہ اسے بھی اس مجلس کی برکت سے محروم نہ رکھا گیا۔ جب کہ تیسرے شخص نے منہ موڑا تو اللہ نے بھی اس سے منہ موڑ لیا یعنی وہ بلا کسی عذر کے واپس چلا گیا اس لیے مجلس کی برکت سے محروم کر دیا گیا۔

حوالہ

صحيح البخاري، تحقيق: محمد زهير بن ناصر الناصر، دار طوق النجاة، ط: الأولى، 1422هـ. صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي – بيروت. رياض الصالحين، للنووي، تحقيق ماهر الفحل، دار ابن كثير، دمشق -بيروت، ط: الأولى 1428هـ. نزهة المتقين، لمجموعة من المؤلفين، مؤسسة الرسالة، ط: الرابعة عشر،1407هـ. شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين، بإشراف مؤسسة الشيخ، دار الوطن للنشر، الرياض، ط: 1426هـ. بهجة الناظرين، لسليم الهلالي، دار ابن الجوزي، السعودية، ط: الثالثة 1418هـ. تطريز رياض الصالحين، تأليف فيصل آل مبارك، تحقيق د. عبد العزيز آل حمد، دار العاصمة -الرياض، الطبعة الأولى، 1423هـ. صفات الله عز وجل الواردة في الكتاب والسنة: علوي بن عبد القادر السَّقَّاف، دار الهجرة الطبعة: الثالثة ، 1426هـ - 2006م.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

میں اللہ کی خاطر تم سے محبت کرتا ہوں، اس پر اس شخص نے کہا: تم سے بھی وہ ذات محبت کرے، جس کی خاطر تم مجھ سے محبت کرتے ہو

عن أنس بن مالك رضي الله عنه أنَّ رَجُلاً كَانَ عِند النَبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَمَرَّ رَجُلٌ بِهِ، فقال: يا رسول الله، أنِّي لَأُحِبُّ هَذَا، فَقَال لَهُ النَبِيُّ صلى الله عليه وسلم : «أَأَعْلَمْتَهُ؟» قال: لا. قال: «أَعْلِمْهُ»، فَلَحِقَهُ، فقال: إِنِّي أُحِبُّك فِي الله، فقال: أّحَبَّك الَّذِي أَحْبَبْتَنِي لَهُ.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی ﷺ کے پاس تھا کہ اتنے میں ایک شخص کا اس کے قریب سے گزر ہوا۔ اس نے کہا: یا رسول اللہ! میں اس شخص سے محبت کرتا ہوں۔ اس پر نبی ﷺ نے اس سے پوچھا: کیا تم نے اسے یہ بات بتائی ہے؟۔ اس نے جواب دیا : نہیں۔ آپﷺ نے فرمایا: اسے یہ بات بتادو۔ چنانچہ اس آدمی نے اس شخص کے پیچھے جا کر اسے بتایا کہ : میں اللہ کی خاطر تم سے محبت کرتا ہوں۔ اس پر اس شخص نے کہا: تم سے بھی وہ ذات محبت کرے، جس کی خاطر تم مجھ سے محبت کرتے ہو۔
اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

اس حدیث شریف میں نبی ﷺ کے فرمان کی عملی تطبیق کا بیان ہے کہ انسان اگر اپنے مسلمان بھائی سے محبت کرتا ہو، تو اسے چاہیے کہ وہ اسے اس کے بارے میں بتائے۔ جب آپ ﷺ کے پاس بیٹھے ایک آدمی نے آپ ﷺ سے کہا کہ میں اس شخص سے محبت کرتا ہوں، جو ان کے پاس سے گزرا تھا، تو آپ ﷺ نے اس سے دریافت فرمایا: "کیا تم نے اسے یہ بات بتائی ہے؟"۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جب کوئی کسی مسلمان سے محبت کرتا ہو، تو اس کا یہ کہنا کہ "میں تم سے محبت کرتا ہوں" سنت ہے؛ کیوں کہ اس سے اس کے دل میں بھی محبت پیدا ہوتی ہے۔ اس لیے کہ انسان کو جب اپنے بھائی سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس سے محبت کرتا ہے، تو وہ بھی اس سے محبت کرنے لگتا ہے، اگرچہ زبانوں سے اظہار نہ بھی ہو، تب بھی دلوں میں باہم جان پہچان اور مانوسیت ہوتی ہی ہے۔ جیسا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: "روحیں لشکر کی طرح ایک جگہ مجتمع تھیں، چنانچہ جو روحیں ایک دوسرے سے آپس میں مانوس و متعارف تھیں، وہ (اس دنیا میں بھی) ایک دوسرے کے ساتھ محبت و الفت رکھتی ہیں اور جو روحیں ایک دوسرے سے ان جان و نامانوس تھیں، وہ (اس دنیا میں بھی) اختلاف رکھتی ہیں"۔ لیکن انسان کا اپنی زبان سے اظہار محبت کرنا دوسرے کے دل میں محبت کو بڑھاتا ہے۔ چنانچہ اسے کہنا چاہیے کہ میں اللہ کی خاطر تم سے محبت کرتا ہوں۔

حوالہ

بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي، ط1، دار ابن الجوزي، الدمام، 1415هـ. تطريز رياض الصالحين، للشيخ فيصل المبارك، ط1، تحقيق: عبد العزيز بن عبد الله آل حمد، دار العاصمة، الرياض، 1423هـ. رياض الصالحين للنووي، ط1، تحقيق: ماهر ياسين الفحل، دار ابن كثير، دمشق، بيروت، 1428هـ. رياض الصالحين، ط4، تحقيق: عصام هادي، وزارة الأوقاف والشؤون الإسلامية القطرية، دار الريان، بيروت، 1428هـ. سنن أبي داود، تحقيق: محمد محيي الدين عبد الحميد، المكتبة العصرية، بيروت. السنن الكبرى للنسائي، تحقيق: حسن عبد المنعم شلبي، ط1، مؤسسة الرسالة، بيروت، 1421هـ. شرح رياض الصالحين، للشيخ ابن عثيمين، دار الوطن للنشر، الرياض، 1426هـ. عون المعبود شرح سنن أبي داود، ومعه حاشية ابن القيم: تهذيب سنن أبي داود وإيضاح علله ومشكلاته للعظيم آبادي، ط3، دار الكتب العلمية، بيروت، 1415 هـ. مسند الإمام أحمد بن حنبل، تحقيق: شعيب الأرنؤوط - عادل مرشد، وآخرون، إشراف: د عبد الله بن عبد المحسن التركي، ط1، مؤسسة الرسالة، 1421هـ. نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين، ط14، مؤسسة الرسالة، 1407هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

”بے شک اللہ تعالیٰ کو غیرت آتی ہے اور بے شک مؤمن کو بھی غیرت آتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کو غیرت اس بات پر آتی ہے کہ بندہ وہ کام کرے، جسے اللہ نے اس پر حرام کیا ہے“۔

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قال: قال رَسُولُ الله صلى الله عليه وسلم: «إِنَّ اللهَ يَغَارُ، وَإِنَّ الْمُؤْمِنَ يَغَارُ، وَغَيْرَةُ اللهِ أَنْ يَأْتِيَ الْمُؤْمِنُ مَا حَرَّمَ عَلَيْهِ».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا : ”بے شک اللہ تعالیٰ کو غیرت آتی ہے اور بے شک مؤمن کو بھی غیرت آتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کو غیرت اس بات پر آتی ہے کہ بندہ وہ کام کرے، جسے اللہ نے اس پر حرام کیا ہے“۔
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ بے شک اللہ کو غیرت آتی ہے اور وہ نفرت اور ناپسند کرتا ہے۔ اللہ کو غیرت اس بات پر آتی ہے کہ مؤمن زنا، لواطت، چوری اور شراب نوشی جیسے گناہ کے کام کرے، جن کو اللہ نے حرام قرار دیا ہے۔

فوائد
  1. جب اللہ کے محارم کو پامال کیا جائے، تو اس کے غضب اور اس کی سزا کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔
حوالہ

صحيح البخاري (7/ 35) (5223). صحيح مسلم (4/ 2114) (2761). تطريز رياض الصالحين، لفيصل المبارك (ص62). شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (1/ 496). نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (1/ 96). صفات الله عز وجل الواردة في الكتاب والسنة، لعلوي السَّقَّاف (ص267).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

ان لوگوں کا خوف کیسا ہے؟ محکم (واضح) نصوص سن کر ان پر رقت طاری ہو جاتی ہے اور جب کوئی متشابہ نصوص سنتے ہیں تو ہلاک ہو جاتے ہیں (یعنی انکار کر بیٹھتے ہیں )

عن ابن عباس رضي الله عنهما أنه رأى رجلا انْتَفَضَ لما سمع حديثا عن النبي صلى الله عليه وسلم في الصفات -استنكارا لذلك– فقال: "ما فَرَقُ هؤلاء؟ يجدون رِقَّةً عند مُحْكَمِهِ، ويَهْلِكُونَ عند مُتَشَابِهِهِ" .
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روايت ہے کہ: انہوں نے ایک آدمی کو دیکھا کہ جب اس نے اللہ کی صفات کے بارے میں نبی ﷺ کی ایک حدیث سنی تو - بطور انکار - اس پر جھرجھری طاری ہو گئی۔ تو انہوں نے فرمایا:ان لوگوں کا خوف کیسا ہے؟ محکم (واضح) نصوص سن کر ان پر رقت طاری ہو جاتی ہے اور جب کوئی متشابہ نصوص سنتے ہیں تو ہلاک ہو جاتے ہیں (یعنی انکار کر بیٹھتے ہیں)۔
اسے ابنِ ابی عاصم نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام عبد الرزّاق نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

ابن عباس رضی اللہ عنہما اپنی مجلس میں عوام الناس میں سے حاضر ہونے والے ایسے لوگوں پر نکیر کر ربے ہیں جو اللہ کی صفات کے بارے میں کوئی حدیث سنتے ہیں تو خوف میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور بطور انکار ان پر کپکپی طاری ہو جاتی ہے۔ چنانچہ وہ لوگ اس چیز پر واجب ایمان نہیں رکھتے جو رسول ﷺ سے صحیح ثابت ہے اور انہوں نے اس کے معنی کو قرآن سے جان لیا ہے۔ جو کہ برحق ہے جس میں کوئی مومن شک نہیں کر سکتا۔اور بعض اسے اس معنی پر محمول کرتے ہیں جو اللہ کی مراد نہیں ہے، جس کی وجہ سے وہ ہلاک ہوجا تا ہے۔

حوالہ

كتاب التوحيد للإمام محمد بن عبد الوهاب ص252 ت: د. دغش العجمي . مكتبة أهل الأثر , الطبعة الخامسة , 1435ه الجديد في شرح كتاب التوحيد لمحمد بن عبد العزيز السليمان القرعاوي, ت: محمد بن أحمد سيد , مكتبة السوادي، الطبعة: الخامسة، 1424ه الملخص في شرح كتاب التوحيد للشيخ صالح الفوزان , دار العاصمة , الطبعة الأولى 1422ه كتاب السنة لابن أبي عاصم ومعه ظلال الجنة للألباني, المكتب الإسلامي, ط4 1419

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

ایک یہودی عالم رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہا : اے محمد ! ہم تورات میں پاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں کو ایک انگلی پر رکھ لے گا اور زمینوں کو ایک انگلی پر۔

عن ابن مسعود رضي الله عنه قال: "جاء حَبْرٌ من الأحبار إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: يا محمد، إنا نجد أن الله يجعل السماوات على إِصْبَعٍ، والأَرَضَينَ على إِصْبَعٍ، والشجر على إِصْبَعٍ، والماء على إِصْبَعٍ، والثَّرَى على إِصْبَعٍ، وسائر الخلق على إِصْبَعٍ، فيقول: أنا الملك، فضحك النبي صلى الله عليه وسلم حتى بَدَتْ نَوَاجِذَهُ تَصْدِيقًا لقول الحبر، ثم قرأ: (وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ). وفي رواية لمسلم: "والجبال والشجر على إِصْبَعٍ، ثم يَهُزُّهُنَّ فيقول: أنا الملك، أنا الله". وفي رواية للبخاري: "يجعل السماوات على إِصْبَعٍ، والماء والثَّرَى على إِصْبَعٍ، وسائر الخلق على إِصْبَعٍ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک یہودی عالم رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہا: اے محمد! ہم تورات میں پاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں کو ایک انگلی پر رکھ لے گا اور زمینوں کو ایک انگلی پر، درختوں کو ایک انگلی پر ، پانی کو ایک انگلی پر، مٹی کو ایک انگلی پر اور تمام مخلوقات کو ایک انگلی پر، پھر فرمائے گا:میں ہی بادشاہ ہوں۔ اس پر نبی کریم ﷺ ہنس پڑے، جس سے آپ کے سامنے کے دانت دکھائی دینے لگے۔ در اصل آپ کا یہ ہنسنا اس یہودی عالم کی تصدیق میں تھا۔ پھر آپ ﷺ نے اس آیت کی تلاوت کی ﴿وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ﴾ ”اور ان لوگوں نے اللہ کی عظمت نہ کی جیسی عظمت کرنا چاہیے تھی اور حال یہ ہے کہ ساری زمین اسی کی مٹھی میں ہو گی قیامت کے دن“۔ اور مسلم کی ایک روایت میں ہے: ”اور پہاڑ و درخت ایک انگلی پر۔ پھر انھیں حرکت دیتے ہوئے فرمائے گا: میں بادشاہ ہوں! میں اللہ ہوں!“ اور بخاری کی روایت میں ہے: ”آسمانوں کو ایک انگلی پر، پانی و مٹی کو ایک انگلی پر اور تمام مخلوقات کو ایک انگلی پر رکھے گا“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ ایک یہودی عالم نے نبی ﷺ کے پاس آکر بتایا کہ وہ اپنی کتابوں میں پاتا ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ اپنی ایک انگلی پر آسمانوں کو، ایک انگلی پر زمینوں کو، ایک انگلی پر درخت کواور ایک انگلی پر مٹی کو اٹھائے گا۔ اور ایک روایت میں ہے کہ پانی کو ایک انگلی پر اور تمام مخلوقات کو ایک انگلی پر اٹھائے گا۔ یہ کل پانچ انگلیاں ہوئیں جیسا کہ صحیح روایات میں موجود ہے؛ البتہ اللہ کی انگلیاں مخلوقات کی انگلیوں کی طرح نہیں ہیں۔ پھر اللہ عز و جل اپنی عظمت و قدرت کا قدرے اظہار کرے گا۔ چنانچہ وہ انھیں حرکت دے گا اور اپنی حقیقی بادشاہت، مطلق کمالِ تصرف اورالوہیتِ حقہ کا اعلان کرے گا! چنانچہ آپ اس کی بات کی تصدیق کے طور پر ہنس پڑے، یہاں تک کہ آپ کے سامنے کے دانت دکھائی دینے لگے۔ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی:﴿وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ﴾ ”اور ان لوگوں نے اللہ کی عظمت نہ کی جیسی عظمت کرنا چاہیے تھی اور حال یہ ہے کہ ساری زمین اسی کی مٹھی میں ہو گی قیامت کے دن“۔

حوالہ

كتاب التوحيد للإمام محمد بن عبد الوهاب ص252 ت: د. دغش العجمي - مكتبة أهل الأثر , الطبعة الخامسة , 1435هـ. الجديد في شرح كتاب التوحيد، لمحمد بن عبد العزيز السليمان القرعاوي, ت: محمد بن أحمد سيد , مكتبة السوادي، الطبعة: الخامسة، 1424هـ. الملخص في شرح كتاب التوحيد، للشيخ صالح الفوزان, دار العاصمة , الطبعة الأولى 1422هـ. صحيح البخاري, ترقيم محمد فؤاد عبد الباقي, دار طوق النجاة, الطبعة: الأولى، 1422هـ. صحيح مسلم, ترقيم محمد فؤاد عبد الباقي, دار إحياء التراث العربي, بيروت.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

روز قیامت اللہ آسمانوں کو لپیٹ کر اپنے دائیں ہاتھ میں لے لے گا اور پھر فرمائے گا: میں ہوں بادشاہ، کہاں ہیں وہ لوگ جو سرکش بنے پھرتے تھے؟ کہاں ہیں وہ لوگ جو متکبر بنے پھرتے تھے؟ پھر اللہ ساتوں زمینوں کو لپیٹ کر اپنے بائیں ہاتھ میں لے لے گا اور کہے گا: میں ہوں بادشاہ، کہاں ہیں جو سرکش بنے پھرتے تھے؟ کہاں ہیں جو متکبر بنے پھرتے تھے؟

عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما مرفوعاً: "يَطْوِي الله السماوات يوم القيامة، ثم يَأْخُذُهُنَّ بيده اليمنى، ثم يقول: أنا الملك أين الجبارون؟ أين المتكبرون؟ ثم يَطْوِي الأَرَضِينَ السبع، ثم يأخذهن بشماله، ثم يقول: أنا الملك، أين الجبارون؟ أين المتكبرون؟".
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”روز قیامت اللہ آسمانوں کو لپیٹ کر اپنے دائیں ہاتھ میں لے لے گا اور پھر فرمائے گا: میں ہوں بادشاہ، کہاں ہیں وہ لوگ جو سرکش بنے پھرتے تھے؟ کہاں ہیں وہ لوگ جو متکبر بنے پھرتے تھے؟ پھر اللہ ساتوں زمینوں کو لپیٹ کر اپنے بائیں ہاتھ میں لے لے گا اور کہے گا: میں ہوں بادشاہ، کہاں ہیں جو سرکش بنے پھرتے تھے؟ کہاں ہیں جو متکبر بنے پھرتے تھے؟“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

ابن عمر رضی اللہ عنہما ہمیں بتا رہے ہیں کہ نبی ﷺ نے صحابۂ کرام کو بتایا کہ قیامت کے دن اللہ عز وجل ساتوں آسمانوں کو لپیٹ کر اپنے دائیں ہاتھ میں لے لے گا اور ساتوں زمینوں کو لپیٹ کر اپنے بائیں ہاتھ میں لے لے گا اور یہ کہ وہ جب بھی ان میں سے کسی کو لپیٹے گا تو ان سرکشوں اور متکبروں کو تحقیر آمیز لہجے میں پکار کر اعلان کرے گا کہ وہی حقیقی و کامل بادشاہت کا مالک ہے، جس میں نہ کوئی کمزوری آتی ہے اور نہ ہی وہ کبھی ختم ہوتی ہے اور یہ کہ اس کے سوا ہر بادشاہ، غلام، انصاف پرور اور ظالم سب ختم ہو جانے والے اور اس کے سامنے بے حیثیت ہیں۔ اللہ اپنے کاموں کے لیے (کسی کے آگے) جواب ده نہیں اور سب (اس کے آگے) جواب ده ہیں۔

حوالہ

كتاب التوحيد للإمام محمد بن عبد الوهاب ص252 ت: د. دغش العجمي . مكتبة أهل الأثر , الطبعة الخامسة , 1435ه الجديد في شرح كتاب التوحيد لمحمد بن عبد العزيز السليمان القرعاوي, ت: محمد بن أحمد سيد , مكتبة السوادي، الطبعة: الخامسة، 1424ه صحيح مسلم, ترقيم محمد فؤاد عبد الباقي, دار إحياء التراث العربي, بيروت.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

صحیح راستہ اختیار کرو اور جان ركھو کہ تم میں سے کوئی بھی اپنے عمل کی وجہ سے نجات نہیں پا سکتا"۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے سوال کیا: اے اللہ کے رسول! آپ بھی نہیں؟ آپ ﷺ نے جواب دیا: "میں بھی نہیں! مگر یہ کہ اللہ تعالی اپنی رحمت و فضل سے مجھے ڈھانپ لے۔

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَارِبُوا وَسَدِّدُوا، وَاعْلَمُوا أَنَّهُ لَنْ يَنْجُوَ أَحَدٌ مِنْكُمْ بِعَمَلِهِ» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ وَلَا أَنْتَ؟ قَالَ: «وَلَا أَنَا، إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِيَ اللهُ بِرَحْمَةٍ مِنْهُ وَفَضْلٍ».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: "صحیح راستہ اختیار کرو اور جان ركھو کہ تم میں سے کوئی بھی اپنے عمل کی وجہ سے نجات نہیں پا سکتا"۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے سوال کیا: اے اللہ کے رسول! آپ بھی نہیں؟ آپ ﷺ نے جواب دیا: "میں بھی نہیں! مگر یہ کہ اللہ تعالی اپنی رحمت و فضل سے مجھے ڈھانپ لے۔"
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے صحابہ کو اس بات کی ترغیب دی کہ عمل کرتے رہیں، افراط و تفریط سے بچتے ہوئے جہاں تک ہو سکے اللہ سے ڈرتے رہیں، ان کے عمل کا مقصد حق جوئی ہو‘ بایں طور کہ اخلاص الہی اور اتباع سنت کے ساتھ عمل کریں، تاکہ ان کے اعمال قبول ہوں اور نزول رحمت کا سبب بنیں۔ اس کے بعد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ فقط تم میں سے کسی کا عمل اسے نجات نہيں دلا سکتا۔ بلکہ اللہ کی رحمت شامل حال ہونا ضروری ہے۔ صحابہ نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! آپ کے اتنے سارے اعمال بھی آپ کو نجات نہيں دلا سکتے؟ جواب دیا: مجھے بھی نہيں، جب تک کہ اللہ اپنے فضل ورحمت کی چادر مجھ پر نہ پھیلا دے۔

فوائد
  1. نووی کہتے ہيں: حدیٹ کے الفاظ (سدِّدوا وقاربوا) کے معنی یہ ہوئے کہ درستگی کی تلاش میں رہو اور اس پر عمل کرو۔ اگر ایسا نہ کر سکو، تو اس سے قریب رہو۔ سداد کے معنی درستگی کے ہیں۔ یعنی افراط و تفریط کے درمیان کی راہ، نہ غلو کرو اور نہ کوتاہی کی راہ اپناؤ۔
  2. شیخ ابن باز کہتے ہيں: جس طرح برے اعمال جہنم میں داخل ہونے کا سبب ہیں، اسی طرح اچھے اعمال جنت میں داخل ہونے کا سبب ہیں۔ یہ حدیث بتاتی ہے کہ جنت میں داخلہ محض عمل کی بنیاد پر نہيں مل سکتا بلکہ اللہ کا درگزر اور اس کی رحمت ضروری ہے۔ لوگ داخل تو ہوں گے اپنے اعمال کی وجہ سے، لیکن اس داخلے کو اللہ کی رحمت، اس کا عفو و درگزر اور اس کی مغفرت واجب کرے گی۔
  3. بندے کو اپنے عمل پر غرور اور تکبر نہیں کرنا چاہیے، خواہ وہ جس قدر بھی ہو، کیوں کہ اللہ تعالی کا حق اس کے عمل سے کہیں بڑھ کر ہے۔ اس لیے بندے کو خوف وامید دونوں سے لیس ہونا چاہیے۔
  4. بندوں کے اوپر تنی ہوئی اللہ کے فضل و احسان کی چادر ان کے اعمال سے کہیں زیادہ کشادہ ہے۔
  5. نیک اعمال جنت میں داخل ہونے کا سبب ہیں اور جنت سے سرفراز ہونا محض اللہ کے فضل اور رحمت سے ممکن ہے۔
  6. کرمانی کہتے ہیں: جب سارے لوگ اللہ کی رحمت کی بدولت ہی جنت میں داخلہ پا سکتے ہيں، تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا ذکر بطور خاص یہ بتانے کے لیے کیا گیا ہے کہ جب آپ کا جنت میں داخل ہونا یقینی ہے اور اس کے باوجود آپ اللہ کی رحمت کے بغیر جنت میں داخل نہیں ہو سکتے، تو دوسرے لوگ بہ درجہ اولی داخل نہيں ہو سکتے۔
  7. نووی کہتے ہيں: ارشاد باری تعالی: (اپنے ان اعمال کے سبب جنت میں داخل ہو جاؤ جو تم دنیا میں کیا کرتے تھے۔) [النحل: ۳۲]، (یہ وہ جنت ہے جس کا تم وارث اپنے کیے ہوئے اعمال کے سبب بنائے گئے ہو۔) [ الزخرف : 72] اور اس طرح کی ديگر آیتیں جو یہ بتاتی ہيں کہ اعمال کی بدولت جنت میں داخلہ نصیب ہوگا، ان کے اور ان احادیث کے درمیان تعارض نہيں ہے۔ کیوں کہ ان آیتوں کے معنی بس اتنا ہیں کہ جنت میں داخلہ اعمال کے سبب سے نصیب ہوگا۔ لیکن اعمال کی توفیق، ان کے اندر اخلاص اور ان کی قبولیت اللہ کی رحمت اور فضل و کرم سے نصیب ہوتی ہے۔ یہی ان احادیث کا مقصد ہے۔ لہذا یہ صحیح ہے کہ جنت میں داخلہ اعمال کے سبب ملے گا، لیکن یہ بھی صحیح ہے کہ اعمال کی توفیق اللہ کی رحمت سے نصیب ہوتی ہے۔
  8. ابن الجوزی کہتے ہيں: اس سے چار جوابات نکل کر سامنے آتے ہيں: 1- عمل کی توفیق اللہ کی رحمت سے ملتی ہے۔ سچائی تو یہ ہے کہ اگر اللہ کی رحمت شامل حال نہ ہو تو نہ ایمان کی دولت نصیب ہو اور نہ اطاعت کی سعادت، جن سے کہ نجات ملتی ہے۔ 2- غلام کے منافع آقا کے ہوا کرتے ہيں۔ لہذا اس کا عمل بھی اس کے آقا کا حق ہے۔ ایسے میں آقا اپنے غلام کو جو بھی انعام دے اسے اس کے فضل و کرم کا ہی نام دیا جائے گا۔ 3- کچھ حدیثوں میں آیا ہے فی نفسہ دخول جنت اللہ کی رحمت سے نصیب ہوگا اور درجات کی تقسیم اعمال کی بنیاد پر ہوگی۔ 4- نیکی کے کام کرنے میں تھوڑا سا وقت لگتا ہے، جب کہ اس کے نتیجے میں ملنے والا ثواب دائمی ہوتا ہے۔ اس لیے ختم ہو جانے والے اعمال کے بدلے میں ملنے والا دائمی انعام فضل وکرم ہی کہلائے گا۔ بدلہ نہيں۔
  9. رافعی کہتے ہيں: کسی بھی عمل کرنے والے کے لیے مناسب نہيں ہوگا کہ نجات اور درجات کے حصول کے سلسلے میں اپنے عمل پر بھروسہ کر لے۔ کیوں کہ اس کے پاس جو اعمال ہیں، وہ اللہ کی توفیق کی بنا پر ہیں اور اگر وہ گناہوں سے محفوظ رہا ہے، تو اسے محفوظ اللہ نے رکھا ہے۔ اس لیے یہ سب کچھ اللہ کے فضل وکرم اور اس کی رحمت کا نتیجہ ہے۔
حوالہ

صحيح البخاري (7/ 121) (5673). صحيح مسلم (4/ 2170) (2816). بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (1/ 165). كنوز رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (2/ 321). شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (1/ 573). نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (1/ 130).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

سفارش کرو، تمہیں (بھی) ثواب ملے گا اور اللہ اپنے نبی کی زبان پر جو پسند کرتاہے فیصلہ فرما دیتا ہے۔

عن أبي موسى الأشعري رضي الله عنه كان النبي صلى الله عليه وسلم إذا أتاه طالب حاجة أقبل على جُلسائِه، فقال: «اشْفَعُوا تُؤجَرُوا، ويَقْضِي الله على لسانِ نَبِيِّه ما أحب». وفي رواية: «ما شاء».
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کے پاس جب کوئی ضرورت مند آتا تو آپ اپنے ہم مجلس لوگوں کی طرف متوجہ ہوکر فرماتے: تم (اس کی) سفارش کرو، تمہیں بھی اجر ملے گا۔ اور اللہ اپنے نبی کی زبان پر جو پسند کرتاہے فیصلہ فرما دیتاہے۔ اور ایک روایت میں ہے: ”مَا شَاءَ“ یعنی (اللہ) جو چاہتا ہے (فیصلہ فرما دیتاہے)۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

یہ حدیث ایک بہت بڑے اصول اورایک بہت ہی مفید بات پر مشتمل ہے اور وہ یہ ہے کہ بندے کو چاہئے کہ وہ بھلائی کے کاموں میں کوشاں رہے چاہے ان کے مقاصد اور ثمرات و نتائج حاصل ہوں، یا ان کا کچھ حاصل ہو، یا ان میں سے کچھ بھی پورا نہ ہو۔ جیسے کہ ضرورت مندوں کی حکمرانوں، بڑے لوگوں اور جن کے ساتھ ان کی ضروریات وابستہ ہیں ان کے پاس سفارش کرنا۔ بہت سے لوگوں کو اگر یہ یقین نہ ہو کہ ان کی سفارش قبول ہوگی تو وہ سفارش کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ حالانکہ ایسا کرکے وہ اپنے آپ کو اللہ کی طرف سے ملنے والی ایک بہت بڑی بھلائی سے اور اپنے مسلمان بھائی کے ساتھ کی جاسکنے والی ایک نیکی سے اپنے آپ کو محروم کردیتے ہیں ۔ اسی لئے آپ ﷺ نے اپنے صحابہ سے فرمایا کہ ضرورتمندوں کی آپ ﷺ کےپاس سفارش کرکے ان کی مدد کیا کریں تاکہ اللہ تعالی سے اس کا فوری ثواب پاسکیں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ''سفارش کرو، تمہیں اجر ملے گا۔'' کیونکہ اچھی سفارش اللہ کو بہت محبوب اور پسندیدہ ہے ۔ اللہ تعالی فرماتے ہیں : ﴿مَّن يَشْفَعْ شَفَاعَةً حَسَنَةً يَكُن لَّهُ نَصِيبٌ مِّنْهَا﴾ (النساء: 85) ”جو شخص کسی نیکی یا بھلے کام کی سفارش کرے، اسے بھی اس کا کچھ حصہ ملے گا“۔ فوری اجر پانے کے ساتھ ساتھ وہ اپنے بھائی کے ساتھ نیکی اور بھلائی بھی کرتا ہے اور یوں اس کا اس پر احسان بھی ہوجاتا ہے ۔ اور ہو سکتا ہے کہ اس کی سفارش کی بدولت اس شخص کی پوری یا جزوی مقصد برآری بھی ہوجائے۔ اچھی چیزوں اور بھلائی کے کاموں میں سعی وکوشش کرنا جن کے حاصل ہونے یا نہ ہونے دونوں کا امکان رہتا ہے بذات خود ایک فوری نیکی ہے اور نفس کو بھلائی کے کام میں مدد کرنے کا عادی بنانا ہے اور ایسی سفارشیں کرنے کے لیے راستہ ہموار کرنا ہے جن کے قبول ہونے کا یقین،یا گمان ہوتا ہے۔ آپ ﷺ کا یہ فرمان کہ اور اللہ اپنے نبی کی زبان پر جو چاہتا ہے فیصلہ فرما دیتاہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس چیز کا ہونا یا نہ ہونا اللہ کے علم میں گذر چکا ہے اس میں سے جس چیز کا اللہ ارادہ کرتا ہے فیصلہ فرمادیتا ہے۔ چنانچہ جو شے مطلوب ہے وہ سفارش کا کرنا ہے ۔ اور اس پر ثواب مل کر رہتا ہے چاہے جس شے کی سفارش کی جائے وہ حاصل ہو یا پھر کسی رکاوٹ کی وجہ سے حاصل نہ ہوسکے ۔

حوالہ

كنوز رياض الصالحين - حمد بن ناصر بن عبد الرحمن العمار - دار كنوز اشبيليا- الطبعة الأولى: 1430 هـ بهجة الناظرين - سليم بن عيد الهلالي - دار ابن الجوزي. نزهة المتقين - مصطفى سعيد الخن، مصطفى البغا، محي الدين مستو، علي الشرجبي، محمد أمين لطفي - مؤسسة الرسالة ، بيروت - الطبعة الأولى : 1397 هـ 1977 م - الطبعة الرابعة عشر 1407 هـ 1987م. شرح رياض الصالحين - محمد بن صالح بن محمد العثيمين - الناشر: دار الوطن للنشر، الرياض - الطبعة: 1426 هـ. دليل الفالحين - محمد بن علان - دار الكتاب العربي. رياض الصالحين- د. ماهر بن ياسين الفحل - الناشر: دار ابن كثير للطباعة والنشر والتوزيع، دمشق - بيروت - الطبعة: الأولى، 1428 هـ - 2007 م. صحيح البخاري - محمد بن إسماعيل البخاري - دار طوق النجاة - الطبعة : الأولى، 1422هـ صحيح مسلم - مسلم بن الحجاج أبو الحسن القشيري النيسابوري - المحقق: محمد فؤاد عبد الباقي - الناشر: دار إحياء التراث العربي - بيروت. بهجة قلوب الأبرار وقرة عيون الأخيار في شرح جوامع الأخبار - المؤلف: أبو عبد الله، عبد الرحمن بن ناصر بن عبد الله بن ناصر بن حمد آل سعدي المحقق: عبد الكريم بن رسمي ال الدريني دار النشر: مكتبة الرشد للنشر والتوزيع الطبعة: الأولى 1422هـ - 2002م.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
75 میں سے 8
75 احادیث
  1. کیا میں تمہیں تین افراد کے بارے میں نہ بتاؤں؟ ان میں سے ایک نے اللہ کے پاس ٹھہرنا چاہا تو اللہ نے بھی اسے اپنے پاس ٹھہرا لیا جب کہ دوسرے نے حیا کی تو اللہ نے بھی اس سے حیا کی اور تیسرے نے منہ موڑا تو اللہ نے بھی اس سے منہ موڑ لیا۔
  2. میں اللہ کی خاطر تم سے محبت کرتا ہوں، اس پر اس شخص نے کہا: تم سے بھی وہ ذات محبت کرے، جس کی خاطر تم مجھ سے محبت کرتے ہو
  3. ”بے شک اللہ تعالیٰ کو غیرت آتی ہے اور بے شک مؤمن کو بھی غیرت آتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کو غیرت اس بات پر آتی ہے کہ بندہ وہ کام کرے، جسے اللہ نے اس پر حرام کیا ہے“۔
  4. ان لوگوں کا خوف کیسا ہے؟ محکم (واضح) نصوص سن کر ان پر رقت طاری ہو جاتی ہے اور جب کوئی متشابہ نصوص سنتے ہیں تو ہلاک ہو جاتے ہیں (یعنی انکار کر بیٹھتے ہیں )
  5. ایک یہودی عالم رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہا : اے محمد ! ہم تورات میں پاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں کو ایک انگلی پر رکھ لے گا اور زمینوں کو ایک انگلی پر۔
  6. روز قیامت اللہ آسمانوں کو لپیٹ کر اپنے دائیں ہاتھ میں لے لے گا اور پھر فرمائے گا: میں ہوں بادشاہ، کہاں ہیں وہ لوگ جو سرکش بنے پھرتے تھے؟ کہاں ہیں وہ لوگ جو متکبر بنے پھرتے تھے؟ پھر اللہ ساتوں زمینوں کو لپیٹ کر اپنے بائیں ہاتھ میں لے لے گا اور کہے گا: میں ہوں بادشاہ، کہاں ہیں جو سرکش بنے پھرتے تھے؟ کہاں ہیں جو متکبر بنے پھرتے تھے؟
  7. صحیح راستہ اختیار کرو اور جان ركھو کہ تم میں سے کوئی بھی اپنے عمل کی وجہ سے نجات نہیں پا سکتا"۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے سوال کیا: اے اللہ کے رسول! آپ بھی نہیں؟ آپ ﷺ نے جواب دیا: "میں بھی نہیں! مگر یہ کہ اللہ تعالی اپنی رحمت و فضل سے مجھے ڈھانپ لے۔
  8. سفارش کرو، تمہیں (بھی) ثواب ملے گا اور اللہ اپنے نبی کی زبان پر جو پسند کرتاہے فیصلہ فرما دیتا ہے۔
  9. میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق کام کرتا ہوں اور ميں اس کے ساتھ ہوتا ہوں جب بھی وہ مجھے یاد کرتا ہے۔
  10. اللہ تعالیٰ جب کسی امت پر رحم کرنا چاہتا ہے تو اس کے نبی کو فوت کر دیتا ہے اور اسے اس امت کے لیے آگے جا کر باعث اجر و پیش رو بنا دیتا ہے۔
  11. جو شخص دنیا میں کسی دوسرے شخص کی پردہ پوشی کرتا ہے اللہ تعالی قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی فرمائے گا۔
  12. میں اس (درگزر کرنے) کا تجھ سے زیادہ حق دار ہوں۔ (فرشتو!) میرے بندے سے درگزر کرو۔
  13. اللہ تعالیٰ نے رحمت کے سو حصے کیے، ان میں سے ننانوے حصے اپنے پاس روک لیے اور ایک حصہ زمین میں اتارا۔ اسی ایک حصے کی وجہ سے تمام مخلوق ایک دوسرے پر رحم کرتی ہے۔ یہاں تک کہ ایک جانور بھی اپنا کھر اپنے بچے سے ہٹا لیتا ہے کہ کہیں اسے تکلیف نہ پہنچے
  14. ”بے شک اللہ پاک ہے اور پاکیزہ چیز ہی قبول کرتا ہے۔ اللہ نے اپنے مومن بندوں کو اسی چیز کا حکم دیا ہے، جس کا حکم اپنے رسولوں کو دیا ہے۔
  15. اللہ تعالیٰ نے نیکیاں اور برائیاں لکھ دی ہیں اور انھیں صاف صاف بیان کر دیا ہے۔ چنانچہ جس نے کسی نیکی کا ارادہ کیا، لیکن اس پر عمل نہ کر سکا، تو اس کےکھاتے میں اللہ تعالی اپنے ہاں ایک مکمل نیکی لکھ دیتا ہے اور اگر اس نے ارادہ کرنے کے بعد اس پر عمل بھی کر لیا، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے اپنے یہاں دس نیکیوں سے سات سو گنا تک، بلکہ اس سے بھی زیادہ نیکیاں لکھ دیتا ہے۔ اس کے برخلاف جس نے کسی برائی کا ارادہ کیا، لیکن اس پر عمل نہ کیا، تو اللہ تعالی اپنے یہاں اسے ایک پوری نیکی لکھ دیتا ہے اور اگر ارادہ کرنے کے بعد اس نے اس کا ارتکاب بھی کر لیا، تو اللہ تعالی اسے صرف ایک برائی ہی لکھتا ہے“۔
  16. ”اللہ تمھارے جسموں اور تمھاری شکلوں کو نہیں دیکھتا، بلکہ وہ تمھارے دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے“۔
  17. اے میرے بندو! میں نے ظلم کو اپنے اوپر حرام کر لیا ہے اور اسےتمہارے درمیان بھی حرام قرار دیا ہے۔ لہٰذا تم ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو
  18. اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ مقامات، مساجد ہیں اور سب سے زیادہ ناپسندیدہ مقامات بازار ہیں۔
  19. جب اللہ تعالی نے مخلوق کو پیدا کیا تو اپنے ہاں عرش پر موجود ایک کتاب میں لکھا کہ میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے۔
  20. رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو لشکر کی ایک ٹکری کا امیر بنا کر بھیجا، وہ اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھاتے تھے اور نماز میں (قراءت کا) اختتام ﴿قُلْ هُوَ اللَّـهُ أَحَدٌ﴾ پر کرتے تھے۔
  21. علی رضی اللہ عنہ کے لیے ایک سواری لائی گئی تاکہ اس پر سوار ہوں، جب آپ نے اپنا پاؤں رکاب میں رکھاتو ’بِسْمِ اللَّهِ‘ کہا۔
  22. اے ابن آدم! جب تک تو مجھے پکارتا رہے گا اور مجھ سے امید رکھے گا، میں تیرے گناہوں کو بخشتا رہوں گا، چاہے وہ جتنے بھی ہوں، میں اس کی پرواہ نہيں کروں گا۔
  23. اللہ سبحانہ و تعالی ایسے دو آدمیوں کو دیکھ کر مسکراتا ہے جن میں سے ایک نے دوسرے کو قتل کیا ہو گا (پھر بھی) وہ دونوں جنت میں داخل ہوں گے۔ اُن میں سے ایک تو اللہ کی راہ میں لڑکر شہید ہوا تھا پھر اللہ نے قاتل کو توبہ کی توفیق بخشی اور وہ مسلمان ہوگیا اور شہید ہو گیا۔
  24. تمہارے اندر دو خصلتیں (خوبیاں) ایسی ہیں جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہیں: بردباری اور وقار (یعنی جلد بازی نہ کرنا)۔
  25. ”ویسے تو اللہ تعالی ظالم کو مہلت دیتا ہے، لیکن جب اسے پکڑتا ہے تو پھر نہیں چھوڑتا
  26. ایک صاحب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا کہ میں بھوکا ہوں۔
  27. اللہ عز وجل نے فرمایا: عزت میری ازار اور کبریائی (بڑائی) میری چادر ہے چنانچہ جو شخص ان دونوں میں سے کوئی شے مجھ سے کھینچے گا میں اسے عذاب دوں گا۔
  28. اے لوگو ! اپنی جانوں پر رحم کھاؤ ، کیونکہ تم کسی بہرے یا غائب کو نہیں پکار رہے ہو ۔ وہ تو تمہارے ساتھ ہی ہے ۔ بے شک وہ بہت سننے والا اور بہت قریب ہے۔
  29. بے شک اللہ تعالیٰ احسان کرنے والا ہے اور ہر چیز کے ساتھ احسان و بھلائی کرنے کو پسند فرماتا ہے تو جب بھی تم قتل کرو تو اچھی طرح قتل کرو اور جب بھی تم ذبح کرو تو اچھی طرح ذبح کرو اور تم میں سے ہر ایک کو چاہیے کہ وہ اپنی چھری کو تیز کرے اور اپنے جانور کو آرام پہنچائے۔
  30. ”ابن آدم نے مجھے جھٹلایا۔ حالاں کہ اسے یہ زیب نہیں دیتا۔ اس نے مجھے گالی دی۔ حالاں کہ اسے یہ زیب نہیں دیتا۔
  31. اللہ تعالیٰ جب کسی قوم کو عذاب دینا چاہتا ہے، تو وہ عذاب ہر اس شخص کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے جو اس قوم میں ہوتا ہے اور پھر آخرت میں لوگوں کو ان کے اعمال کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔
  32. کرسی قدم رکھنے کی جگہ ہے اور عرش کی وسعت کا تو کوئی اندازہ ہی نہیں کر سکتا۔
  33. اے اللہ! میں تجھ سے نیکیوں کے کرنے، برائیوں کو چھوڑنے اور مساکین سے محبت کرنے کی توفیق طلب کرتا ہوں اور ( میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ) تو مجھے معاف کر دے اور مجھ پر اپنی رحمت فرما اور جب تو کسی قوم کو فتنہ میں مبتلا کرنا چاہے تو مجھے فتنے ميں مبتلا کئے بغير موت دے دینا۔ میں تجھ سے تیری محبت، ہر اس شخص کی محبت جو تجھ سے محبت کرتا ہے اور ہر اس عمل سے محبت کی توفیق طلب کرتا ہوں جو تیری محبت کے قريب کردے۔
  34. ایک یہودی نبی ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا: اے محمد! اللہ تمام آسمانوں کو ایک انگلی پر روک لے گا، تمام زمینوں کو ایک انگلی پر روک لے گا، تمام پہاڑوں کو ایک انگلی پرروک لے گا، تمام درختوں کو ایک انگلی پر روک لے گا اور تمام مخلوقات کو ایک انگلی پر روک لے گا اور پھر کہے گا: میں بادشاہ ہوں۔
  35. جب كوئي مسلمان شخص نماز اور ذكر كے لیے مساجد میں پابندی کے ساتھ آتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس سے ایسے خوش ہوتا ہے جیسے کسی غیر موجود شخص کی آمد پر اس کے اہل خانہ خوش ہوتے ہیں۔
  36. جس شخص نے میرے کسی ولی سے دشمنی کی، میرا اس کے ساتھ اعلان جنگ ہے۔ میرا بندہ جن چیزوں سے مجھ سے قریب ہوتا ہے، ان میں سب سے محبوب وہ چیزیں ہیں، جو میں نے اس پر فرض قراردی ہیں۔
  37. جب اللہ تعالیٰ نے جنت میں حضرت آدم علیہ السلام کی صورت بنا لی، تو اپنی مشیت کے بقدر ان (کے جسد) کو وہاں رکھا۔ ابلیس اس کے اردگرد گھوم کر دیکھنے لگا کہ وہ کیسا ہے۔ جب اس نے دیکھا کہ وہ (جسم) اندر سے کھوکھلا ہے تو اس نے جان لیا کہ اسے اس طرح پیدا کیا گیا کہ یہ خود پر قابو نہیں رکھ سکتا۔
  38. اللہ جب کسی بندے سے محبت کرتا ہےتو جبریل علیہ السلام کو بلاتا ہے اور فرماتا ہے کہ میں فُلاں سے محبت کرتا ہوں تم بھی اس سے محبت کرو۔ چنانچہ جبرائیل علیہ السلام اس سے محبت کرنے لگتے ہیں اور آسمان والوں میں اعلان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’’اللہ فُلاں سے محبت کرتا ہے، تم بھی اس سے محبت کرو‘‘ چنانچہ اس سے آسمان والے بھی محبت کرنے لگتے ہیں، پھر اس کے لیے زمین میں قبولیت رکھ دی جاتی ہے۔
  39. جب بندہ مجھ سے ایک بالشت قریب ہوتا ہے، تو میں اُس سے ایک ہاتھ (گز) قریب ہوتا ہوں اور جب بندہ ایک ہاتھ قریب ہوتا ہے تو میں دو ہاتھ قریب ہوتا ہوں، جب بندہ میری طرف چل کر آتا ہے تو میں اس کی طرف دوڑ کر جاتا ہوں۔
  40. ’’عنقریب تم میں سے ہر شخص سے اس کا رب اس حال میں کلام فرمائے گا کہ آدمی اور اس کے رب کے درمیان کوئی ترجمان نہیں ہو گا
  41. جو شخص الله سے ملاقات کو پسند کرتا ہے، اللہ بھی اس سے ملاقات کو پسند کرتا ہے۔ اور جو اللہ سے ملنا ناپسند کرتا ہے تواللہ بھی اس سے ملنا ناپسند کرتا ہے۔
  42. ”رحم“ ایک شاخ ہے، جس نے حجزۃ الرحمن تھام رکھی ہے، جو اسے جوڑےگا، اللہ اسے جوڑے گا اور جو اسے توڑے گا، اللہ اسے توڑے دے گا۔
  43. کیا تجھے یہ پسند نہیں کہ جو تجھ کو جوڑے میں بھی اسے جوڑوں اور جو تجھے توڑے میں بھی اسے توڑ دوں۔
  44. ”رحم کرنے والوں پر رحمن رحم فرماتا ہے۔ تم زمین والوں پر رحم کرو، آسمان والا تم پر رحم کرے گا“۔
  45. نرخ مقرر کرنے والا تو اللہ ہی ہے، (میں نہیں) وہی روزی تنگ کرنے والا اور روزی میں اضافہ کرنے والا، روزی مہیا کرنے والا ہے اور میری خواہش ہے کہ جب اللہ سے ملوں، تو مجھ سے کسی جانی و مالی ظلم و زیادتی کا کوئی مطالبہ کرنے والا نہ ہو۔
  46. ہمارا رب قیامت کے دن اپنی پنڈلی کھولے گا اس وقت ہر مومن مرد اور ہر مومنہ عورت اس کے لیے سجدہ میں گر پڑیں گے۔ صرف وہ باقی رہ جائیں گے جو دنیا میں دکھاوے اور ناموری کے لیے سجدہ کرتے تھے۔ جب وہ سجدہ کرنا چاہیں گے تو ان کی پیٹھ تختہ ہو جائے گی اور وہ سجدے کے لیے نہ مڑ سکے گی۔
  47. اللہ تعالی حیادار ہے، پردہ پوشی کرنے والا ہے اور حیا اور پردہ پوشی کو پسند فرماتا ہے لہٰذا جب تم میں سے کوئی نہائے تو ستر کو چھپا لے۔
  48. اللہ تعالیٰ نے فرمایا جب میرا بندہ ایک بالشت میری طرف بڑھتا ہے تو میں ایک ہاتھ اس کی طرف بڑھتا ہوں اور اگر وہ ایک ہاتھ میری طرف بڑھتا ہے تو میں چار ہاتھ اس کی طرف بڑھتا ہوں اور جب وہ میری طرف چار ہاتھ بڑھتا ہے تو میں تیزی سے اس کی طرف بڑھتا ہوں۔
  49. نبی ﷺ جب مسجد میں تشریف لے جاتے، تو فرماتے : ”أَعُوذُ بِاللَّهِ الْعَظِيمِ وَبِوَجْهِهِ الْكَرِيمِ وَسُلْطَانِهِ الْقَدِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ“۔ (میں اللہ عظیم کی، جود وسخا والے اس کے چہرے کی اور اس کی قدیم بادشاہت کی پناہ چاہتا ہوں، مردود شیطان سے)
  50. خولہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ کے پاس آ کر اپنے شوہر کی شکایت کرنے لگیں، ان کی گفتگو مجھے سنائی نہیں دے رہی تھی۔
  51. تم سعد کی غیرت پر تعجب کرتے ہو ؟ اللہ کی قسم ! میں اس سے زیادہ باغیرت ہوں اور اللہ تعالیٰ مجھ سے زیادہ غیور ہے اللہ نے غیرت کی وجہ سے ہی ان تمام فواحش کو، ان میں سے علانیہ ہیں اور جو پوشیدہ ہیں سب کو حرام ٹھہرایا ہے اور اللہ سے زیادہ کوئی شخص غیور نہیں۔
  52. کوئی شخص یا کوئی چیز، ناگوار باتوں کو سن کر، اللہ سے زیادہ صبر کرنے والی نہیں ہے۔ لوگ اس کے لیے اولاد ٹھہراتے ہیں اور وہ انھیں تندرستی دیتا ہے، بلکہ انھیں روزی بھی دیتا ہے۔
  53. ہر کاریگر اور اس کی کاریگری کو اللہ تعالی ہی پیدا کرنے والا ہے۔
  54. طبیب صرف اللہ ہے جب کہ تم تو بس نرمی و مہربانی کرنے والے شخص ہو۔ اس کا طبیب تو وہ ہے جس نے اسے پیدا کیا ہے۔
  55. میں نے دیکھا کہ آپ ﷺ اس آیت کو پڑھ رہے ہیں اور آپ ﷺ نے اپنی دونوں انگلیوں کو (کان اور آنکھ پر) رکھا ہوا ہے۔
  56. جہنم برابر یہی کہتی رہے گی کہ کیا کچھ اور ہے کیا کچھ اور ہے؟ آخر اللہ تبارک و تعالیٰ اپنا قدم اس میں رکھ دیں گے۔ اس پر وہ کہہ اٹھے گی کہ: بس بس میں بھر گئی، تیری عزت کی قسم!۔ (اس کے بعد) جہنم کا ایک حصہ دوسرے حصے میں ضم ہو جائے گا۔
  57. جنت اور دوزخ نے باہم بحث ومباحثہ کیا۔ دوزخ نے کہا: میں سرکش ومتکبر اور جابر وظالم لوگوں کے لیے مخصوص کردی گئی ہوں۔ جنت نے کہا: مجھے کیا ہوا کہ میرے اندر صرف کمزور، حقیر وکمتر اور بھولے بھالے (سادہ لوح) لوگ داخل ہوں گے
  58. قیامت کے دن لوگ، یا فرمایا بندے برہنہ، غیر مختون اور خالی ہاتھ اٹھائے جائیں گے۔
  59. ”اللہ تبارک و تعالیٰ اہل جنت سے فرمائے گا: اے اہل جنت! جنتی جواب دیں گے : ہم حاضر ہیں اے ہمارے رب! تمام تر بھلائی تیرے ہی ہاتھوں میں ہے۔ اللہ تعالیٰ پوچھے گا: کیا اب تم لوگ خوش ہو؟ وہ کہیں گے: بھلا ہم راضی کیوں نہ ہوں، جب کہ تو نے ہمیں وہ سب کچھ دے دیا ہے، جو اپنی مخلوق میں سے کسی آدمی کو نہیں دیا۔
  60. ابو مسعود! جان لو کہ اللہ تم پر اس سے زیادہ قدرت و اختیار رکھتا ہے جتنا تم اس غلام پر رکھتے ہو۔ حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے کہا کہ میں اس کے بعد کبھی بھی کسی غلام کو نہیں ماروں گا۔
  61. ایک کتا کنویں کی منڈیر کے گرد چکر لگا رہا تھا اور قریب تھا کہ پیاس کی شدت سے مر جائے کہ اسے بنی اسرائیل کی ایک بدکار عورت نے دیکھ لیا اس نے اپنا موزہ اتارا اور اس سے کنویں سے پانی نکال کر اسے پلا دیا۔ اسے اس کے اس عمل کی وجہ سے معاف کر دیا گیا۔
  62. اے میرے رب ! میری مدد کر، میرے خلاف کسی کی مدد نہ کر، میری تائید کر، میرے خلاف کسی کی تائید نہ کر، میرے حق میں تدبیر فرما ، میرے خلاف تدبیر نہ کر ۔ میری رہنمائی فرما اور ہدایت کو میرے لیے آسان فرما دے اور جو میرے خلاف بغاوت کرے اس کے مقابلے میں میری مدد فرما۔
  63. ہمارا رب تبارک وتعالیٰ ہر رات جب کہ رات کا آخری ایک تہائی حصہ باقی رہ جا تا ہے، آسمانِ دنیا پر نزول فرماتا ہے
  64. کیا دوپہر کے وقت تمہیں سورج کو دیکھنے میں کچھ دشواری ہوتی ہے جب کہ یہ بادل کی اوٹ میں بھی نہ ہو؟۔ صحابہ کرام نے جواب دیا: نہیں۔ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: کیا چودہویں کی رات میں تمہیں چاند کو دیکھنے میں کچھ مشقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے جب کہ وہ کسی بدلی میں بھی نہ ہو؟۔ صحابہ کرام نے جواب دیا: نہیں۔
  65. ایمان یمنی اور حکمت و دانائی بھی یمنی ہے۔
  66. اللہ کے ننانوے، ایک کم سو نام ہیں، جس نے انہیں یاد کیا وہ جنت میں داخل ہو گا، اور اللہ وتر (طاق) ہے، وتر کو پسند کرتا ہے
  67. جب تم میں سے کوئی نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو گویا وہ اپنے رب کے ساتھ سرگوشی کرتا ہے، یا یوں فرمایا کہ اس کا رب اس کے اور قبلہ کے درمیان ہوتا ہے۔ اس لیے کوئی شخص ( نماز میں اپنے ) قبلہ کی طرف نہ تھوکے۔ البتہ بائیں طرف یا اپنے قدموں کے نیچے تھوک سکتا ہے۔
  68. اللہ کے ننانوے یعنی ایک کم ایک سو نام ہیں، جو ان کی حفاظت کرے گا، وہ جنت میں داخل ہوگا
  69. بے شک اللہ تعالیٰ کسی مؤمن کے ساتھ ایک نیکی کے معاملے میں بھی ظلم نہیں فرماتا۔ اس کے بدلے اسے دنیا میں بھی دیا جاتا ہے اور آخرت میں بھی اس کی جزا دی جاتی ہے
  70. اللہ تعالیٰ زمین کو اپنی مُٹھی میں لے گا اور آسمان کو داہنے ہاتھ میں لپیٹ لے گا اور اس کے بعد کہے گا : میں بادشاہ ہوں؛ زمین کے بادشاہ کہاں گئے؟
  71. جس (اللہ) نے انسان کو دو پاؤں پر چلایا ہے، کیا وہ اسے قیامت کے دن منہ کے بل چلانے پر قادر نہیں ہے؟
  72. ’’اللہ عزوجل نہیں سوتا، اور نہ ہی سونا اس کے شایان شان ہے
  73. ”بے شک اللہ پاک ہے اور پاکیزہ چیز ہی قبول کرتا ہے۔ اللہ نے اپنے مومن بندوں کو اسی چیز کا حکم دیا ہے، جس کا حکم اپنے رسولوں کو دیا ہے۔
  74. ”بے شک اللہ تعالیٰ نے نیکیاں اور برائیاں لکھ دی ہیں۔ پھر اس کی وضاحت فرمادی
  75. ”جس شخص نے میرے کسی ولی (دوست) سے دشمنی کی میرا اس سے اعلانِ جنگ ہے۔ میرے نزدیک میرے فرض کردہ امور سے زیادہ محبوب کوئی اور چیز نہیں ہے جس کے ذریعے میرا بندہ میرا قرب حاصل کرے

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com