عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «يَقْبِضُ اللَّهُ الأَرْضَ، وَيَطْوِي السَّمَوَاتِ بِيَمِينِهِ، ثُمَّ يَقُولُ: أَنَا المَلِكُ، أَيْنَ مُلُوكُ الأَرْضِ».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو کہتے ہوئے سنا: "اللہ تعالیٰ زمین کو اپنی مُٹھی میں لے گا اور آسمان کو داہنے ہاتھ میں لپیٹ لے گا اور اس کے بعد کہے گا : میں بادشاہ ہوں؛ زمین کے بادشاہ کہاں گئے؟"
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ قیامت کے دن اللہ زمین کو سمیٹ کر اپنی مٹھی میں لے لے گا اور آسمان کو اپنے دائیں ہاتھ میں لپیٹ لے گا اور اسے ختم اور فنا کر دے گا اور پھر کہے گا : میں ہی بادشاہ ہوں! زمین کے بادشاہ کہاں ہیں؟
فوائد
- اس بات کی یاد دہانی کہ اللہ کی بادشاہت باقی رہے گی اور دوسروں کی بادشاہت ختم ہو جائے گی۔
- اللہ کا جلال، عظیم طاقت، دبدبہ اور مکمل بادشاہت۔
حوالہ
صحيح البخاري (6/ 126) (4812)، صحيح مسلم (4/ 2148) (2787)، فتح الباري (13/367)، عمدة القاري شرح صحيح البخاري (23/ 101)، البحر المحيط الثجاج (43/324).