عن أبي شُريح خُويلد بن عمرو الخزاعي عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: «مَنْ كَان يُؤمِن بِاللهِ وَاليَومِ الآخِرِ فَلْيُكْرِم ضَيفَه جَائِزَتَه»، قَالوا: وما جَائِزَتُهُ؟ يَا رسول الله، قال: «يَومُهُ ولَيلَتُهُ، والضِّيَافَةُ ثَلاَثَةُ أَيَّامٍ، فَمَا كَانَ وَرَاءَ ذَلك فَهُوَ صَدَقَةٌ عَلَيه».
وفي رواية: «لا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يُقِيمَ عِنْدَ أَخِيهِ حَتَّى يؤْثِمَهُ» قالوا: يَا رَسول الله، وَكَيفَ يُؤْثِمَهُ؟ قال: «يُقِيمُ عِندَهُ ولاَ شَيءَ لَهُ يُقرِيهِ بهِ».
ابو شریح خویلد بن عمرو الخزاعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے مہمان کی دستور کے مطابق ہر طرح سے عزت کرے۔ پوچھا: یا رسول اللہ! دستور کے موافق کب تک ہے۔ فرمایا: ”ایک دن اور ایک رات اور میزبانی تین دن کی ہے اور جو اس کے بعد ہو وہ اس کے لیے صدقہ ہے“۔
ایک دوسری روایت میں ہے کہ کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی کے پاس اس حد تک ٹھہرے کہ اسے گناہ گار ہی کردے۔لوگوں نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ! وہ اسے گناہ گار کیسے کرے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ وہ اس کے پاس ٹھہرے حالانکہ اس کی مہمان نوازی کے لیے اس کے پاس کچھ نہ ہو۔
اس حدیث کی دونوں روایات متفق علیہ ہیں۔درجہصحیح
تشریح
ابو شریح خزاعی رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث دلالت کرتی ہے کہ مہمان کا اکرام اور اس کی خدمت کرنی چاہیے۔ نبی ﷺ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ "جو شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے مہمان کا اکرام کرے"۔ اس میں مہمان کے اکرام کی ترغیب ہے اور اس پر ابھارا گیا ہے یعنی مہمان کا اکرام کرنا اللہ اور یوم آخرت پر ایمان کی علامت ہے اور اس سے اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان کامل ہوتا ہے۔
جن باتوں سے مہمان کی تکریم ہوتی ہے وہ یہ ہیں: چہرے کی بشاشت، خوشگوار گفتگو، تین دن کھانا کھلانا، پہلے دن حسب استطاعت اور جس قدر میسر ہو اور باقی دنوں میں بلا تکلف جو ہو پیش کرنا تاکہ اس سے نہ تو مہمان پر بوجھ آئے اور نہ خود اس پر۔تین دن کے بعد مہمان نوازی صدقہ شمار ہوتی ہے، چاہے تو کرے اور چاہے تو نہ کرے۔
آپ ﷺ نے فرمایا: "فليكرم ضيفه جائزته يوما وليلة والضيافة ثلاثة أيام"۔ اس میں ’جائزہ‘ کے لفظ کے معنی میں علماء کا کہنا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ وہ ایک دن اور ایک رات مہمان کا خوب خیال رکھے اور اس کے ساتھ جو کچھ بھی اچھائی اور بھلائی ممکن ہو وہ کرے۔ جب کہ دوسرے اور تیسرے دن میں جو کچھ میسر ہو وہ اسے کھلائے اور اپنے معمول سے نہ بڑھے۔ جب کہ تین دن کے بعد یہ صدقہ اور نیکی ہے اگر چاہے تو کرلے اور اگر چاہے تو چھوڑ دے۔
مسلم شریف کی ایک روایت میں ہے کہ: " اس (مہمان) کے لیے جائز نہیں کہ وہ میزبان کے ہاں اس حد تک قیام کرے کہ اسے گناہ گار ہی کر دے"۔ یعنی مہمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ میزبان کے ہاں تین دن کے بعد بھی قیام جاری رکھے یہاں تک کہ اسے گناہ گار کر دے۔ کیونکہ ہو سکتا ہے کہ وہ اس کے لمبے قیام کی وجہ سے اس کی غیبت کر بیٹھے یا اس کے ساتھ کچھ ایسا سلوک کرے جس سے اس کو تکلیف ہو یا پھر اس کے بارے میں کوئی گمان رکھے جو کرنا جائز نہیں۔ یہ سب اس صورت پر محمول ہے جب وہ میزبان کی دعوت کے بغیر اس کے ہاں تین دن کے بعد تک ٹھہرا رہے۔
یہاں یہ جان لینا مناسب ہے کہ مہمان کا اکرام مہمان کی حالت کے لحاظ سے مختلف ہوتا ہے۔ کچھ لوگ بڑے اور معزز ہوتے ہیں۔ چنانچہ ان کا اکرام ان کے شایانِ شان کرے۔ بعض لوگ متوسط درجے کے ہوتے ہیں ان کا اکرام ان کے لحاظ سے ہونا چاہیے۔ کچھ لوگ ان سے بھی کم تر درجے کے ہوتے ہیں۔
حوالہ
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي، ط1، دار ابن الجوزي، الدمام، 1415هـ.
تطريز رياض الصالحين، للشيخ فيصل المبارك، ط1، تحقيق: عبد العزيز بن عبد الله آل حمد، دار العاصمة، الرياض، 1423 هـ.
دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين، لمحمد علي بن محمد بن علان، ط4، اعتنى بها: خليل مأمون شيحا، دار المعرفة، بيروت، 1425هـ.
رياض الصالحين، للنووي، ط1، تحقيق: ماهر ياسين الفحل، دار ابن كثير، دمشق، بيروت، 1428هـ.
رياض الصالحين، ط4، تحقيق: عصام هادي، وزارة الأوقاف والشؤون الإسلامية القطرية، دار الريان، بيروت، 1428هـ.
فتح رب البرية بتلخيص الحموية، لمحمد بن صالح بن محمد العثيمين، دار الوطن للنشر، الرياض.
كنوز رياض الصالحين، مجموعة من الباحثين برئاسة حمد بن ناصر العمار، ط1، كنوز إشبيليا، الرياض، 1430هـ.
شرح رياض الصالحين، للشيخ ابن عثيمين، دار الوطن للنشر، الرياض، 1426هـ.
صحيح البخاري، تحقيق: محمد زهير بن ناصر الناصر، ط1، دار طوق النجاة، (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، 1422هـ.
صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت.
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين، ط14، مؤسسة الرسالة، 1407هـ.
عن عبد الله بن عباس رضي الله عنهما قال: "ما السماوات السبع والأرضون السبع في كَفِّ الرحمن إلا كَخَرْدَلَةٍ في يد أحدكم".
عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”ساتوں آسمان اور ساتوں زمین اللہ کی ہتھیلی میں ایسے ہیں جیسے تم میں سے کسی کی ہتھیلی میں رائی کا دانہ“۔
اسے ابنِ جریر نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ذھبی نے اپنی کتاب ”العلو“ میں روایت کیا ہے۔ - اسے عبد اللہ بن امام احمد نے روایت کیا ہے۔درجہشیخ البانی نے اس حدیث کی تصحیح کو ابنِ تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ کے حوالے سے نقل کیا ہے اور اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔
تشریح
ابن عباس رضی اللہ عنہما اس حدیث میں بیان کر رہے ہیں کہ ساتوں آسمان اور ساتوں زمین باوجود اس کے کہ بہت بڑے ہیں تاہم اللہ تعالی کی ہتھیلی میں ان کی حیثیت ایسے ہی ہے جیسے ہم میں سے کسی کی ہتھیلی پر رائی کا ایک چھوٹا سا دانہ ہوتا ہے۔ یہ نسبت کی نسبت کے ساتھ تشیبہہ ہے نہ کہ ہتھیلی کی ہتھیلی کے ساتھ۔کیونکہ اللہ کی تعالی کی جس طرح ذات کے ساتھ کوئی شے مشابہہ نہیں اسی طرح اس کی صفات کے ساتھ بھی کوئی شے مشابہہ نہیں ہے۔
حوالہ
1- فتح المجيد شرح كتاب التوحيد، مطبعة السنة المحمدية، القاهرة، مصر، الطبعة: السابعة، 1377هـ - 1957م.
2- القول المفيد على كتاب التوحيد، دار ابن الجوزي، المملكة العربية السعودية، الطبعة: الثانية, محرم، 1424ه.
3- الملخص في شرح كتاب التوحيد، دار العاصمة الرياض، الطبعة: الأولى 1422هـ - 2001م.
4- الجديد في شرح كتاب التوحيد، مكتبة السوادي، جدة، المملكة العربية السعودية، الطبعة: الخامسة، 1424هـ - 2003م.
5- التمهيد لشرح كتاب التوحيد، دار التوحيد، تاريخ النشر: 1424هـ.
6- جامع البيان في تأويل القرآن، المؤلف: محمد بن جرير أبو جعفر الطبري، المحقق: أحمد محمد شاكر، الناشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة: الأولى، 1420هـ - 2000م.
عبادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: "جس نے اس بات کی گواہی دی کہ اللہ تعالٰی کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی ساجھی اور شریک نہیں، اور بے شک محمد ﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں، بے شک عیسٰی علیہ السلام اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں، اور اس کا وہ کلمہ ہیں جو اس نے مریم تک پہنچایا تھا اور اس کی طرف سے ایک روح ہیں اور جنت اور دوزخ بر حق ہیں، اللہ تعالٰی اس کو جنت میں داخل فرمائے گا، خواہ اس کے اعمال جیسے بھی ہی ہوں"۔
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم ہمیں بتا رہے ہیں کہ جس نے کلمۂ توحید کے معنی و مفہوم کو سمجھتے ہوئے اور اس کے تقاضوں پر عمل کرتے ہوئے، اسے اپنی زبان سے ادا کیا، محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے اللہ کے بندہ اور رسول ہونے کی گواہی دی، عیسی علیہ السلام کے اللہ کے بندہ اور رسول ہونے کا اعتراف کیا، اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ اللہ نے ان کو لفظ "کن" سے پیدا کیا ہے اور وہ اللہ کی پیدا کی ہوئی ارواح میں سے ایک روح ہیں، ان کی ماں کو یہودیوں کی جانب سے لگائے الزامات سے بری قرار دیا، اس بات پر ایمان رکھا کہ جنت اور جہنم دونوں برحق ہيں، اس نے دونوں کے وجود پر یقین رکھا اور ان کو اللہ کی نعمتوں اور عذابوں کی جگہ مانا اور اسی ایمان و یقین کے ساتھ مر گیا، تو اس کا ٹھکانہ جنت ہوگا، اگرچہ اس سے اللہ کی عبادت میں کچھ کوتاہیاں ہوئی ہوں اور کچھ گناہ بھی کیے ہوں۔
فوائد
اللہ نے مریم کے بیٹے کو لفظ "کن" سے بغیر باپ کے پیدا کیا۔
عیسی علیہ السلام اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم دونوں اللہ کے بندے اور رسول تھے۔ دونوں رسول تھے، انہیں جھٹلایا نہیں جا سکتا اور اللہ کے بندے تھے، اس لیے ان کی عبادت نہيں کی جا سکتی۔
توحید کی فضیلت اور یہ کہ اس سے بندے کے گناہ مٹا دیے جاتے ہیں۔ توحید پر قائم رہنے والے کا ٹھکانہ جنت ہے، چاہے اس سے کچھ گناہ ہی کیوں نہ ہو گئے ہوں۔
حوالہ
صحيح البخاري (4/ 165) (3435).
صحيح مسلم (1/ 57) (28).
الملخص في شرح كتاب التوحيد، لصالح الفوزان (ص25).
الجديد في شرح كتاب التوحيد، لمحمد القرعاوي (ص36).
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ نے میری خاطر میری امت سے غلطی، بھول چوک اور مجبوراً کرائے گئے کام کو معاف کر دیا ہے۔“
اسے ابن ماجہ اور بیہقی وغیرہ نے روایت کیا ہے۔درجہنووی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
تشریح
اللہ کے نبی ﷺ بتا رہے ہیں کہ اللہ نے آپ کی امت سے درج ذیل تین احوال میں ہونے والے گناہوں کو معاف کر دیا ہے: 1- غلطی سے ہونے والے گناہ۔ یعنی ایسے گناہ جو بالارادہ نہ کیے گئے ہوں۔ مثلا کوئی مسلمان کوئی کام کرنے کا ارادہ کرے، لیکن اس سے کچھ اور ہو جائے۔ 2- بھول چوک سے ہونے والے گناہ۔ یعنی کسی مسلمان کو کوئی بات یاد تو ہو، لیکن جب کرنے کا وقت آئے، تو بھول جائے۔ ایسا ہونے پر کوئی گناہ نہيں ہے۔ 3- زور زبردستی سے کرایا گیا گناہ۔ کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ انسان کو کوئی ایسا کام کرنے پر مجبور کر دیا جاتا ہے، جسے وہ کرنا نہیں چاہتا اور اس کے پاس حالات کا مقابلہ کرنے کی طاقت بھی نہیں ہوتی۔ اس طرح کی صورت حال میں اسے کوئی گناہ نہیں ہوگا۔ یہاں یہ یاد رہے کہ اس حدیث کا تعلق ایسے گناہ سے ہے، جن کا تعلق بندہ اور اس کے رب سے ہو۔ کسی مامور فعل کو بھول جانے سے وہ ساقط نہيں ہو جاتا۔ اسی طرح اگر کسی کے بھول کر کوئی کام کردینے سے کسی مخلوق کا کچھ نقصان ہو جائے، تو مخلوق کا حق ساقط نہيں ہوگا۔ مثلا غلطی سے کسی کا قتل کر دے، تو دیت دینی ہوگی۔ اسی طرح کسی کی گاڑی کا نقصان کر دے، تو اس کا ہرجانہ دینا ہوگا۔
فوائد
بندوں پر اللہ کا بے پایاں لطف وکرم کہ اس نے مذکورہ احوال میں صادر ہونے والے گناہوں سے درگزر فرمایا ہے۔
محمد عربی ﷺ اور آپ کی امت پر اللہ کا فضل وکرم۔
گناہ نہ ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ حکم نافذ نہيں ہوگا اور ہرجانہ نہيں بھرنا پڑے گا۔ مثلا کوئی وضو کرنا بھول گیا اور یہ سمجھ کر کہ باوضو ہے، نماز پڑھ لی، تو اسے کوئی گناہ تو نہيں ہوگا، لیکن وضو کر کے دوبارہ نماز پڑھنی پڑے گی۔
زور زبردستی کی صورت میں گناہ نہ ہونے کے لیے اس کی شرطوں کا پایا جانا ضروری ہے۔ مثلا زبردستی کرنے والا وہ کام کرنے پر قادر بھی ہو، جس کی دھمکی وہ دے رہا ہے۔
حوالہ
الأربعون النووية (ص127) (ح39).
سنن ابن ماجه (3/ 200) (2045).
السنن الكبرى للبيهقي (7/ 584) (15094).
التحفة الربانية في شرح الأربعين حديثًا النووية، لإسماعيل الأنصاري (ص89).
شرح الأربعين النووية، لابن عثيمين (ص382).
عَنْ عَبْدِ اللهِ بنِ عُمَر رضي الله عنهما قال: قال رسولُ الله صلى الله عليه وسلم: «بُنِيَ الْإِسْلَامُ عَلَى خَمْسٍ: شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، وَإِقَامِ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَحَجِّ الْبَيْتِ، وَصَوْمِ رَمَضَانَ».
عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے : اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، خانۂ کعبہ کا حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔“
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اسلام کو پانچ ارکان پر کھڑی ایک عمارت کے مشابہ قرار دیا ہے۔ اسلام کے باقی کام اس عمارت کے تتمہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان پانچ ارکان میں سے پہلا رکن اس بات کی گواہی دینا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہيں ہے اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم اللہ کے رسول ہيں۔ یہ دونوں گواہیاں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں اور ایک ہی رکن کی حیثیت رکھتی ہیں۔ بندہ ان کو اپنی زبان سے، اللہ کے ایک ہونے اور بس اسی کے عبادت کا حق دار ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے، ان کے تقاضوں پر عمل کرتے ہوئے، محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے رسول ہونے کا یقین رکھتے ہوئے اور آپ کا اتباع کرتے ہوئے، ادا کرے گا۔ دوسرا رکن نماز قائم کرنا ہے۔ دن اور رات میں پانچ فرض نمازیں ہيں۔ فجر، ظہر، عصر، مغرب اور عشا۔ ان پانچ نمازوں کو ان کی شرطوں، ارکان اور واجبات کے ساتھ ادا کیا جائے گا۔ تیسرا رکن فرض زکاۃ دینا ہے۔ دراصل زکاۃ ایک مالی عبادت ہے، جو شریعت کی جانب سے مال کی ایک متعینہ مقدار پر واجب ہوتی ہے اور جسے اس کے حق داروں کو دیا جاتا ہے۔ چوتھا رکن حج ہے۔ حج در اصل اللہ کی عبادت کے طور پر مناسک کی ادائیگی کے لیے مکہ کا قصد کرنے کا نام ہے۔ پانچواں رکن رمضان مہینے کے روزے رکھنا ہے۔ روزہ نام ہے کھانے، پینے اور دیگر روزہ توڑنے والی چیزوں سے فجر طلوع ہونے سے لے کر سورج غروب ہونے تک اللہ کی عبادت کی نیت سے رکے رہنے کا۔
فوائد
دونوں گواہیاں ایک دوسرے کے ساتھ لازمی طور پر جڑی ہوئی ہيں۔ ان میں سے ایک کو چھوڑ دیا جائے، تو دوسری صحیح نہیں ہوگی۔ اسی لیے دونوں کو ایک رکن بنایا گیا ہے۔
یہ دونوں گواہیاں دین کی بنیاد ہیں۔ ان کے بغیر کوئی قول اور عمل قبول نہیں ہوگا۔
حوالہ
صحيح البخاري (1/ 11) (8)، صحيح مسلم (1/ 45) (16)، و(1/ 88) (82)، فتح الباري لابن رجب (1/ 22)، جامع العلوم والحكم (1/147)، شرح الأربعين لابن العطّار (ص 62)، شرح الأربعين النووية لعبد الكريم الخضير (ص 87)، فتح القوي المتين في شرح الأربعين للعباد (ص 29)، شرح الأربعين النووية لصالح آل الشيخ (ص 91 - 95)، التحفة الربانية لإسماعيل الأنصاري (ص 12).
جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں: ایک آدمی اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور پوچھا: اے اللہ کے رسول ! واجب کرنے والی دو باتیں کون سی ہیں؟ آپ نے جواب دیا: ’’جو کسی چیز کو اللہ کے ساتھ شریک نہ کرتا ہوا مرا، وہ جنت میں داخل ہو گا، اور جو اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک ٹھہراتے ہوئے مرا، و ہ جہنم میں داخل ہو گا۔‘‘
رواه مسلمدرجہصحيح
تشریح
ایک شخص نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی دو باتوں کے بارے میں پوچھا، جن میں سے ایک دخول جنت کو واجب کر دیتی ہے اور دوسری دخول جہنم کو واجب کردیتی ہے- آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: جنت کو واجب کرنے والی بات یہ ہے کہ انسان کی موت اس حال میں ہو کہ وہ صرف ایک اللہ کی عبادت کرتا ہو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا ہو۔ جب کہ جہنم کو واجب کرنے والی بات یہ ہے کہ انسان کی موت اس حال میں ہو کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتا ہو۔ چنانچہ اللہ کی الوہیت، اس کی ربوبیت یا اس کے اسماء و صفات میں کسی کو شریک اور ہم مثل قرار دیتا ہو۔
فوائد
اس حدیث سے توحید کی فضیلت ثابت ہوتی ہے اور یہ معلوم ہوتا ہے کہ جو شخص ایمان کی حالت میں اور کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھہراتے ہوئے وفات پائے، تو وہ جنت میں داخل ہوگا۔
نیز شرک کی سنگینی بھی معلوم ہوتی ہے اوریہ پتہ چلتا ہے کہ جو شخص اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتے ہوئے مرے، وہ جہم میں داخل ہوگا۔
گناہ گار موحد بندے اللہ کی مشیت کے ما تحت ہوں گے۔ اگر اللہ چاہے گا تو انہیں عذاب دے گا اور اگر چاہے گا تو معاف کردے گا پھر ان کی جاے قرار جنت ہوگی۔
حوالہ
صحيح مسلم (1/ 94) (93)، إكمال المعلم بفوائد مسلم (1/ 363)، شرح النووي على مسلم (2/96) المفهم للقرطبي (1/290)، تطريز رياض الصالحين (ص 281)، الكوكب الوهاج شرح صحيح مسلم بن الحجاج (3/63).
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں: اللہ کے نبی ﷺ کے چند صحابہ حاضر ہوئے اور آپ سے دریافت کیا: ہم اپنے دلوں میں ایسی چیزیں محسوس کرتے ہیں کہ ہم میں سے کوئی ان کو زبان پر لانا بہت سنگین سمجھتا ہے۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ’’کیا تم نے واقعی اپنے دلوں میں ایسا محسوس کیا ہے؟‘‘ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں! آپ نے فرمایا: ’’یہی صریح ایمان ہے۔‘‘
رواه مسلمدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ صحابہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنے دلوں میں جو ناگوار باتیں پاتے تھے، جن کی قباحت اور شناعت کے سبب انہیں زبان پرلانا بہت سنگین سمجھتے تھے، ان کے بارے میں آپ سے دریافت کیا۔ چنانچہ آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا : یہ احساس جو تم اپنے دلوں میں پاتے ہو، وہی صریح ایمان و یقین ہے، جو تمہیں شیطانی وسوسے سے اپنی حفاظت کرنے اور اسے زبان پر نہ لانے اور اسے سنگین سمجھنے پر آمادہ کرتا ہے اور اسی کی وجہ سے شیطان تمہارے دل پر حاوی نہیں ہو پاتا ہے، برخلاف اس شخص کے جس کے دل پر شیطان حاوی ہوجاتا ہے اور وہ اپنے دل کے اندر شیطان سے لڑنے کے طاقت نہيں پاتا۔
فوائد
اہل ایمان کے سامنے شیطان کی کمزوری کا بیان کہ وہ یہاں وسوسہ سے آگے بڑھ نہیں پاپا۔
دل میں جو وسوسے آتے ہیں، ان کو سچ جان کر قبول نہیں کرنا چاہیے، کیوں کہ وہ شیطان کی جانب سے ہوتے ہیں۔
شیطانی وسوسہ مؤمن کو نقصان نہیں پہنچا سکتا، لیکن پھر بھی مؤمن کو چاہیے کہ شیطانی وسوسے سے اللہ کی پناہ طلب کرتا رہے اور وسوسے کی رو میں نہ بہے۔
مسلمان کو یہ زیب نہیں دیتا کہ اسے دینی امور میں جو مشکلات در پیش ہوں، ان کے بارے میں سکوت اختیار کرے، بلکہ اسے چاہیے کہ ان کے بارے میں اہل علم سے پوچھ لیا کرے۔
حوالہ
صحيح مسلم (1/ 119) (132)، معالم السنن (4/174)، المفهم للقرطبي (1/344)، شرح النووي على مسلم (2/154)، البحر المحيط الثجاج (3/622).
عن ابن عباس رضي الله عنهما قال: جاءَ رجُلُ إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: يا رسولَ اللهِ، إن أحدنا يجدُ في نفسِهِ -يُعرِّضُ بالشَّيءِ- لأَن يكونَ حُمَمَةً أحَبُّ إليه من أن يتكلَّم بِهِ، فقال: «اللهُ أكبرُ، اللهُ أكبرُ، الحمدُ لله الذي ردَّ كيدَه إلى الوسوسَةِ».
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں: ایک آدمی نبی کریم ﷺ کی خدمت میں آیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! ہمارے دل میں کچھ خیالات آتے ہیں۔ -وہ اشارے کنایے میں بات کر رہا تھا- ان خیالات کو زبان پر لانے کی بجائے کوئلہ ہو جانا اسے زیادہ پسند ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ساری تعریف اس اللہ کی، جس نے اس (ابلیس) کے مکر کو وسوسے کی طرف پھیر دیا۔“
رواه أبو داود والنسائي في الكبرىدرجہصحيح
تشریح
ایک شخص اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم میں سے کسی کے دل میں کوئی ایسا خیال آتا ہے، جسے زبان پر لانا اس قدر سنگین محسوس ہوتا ہے کہ اسے زبان پر لانے کی بجائے اسے راکھ ہوجانا زیادہ پسند ہوتا ہے۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ اللہ اکبر کہا اور اللہ کی حمد وثنا بیان کی کہ اس نے شیطانی سازش کو محض وسوسہ میں تبدیل کر دیا۔
فوائد
اس حدیث میں یہ وضاحت کی گئی ہے کہ شیطان مؤمنوں کی گھات میں رہتا ہے، تاکہ انہیں ایمان سے کفر کی طرف پھیر دے۔
اہل ایمان کے سامنے شیطان کی کمزوری کا بیان کہ اہل ایمان کو شیطان صرف وسوسہ میں ہی ڈال سکتا ہے۔
مومن کو چاہیے کہ شیطانی وسوسوں سے اعراض برتے اور انہیں اپنے ذہن ودل سے دور رکھے۔
پسندیدہ چیز پر اللہ اکبر کہنا، اس پر تعجب کا اظہار کرنا یا اسی قسم کا دیگر رد عمل ظاہر کرنا مشروع ہے۔
ہر مشکل امر سے متعلق عالم سے سوال کرنا مشروع ہے۔
حوالہ
سنن أبي داود (7/ 435) (5112) السنن الكبرى للنسائي (9/ 249) (10435)، شرح سنن أبي داود للعباد (580/ 28)، صحيح مسلم (1/ 119) (132)، شرح سنن أبي داود لابن رسلان (19/370)، ومرقاة الصعود (3/1301).
یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com