عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں : ایک دن ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ اتنے میں ایک شخص آیا۔ اس کے کپڑے بہت سفید اور بال بہت کالے تھے۔ اس پر سفر کے آثار بھی نہیں دکھائی دے رہے تھے اور ہم میں سے کوئی اسے جانتا بھی نہیں تھا۔ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آ کر بیٹھا۔ اپنے گھٹنے کو آپ کے گھٹنے سے لگا لیا اور اپنی ہتھیلیاں اپنى رانوں پر رکھی۔ پھر بولا : اے محمد (ﷺ)! مجھے اسلام کے بارے میں بتائیے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : "اسلام یہ ہے کہ تم اس بات کی گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمد (ﷺ) اس کے رسول ہیں، نماز قائم کرو، زکاۃ ادا کرو، رمضان کے روزے رکھو اور اگر اللہ کے گھر تک جانے کی استطاعت ہو، تو اس کا حج کرو۔" یہ سن کر وہ بولا : آپ نے سچ فرمایا۔ ہمیں اس پر تعجب ہوا کہ وہ آپ سے سوال بھی کرتا ہے اور پھر خود آپ کی تصدیق بھی کرتا ہے۔ پھر بولا : مجھے ایمان کے بارے میں بتائیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا : "ایمان یہ ہے کہ تم اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر، آخرت کے دن پر اور ہر اچھی و بری تقدیر پر ایمان لاؤ"۔ وہ بولا : آپ نے سچ فرمایا ۔ پھر بولا : مجھے احسان کے بارے میں بتائیے؟ آپ ﷺ نے فرمایا : "اللہ کی عبادت اس طرح کرو، گویا تم اسے دیکھ رہے ہو اور اگر تم اسے نہیں دیکھ رہے ہو، تو وہ توتمھیں دیکھ رہا ہے"۔ وہ کہنے لگا: اب مجھے قیامت کے بارے میں بتائیے؟ آپ ﷺ نے فرمایا : "جس سے سوال کیا جا رہا ہے، وہ سوال کرنے والے سے زیادہ نہیں جانتا"۔ اس نے کہا : اچھا تو مجھے اس کی نشانیاں بتائیے؟ آپ ﷺ نے فرمایا : "(نشانیاں یہ ہیں کہ) لونڈی اپنی مالکن کو جنے گی۔ تم دیکھو گے کہ ننگے پاؤں، ننگے بدن، مفلس اور بکریاں چرانے والے لوگ محلات تعمیر کرنے میں ایک دوسرے پر فخر کیا کریں گے"۔ اس کے بعد وہ چلا گیا۔ میں کچھ دیر تک ٹھہرا رہا۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا : "اے عمر! کیا تم جانتے ہو کہ پوچھنے والا کون تھا؟" میں نے عرض کیا : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں"۔ آپ ﷺ نے فرمایا : "وہ جبریل (علیہ السلام) تھے۔ وہ تمھیں تمھارے دین کے معاملات سکھانے آئے تھے"۔
رواه مسلمدرجہصحيح
تشریح
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بتا رہے ہیں کہ جبریل علیہ السلام صحابۂ کرام کے پاس ایک اجنبی شخص کی شکل اختیار کر کے آئے۔ ان کے کچھ صفات اس طرح تھے کہ ان کے کپڑے بہت زیادہ سفید اور بال بہت زیادہ کالے تھے۔ ان کے جسم پر سفر کا کوئی اثر، جیسے تھکاوٹ، دھول مٹی، بالوں کا بکھرا ہوا ہونا اور کپڑوں کا میلا کچیلا ہونا وغیرہ نہیں دکھ رہا تھا۔ وہاں موجود کوئی شخص ان کو پہچان بھی نہيں پا رہا تھا۔ اس وقت صحابہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ وہ آپ کے سامنے ایک طالب علم کی طرح بیٹھ گئے اور اس کے بعد آپ سے اسلام کے بارے میں سوال کیا، تو آپ نے جو جواب دیا، اس میں دونوں گواہیوں کا اقرار، پانچ وقتوں کی نمازیں قائم کرنا، زکوۃ اس کے حق داروں کو دینا، رمضان مہینے کے روزے رکھنا اور استطاعت رکھنے والے کے لیے کعبہ کا حج کرنا شامل تھا۔
جواب سننے کے بعد سوال کرنے والے نے کہا : آپ نے سچ کہا ہے۔ صحابہ کو اس بات کا تعجب ہوا ان کا سوال کرنا یہ دکھاتا ہے کہ وہ جانتے نہیں ہيں، لیکن وہ آپ کی بات کی تصدیق بھی کر رہے ہیں۔
پھر انھوں نے آپ سے ایمان کے بارے میں پوچھا، تو آپ نے جو جواب دیا، اس میں ایمان کے چھ ارکان شامل ہيں، جو کچھ اس طرح ہيں؛ اللہ کے وجود اور اس کے صفات پر ایمان رکھنا، اسے اپنے افعال، جیسے تخلیق وغیرہ میں اکیلا ماننا اور بس اسی کو عبادت کا حق دار جاننا، اس بات پر ایمان رکھنا کہ فرشتے، جن کو اللہ نے نور سے پیدا کیا ہے، اس کے معزز بندے ہیں، جو اس کی نافرمانی نہيں کرتے اور اس کے ہر حکم کی تعمیل کرتے ہیں، اللہ کی جانب سے رسولوں پر اترنے والی کتابوں، جیسے قرآن، تورات اور انجیل وغیرہ پر ایمان رکھنا، انسانوں کو اللہ کا دین پہنچانے والے رسولوں، جیسے نوح، ابراہیم، موسی، عیسی اور آخری نبی محمد صلی اللہ علیہ و سلم پر ایمان رکھنا، آخرت کے دن پر ایمان رکھنا، جس میں موت کے بعد کی برزخی زندگی کے ساتھ ساتھ اس بات پر ایمان بھی شامل ہے کہ انسان کو موت کے بعد دوبارہ زندہ ہوکر اٹھنا اور حساب وکتاب کے مرحلہ سے گزرنا ہوگا، جس کے بعد اس کا ٹھکانہ یا تو جنت ہوگا یا پھر جہنم اور اخیر میں اس بات پر ایمان رکھنا کہ اللہ نے اپنے سابقہ علم اور اپنی حکمت کے مطابق ساری چیزوں کی مقدار مقرر کرکے ان کو لکھ رکھا ہے اور بعد میں وہ ساری چیزیں اللہ کے ارادے سے اور اس کے اندازے کے مطابق ہی سامنے آتی ہيں اور وہی ان کی تخلیق بھی کرتا ہے۔ پھر انھوں نے آپ سے احسان کے بارے میں پوچھا، تو آپ نے بتایا کہ احسان یہ ہے کہ انسان اللہ کی عبادت اس طرح کرے، گویا وہ اللہ کو دیکھ رہا ہے۔ اگر وہ اس مقام تک نہ پہنچ سکے، تو اللہ کی عبادت یہ سوچ کر کرے کہ اللہ اسے دیکھ رہا ہے۔ یہاں پہلا مقام مشاہدے کا ہے، جو کہ سب سے اونچا ہے اور دوسرا مقام مراقبے کا ہے۔
پھر انھوں نے آپ سے پوچھا کہ قیامت کب آئے گی، تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ قیامت کب آئے گی، یہ بات ان باتوں میں سے ہے، جن کو اللہ نے کسی کو نہيں بتایا ہے۔ لہذا اس کا علم کسی کے پاس نہيں ہے۔ نہ جس سے پوچھا گیا ہے، اس کے پاس اور نہ پوچھنے والے کے پاس۔
بعد ازاں انھوں نے آپ سے قیامت کی نشانیوں کے بارے میں پوچھا، تو آپ نے بتایا کہ اس کی ایک نشانی یہ ہے کہ باندیوں اور اس کے بطن سے جنم لینے والے بچوں کی بہتات ہوگی یا پھر یہ کہ بچے اپنی ماؤں کی بہت زیادہ نافرمانی کرنے لگیں گے اور ان کے ساتھ باندیوں جیسا سلوک کریں گے۔ دوسری نشانی یہ ہے کہ آخری زمانے میں بکریوں کے چرواہوں اور فقیروں کے سامنے دنیا کے دروازے کھول دیے جائیں گے اور وہ خوب صورت اور مضبوط محلوں کے معاملے میں ایک دوسرے پر فخر کریں گے۔
اخیر میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ پوچھنے والے جبریل تھے، جو صحابہ کو اسلام سکھانے کے لیے آئے تھے۔
فوائد
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا اعلی اخلاق کہ آپ اپنے ساتھیوں کے ساتھ گھل مل کر بیٹھ جایا کرتے تھے۔
سوال کرنے والے کے ساتھ نرمی بھرا برتاؤ کرنا اور اسے اپنے پاس بٹھانا چاہیے، تاکہ وہ بغیر کسی خوف اور تردد کے جو کچھ پوچھنا چاہے، پوچھ سکے۔
استاد کے ساتھ ادب و احترام کا معاملہ کرنا چاہیے۔ ہم یہاں دیکھتے ہیں کہ جبریل علیہ السلام اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے سامنے ادب کے ساتھ بیٹھ گئے، تاکہ آپ سے علم حاصل کر سکیں۔
اسلام کے پانچ ارکان اور ایمان کی چھ بنیادیں ہيں۔
جب اسلام اور ایمان دونوں الفاظ ایک ساتھ آئیں، تو اسلام کی تفسیر ظاہری چیزوں سے کی جائے گی اور ایمان کی تفسیر باطنی چیزوں سے۔
دین کے مختلف درجات ہيں۔ پہلا درجہ اسلام ہے، دوسرا ایمان ہے اور تیسرا احسان، جو کہ دین کا سب سے اونچا درجہ ہے۔
اصل یہ ہے کہ پوچھنے والے کے پاس جانکاری نہ ہو اور عدم واقفیت کی وجہ سے ہی انسان کسی سے کچھ پوچھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صحابہ کو اس بات پر تعجب ہوا کہ وہ شخص خود پوچھ بھی رہا تھا اور تصدیق بھی کر رہا تھا۔
آغاز زیادہ اہم سے کر کے کم اہم کی طرف جانا چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام کی تفسیر کرتے وقت آغاز دونوں گواہیوں سے کیا گيا اور ایمان کی تفسیر کرتے وقت آغاز اللہ پر ایمان سے کیا گیا۔
دین کا علم رکھنے والوں سے ایسی چیزوں کے بارے میں پوچھا جا سکتا ہے، جن سے پوچھنے والا واقف ہو، تاکہ دوسرے لوگ بھی ان چیزوں کو جان جائیں۔
قیامت کب آئے گی، اس بات کا علم اللہ نے اپنے پاس رکھا ہے۔
حوالہ
صحيح مسلم (1/ 36) (8).
التحفة الربانية في شرح الأربعين حديثا النووية (ص7).
شرح الأربعين النووية، لابن عثيمين (ص19).
فتح القوي المتين في شرح الأربعين وتتمة الخمسين، للعباد (ص15).
الأحاديث الأربعون النووية وعليها الشرح الموجز المفيد، لعبد الله المحسن (ص7).
تاج العروس من جواهر القاموس، للزبيدي (2/ 460).
ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے روایت کرتے ہوئے کہتے ہيں کہ اللہ تعالی نے فرمایا : "اے میرے بندو! میں نے ظلم کو اپنے اوپر حرام کر لیا ہے اور اسےتمہارے درمیان بھی حرام قرار دیا ہے۔ لہٰذا تم ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو۔ اے میرے بندو! تم سب گمراہ ہو، سوائے اس کے جسے میں ہدایت سے نواز دوں۔ لہذا تم مجھ سے ہدایت مانگو، میں تمہیں ہدایت دوں گا۔ اے میرے بندو! تم سب بھوکے ہو، سوائے اس کے جسے میں کھلاؤں۔ لہذا تم مجھ سے کھانا مانگو، میں تمہیں کھانا دوں گا۔ اے میرے بندو! تم سب ننگے ہو، سواۓ اس کے جسے میں لباس پہناؤں۔ لہذا تم مجھ سے لباس مانگو، میں تمہیں لباس دوں گا۔ اے میرے بندو! تم سب دن رات گناہ کرتے ہو اور میں سارے گناہوں کو بخش دیتا ہوں۔ لہذا تم مجھ سے بخشش مانگو۔ میں تمہیں بخش دوں گا۔ اے میرے بندو! تم سب کی رسائی مجھے نقصان پہنچانے تک نہیں ہو سکتی کہ تم مجھے نقصان پہنچاؤ اور نہ تمہاری رسائی مجھے نفع پہنچانے تک ہو سکتی ہے کہ تم مجھے نفع پہنچاؤ۔ اے میرے بندو! اگر تمھارے پہلے کے لوگ اور تمھارے بعد کے لوگ اور تمھارے انسان اور تمھارے جنّات، تم میں سب سے زیادہ متقی شخص کے دل جیسے ہوجائیں تو اس سے میری سلطنت میں کچھ اضافہ نہ ہوگا۔ اے میرے بندو! اگر تمھارے پہلے کے لوگ اور تمھارے بعد کے لوگ اور تمھارے انسان اور تمھارے جنّات, تم میں سب سے زیادہ فاجر شخص کے دل جیسے ہوجائیں، تو اس سے میری سلطنت میں کچھ کمی نہ ہوگی۔ اے میرے بندو! اگر تمھارے پہلے کے لوگ اور تمھارے بعد کے لوگ، تمھارے انسان اور تمھارے جنّات ایک کھلے میدان میں کھڑے ہو جائیں اور سب مجھ سے مانگیں اور میں ہر انسان کو اس کی طلب کردہ چیز دے دوں، تو اس سے میرے خزانوں میں اس سے زیادہ کمی نہیں ہوگی، جتنی کمی ایک سوئی کو سمندر میں ڈبو کر نکالنے سے سمندر کے پانی میں ہوتی ہے۔ اے میرے بندو! یہ تمہارے اعمال ہیں کہ جنہیں میں شمار کر رہا ہوں اور پھر میں تمہیں ان کا پورا پورا بدلہ دوں گا۔ لہذا جو شخص بھلائی پائے، وہ اللہ کا شکر ادا کرے اور جو اس کے علاوہ پائے، وہ اپنے ہی نفس کو ملامت کرے۔”
رواه مسلمدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ اللہ تعالی نے فرمایا کہ اس نے اپنے اوپر ظلم کو حرام کر لیا ہے اور اسے اپنی مخلوق کے بیچ بھی حرام قرار دیا ہے، لہذا کوئی کسی پر ظلم نہ کرے۔ سارے انسان حق کے راستے سے بھٹکے ہوئے ہيں، سوائے اس کے جسے اللہ حق کا راستہ دکھائے اور حق کے راستے پر چلنے کی توفیق عطا کرے۔ جو اللہ سے حق کے راستے پر چلنے کی توفیق مانگتا ہے، اسے اللہ یہ توفیق عطا کرتا ہے۔ سارے انسان اپنی تمام ضرورتوں کے لیے اللہ کے محتاج ہیں اور جو اللہ سے ضرورتیں پوری کرنے کی دعا کرتا ہے، اللہ اس کی ضرورتیں پوری کر دیتا ہے۔ سارے انسان رات دن گناہ کرتے ہيں اور اللہ ان کے گناہوں پر پردہ ڈالتا ہے اور بخشش مانگنے پر بخش دیتا ہے۔ انسان نہ تو اللہ کو ضرر پہنچا سکتے ہیں اور نہ اسے کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہيں۔ اگر سارے انسان ایک متقی شخص کی طرح ہو جائیں، تو ان کے اس تقوے سے اللہ کی بادشاہت میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔ اس کے برخلاف اگر سارے انسان کسی گنہگار ترین شخص کے جیسے ہو جائیں، تو ان کے اس گناہ میں ملوث ہو جانے سے اللہ کی بادشاہت میں کوئی کمی نہيں ہوگی۔ کیوں کہ انسان کمزور اور ہر حال اور ہر زمان و مکان میں اللہ کے محتاج ہیں، جب کہ اللہ غنی اور بے نیاز ہے۔ اگر سارے انسان اور جن، پہلے اور بعد کے لوگ کسی ایک مقام پر کھڑے ہوکر اللہ سے اپنی اپنی مرادیں مانگنے لگیں اور اللہ سب کی جھولیاں بھر دے، تو اس سے اللہ کے خزانے میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔ بالکل اسی طرح، جس طرح سمندر میں ایک سوئی ڈال کر نکال لینے سے سمندر کا پانی گھٹتا نہیں ہے۔ ایسا اس لیے کہ اللہ بڑا ہی غنی ہے۔
اللہ بندوں کے اعمال کی حفاظت کرتاہے ، انھیں ان کے لئے اعمال کو شمار کرتا ہے اور قیامت کے دن انھیں ان کا پورا پورا بدلہ بھی دے گا۔ ایسے میں جو اپنے اعمال کا بدلہ اچھا پائے، وہ اللہ کا شکر ادا کرے کہ اس نے اسے نیک کام کرنے کی توفیق عطا کی اور جو اپنے اعمال کا بدلہ اس سے الگ پائے، وہ صرف اور صرف اپنے نفس کو کوسے، جو اسے برائی کا حکم دیتا تھا اور جس نے اسے ناکامی اور نامرادی سے دوچار کیا۔
فوائد
یہ حدیث ان حدیثوں میں سے ایک ہے، جن کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے پاک پروردگار سے روایت کیا ہے۔ اس طرح کی حدیث کو حدیث قدسی یا حدیث الہی کہا جاتا ہے۔ اس سے مراد وہ حدیث ہے، جس کے لفظ اور معنی دونوں اللہ کے ہوں۔ البتہ اس کے اندر قرآن کی خصوصیات، جیسے اس کی تلاوت کا عبادت ہونا، اس کے لیے طہارت حاصل کرنا اور اس کا معجزہ ہونا وغیرہ نہیں پائی جاتیں۔
انسان کو جو بھی علم اور رہنمائی ملتی ہے، وہ اللہ کی جانب سے ملتی ہے۔
انسان کو جو بھلائی ملتی ہے، وہ اللہ کے فضل و کرم سے ملتی ہے اور جو برائی ملتی ہے، وہ اس کے نفس کی جانب سے ہوتی ہے۔
جس نے اچھا کام کیا، اس نے اللہ کی توفیق سے کیا اور اس کی جزا دراصل اللہ کا فضل و کرم ہے، اس لیے ساری تعریف اللہ کے لیے ہے۔ اس کے برخلاف جس نے برا کام کیا، وہ صرف اپنے نفس کو کوسے۔
حوالہ
صحيح مسلم (4/ 1994) (2577).
التحفة الربانية في شرح الأربعين حديثًا النووية (ص52).
شرح الأربعين النووية، لابن عثيمين (ص235).
فتح القوي المتين في شرح الأربعين وتتمة الخمسين، للعباد (ص82).
الأحاديث الأربعون النووية وعليها الشرح الموجز المفيد، لعبد الله المحسن (ص46).
عن أبي موسى رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إِنَّ اللهَ لَيُمْلِي لِلظَّالِمِ، حَتَّى إِذَا أَخَذَهُ لَمْ يُفْلِتْهُ» قَالَ: ثُمَّ قَرَأَ: «{وَكَذَلِكَ أَخْذُ رَبِّكَ إِذَا أَخَذَ الْقُرَى وَهِيَ ظَالِمَةٌ إِنَّ أَخْذَهُ أَلِيمٌ شَدِيدٌ}[هود: 102]»
ابو موسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”ویسے تو اللہ تعالی ظالم کو مہلت دیتا ہے، لیکن جب اسے پکڑتا ہے تو پھر نہیں چھوڑتا۔" پھر آپ ﷺ نے یہ آیت پڑھی : {وَكَذَٰلِكَ أَخْذُ رَبِّكَ إِذَا أَخَذَ الْقُرَىٰ وَهِيَ ظَالِمَةٌ ۚ إِنَّ أَخْذَهُ أَلِيمٌ شَدِيدٌ} (تیرے پروردگار کی پکڑ کا یہی طریقہ ہے، جب کہ وه بستیوں کے رہنے والے ﻇالموں کو پکڑتا ہے۔ بےشک اس کی پکڑ دکھ دینے والی اور نہایت سخت ہے)۔ [سورہ ہود : 102]
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح
اس حدیث میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم گناہ، شرک اور لوگوں کا حق مار کر ظلم کے راستے پر آگے بڑھتے جانے سے خبردار کر رہے ہيں۔ کیوں کہ اللہ تعالی ظالم کو فورا سزا دینے کی بجائے اسے مہلت اور ڈھیل دیتا ہے اور اس کی عمر اور دھن دولت کو بڑھاتا جاتا ہے۔ ایسے میں اگر وہ توبہ نہیں کرتا، تو اس کا ظلم بڑھ جانے کی وجہ سے اسے پکڑ لیتا ہے اور پھر چھوڑتا نہیں ہے۔
پھر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ آیت پڑھی : {وَكَذَٰلِكَ أَخْذُ رَبِّكَ إِذَا أَخَذَ الْقُرَىٰ وَهِيَ ظَالِمَةٌ ۚ إِنَّ أَخْذَهُ أَلِيمٌ شَدِيدٌ} (تیرے پروردگار کی پکڑ کا یہی طریقہ ہے، جب کہ وه بستیوں کے رہنے والے ﻇالموں کو پکڑتا ہے۔ بےشک اس کی پکڑ دکھ دینے والی اور نہایت سخت ہے)۔ [سورہ ہود : 102]
فوائد
عقل مند انسان کو چاہیے کہ فورا توبہ کر لے اور اگر ظلم سے باز نہيں آتا، تو اللہ کے مکر سے مامون نہ رہے۔
اللہ تعالی ظالموں کو سزا دینے کی بجائے مہلت دیتا ہے، تاکہ ان کو توبہ کرنے کا موقع مل سکے اور توبہ نہ کرنے کی حالت میں ان کے عذاب کو بڑھا دیا جائے۔
ظلم قوموں پر اللہ کی سزا کے نازل ہونے کا ایک سبب ہے۔
جب اللہ کسی بستی کو ہلاک کرتا ہے، تو اس میں کچھ نیک لوگ بھی ہو سکتے ہيں۔ ایسے نیک لوگ قیامت کے دن اپنی نیکی کے ساتھ اٹھائے جائیں گے اور اس بات سے ان کو کوئی نقصان نہ ہوگا کہ دنیا میں سب کے ساتھ ان کو عذاب کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
حوالہ
صحيح البخاري (6/ 74) (4686).
صحيح مسلم (4/ 1997) (2583).
شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (2/ 496).
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (1/ 303).
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمصطفى الخِن وغيره (1/ 231).
تطريز رياض الصالحين، لفيصل آل مبارك (ص165).
مرقاة المفاتيح، علي القاري (8/ 3200).
یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com