سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

یومِ آخرت پر ایمان

109 احادیث

جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے مہمان کی دستور کے موافق ہر طرح سے عزت کرے۔ پوچھا: یا رسول اللہ! دستور کے موافق کب تک ہے۔ فرمایا: ”ایک دن اور ایک رات اور میزبانی تین دن کی ہے اور جو اس کے بعد ہو وہ اس کے لیے صدقہ ہے“۔

عن أبي شُريح خُويلد بن عمرو الخزاعي عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: «مَنْ كَان يُؤمِن بِاللهِ وَاليَومِ الآخِرِ فَلْيُكْرِم ضَيفَه جَائِزَتَه»، قَالوا: وما جَائِزَتُهُ؟ يَا رسول الله، قال: «يَومُهُ ولَيلَتُهُ، والضِّيَافَةُ ثَلاَثَةُ أَيَّامٍ، فَمَا كَانَ وَرَاءَ ذَلك فَهُوَ صَدَقَةٌ عَلَيه». وفي رواية: «لا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يُقِيمَ عِنْدَ أَخِيهِ حَتَّى يؤْثِمَهُ» قالوا: يَا رَسول الله، وَكَيفَ يُؤْثِمَهُ؟ قال: «يُقِيمُ عِندَهُ ولاَ شَيءَ لَهُ يُقرِيهِ بهِ».
ابو شریح خویلد بن عمرو الخزاعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے مہمان کی دستور کے مطابق ہر طرح سے عزت کرے۔ پوچھا: یا رسول اللہ! دستور کے موافق کب تک ہے۔ فرمایا: ”ایک دن اور ایک رات اور میزبانی تین دن کی ہے اور جو اس کے بعد ہو وہ اس کے لیے صدقہ ہے“۔ ایک دوسری روایت میں ہے کہ کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی کے پاس اس حد تک ٹھہرے کہ اسے گناہ گار ہی کردے۔لوگوں نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ! وہ اسے گناہ گار کیسے کرے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ وہ اس کے پاس ٹھہرے حالانکہ اس کی مہمان نوازی کے لیے اس کے پاس کچھ نہ ہو۔
اس حدیث کی دونوں روایات متفق علیہ ہیں۔درجہصحیح
تشریح

ابو شریح خزاعی رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث دلالت کرتی ہے کہ مہمان کا اکرام اور اس کی خدمت کرنی چاہیے۔ نبی ﷺ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ "جو شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے مہمان کا اکرام کرے"۔ اس میں مہمان کے اکرام کی ترغیب ہے اور اس پر ابھارا گیا ہے یعنی مہمان کا اکرام کرنا اللہ اور یوم آخرت پر ایمان کی علامت ہے اور اس سے اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان کامل ہوتا ہے۔ جن باتوں سے مہمان کی تکریم ہوتی ہے وہ یہ ہیں: چہرے کی بشاشت، خوشگوار گفتگو، تین دن کھانا کھلانا، پہلے دن حسب استطاعت اور جس قدر میسر ہو اور باقی دنوں میں بلا تکلف جو ہو پیش کرنا تاکہ اس سے نہ تو مہمان پر بوجھ آئے اور نہ خود اس پر۔تین دن کے بعد مہمان نوازی صدقہ شمار ہوتی ہے، چاہے تو کرے اور چاہے تو نہ کرے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "فليكرم ضيفه جائزته يوما وليلة والضيافة ثلاثة أيام"۔ اس میں ’جائزہ‘ کے لفظ کے معنی میں علماء کا کہنا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ وہ ایک دن اور ایک رات مہمان کا خوب خیال رکھے اور اس کے ساتھ جو کچھ بھی اچھائی اور بھلائی ممکن ہو وہ کرے۔ جب کہ دوسرے اور تیسرے دن میں جو کچھ میسر ہو وہ اسے کھلائے اور اپنے معمول سے نہ بڑھے۔ جب کہ تین دن کے بعد یہ صدقہ اور نیکی ہے اگر چاہے تو کرلے اور اگر چاہے تو چھوڑ دے۔ مسلم شریف کی ایک روایت میں ہے کہ: " اس (مہمان) کے لیے جائز نہیں کہ وہ میزبان کے ہاں اس حد تک قیام کرے کہ اسے گناہ گار ہی کر دے"۔ یعنی مہمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ میزبان کے ہاں تین دن کے بعد بھی قیام جاری رکھے یہاں تک کہ اسے گناہ گار کر دے۔ کیونکہ ہو سکتا ہے کہ وہ اس کے لمبے قیام کی وجہ سے اس کی غیبت کر بیٹھے یا اس کے ساتھ کچھ ایسا سلوک کرے جس سے اس کو تکلیف ہو یا پھر اس کے بارے میں کوئی گمان رکھے جو کرنا جائز نہیں۔ یہ سب اس صورت پر محمول ہے جب وہ میزبان کی دعوت کے بغیر اس کے ہاں تین دن کے بعد تک ٹھہرا رہے۔ یہاں یہ جان لینا مناسب ہے کہ مہمان کا اکرام مہمان کی حالت کے لحاظ سے مختلف ہوتا ہے۔ کچھ لوگ بڑے اور معزز ہوتے ہیں۔ چنانچہ ان کا اکرام ان کے شایانِ شان کرے۔ بعض لوگ متوسط درجے کے ہوتے ہیں ان کا اکرام ان کے لحاظ سے ہونا چاہیے۔ کچھ لوگ ان سے بھی کم تر درجے کے ہوتے ہیں۔

حوالہ

بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي، ط1، دار ابن الجوزي، الدمام، 1415هـ. تطريز رياض الصالحين، للشيخ فيصل المبارك، ط1، تحقيق: عبد العزيز بن عبد الله آل حمد، دار العاصمة، الرياض، 1423 هـ. دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين، لمحمد علي بن محمد بن علان، ط4، اعتنى بها: خليل مأمون شيحا، دار المعرفة، بيروت، 1425هـ. رياض الصالحين، للنووي، ط1، تحقيق: ماهر ياسين الفحل، دار ابن كثير، دمشق، بيروت، 1428هـ. رياض الصالحين، ط4، تحقيق: عصام هادي، وزارة الأوقاف والشؤون الإسلامية القطرية، دار الريان، بيروت، 1428هـ. فتح رب البرية بتلخيص الحموية، لمحمد بن صالح بن محمد العثيمين، دار الوطن للنشر، الرياض. كنوز رياض الصالحين، مجموعة من الباحثين برئاسة حمد بن ناصر العمار، ط1، كنوز إشبيليا، الرياض، 1430هـ. شرح رياض الصالحين، للشيخ ابن عثيمين، دار الوطن للنشر، الرياض، 1426هـ. صحيح البخاري، تحقيق: محمد زهير بن ناصر الناصر، ط1، دار طوق النجاة، (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، 1422هـ. صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت. نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين، ط14، مؤسسة الرسالة، 1407هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

ایک شخص نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے قیامت کے بارے میں پوچھا۔ اس نے کہا : قیامت کب آئے گی؟ آپ نے کہا : "تم نے اس کے لیے کیا تیاری کی ہے؟

عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ السَّاعَةِ، فَقَالَ: مَتَى السَّاعَةُ؟ قَالَ: «وَمَاذَا أَعْدَدْتَ لَهَا». قَالَ: لاَ شَيْءَ، إِلَّا أَنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «أَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ». قَالَ أَنَسٌ: فَمَا فَرِحْنَا بِشَيْءٍ، فَرِحْنَا بِقَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ» قَالَ أَنَسٌ: فَأَنَا أُحِبُّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ، وَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ مَعَهُمْ بِحُبِّي إِيَّاهُمْ، وَإِنْ لَمْ أَعْمَلْ بِمِثْلِ أَعْمَالِهِمْ.
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ایک شخص نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے قیامت کے بارے میں پوچھا۔ اس نے کہا : قیامت کب آئے گی؟ آپ نے کہا : "تم نے اس کے لیے کیا تیاری کی ہے؟" اس نے کہا : تیاری تو ویسے کچھ نہيں کی ہے، لیکن اتنا ضرور ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے محبت رکھتا ہوں۔ اس پر آپ نے کہا : "تمھیں اس کا ساتھ نصیب ہوگا، جس سے تمھیں محبت ہے۔" انس رضی اللہ عنہ کہتے ہيں : ہمیں کسی چيز سے اتنی خوشی نہيں ملی، جتنا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے اس قول سے ملی کہ تمھیں اس کا ساتھ نصیب ہوگا، جس سے تمھیں محبت ہے۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہيں : میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اور ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما سے محبت رکھتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ اس محبت کی وجہ سے مجھے ان کا ساتھ نصیب ہوگا، گرچہ میں ان کے جیسا عمل نہ بھی کر سکوں۔
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

ریگستان میں رہنے والے ایک دیہاتی نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا کہ قیامت کب آئے گی؟ آپ نے اس کا جواب دینے کے بجائے اسی سے پوچھ لیا کہ تم نے اس کی تیاری کے طور پر کون کون سے اچھے اعمال کیے ہیں؟ اس نے جواب دیا : میں نے اس کی تیاری کے طور پر کوئی بڑا کام تو نہيں کیا ہے، لیکن اتنا ضرور ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے محبت رکھتا ہوں۔ اس نے کسی دوسری قلبی، بدنی یا مالی عبادت کا ذکر نہيں کیا۔ کیوں کہ یہ ساری عبادتيں اسی محبت کی شاخیں ہیں اور اسی کے نتیجے میں سامنے آتی ہيں۔ دوسری بات یہ ہے کہ سچی محبت انسان کو اچھے اعمال کی ترغیب دیتی ہے۔ اس کا جواب سن کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے اس سے کہا : بے شک تجھے جنت میں اس کا ساتھ نصیب ہوگا، جس سے تجھے محبت ہے۔ اس خوش خبری سے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے صحابہ کو بڑی خوشی ہوئی۔ پھر انس رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ وہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اور ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما سے محبت رکھتے ہيں اور امید کرتے ہیں کہ ان کو ان حضرات کا ساتھ نصیب ہوگا، خواہ ان کا اپنا عمل ان حضرات کے جیسا نہ بھی رہے۔

فوائد
  1. رسول اللہ ﷺکا سائل کو جواب دینے میں حکمت کو ملحوظ رکھنا کہ آپ نے اس کی رہ نمائی اس چيز کی طرف کر دی، جو اس کے لیے اہم اور نجات کا باعث ہو۔ یعنی نفع بخش چیز اور عمل صالح کے ذریعہ آخرت کی تیاری کرنا۔
  2. الله نے قیامت کا علم بندوں سے چھپا رکھا ہے، تاکہ انسان الله سے ملنے کے لیے مستعد اور تیار رہے۔
  3. اللہ، اس کے رسول اور صالح مومنین سے محبت رکھتے کی فضیلت اور مشرکوں سے محبت رکھنے سے خبردار کرنا۔
  4. اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا "تمھيں اس کا ساتھ نصیب ہوگا، جس سے تمھیں محبت ہے" کہنے کا مطلب درجہ اور منزلت میں برابری بتانا نہیں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ دونوں جنت میں اس طرح رہیں گے کہ ایک دوسرے کو دیکھ سکیں گے، خواہ جگہ دور ہی کیوں نہ ہو۔
  5. مسلمان کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اس چیز پر توجہ دے، جو اس کے حق میں زیادہ بہتر اور نفع بخش ہو۔ غیر نفع بخش باتوں کے بارے میں نہ پوچھے۔
حوالہ

صحيح البخاري (5/ 12) (3688). صحيح مسلم (4/ 2032) (2639). بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (1/ 435). كنوز رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (6/ 177). المعجم الأوسط، للطبراني (1/ 131). نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (1/ 342).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

کیا میں تمہیں دجال کے متعلق ایک ایسی بات نہ بتا دوں، جو کسی نبی نے اپنی قوم کونہیں بتائی؟ وہ کانا ہوگا اور اپنے ساتھ جنت اور جہنم جیسی چیز لائے گا۔

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلاَ أُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا عَنِ الدَّجَّالِ، مَا حَدَّثَ بِهِ نَبِيٌّ قَوْمَهُ؟ إِنَّهُ أَعْوَرُ، وَإِنَّهُ يَجِيءُ مَعَهُ بِمِثَالِ الجَنَّةِ وَالنَّارِ، فَالَّتِي يَقُولُ إِنَّهَا الجَنَّةُ هِيَ النَّارُ، وَإِنِّي أُنْذِرُكُمْ كَمَا أَنْذَرَ بِهِ نُوحٌ قَوْمَهُ».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا : "کیا میں تمہیں دجال کے متعلق ایک ایسی بات نہ بتا دوں، جو کسی نبی نے اپنی قوم کونہیں بتائی؟ وہ کانا ہوگا اور اپنے ساتھ جنت اور جہنم جیسی چیز لائے گا۔ پس جسے وہ جنت کہے گا، درحقیقت وہی دوزخ ہو گی۔ میں تمھیں اس سے اسی طرح خبردار کرتا ہوں، جس طرح نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو خبردار کیا تھا۔"
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اپنے ساتھیوں کو دجال، اس کی صفات اور علامتوں سے تعلق رکھنے والی ایسی باتیں بتا رہے ہیں، جو پہلے کسی نبی نے نہيں بتائی تھی۔ مثلا : وہ کانا ہوگا۔ اللہ تعالى اس کے ساتھ دو چیزیں رکھے گا، جو لوگوں کى نگاہوں میں جنت اور جہنم کی طرح دکھیں گی۔ لیکن حقیقت میں اس کی جنت جہنم ہوگی اور اس کی جہنم جنت۔ جو اس کی بات مانے گا، اسے وہ جنت جیسی جگہ میں داخل کرے گا، لیکن حقیقت میں وہ جہنم ہوگی۔ جو اس کی بات نہيں مانے گا، اسے وہ جہنم جیسی دکھنے والی جگہ میں داخل کرے گا، جو حقیقت میں جنت ہوگی۔ پھر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ہمیں اس سے خبردار کیا ہے، جس طرح نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو خبردار کیا تھا۔

فوائد
  1. دجال کا فتنہ بہت بڑا فتنہ ہوگا۔
  2. دجال کے فتنے سے نجات کا ذریعہ سچا ایمان، لجوء الی اللہ، آخری تشہد میں اس سے اللہ کی پناہ مانگنا اور سورہ کہف کے شروع کی دس آیتوں کو یاد کرنا ہے۔
  3. اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اپنی امت کی نجات کے شدید حریص تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ نے مسلمانوں کو دجال کی ایسی صفات بتائیں، جو پہلے کسی نبی نے نہيں بتائيں تھیں۔
حوالہ

صحيح البخاري (4/ 134) (3338). صحيح مسلم (4/ 2250) (2936).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! دنیا اس وقت تک ختم نہ ہو گی جب تک یہ صورت حال نہ ہوجائے کہ آدمی کا گزر قبر پر سے ہوگا تو وہ اس پر لوٹ پوٹ ہو کر یہ تمنا کرے گا کہ کاش اس قبر والے کی جگہ میں دفن ہوتا!۔ اس کا سبب دین نہیں ہوگا، بلکہ وہ دنیا کی مصیبت کی وجہ سے یہ تمنا کر ے گا۔

عن أبي هريرة رضي الله عنه قالَ: قالَ رَسُولُ اللَّه -صَلّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم-: «والذي نفسي بيده لا تذهب الدنيا حتى يمر الرجل على القبر، فَيَتَمَرَّغَ عليه ويقول: يا ليتني كنت مكان صاحب هذا القبر، وليس به الدِّينُ، ما به إلا البلاء».
ٍّؓ!ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! دنیا اس وقت تک ختم نہ ہو گی جب تک ایسی صورتِ حال پیدا نہ ہوجائے کہ آدمی کا گزر قبر پر سے ہوگا تو وہ اس پر لوٹ پوٹ ہو کر یہ تمنا کرے گا کہ کاش اس قبر والے کی جگہ میں دفن ہوتا!۔ اس کا سبب دین نہیں ہوگا، بلکہ وہ دنیا کی مصیبت کی وجہ سے یہ تمنا کرے گا“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

نبی کریم ﷺ ہمیں آگاہ کر رہے ہیں کہ آخری زمانے میں ایسی صورتِ حال ہو گی کہ آدمی کا گزر قبر پر سے ہوگا اور جن دنیوی پریشانیوں اور ان گنت فتنوں اور آزمائشوں میں وہ مبتلا ہوگا ان کی وجہ سے مٹی میں لوٹ پوٹ ہو کر یہ تمنا کرے گا کہ وہ اس قبر والے کی جگہ پر ہوتا کیونکہ مرنے والا دنیا کی تھکان اور مشقت سے خلاصی پا گیا ہوتا ہے۔ اس حدیث میں اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ موت کی تمنا کرنی چاہیے بلکہ اس میں تو صرف اس بات کی خبر دی گئی ہے جو آخرے زمانے میں واقع ہوگی۔

حوالہ

صحيح البخاري، تأليف: محمد بن إسماعيل البخاري, تحقيق: محمد زهير بن ناصر الناصر, دار طوق النجاة ترقيم محمد فؤاد عبدالباقي, 1422ه. صحيح مسلم، تأليف: مسلم بن حجاج النيسابوري, تحقيق: محمد فؤاد عبدالباقي, دار إحياء التراث العربي. دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين, تأليف: محمد علي بن محمد البكري الصديقي, عناية: خليل مأمون شيحا, الناشر: دار المعرفة, ط 4، 1425ه. بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين, تأليف: سليم بن عيد الهلالي, دار ابن الجوزي. نزهة المتقين شرح رياض الصالحين, تأليف: مصطفى الخن ومصطفى البغا ومحي الدين مستو وعلي الشربجي ومحمد لطفي, مؤسسة الرسالة, ط 14، 1407ه - 1987م. تطريز رياض الصالحين, تأليف: فيصل مبارك, دار العاصمة, 1423ه – 2002م.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک کہ دریائے فرات سے سونے کا پہاڑ نہ نکل آئے جس پر لڑ ائی ہوگی اور ہر سو ميں سے ننانوے آدمی مارے جائيں گے

عن أبي هريرة رضي الله عنه مرفوعاً: «لا تقوم الساعة حتى يحسر الفرات عن جبل من ذهب يُقْتَتَلُ عليه، فَيُقْتَلُ من كل مائة تسعة وتسعون، فيقول كل رجل منهم: لعلي أن أكون أنا أنجو». وفي رواية: «يوشك أن يحسر الفرات عن كنز من ذهب، فمن حضره فلا يأخذ منه شيئا».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک کہ دریائے فرات سے سونے کا پہاڑ نہ نکل آئے جس پر لڑ ائی ہوگی اور ہر سو ميں سے ننانوے آدمی مارے جائيں گے۔ ان میں سے ہر ایک یہ سوچے گا کہ شاید میں بچ جاؤں“۔ ایک اور روایت میں ہے کہ: ”قريب ہے کہ دریائے فرات (خشک ہوکر) سونے کے خزانے کو ظاہر کردے۔ لہٰذا جو شخص اس وقت موجود ہو، اس میں سے کچھ بھی نہ لے“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

پیارے نبی ﷺ ہمیں بتلا رہے ہیں کہ قیامت کے قریب دریائے فرات سونے کا ایک خزانہ یا سونے کا ایک پہاڑ ظاہرکرے گا، یعنی سونا ایک پہاڑ کی شکل میں نکلے گا اور لوگ اس کے حصول کے لیے باہم لڑیں گے کیونکہ یہ ایک فتنہ ہوگا۔ پھر آپ ﷺ ہم میں سے اس شخص کو جو اس وقت موجود ہو اس کے لینے سے منع کررہے ہیں کیونکہ کوئی بھی اس سے بچ نہیں سکے گا۔ ہو سکتا ہے کہ جو لوگ اس وقت موجود ہوں ان میں سے کچھ لوگ اس حدیث کی تاویل کریں اور حديث کو اس کی حقیقی معنی سے پھیر کر کوئی اور معنی مراد ليں تاکہ اپنے لئے اس خزانے سے کچھ لينے کو جائز ٹھہرا سکیں۔ ہم فتنوں سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔

حوالہ

- رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين، للإمام أبي زكريا النووي، تحقيق د. ماهر الفحل، دار ابن كثير، دمشق، الطبعة الأولى، 1428ه. - بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، تأليف سليم الهلالي، دار ابن الجوزي، الطبعة الأولى، 1418ه. - نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، تأليف د. مصطفى الخِن وغيره، مؤسسة الرسالة، بيروت، الطبعة الرابعة عشر، 1407هـ. - صحيح البخاري، للإمام أبي عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري، عناية محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة، الطبعة الأولى، 1422هـ. - صحيح مسلم، للإمام مسلم بن الحجاج، حققه ورقمه محمد فؤاد عبد الباقي، دار عالم الكتب، الرياض، الطبعة الأولى، 1417هـ. - شرح رياض الصالحين، للشيخ محمد بن صالح العثيمين، مدار الوطن، الرياض، 1426هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

آخری زمانے میں تمہارے خلفاء میں سے ایک ایسا خلیفہ ہو گا جو بغیر شمار کیے چُلّو بھر بھر کر مال دے گا۔

عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه مرفوعاً: «يكون خليفة من خلفائكم في آخر الزمان يحثُو المالَ ولا يَعُدُّهُ».
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”آخری زمانے میں تمہارے خلفاء میں سے ایک ایسا خلیفہ ہو گا جو بغیر شمار کیے چُلّو بھر بھر کر مال دے گا“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

رسول کریم ﷺ ہمیں خبر دے رہے ہیں کہ آخری زمانے میں مسلمانوں کا ایک ایسا خلیفہ ہو گا جو بنا شمار کیے اور بغیر حساب و کتاب کے مال خرچ کرے گا کیونکہ اس کی طبعی سخاوت کے ساتھ ساتھ اموال وغنائم کی بھی کثرت ہو گی۔

حوالہ

نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، نشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة: الرابعة عشر، 1407ه - 1987م. شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين، نشر: دار الوطن للنشر، الرياض، الطبعة: 1426ه. بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، للهلالي، نشر: دار ابن الجوزي. صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، نشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

لوگوں پر ضرور ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ ایک شخص سونے کا صدقہ لے کر نکلے گا، لیکن کوئی اسے لینے والا نہیں ملے گا اور یہ بھی ہو گا کہ ایک مرد کی پناہ میں چالیس چالیس عورتیں ہو جائیں گی؛ ایسا مردوں کی کمی اور عورتوں کی کثرت کی وجہ سے ہوگا۔

عن أبي موسى الأشعري رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «لَيَأْتِيَنَّ على الناس زمانٌ يَطُوفُ الرجلُ فيه بالصدقة من الذهب فلا يجد أحدا يأخذها منه، ويُرَى الرجلُ الواحدُ يَتْبَعُهُ أربعون امرأة يَلُذْنَ به من قِلَّةِ الرجال وكَثْرَةِ النساء».
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”لوگوں پر ضرور ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ ایک شخص سونے کا صدقہ لے کر نکلے گا، لیکن کوئی اسے لینے والا نہیں ملے گا اور یہ بھی ہو گا کہ ایک مرد کی پناہ میں چالیس چالیس عورتیں ہو جائیں گی؛ ایسا مردوں کی کمی اور عورتوں کی کثرت کی وجہ سے ہوگا“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

عن قریب لوگوں کے یہاں مال کی بہتات ہوگی، یہاں تک کہ اسے لینے والا کوئی نہیں ملے گا۔ نیز مردوں کی کمی اور عورتوں کی کثرت ہوگی؛ ایسا یا تو ہلاکت خیز جنگوں کی وجہ سے ہوگا یا خواتین کی کثرتِ ولادت کی وجہ سے۔ یہاں تک کہ ایک مرد کے پاس چالیس عورتیں ہوں گی، بشمول اس کی بیٹیوں، بہنوں اور دیگر قریبی خواتین وغیرہ کے، جو اس کی پناہ و مدد کی خواست گار ہوں گی۔

حوالہ

نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، نشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة: الرابعة عشر، 1407هـ - 1987م. بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، للهلالي، نشر: دار ابن الجوزي. صحيح البخاري، نشر: دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى، 1422هـ. صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، نشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

نیک لوگ یکے بعد دیگر گزر جائیں گے اور پھر گھٹیا جَو یا گھٹیا کھجور کی طرح کے کچھ لوگ رہ جائیں گے، جن کی اللہ تعالی کو کچھ بھی پروا نہ ہو گی۔

عن مرداس الأسلمي رضي الله عنه قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ -صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: «يذهب الصالحون الأول فالأول، ويبقى حُثَالَةٌ كَحُثَالَةِ الشعير أو التمر لا يُبَالِيهُم الله بَالَةً».
مرداس اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”نیک لوگ یکے بعد دیگر گزر جائیں گے اور پھر گھٹیا جَو یا گھٹیا کھجور کی طرح کے کچھ لوگ رہ جائیں گے، جن کی اللہ تعالی کو کچھ بھی پروا نہ ہو گی“۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

نبی کریم ﷺ ہمیں خبر دے رہے ہیں کہ قرب قیامت میں اللہ تعالی نیک لوگوں کی روحیں قبض فرما لیں گے اور پھر ایسے لوگ باقی رہ جائیں گے، جو کسی اہتمام وتوجہ کے مستحق نہیں ہوں گے۔ اللہ تعالی نہ انھیں کوئی قدر و قیمت اور وقعت دے گا اور نہ ان پر رحمت نازل کرے گا۔ اللہ کے نزدیک یہ بد ترین لوگ ہوں گے اور انہی پر قیامت آئے گی۔

حوالہ

نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، نشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة: الرابعة عشر، 1407ه 1987م. بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، للهلالي، نشر: دار ابن الجوزي. تطريز رياض الصالحين، لفيصل الحريملي، نشر: دار العاصمة، الرياض، الطبعة: الأولى، 1423هـ - 2002م. صحيح البخاري، نشر: دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى، 1422ه.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
26 میں سے 8
26 احادیث
  1. جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے مہمان کی دستور کے موافق ہر طرح سے عزت کرے۔ پوچھا: یا رسول اللہ! دستور کے موافق کب تک ہے۔ فرمایا: ”ایک دن اور ایک رات اور میزبانی تین دن کی ہے اور جو اس کے بعد ہو وہ اس کے لیے صدقہ ہے“۔
  2. ایک شخص نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے قیامت کے بارے میں پوچھا۔ اس نے کہا : قیامت کب آئے گی؟ آپ نے کہا : "تم نے اس کے لیے کیا تیاری کی ہے؟
  3. کیا میں تمہیں دجال کے متعلق ایک ایسی بات نہ بتا دوں، جو کسی نبی نے اپنی قوم کونہیں بتائی؟ وہ کانا ہوگا اور اپنے ساتھ جنت اور جہنم جیسی چیز لائے گا۔
  4. قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! دنیا اس وقت تک ختم نہ ہو گی جب تک یہ صورت حال نہ ہوجائے کہ آدمی کا گزر قبر پر سے ہوگا تو وہ اس پر لوٹ پوٹ ہو کر یہ تمنا کرے گا کہ کاش اس قبر والے کی جگہ میں دفن ہوتا!۔ اس کا سبب دین نہیں ہوگا، بلکہ وہ دنیا کی مصیبت کی وجہ سے یہ تمنا کر ے گا۔
  5. قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک کہ دریائے فرات سے سونے کا پہاڑ نہ نکل آئے جس پر لڑ ائی ہوگی اور ہر سو ميں سے ننانوے آدمی مارے جائيں گے
  6. آخری زمانے میں تمہارے خلفاء میں سے ایک ایسا خلیفہ ہو گا جو بغیر شمار کیے چُلّو بھر بھر کر مال دے گا۔
  7. لوگوں پر ضرور ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ ایک شخص سونے کا صدقہ لے کر نکلے گا، لیکن کوئی اسے لینے والا نہیں ملے گا اور یہ بھی ہو گا کہ ایک مرد کی پناہ میں چالیس چالیس عورتیں ہو جائیں گی؛ ایسا مردوں کی کمی اور عورتوں کی کثرت کی وجہ سے ہوگا۔
  8. نیک لوگ یکے بعد دیگر گزر جائیں گے اور پھر گھٹیا جَو یا گھٹیا کھجور کی طرح کے کچھ لوگ رہ جائیں گے، جن کی اللہ تعالی کو کچھ بھی پروا نہ ہو گی۔
  9. اپنا سر اٹھائیں اور کہیں، آپ کی بات سنی جائے گی اور مانگیں، آپ کو دیا جائے گا اور شفاعت کریں، آپ کی شفاعت قبول کی جائے گی
  10. اللہ تعالٰی اس کو جنت میں داخل فرمائے گا، خواہ اس کے اعمال جیسے بھی ہی ہوں"۔
  11. میں نے دنیا میں اس گناہ کے معاملے میں تیری ستر پوشی کی اور آج میں اسے تیرے لیے معاف کرتا ہوں۔
  12. جو شخص کسی امام کی بيعت کرے اور اسے اپنا ہاتھ اور اپنے دل کا پھل دے دے (یعنی دل میں اس کی بیعت کے پورا کرنے کا عزم رکھے) تو اسے چاہیے کہ مقدور بھر اس کی اطاعت کرے۔ پھر اگر کوئی دوسرا شخص آکر اس سےحکومت چھیننے کے لیے جھگڑا کرے تو دوسرے کی گردن ماردو۔
  13. ہر بندہ (روزِ قیامت) اسی حالت پر اٹھایا جائے گا جس پر اس کی موت واقع ہوئی ہوگی۔
  14. اللہ تعالیٰ زمین کو اپنی مُٹھی میں لے گا اور آسمان کو داہنے ہاتھ میں لپیٹ لے گا اور اس کے بعد کہے گا : میں بادشاہ ہوں؛ زمین کے بادشاہ کہاں گئے؟
  15. ”میرے حوض کا پھیلاؤ ایک مہینے کی مسافت کے برابر ہوگا۔ اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور اس کی خوش بو کستوری سے زیادہ عمدہ ہوگی
  16. میں حوض پر موجود ہوں گا اور دیکھوں گا کہ تم میں سے کون میرے پاس آتا ہے۔ پھر کچھ لوگوں کو مجھ سے الگ کر دیا جائے گا۔ میں کہوں گا : اے میرے رب! یہ تو میرے آدمی اور میری امت کے لوگ ہیں
  17. اس ذات کی قسم، جس کے ہاتھ میں محمد (ﷺ) کی جان ہے! اس حوض کے برتن آسمان کے تمام ستاروں اور سیاروں کی تعداد سے زیادہ ہوں گے
  18. اللہ تعالیٰ قیامت کے دن میری امت کے ایک شخص کو چھانٹ کر نکالے گا اور سارے لوگوں کے سامنے لائے گا
  19. جب اللہ تعالیٰ نے جنت اور جہنم کو پیدا کیا، تو جبریل علیہ السلام کو جنت کی طرف بھیجا
  20. ’’موت کو ایک سفید و سیاہ رنگ کے مینڈھے کی شکل میں لایا جائے گا
  21. ’’تمھاری دنیا کی آگ، جہنم کی آگ کا سترواں (70) حصہ ہے
  22. رسول اللہ ﷺ، جو صادق اور مصدوق ہیں، نے بیان فرمایا: ’’تم میں سے ہر ایک کی پیدائش کی بنیاد اس کی ماں کے پیٹ میں (نطفہ امتزاج کی شکل میں) چالیس دن اور چالیس رات تک رہتی ہے
  23. انہوں نے تمہارے ساتھ خیانت کی ہے، تمہاری نافرمانی کی ہے اور تم سے جو جھوٹ بولا ہے، ان سب کا شمار و حساب ہو گا اور تم نے انہیں جو سزائیں دی ہیں ان کا بھی شمار و حساب ہو گا
  24. جس (اللہ) نے انسان کو دو پاؤں پر چلایا ہے، کیا وہ اسے قیامت کے دن منہ کے بل چلانے پر قادر نہیں ہے؟
  25. ’’جب تم مؤذن کو سنو تو اسی طرح کہو جیسے وہ کہتا ہے۔ پھر مجھ پر درود بھیجو
  26. ”تم میں سے ہر ایک کے مادۂ تخلیق کو اس کی ماں کے پیٹ میں چالیس دن تک نطفے کی شكل میں جمع كيا جاتا ہے

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com