سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

برزخی زندگی

19 احادیث

ان دونوں کو عذاب دیا جا رہا ہے اور وہ بھی عذاب کسی بڑے گناہ کی وجہ سے نہیں دیا جا رہا ہے۔ دونوں میں سے ایک شخص پیشاب سے نہیں بچتا تھا اور دوسرا شخص لگائی بجھائی کرتا پھرتا تھا

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي الله عنهما قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَبْرَيْنِ، فَقَالَ: «إِنَّهُمَا لَيُعَذَّبَانِ، وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ، أَمَّا أَحَدُهُمَا فَكَانَ لاَ يَسْتَتِرُ مِنَ البَوْلِ، وَأَمَّا الآخَرُ فَكَانَ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ» ثُمَّ أَخَذَ جَرِيدَةً رَطْبَةً، فَشَقَّهَا نِصْفَيْنِ، فَغَرَزَ فِي كُلِّ قَبْرٍ وَاحِدَةً، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لِمَ فَعَلْتَ هَذَا؟ قَالَ: «لَعَلَّهُ يُخَفِّفُ عَنْهُمَا مَا لَمْ يَيْبَسَا».
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم دو قبروں کے پاس سے گزرے، تو فرمایا : "ان دونوں کو عذاب دیا جا رہا ہے اور وہ بھی عذاب کسی بڑے گناہ کی وجہ سے نہیں دیا جا رہا ہے۔ دونوں میں سے ایک شخص پیشاب سے نہیں بچتا تھا اور دوسرا شخص لگائی بجھائی کرتا پھرتا تھا۔" پھر ایک تازہ شاخ لی، اسے آدھا آدھا پھاڑا اور ایک ایک حصہ دونوں قبروں پر گاڑ دیا۔ صحابہ نے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول! آپ نے ایسا کیوں کیا؟ تو آپ نے جواب دیا: "شاید ان دونوں کا عذاب اس وقت تک کے لیے ہلکا کر دیا جائے، جب تک یہ دونوں شاخیں سوکھ نہ جائیں۔"
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم دو قبروں کے پاس سے گزرے اور فرمایا: ان قبروں میں دفن دونوں شخص عذاب کا سامنا کر رہے ہیں اور یہ عذاب ایسے کاموں کی وجہ سے جھیل رہے ہیں، جو تمھاری نظروں میں تو بڑے نہیں ہیں، لیکن اللہ کی نظر میں بڑے ہيں۔ ان دونوں میں سے ایک شخص قضائے حاجت کے وقت اپنے جسم اور کپڑوں کو پیشاب سے بچانے پر دھیان نہيں دیتا تھا۔ جب کہ دوسرا شخص لوگوں کے بیچ لگائی بجھائی کرتا پھرتا تھا۔ وہ نقصان پہنچانے اور اختلاف پیدا کرنے کے ارادے سے ایک شخص کی بات دوسرے شخص کو پہنچایا کرتا تھا۔

فوائد
  1. لگائی بجھائی کرنا اور پیشاب سے بچنے پر دھیان نہ دینا کبیرہ گناہ اور عذاب قبر کا سبب ہے۔
  2. اللہ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے سامنے کچھ غیب کی چیزیں کھول دیں، تاکہ یہ آپ کے نبی ہونے کی ایک دلیل بن سکے۔
  3. ایک شاخ لینے اور اسے پھاڑ کر قبر پر رکھنے کا یہ عمل اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ خاص ہے۔ کیوں کہ اللہ نے آپ کو ان دونوں قبروں میں دفن لوگوں کا حال بتا دیا تھا۔ اس سلسلے میں آپ پر کسی کو قیاس اس لیے نہیں کیا جا سکتا کہ کوئی قبر میں دفن لوگوں کا حال جان نہیں سکتا۔
حوالہ

صحيح البخاري (1/ 53) (218). صحيح مسلم (1/ 240) (292). تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، لعبد الله البسام (ص43). خلاصة الكلام شرح عمدة الأحكام، لفيصل آل مبارك (ص22). الإلمام بشرح عمدة الأحكام، لإسماعيل الأنصاري (1/ 29).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

اگر وہ نيک آدمی کا جنازہ ہوتا ہے تو کہتا ہے: مجھے آگے لے چلو، مجھے آگے لے چلو۔ اور اگر وہ نيک آدمی کا جنازہ نہیں ہوتا ہے تو وہ کہتا ہے: ہائے ہلاکت! تم اسے کہاں لے جا رہے ہو۔

عَن أَبِي سَعِيدٍ الخُدْرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا وُضِعَتِ الجِنَازَةُ وَاحْتَمَلَهَا الرِّجَالُ عَلَى أَعْنَاقِهِمْ فَإِنْ كَانَتْ صَالِحَةً قَالَتْ: قَدِّمُونِي، وَإِنْ كَانَتْ غَيْرَ صَالِحَةٍ قَالَتْ: يَا وَيْلَهَا أَيْنَ يَذْهَبُونَ بِهَا؟ يَسْمَعُ صَوْتَهَا كُلُّ شَيْءٍ إِلَّا الإِنْسَانَ، وَلَوْ سَمِعَهُ صَعِقَ».
ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب جنازہ (تیار کرکے) رکھا جاتا ہے اور لوگ يا آدمى اسے اپنے کندھوں پر اٹھاتے ہیں، تو اگر وہ نيک آدمی کا جنازہ ہوتا ہے تو کہتا ہے: مجھے آگے لے چلو، مجھے آگے لے چلو۔ اور اگر وہ نيک آدمی کا جنازہ نہیں ہوتا ہے تو وہ کہتا ہے: ہائے ہلاکت! تم اسے کہاں لے جا رہے ہو؟ انسان کے سوا ہر چيز اس کی یہ آواز سنتی ہے, اور اگر انسان اسے سن لے تو بے ہوش ہو جائے“۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

جب جنازے کو چارپائی پر رکھ دیا جاتا ہے اور لوگ اسے کندھوں پر اٹھا لیتے ہیں تو اگر یہ میت نیک اور صالح ہو تو وہ اپنے سامنے دکھائی دینے والی جنت کی نعمتوں پر خوش اور مسرور ہوتے ہوئے کہتا ہے کہ مجھے جلدی لے کر چلو۔ اور اگر نیک نہ ہو تو پھر وہ اپنے گھروالوں سے کہتا ہے: ”ہائے ہلاکت! ہائے مصیبت!“ کیونکہ اسے اپنا بُرا ٹھکانہ نظر آرہا ہوتا ہے اور اس تک جانا اسے ناگوار ہوتا ہے۔ اس کی اس آواز کو حیوانات و جمادات سمیت تمام مخلوقات سنتے ہیں ماسوا انسان کے اور اگر انسان اسے سن لے تو غشی کھا کرگر جائے یا پھراس کی وجہ سے ہلاک ہی جائے۔

حوالہ

صحيح البخاري (2/ 85) (1314). بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (1/ 513). نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (1/ 400). كنوز رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (7/ 122). شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (4/ 546).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

مسلمان سے جب قبر میں سوال ہو گا تو وہ گواہی دے گا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور یہ کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔

عَنِ البَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رضي الله عنه أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «المُسْلِمُ إِذَا سُئِلَ فِي القَبْرِ: يَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ»، فَذَلِكَ قَوْلُهُ: {يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الآخِرَةِ} [إبراهيم: 27].
براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "مسلمان سے جب قبر میں سوال ہو گا تو وہ گواہی دے گا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور یہ کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔" اللہ تعالیٰ کے ارشاد: ”يُثَبِّتُ اللهُ الذِينَ آمَنُوا بالقَوْلِ الثَّابِتِ في الحَيَاةِ الدُّنْيَا وفي الآخِرَةِ‘‘ [سورہ ابراہیم: 27] (اللہ ایمان والوں کو اس پکی بات کے ذریعہ مضبوط رکھتا ہے، دنیوی زندگی میں (بھی) اور آخرت میں (بھی))ــــــــــــــــ کا یہی مطلب ہے۔
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

ہر مومن سے قبر کے اندر کچھ سوالات کیے جائيں گے۔ سوالات اس کام پر متعین دو فرشتے کریں گے، جن کا نام کئی حدیثوں میں منکر اور نکیر آیا ہے۔ چنانچہ وہ اس بات کی گواہی دے گا کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہيں ہے اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم اللہ کے رسول ہيں۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ یہی وہ قولِ ثابت ہے، جس کے بارے میں اللہ تعالی نے فرمایا: "ایمان والوں کو اللہ تعالیٰ پکی بات کے ساتھ مضبوط رکھتا ہے، دنیا کی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی۔" [إبراهيم: 27].

فوائد
  1. قبر کا سوال بر حق ہے۔
  2. مومن بندوں پر دنیا و آخرت میں اللہ کا فضل و کرم کہ ان کو قولِ ثابت کے ذریعے ثابت قدم رکھے گا۔
  3. توحید کی گواہی دینے اور اسی گواہی کے ساتھ دنیا سے رخصت ہونے کی فضیلت۔
  4. مومن کے دنیا میں ثابت قدم رہنے سے مراد ہے ایمان پر ثابت قدم رہنا، سیدھے راستے پر چلنا، موت کے وقت ثابت قدم رہنے سے مراد ہے توحید پر مرنا اور قبر میں ثابت قدم رہنے سے مراد ہے فرشتوں کے سوال کے وقت ثابت قدم رہنا۔
حوالہ

صحيح البخاري (6/ 80) (4699). صحيح مسلم (4/ 2201) (2871). بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (1/ 498). نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (1/ 386).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

دونوں صور کے پھونکے جانے کا درمیانی وقفہ چالیس کا ہے، لوگوں نے پوچھا:اے ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)! کیا چالیس دن مراد ہیں؟ انھوں نے اس کا انکار کیا۔ پھر لوگوں نے پوچھا :چالیس سال؟ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے انکار کیا- پھر لوگوں نے پوچھا: چالیس مہینے؟ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے اس سے بھی انکار کیا۔

عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «بين النفختين أربعون» قالوا: يا أبا هريرة أربعون يومًا؟ قال: أَبَيْتُ. قالوا: أربعون سنة؟ قال: أَبَيْتُ. قالوا: أربعون شهرا؟ قال: أَبَيْتُ. «ويَبْلَى كل شيء من الإنسان إلا عَجْبُ الذَّنَب، فيه يُرَكَّبُ الخلق، ثم يُنْزِلُ الله من السماء ماء فَيَنْبُتُونَ كما يَنْبُتُ الْبَقْلُ».
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”دونوں صوروں کے پھونکے جانے کا درمیانی وقفہ چالیس کا ہے“، لوگوں نے پوچھا:اے ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)! کیا چالیس دن مراد ہیں؟ انھوں نے اس کا انکار کیا۔ پھر لوگوں نے پوچھا :چالیس سال؟ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے انکار کیا- پھر لوگوں نے پوچھا: چالیس مہینے؟ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے اس سے بھی انکار کیا۔ اور فرمایا: ”انسان کی ہر چیز فنا ہو جائے گی، سوائے ریڑھ کی ہڈی کے کہ اسی سے ساری مخلوق دوبارہ بنائی جائے گی۔ پھر اللہ تعالیٰ آسمان سے بارش نازل کرے گا، جس سے وہ سبزے کی طرح اُگ جائیں گے“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

جلیل القدر صحابی ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں خبر دی کہ انھوں نے نبی ﷺ کو ذکر کرتے ہوئے سنا کہ نفخۂ صعق (پہلا صور) اور نفخۂ بعث (آخری صور) کے مابین کی مدت چالیس ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ سے اس عدد کے متعلق پوچھا گیا کہ اس سے دن، مہینہ یا سال مقصود ہے؟ وہ جواب دینے سے رک گئے۔ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ انھوں نے نبی ﷺ سے اس کے متعلق کچھ نہیں سنا۔ پھر ذکر کیا کہ اللہ تعالیٰ آدمی کے منی کی طرح گاڑھا پانی پرسائے گا، جس سے لوگ اپنی قبروں سے جی اٹھیں گے، جس طرح کہ خش و خاشاک اُگ آتے ہیں۔ پھر وہ نکل کر رب العالمین کے سامنے حساب کے لیے کھڑے ہوں گے۔

حوالہ

صحيح البخاري، تحقيق: محمد زهير بن ناصر الناصر، الطبعة الأولى، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، 1422هـ. صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت. بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي، الطبعة الأولى، دار ابن الجوزي، الدمام، 1415هـ. تطريز رياض الصالحين للشيخ فيصل المبارك، الطبعة الأولى، تحقيق: عبد العزيز بن عبد الله آل حمد، دار العاصمة، الرياض، 1423 هـ. رياض الصالحين، لمحي الدين النووي،الطبعة الأولى، تحقيق: ماهر ياسين الفحل، دار ابن كثير، دمشق، بيروت، 1428 هـ. شرح رياض الصالحين، للشيخ محمد بن صالح العثيمين، دار الوطن للنشر، الرياض، 1426هـ. نزهة المتقين، تأليف: جمعٌ من المشايخ، الناشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة الأولى: 1397 هـ، الطبعة الرابعة عشر 1407 هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

ان دونوں نے سچ کہا تھا۔ ان کو ایسا عذاب ہوتا ہے کہ اسےسب مویشی بھی سنتے ہیں.

عن عائشة رضي الله عنها ، قالت: دخلت عليَّ عجوزان من عُجُز يهود المدينة، فَقَالَتا لي: إنَّ أهلَ القبور يُعذَّبون في قبورهم، فكذَّبتُهما، ولم أُنْعِم أنْ أُصَدِّقهما، فَخَرَجَتَا، ودخل عليَّ النبي صلى الله عليه وسلم ، فقلت له: يا رسول الله، إنَّ عجوزين، وذكرتُ له، فقال: «صَدَقَتَا، إنَّهم يُعذَّبون عذابًا تَسْمَعُه البهائم كلُّها» فما رأيتُه بعْدُ في صلاة إلا تعوَّذ من عذاب القبر.
عائشہرضی اللہ عنہابیان کرتی ہیں کہ مدینے کی یہودی بوڑھی عورتوں میں سے دو بوڑھیاں میرے گھر آئیں اور انھوں نے کہا: قبروالوں کو ان کی قبروں میں عذاب دیا جاتا ہے۔ میں نے ان دونوں کو جھٹلایا اور ان کی تصدیق کے لیے ہاں تک کہنا گوارانہ کیا، وہ چلی گئیں اور رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے، تو میں نے آپ سے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے پاس مدینے کی یہودی عورتوں میں سے دو بوڑھیاں آئی تھیں، ان کا خیال تھا کہ قبر والوں کو ان کی قبروں میں عذاب دیا جاتا ہے۔ آپ نے فرمایا : ”ان دونوں نے سچ کہا تھا۔ ان کو ایسا عذاب ہوتا ہے کہ اسےسب مویشی سنتے ہیں“۔ اس کے بعد میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ ہر نماز میں قبر کے عذاب سے پناہ مانگتے تھے۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

مدینے کی دو یہودی بوڑھی عورتیں عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئیں اور کہنے لگیں کہ مردوں کو ان کی قبروں میں عذاب ہوتا ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنھا نے ان دونوں کو جھٹلادیا اور ان کی تصدیق کرنا گوارانہ کیا؛ کیوں کہ یہودیوں کےجھوٹ، دین میں افتراپردازی اورکتاب میں تحریف کی وجہ سے ان کا دل مطمئن نہ ہو سکا۔ وہ ان کے پاس سے چلی گئیں۔ جب رسول اللہﷺ ان کے پاس تشریف لائے، تو ان یہودی عورتوں کی بات بتائی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ان دونوں نے سچ کہا! بے شک مردوں کو ان کی قبروں میں عذاب ہوتا ہے، جسے تمام جانور سنتے ہیں! عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اس کے بعد انھوں نے رسول اللہ ﷺ کی کوئی ایسی نماز نہیں دیکھی، جس میں آپ نے عذاب قبر سے پناہ نہ مانگی ہو۔

حوالہ

صحيح البخاري، محمد بن إسماعيل البخاري الجعفي، تحقيق: محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى 1422هـ. صحيح مسلم، مسلم بن الحجاج القشيري النيسابوري، تحقيق محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، الطبعة: 1423هـ. إرشاد الساري لشرح صحيح البخاري، أحمد بن محمد القسطلاني القتيبي، الناشر: المطبعة الكبرى الأميرية، مصر، الطبعة: السابعة 1323 هـ. إكمال المعلم بفوائد مسلم، عياض بن موسى اليحصبي السبتي، المحقق: الدكتور يحيى إسماعيل، الناشر: دار الوفاء للطباعة والنشر والتوزيع، مصر، الطبعة: الأولى، 1419 هـ، 1998م. شرح سنن النسائي المسمى «ذخيرة العقبى في شرح المجتبى»، محمد بن علي الإثيوبي الوَلَّوِي، الناشر: دار المعراج الدولية للنشر، دار آل بروم للنشر والتوزيع، الطبعة الأولى.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

مجھے وحی آئی ہے کہ تم قبروں میں آزمائش میں ڈالے جاؤگے، مسیح دجال کی آزمائش کی مانند۔

عن أسماء بنت أبي بكر رضي الله عنها قالت: قام رسول الله صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ الفتنةَ التي يُفتن بها المرء في قبره، فلما ذكر ذلك ضَجَّ المسلمون ضَجَّةً حالت بيني وبين أن أفهم كلامَ رسول الله صلى الله عليه وسلم ، فلما سَكَنَت ضَجَّتُهم قلتُ لرجل قريب مني: أيْ -بارك الله لك- ماذا قال رسول الله صلى الله عليه وسلم في آخر قوله؟ قال: «قد أُوحِيَ إليَّ أنكم تُفتَنون في القبور قريبًا من فتنة الدَّجَّال».
اسما بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا روایت کرتے ہوئے بیان کرتی ہیں کہ نبی ﷺ کھڑے ہوئے اور اس فتنے کا ذکر فرمایا: جس کے ذریعے آدمی کی اس کی قبر میں آزمائش ہو گی۔ نبی ﷺ نے جب اس کا ذکر کیا، تو مسلمانوں نے اونچی آواز سے گریہ شروع کر دیا، جس کی وجہ سے میں رسول اللہ ﷺ کی بات نہ سن سکی۔ جب ان کے رونے کی آواز تھمی، تو میں نے اپنے قریب موجود ایک شخص سے پوچھا کہ اے فلاں! اللہ تجھے برکت دے، رسول اللہ ﷺ نے اپنی گفتگو کے آخر میں کیا فرمایا تھا؟ اس نے کہا کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے وحی آئی ہے کہ تم قبروں میں آزمائش میں ڈالے جاؤگے، مسیح دجال کی آزمائش کی مانند“۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

اسما بنت ابو بکرصدیق رضی اللہ عنہا بتا رہی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک دن لوگوں کو خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے۔ آپ ﷺ انھیں نصیحت فرما رہے تھے اور آخرت کے دن کی یاد دہانی کرا رہے تھے۔ یہاں تک کہ آپ ﷺ نے قبر اور اس کے احوال کا ذکر شروع فرما دیا۔ آپ ﷺ نے قبر کے امتحان کے فتنہ کا بھی ذکر کیا۔ قبرکے فتنے سے مراد دو فرشتوں یعنی منکر اور نکیر کا بندے سے اس کے رب، اس کے نبی اور اس کے دین کے بارے پوچھنا ہے۔ اس سوال و جواب کو فتنے کا نام اس لیےدیا گیا، کیونکہ یہ ایک بڑا آزمائش ہوگی، جس سے بندے کے ایمان اور یقین کا امتحان لیا جائے گا۔ جسے اس امتحان میں صحیح جواب دینے کی توفیق مل گئی، وہ کامیاب ہو گیا اور جو ناکام رہا وہ ہلاک ہوگیا۔ جب آپ ﷺ نے اس بات کا ذکر فرمایا، تو مسلمان قبر کے اس فتنے کے خوف سے چیخ اٹھے۔ اس شور کی وجہ سے اسما رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کی گفتگو نہ سن سکیں۔ جب آواز تھمی، تو اسما رضی اللہ عنہا نے اپنے قریب بیٹھے ایک شخص سے دریافت کیا کہ اے فلاں! بارک اللہ لک، رسول اللہ ﷺ نے اپنی گفتگو کے آخر میں کیا فرمایا تھا؟ اس شخص نے آپ رضی اللہ عنہا کو بتایا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالی نے آپ ﷺ کی طرف وحی کی ہے کہ عنقریب لوگوں کی قبروں کے اندر آزمائش ہو گی، دجال کی آزمائش کی طرح۔ یعنی جس طرح دجال کا فتنہ بڑا سخت اور مشکل ہو گا، اسی طرح قبر کا فتنہ بھی۔

حوالہ

صحيح البخاري، محمد بن إسماعيل البخاري الجعفي، تحقيق: محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى 1422هـ. المجتبى من السنن (السنن الصغرى)، أحمد بن شعيب النسائي، تحقيق: عبد الفتاح أبو غدة، مكتب المطبوعات الإسلامية، حلب، الطبعة: الثانية 1406هـ، 1986م. منار القاري شرح مختصر صحيح البخاري، حمزة محمد قاسم، راجعه: عبد القادر الأرناؤوط، عني بتصحيحه ونشره: بشير محمد عيون، الناشر: مكتبة دار البيان، دمشق، مكتبة المؤيد، الطائف، عام النشر: 1410هـ، 1990م. شرح سنن النسائي المسمى «ذخيرة العقبى في شرح المجتبى»، محمد بن علي الإثيوبي الوَلَّوِي، الناشر: دار المعراج الدولية للنشر، دار آل بروم للنشر والتوزيع، الطبعة الأولى.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

اس امت کے افراد کی ان کی قبروں میں آزمائش ہوتی ہے۔ اگر مجھے یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ تم ایک دوسرے کو دفن کرنا چھوڑ دو گے، تو میں اللہ سے دعا کرتا کہ وہ تمہیں بھی وہ عذاب قبر سنوائے جو میں سنتا ہوں۔

عن أبي سعيد رضي الله عنه قال: ولم أشهده من النبي صلى الله عليه وسلم ، ولكن حدَّثنيه زيد بن ثابت، قال: بينما النبي صلى الله عليه وسلم في حائط لبني النَّجَّار، على بَغْلة له ونحن معه، إذ حادَت به فكادت تُلْقيه، وإذا أقبُر ستة أو خمسة أو أربعة -قال: كذا كان يقول الجريري- فقال: «مَن يعرف أصحاب هذه الأقبُر؟» فقال رجل: أنا، قال: فمتى مات هؤلاء؟ قال: ماتوا في الإشراك، فقال: «إن هذه الأمة تُبْتَلى في قبورها، فلولا أن لا تَدَافنوا لدعوتُ اللهَ أنْ يُسْمِعَكم من عذاب القبر الذي أسمع منه» ثم أقبل علينا بوجهه، فقال: «تعوَّذوا بالله من عذاب النار» قالوا: نعوذ بالله من عذاب النار، فقال: «تعوَّذوا بالله من عذاب القبر» قالوا: نعوذ بالله من عذاب القبر، قال: «تعوَّذوا بالله من الفتن، ما ظهر منها وما بَطَن» قالوا: نعوذ بالله من الفتن ما ظهر منها وما بَطَن، قال: «تعوَّذوا بالله من فتنة الدَّجَّال» قالوا: نعوذ بالله من فتنة الدَّجَّال.
ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ میں خود تو اس موقع پر موجود نہیں تھا، تاہم مجھے زید بن ثابت نے بتایا کہ نبی ﷺ بنی نجار کے باغ میں اپنے ایک خچر پر جا رہے تھے اور ہم آپ ﷺ کے ساتھ تھے۔ اتنے میں وہ خچر بدکا اور قریب تھا کہ آپ ﷺ کو گرا ہی دیتا۔ ناگاہ وہاں چھ یا پانچ یا چار قبریں نظر آئیں-راوی کہتے ہیں کہ جریری اسی طرح کہا کرتے تھے- آپ ﷺ نے پوچھا کہ کوئی جانتا ہے کہ یہ قبریں کن کی ہیں؟ ایک شخص بولا کہ میں جانتا ہوں۔ آپ ﷺ نے پوچھا کہ یہ لوگ کب مرے؟ وہ شخص بولا کہ شرک کے زمانہ میں۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس امت کے افراد کی ان کی قبروں میں آزمائش ہوتی ہے۔ اگر مجھے یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ تم ایک دوسرے کو دفن کرنا چھوڑ دو گے، تو میں اللہ سے دعا کرتا کہ وہ تمہیں بھی وہ عذاب قبر سنوائے جو میں سنتا ہوں“۔ پھر آپ نے اپنا چہرہ انور کا رخ ہماری طرف کر کے فرمایا: آگ کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگو۔ لوگوں نے کہا: ہم آگ کے عذاب سے اللہ کی پناہ طلب کرتے ہیں۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگو۔ لوگوں نے کہا: ہم قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ظاہر و پوشیدہ فتنوں سے اللہ کی پناہ مانگو۔ اس پر لوگوں نے کہا: ہم ظاہر و پوشیدہ فتنوں سے اللہ کی پناہ طلب کرتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: دجال کے فنتے سے اللہ کی پناہ مانگو۔ لوگوں نے کہا: ہم دجال کے فتنے سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کر رہے ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ ساتھ انصار کے ایک قبیلے بنی نجار کے باغ سے گزر رہے تھے۔ رسول اللہ ﷺ اپنے ایک خچر پر سوار تھے۔ اچانک خچر راستے سے ہٹا اور بدک گیا۔ قریب ہی تھا کہ وہ نبی ﷺ کو اپنی پیٹھ سے گرا دیتا۔ اس جگہ چار یا پانچ یا چھے قبریں تھیں۔ رسول اللہ ﷺ نے پوچھا: ان قبروں میں مدفون لوگوں سے کون واقف ہے؟۔ ایک شخص نے کہا کہ میں جانتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر تمہیں معلوم ہے تو یہ بتاؤ کہ ان کی موت کب واقع ہوئی تھی؟۔ اس نے جواب دیا کہ یہ سب زمانہ جاہلیت میں مرے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اس امت کی ان کی قبروں میں آزمائش ہوتی ہے اور پھر یا تو ان پر نعمتوں کا نزول ہوتا ہے یا عذاب کا۔ اگر مجھے یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ تم اپنے مردوں کو دفنانا چھوڑ دو گے تو میں اللہ تعالی سے دعا کرتا کہ وہ تمہیں بھی قبر کا عذاب سنائے جو میں سنتا ہوں۔ اگر تم یہ سن لو تو تم اس خوف کی وجہ سے کہ مردوں کی چیخ و پکار تمہارے دل پھاڑ دے گی یا پھر قریبی رشتہ داروں میں فضیحت کے خوف سے کہ وہ میتوں کے احوال پر مطلع نہ ہوجائیں، تم ایک دوسرے کو دفنانا ہی چھوڑ دو۔ پھر آپ ﷺ اپنے صحابہ کر طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: اللہ سے دعا کرو کہ وہ جہنم کے عذاب کو تم سے دور رکھے۔ انہوں نے کہا: ہم جہنم کے عذاب سے اللہ تعالی کی پناہ طلب کرتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ سے دعا کرو کہ وہ تم سے عذاب قبر کو دور رکھے۔ انہوں نے کہا: ہم عذاب قبر سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں اور اس کی حفاظت کے طلب گار ہیں۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا؛ اللہ تعالی سے دعا کرو کہ وہ ظاہر و مخفی فتنوں سے تمہیں محفوظ رکھے۔ انہوں نے کہا: ہم ظاہر و مخفی فتنوں سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ سے دعا کرو کہ وہ تم سے مسیح دجال کے فتنے کو دور رکھے۔ یہ سب سے بڑا فتنہ ہے جو ہمیشہ ہمیشہ کے عذاب تک پہنچا دینے والے کفر کا سبب ہو گا۔ انہوں ںے کہا: ہم دجال کے فتنے سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔

حوالہ

صحيح مسلم، مسلم بن الحجاج القشيري النيسابوري، تحقيق محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، الطبعة: 1423هـ. مرقاة المفاتيح، علي بن سلطان القاري ، دار الفكر، بيروت، لبنان، الطبعة: الأولى 1422هـ، 2002م. معجم اللغة العربية المعاصرة، أحمد مختار عبد الحميد عمر بمساعدة فريق عمل، الناشر: عالم الكتب، الطبعة: الأولى 1429هـ، 2008م.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

ایک (دفعہ) رسول اللہ ﷺ غروبِ آفتاب کے وقت باہر نکلے تو ایک آواز سنی۔ آپﷺ نے فرمایا کہ یہود کو ان کی قبروں میں عذاب دیا جا رہا ہے۔

عن أبي أيوب رضي الله عنه، قال: خرج النبي صلى الله عليه وسلم وقد وَجَبَت الشمس، فسمع صوتا فقال: «يهودُ تُعذَّب في قبورها».
ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ غروبِ آفتاب کے وقت باہر نکلے تو ایک آواز سنی۔ آپﷺ نے فرمایا کہ یہود کو ان کی قبروں میں عذاب دیا جا رہا ہے۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

ایک (دفعہ) رسول اللہ ﷺ غروبِ آفتاب کے وقت باہر نکلے تو یہودیوں کی ایک آواز سنی کہ انھیں قبر میں عذاب ہو رہا ہے۔ آپﷺ نے فرمایا کہ یہود کو ان کی قبروں میں عذاب دیا جا رہا ہے۔

حوالہ

صحيح البخاري، محمد بن إسماعيل البخاري الجعفي، تحقيق: محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة الأولى، 1422هـ. صحيح مسلم، مسلم بن الحجاج القشيري النيسابوري، تحقيق محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، الطبعة: 1423هـ. عمدة القاري شرح صحيح البخاري، محمود بن أحمد بدر الدين العينى، الناشر: دار إحياء التراث العربي، بيروت. مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، علي بن سلطان الملا الهروي القاري، الناشر: دار الفكر، بيروت، لبنان، الطبعة الأولى، 1422هـ - 2002م. كشف المشكل من حديث الصحيحين، جمال الدين أبو الفرج عبد الرحمن بن الجوزي، تحقيق: علي حسين البواب، الناشر: دار الوطن، الرياض.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
19 میں سے 8
19 احادیث
  1. ان دونوں کو عذاب دیا جا رہا ہے اور وہ بھی عذاب کسی بڑے گناہ کی وجہ سے نہیں دیا جا رہا ہے۔ دونوں میں سے ایک شخص پیشاب سے نہیں بچتا تھا اور دوسرا شخص لگائی بجھائی کرتا پھرتا تھا
  2. اگر وہ نيک آدمی کا جنازہ ہوتا ہے تو کہتا ہے: مجھے آگے لے چلو، مجھے آگے لے چلو۔ اور اگر وہ نيک آدمی کا جنازہ نہیں ہوتا ہے تو وہ کہتا ہے: ہائے ہلاکت! تم اسے کہاں لے جا رہے ہو۔
  3. مسلمان سے جب قبر میں سوال ہو گا تو وہ گواہی دے گا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور یہ کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔
  4. دونوں صور کے پھونکے جانے کا درمیانی وقفہ چالیس کا ہے، لوگوں نے پوچھا:اے ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)! کیا چالیس دن مراد ہیں؟ انھوں نے اس کا انکار کیا۔ پھر لوگوں نے پوچھا :چالیس سال؟ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے انکار کیا- پھر لوگوں نے پوچھا: چالیس مہینے؟ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے اس سے بھی انکار کیا۔
  5. ان دونوں نے سچ کہا تھا۔ ان کو ایسا عذاب ہوتا ہے کہ اسےسب مویشی بھی سنتے ہیں.
  6. مجھے وحی آئی ہے کہ تم قبروں میں آزمائش میں ڈالے جاؤگے، مسیح دجال کی آزمائش کی مانند۔
  7. اس امت کے افراد کی ان کی قبروں میں آزمائش ہوتی ہے۔ اگر مجھے یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ تم ایک دوسرے کو دفن کرنا چھوڑ دو گے، تو میں اللہ سے دعا کرتا کہ وہ تمہیں بھی وہ عذاب قبر سنوائے جو میں سنتا ہوں۔
  8. ایک (دفعہ) رسول اللہ ﷺ غروبِ آفتاب کے وقت باہر نکلے تو ایک آواز سنی۔ آپﷺ نے فرمایا کہ یہود کو ان کی قبروں میں عذاب دیا جا رہا ہے۔
  9. جب تم میں سے کوئی شخص مرجاتا ہے تو اس کا ٹھکانا اسے صبح وشام دکھایا جاتا ہے۔ اگر وہ جنتی ہے تو جنت والوں میں اور اگر دوزخی ہے تو دوزخ والوں میں۔
  10. قبر کی بعض نعمتوں اور اس کے عذاب کا بیان
  11. خبردار رہو! قریب ہے کہ کوئی آدمی اپنے آراستہ تخت پر ٹیک لگائے بیٹھا ہو اور اس کے پاس میری حدیث پہنچے تو کہے: ہمارے اور تمہارے درمیان (فیصلے کی چیز) بس اللہ کی کتاب ہے
  12. ”قیامت کی نشانیوں میں سے کچھ نشانیاں یہ ہیں کہ علم دین اٹھا لہا جائے گا، جہالت زیادہ ہو جائے گی، بدکاری بکثرت پھیل جائے گی، شراب نوشی زیادہ ہو جائے گی، مرد کم رہ جائیں گے اورعورتیں زیادہ ہو جائیں گی، حتیٰ کہ پچاس عورتوں کا ایک ہی نگہبان ہوگا۔“
  13. قیامت اس وقت تک نہیں آئے گی، جب تک اس طرح کی حالت پیدا نہ ہو جائے کہ ایک شخص کسی کی قبر کے پاس سے گزرے اور کہے کہ کاش اس کی جگہ پر میں ہوتا!
  14. ’’قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک تم یہودیوں سے جنگ نہ کرو اور نوبت یہاں تک نہ پہنچے کہ جس پتھر کے پیچھے کوئی یہودی چھپا ہو وہ پتھر کہے کہ اے مسلمان! یہ دیکھو میرے پیچھے یہودی چھپا ہوا ہے، اسے قتل کردو۔‘‘
  15. اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، وہ وقت بہت ہی نزدیک ہے، جب تمھارے درمیان مریم کا بیٹا اترے گا۔ اس وقت وہ منصف حاکم ہوگا۔ صلیب توڑ دے گا۔ خنزیر کو قتل کرے گا۔ جزیہ ختم کر دے گا۔ مال کی اس قدر بہتات ہوگی کہ کوئی اسے قبول نہیں کرے گا۔
  16. قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک سورج اپنے ڈوبنے کی جگہ سے نکل نہ آئے۔ جب سورج اپنے ڈوبنے کی جگہ سے نکل آئے گا اور لوگ دیکھ لیں گے، تو سب لوگ ایمان لے آئیں گے
  17. قیامت اس وقت تک نہیں آئے گی، جب تک وقت اتنا سکڑ نہ جائے
  18. نبی ﷺ نے کسی واقعے کا ذکر کیا اور فرمایا: "یہ علم چلے جانے کے وقت ہو گا
  19. میری امت کے آخر میں ایسے لوگ پیدا ہو جائیں گے، جو ایسی باتیں بتائیں گے، جو نہ تم نے سنی ہوگی اور نہ تمھارے باپ دادوں نے سنی ہوگی۔ لہذا تم ان سے خبردار رہنا۔

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com