ہر مومن سے قبر کے اندر کچھ سوالات کیے جائيں گے۔ سوالات اس کام پر متعین دو فرشتے کریں گے، جن کا نام کئی حدیثوں میں منکر اور نکیر آیا ہے۔ چنانچہ وہ اس بات کی گواہی دے گا کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہيں ہے اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم اللہ کے رسول ہيں۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ یہی وہ قولِ ثابت ہے، جس کے بارے میں اللہ تعالی نے فرمایا: "ایمان والوں کو اللہ تعالیٰ پکی بات کے ساتھ مضبوط رکھتا ہے، دنیا کی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی۔" [إبراهيم: 27].
- قبر کا سوال بر حق ہے۔
- مومن بندوں پر دنیا و آخرت میں اللہ کا فضل و کرم کہ ان کو قولِ ثابت کے ذریعے ثابت قدم رکھے گا۔
- توحید کی گواہی دینے اور اسی گواہی کے ساتھ دنیا سے رخصت ہونے کی فضیلت۔
- مومن کے دنیا میں ثابت قدم رہنے سے مراد ہے ایمان پر ثابت قدم رہنا، سیدھے راستے پر چلنا، موت کے وقت ثابت قدم رہنے سے مراد ہے توحید پر مرنا اور قبر میں ثابت قدم رہنے سے مراد ہے فرشتوں کے سوال کے وقت ثابت قدم رہنا۔
صحيح البخاري (6/ 80) (4699). صحيح مسلم (4/ 2201) (2871). بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (1/ 498). نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (1/ 386).