سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

”قیامت کی نشانیوں میں سے کچھ نشانیاں یہ ہیں کہ علم دین اٹھا لہا جائے گا، جہالت زیادہ ہو جائے گی، بدکاری بکثرت پھیل جائے گی، شراب نوشی زیادہ ہو جائے گی، مرد کم رہ جائیں گے اورعورتیں زیادہ ہو جائیں گی، حتیٰ کہ پچاس عورتوں کا ایک ہی نگہبان ہوگا۔“

عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: لَأُحَدِّثَنَّكُمْ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لاَ يُحَدِّثُكُمْ بِهِ أَحَدٌ غَيْرِي: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ يُرْفَعَ العِلْمُ، وَيَكْثُرَ الجَهْلُ، وَيَكْثُرَ الزِّنَا، وَيَكْثُرَ شُرْبُ الخَمْرِ، وَيَقِلَّ الرِّجَالُ، وَيَكْثُرَ النِّسَاءُ حَتَّى يَكُونَ لِخَمْسِينَ امْرَأَةً القَيِّمُ الوَاحِدُ».
انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں تمہیں ایک حدیث بیان کرتا ہوں، جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنی تھی۔ میرے علاوہ کوئی دوسرا تمہیں یہ حدیث بیان نہیں کرے گا۔ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ نے فرمایا ہے: ”قیامت کی نشانیوں میں سے کچھ نشانیاں یہ ہیں کہ علم دین اٹھا لہا جائے گا، جہالت زیادہ ہو جائے گی، بدکاری بکثرت پھیل جائے گی، شراب نوشی زیادہ ہو جائے گی، مرد کم رہ جائیں گے اورعورتیں زیادہ ہو جائیں گی، حتیٰ کہ پچاس عورتوں کا ایک ہی نگہبان ہوگا۔“
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا ہے کہ قربِ قیامت کی کچھ نشانیاں یہ ہیں کہ شریعت کا علم اٹھا لیا جائے گا، بایں طور کہ علمائے کرام کی موت ہوجائے گی۔ اس کے نتیجے میں جہالت عام ہوجائے گی، زنا کاری اور بدکاری ہر جگہ پھیل جائے گی، شراب نوشی کا رواج ہوجائے گا، مردوں کی تعداد کم ہو جائے گی اور عورتوں کی تعداد بڑھ جائے گی، یہاں تک کہ پچاس عورتوں کا ذمہ دار صرف ایک مرد ہوگا، جو ان کی دیکھ ریکھ کرے گا اور ان ساری ذمہ داریاں اٹھائے گا۔

فوائد
  1. قیامت کی بعض نشانیوں کا بیان۔
  2. قیامت کے وقت کا علم ان غیبی امور میں سے ہے، جن کو اللہ نے اپنے پاس ہی رکھا ہے۔
  3. علم شرعی حاصل کرنے کی ترغیب، اس سے قبل کہ اس علم کو اٹھا لیا جائے۔
حوالہ

صحيح البخاري (7/ 37) (5231)، صحيح مسلم (4/ 2056) (2671)، فتح الباري لابن حجر (9/ 330)، عمدة القاري شرح صحيح البخاري (20/ 213).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
برزخی زندگی

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com