ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے پو چھا: اے اللہ کے رسول ﷺ! حوض کے برتن کیسے ہوں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’اس ذات کی قسم، جس کے ہاتھ میں محمد (ﷺ) کی جان ہے! اس حوض کے برتن آسمان کے تمام ستاروں اور سیاروں کی تعداد سے زیادہ ہوں گے۔ یاد رکھو! میں بات تاریک اور صاف آسمان والی رات کی کر رہا ہوں۔ جنت کے برتن ایسے ہوں گے کہ جو ان سے پی لے گا، وه کبھی پیاسا نہیں ہو گا۔ اس میں جنت کے دو پر نالے آکر گر رہے ہوں گے۔ جو اس کا پانی پی لے گا، وہ کبھی پیاسا نہيں ہوگا۔ اس کی چوڑائی اس کی لمبائی کے برابر ہوگي۔ یوں سمجھو کہ عمان سے ایلہ تک پھیلا ہوگا۔ اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہوگا۔‘‘
رواه مسلمدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھا کر یہ بتایا ہے کہ قیامت کے دن آپ کے حوض پر جو برتن ہوں گے، ان کی تعداد آسمان کے ستاروں اور سیاروں سے زیادہ ہوگی۔ اوریہ ستارے اور سیارے اندھیری رات میں، جس میں چاند نکلا ہوا نہ ہو، واضح نظر آتے ہیں۔ کیوں کہ چاندنی رات میں چاند کی روشنی کی وجہ سے ستارے واضح طور پر دکھائی نہیں دیتے۔ ساتھ ہی وہ تاریک رات ایسى ہو کہ جس میں بادل نہ ہوں کیوں کہ آسمان میں بادل ہوں، تو تارے نظر نہیں آتے۔ جنت کے برتن سے جو شخص نوش کر لے گا، اسے کبھی پیاس نہیں لگے گی۔ یہی آخری بار ہوگا، جب وہ پیاس کی وجہ سے پانی پیے گا۔ آپ کے حوض میں جنت کے دو پرنالے آکر گریں گے اور اس کی چوڑائی اور لمبائی دونوں برابر ہوگی۔ چنانچہ حوض کے چاروں کنارے برابر ہوں گے۔ اس کی لمبائی کی مسافت عمان جوکہ ملک شام کے بلقا نامی شہر میں ایک جگہ ہے اور أیلہ جوکہ شام کے کنارے میں واقع ایک مشہور شہر کا نام ہے، کے درمیان کی مسافت کے برابر ہوگی۔ حوض کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور اس کا ذائقہ شہد سے زیادہ میٹھا ہوگا۔
فوائد
حوض کا اور اس میں جو مختلف قسم کی نعمتیں ہیں، ان کا ثبوت۔
حوض بہت بڑا اور لمبا چوڑا ہوگا اور اس میں بہت بڑی تعداد میں برتن رکھے ہوں گے۔
حوالہ
صحيح مسلم (4/ 1798) (2300)، النهاية في غريب الحديث والأثر لابن الأثير (ص55/643/ 469)، البحر المحيط الثجاج في شرح صحيح الإمام مسلم بن الحجاج (37/ 369).
یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com