میں حوض پر موجود ہوں گا اور دیکھوں گا کہ تم میں سے کون میرے پاس آتا ہے۔ پھر کچھ لوگوں کو مجھ سے الگ کر دیا جائے گا۔ میں کہوں گا : اے میرے رب! یہ تو میرے آدمی اور میری امت کے لوگ ہیں
اسما بنت ابو بکر رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "میں حوض پر موجود ہوں گا اور دیکھوں گا کہ تم میں سے کون میرے پاس آتا ہے۔ پھر کچھ لوگوں کو مجھ سے الگ کر دیا جائے گا۔ میں کہوں گا : اے میرے رب! یہ تو میرے آدمی اور میری امت کے لوگ ہیں"۔ مجھ سے کہا جائے گا : کیا آپ کو معلوم ہے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا کیا کام کیے تھے؟ اللہ کی قسم! یہ مسلسل الٹے پاؤں لوٹتے رہے"۔
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بتا رہے ہيں کہ قیامت کے دن آپ اپنے حوض پر ہوں گے، تاکہ دیکھیں کہ آپ کی امت کے کون لوگ حوض پر آتے ہیں۔ اس دن کچھ لوگوں کو آپ علیہ الصلاۃ والسلام کو قریب آنے سے روک دیا جائے گا، تو آپ فرمائیں گے : اے میرے رب! یہ میرے لوگ اور میری امت کے افراد ہیں! چناں چہ آپ سے کہا جائے گا: کیا آپ کو پتہ ہے کہ آپ کے جانے کے بعد انہوں نے کون سے اعمال کیے؟ اللہ کی قسم! یہ مسلسل الٹے پاؤں لوٹتے رہے اور اپنے دین سے پھرتے رہے۔ نہ یہ آپ میں سے ہیں اور نہ یہ آپ کی امت کے افراد ہیں۔
فوائد
امت کے تئیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رحمت اور فکر مندی۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت و طریقہ کی مخالفت کی سنگینی۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو لازم پکڑنے کی ترغیب۔
حوالہ
صحيح البخاري (8/ 121) (6593)، صحيح مسلم (4/ 1793) (2292)، عمدة القاري (23/144)، البحر المحيط الثجاج (37/322).
یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com
میں حوض پر موجود ہوں گا اور دیکھوں گا کہ تم میں سے کون میرے پاس آتا ہے۔ پھر کچھ لوگوں کو مجھ سے الگ کر دیا جائے گا۔ میں کہوں گا : اے میرے رب! یہ تو میرے آدمی اور میری امت کے لوگ ہیں · تشریح کے ساتھ احادیث · سبیل