عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "قیامت کے دن لوگوں کے درمیان سب سے پہلے خون کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔"
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ قیامت کے دن ایک دوسرے پر ظلم کے تعلق سے جس چیز کے بارے میں سب سے پہلے فیصلہ کیا جائے گا، وہ خون جیسے قتل اور زخم وغیرہ ہے۔
فوائد
خون کا معاملہ بڑا اہم ہے۔ کیوں کہ آغاز اہم ترین چیز سے کیا جاتا ہے۔
گناہ ان سے جڑی ہوئی برائی کی وجہ سے بڑے ہو جاتے ہيں۔ یہ بتانے کی ضرورت نہيں ہے کہ کسی بے گناہ انسان کا قتل کرنا ایک بہت بڑی برائی ہے اور اللہ کے ساتھ کفر و شرک کے علاوہ کوئی بھی گناہ اس سے بڑا نہیں ہے۔
حوالہ
صحيح البخاري (9/ 2) (6864).
صحيح مسلم (3/ 1304) (1678).
خلاصة الكلام شرح عمدة الأحكام، لفيصل آل مبارك (ص319).
تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، للبسام (ص640).
الإلمام بشرح عمدة الأحكام، لإسماعيل الأنصاري (2/ 103).
عن معاذ بن أنس رضي الله عنه مرفوعًا: «مَن كَظَمَ غَيظًا، وَهُو قادر على أن يُنفِذَه، دَعَاه الله سبحانه وتعالى على رؤوس الخَلاَئِق يوم القيامة حتَّى يُخَيِّره من الحُور العَين مَا شَاء».
معاذ ابن انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص اپنے غصے کو پورا کرنے کی قدرت ہونے کے باجود اسے دبا لیتا ہے، اسے اللہ سبحانہ و تعالی روز قیامت سب مخلوق کے سامنے بلائیں گے اور اختیار دیں گے کہ جنت کی بڑی آنکھوں والی حوروں میں سے جسے چاہے، چن لے۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔درجہحَسَن لغيره
تشریح
حدیث میں اس بات کا بیان ہے کہ انسان کو جب کسی شخص پر غصہ آ جائے اور وہ اس کی گرفت پر قادر ہونے کے باجود محض اللہ کی رضا کے لئے اسے چھوڑ دے اور جن اسباب کی بنا پر اسے غصہ آیا، ان پر صبر کرے، تو اس کو یہ عظیم اجر ملتا ہے کہ اسے روزِ قیامت تمام مخلوق کے سامنے بلایا جائے گا اور اختیار دیا جائے گا کہ وہ جنت کی خوب صورت عورتوں میں سے جسے، چاہےچن لے۔
حوالہ
مسند أحمد، تحقيق شعيب الأرنؤوط، الناشر: مؤسسة الرسالة الطبعة: الأولى، 1421 هـ - 2001 م.
سنن أبي داود، للإمام أبي داود تحقيق: محمد محيي الدين عبد الحميد، الناشر: المكتبة العصرية، صيدا - بيروت.
سنن ابن ماجه، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، نشر: دار إحياء الكتب العربية - فيصل عيسى البابي الحلبي.
سنن الترمذي، للإمام الترمذي، تحقيق: أحمد محمد شاكر وآخرون، الناشر: شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي، مصر، الطبعة: الثانية، 1395 هـ - 1975 م.
صحيح الترغيب والترهيب – الألباني، مكتبة المعارف – الرياض.
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي، ط1، دار ابن الجوزي، الدمام، 1415هـ.
دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين، لمحمد علي بن محمد بن علان، ط4، اعتنى بها: خليل مأمون شيحا، دار المعرفة، بيروت، 1425هـ.
رياض الصالحين للنووي، ط1، تحقيق: ماهر ياسين الفحل، دار ابن كثير، دمشق، بيروت، 1428هـ.
شرح رياض الصالحين، للشيخ ابن عثيمين، دار الوطن للنشر، الرياض، 1426هـ.
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين، ط14، مؤسسة الرسالة، 1407هـ.
عن أبي هريرة رضي الله عنه مرفوعًا: «إِنَّ الله تَعَالى يَقُول يَوْمَ القِيَامَة: أَيْنَ المُتَحَابُّونَ بِجَلاَلِي؟ اليَوم أُظِلُّهُم فِي ظِلِّي يَوْمَ لاَ ظِلَّ إِلاَّ ظِلِّي».
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ قیامت کے دن فرمائے گا: میرے جلال کی بنا پر ایک دوسرے سے محبت کرنے والے کہاں ہیں؟ آج میں انھیں اپنے سایے میں رکھوں گا، جب کہ آج کے دن میرے سایے کے سوا کوئی سایہ نہ ہوگا“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اہل محشر کو آوا ز دے گا اور فرمائے گا: ” أَيْنَ الْمُتَحَابُّونَ بِجَلَالِي؟“ کہ (میرے جلال کی وجہ سے ایک دوسرے سے محبت کرنے والے کہاں ہیں؟) وہ کہاں ہیں اور کس حال میں ہیں، اس سے واقف ہونے کے باوجود اللہ تعالی یہ سوال اس لیے کرے گا؛ تاکہ میدان حشر میں ان کے مقام ومرتبے کا اعلان کر دے اور یہ اعلان در اصل خود اللہ تعالی کی عظمت بیان کرنے کا ایک بہانہ ہوگا۔ اس طرح اس کے معنی یہ ہوں گے: کہاں ہیں وہ لوگ جو دنیوی سے مقاصد سے اوپر اٹھ کر میرے جلال اور عظمت کی وجہ سے آپس میں محبت کرتے تھے؟ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ” الْيَوْمَ أُظِلُّهُمْ فِي ظِلِّي“ آج میں انھیں اپنے سایے میں رکھوں گا۔ یہاں اللہ تعالیٰ کا سایے کی نسبت اپنی طرف کرنا، اضافت تشریفی ہے اور اس سے مراد عرش کا سایہ ہے۔ مسلم کے علاوہ دیگر روایات میں ہے: میرے عرش کے سایے میں۔ ” يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلِّي“ یعنی اس دن رحمٰن کے عرش کے سایے کے علاوہ کوئی سایہ نہیں ہو گا۔
حوالہ
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، سليم بن عيد الهلالي، دار ابن الجوزي، الدمام، الطبعة: الأولى 1415هـ.
دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين، محمد علي بن البكري بن علان، اعتنى بها: خليل مأمون شيحا، دار المعرفة، بيروت، الطبعة: الرابعة 1425هـ.
رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين، أبو زكريا محيي الدين النووي، تحقيق ماهر الفحل، دار ابن كثير، دمشق، بيروت، الطبعة: الأولى 1428هـ.
صحيح مسلم، مسلم بن الحجاج القشيري النيسابوري، تحقيق محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، الطبعة: 1423 هـ.
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، مجموعة من الباحثين، مؤسسة الرسالة، بيروت، الطبعة: الرابعة عشر 1407هـ.
عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما مرفوعاً: "يَطْوِي الله السماوات يوم القيامة، ثم يَأْخُذُهُنَّ بيده اليمنى، ثم يقول: أنا الملك أين الجبارون؟ أين المتكبرون؟ ثم يَطْوِي الأَرَضِينَ السبع، ثم يأخذهن بشماله، ثم يقول: أنا الملك، أين الجبارون؟ أين المتكبرون؟".
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”روز قیامت اللہ آسمانوں کو لپیٹ کر اپنے دائیں ہاتھ میں لے لے گا اور پھر فرمائے گا: میں ہوں بادشاہ، کہاں ہیں وہ لوگ جو سرکش بنے پھرتے تھے؟ کہاں ہیں وہ لوگ جو متکبر بنے پھرتے تھے؟ پھر اللہ ساتوں زمینوں کو لپیٹ کر اپنے بائیں ہاتھ میں لے لے گا اور کہے گا: میں ہوں بادشاہ، کہاں ہیں جو سرکش بنے پھرتے تھے؟ کہاں ہیں جو متکبر بنے پھرتے تھے؟“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
ابن عمر رضی اللہ عنہما ہمیں بتا رہے ہیں کہ نبی ﷺ نے صحابۂ کرام کو بتایا کہ قیامت کے دن اللہ عز وجل ساتوں آسمانوں کو لپیٹ کر اپنے دائیں ہاتھ میں لے لے گا اور ساتوں زمینوں کو لپیٹ کر اپنے بائیں ہاتھ میں لے لے گا اور یہ کہ وہ جب بھی ان میں سے کسی کو لپیٹے گا تو ان سرکشوں اور متکبروں کو تحقیر آمیز لہجے میں پکار کر اعلان کرے گا کہ وہی حقیقی و کامل بادشاہت کا مالک ہے، جس میں نہ کوئی کمزوری آتی ہے اور نہ ہی وہ کبھی ختم ہوتی ہے اور یہ کہ اس کے سوا ہر بادشاہ، غلام، انصاف پرور اور ظالم سب ختم ہو جانے والے اور اس کے سامنے بے حیثیت ہیں۔ اللہ اپنے کاموں کے لیے (کسی کے آگے) جواب ده نہیں اور سب (اس کے آگے) جواب ده ہیں۔
حوالہ
كتاب التوحيد للإمام محمد بن عبد الوهاب ص252 ت: د. دغش العجمي . مكتبة أهل الأثر , الطبعة الخامسة , 1435ه
الجديد في شرح كتاب التوحيد لمحمد بن عبد العزيز السليمان القرعاوي, ت: محمد بن أحمد سيد , مكتبة السوادي، الطبعة: الخامسة، 1424ه
صحيح مسلم, ترقيم محمد فؤاد عبد الباقي, دار إحياء التراث العربي, بيروت.
عن معاذ بن جبل رضي الله عنه عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه قال: «قَالَ اللهُ -عَزَّ وجَلَّ-: المُتَحَابُّون فِي جَلاَلِي، لَهُم مَنَابِرُ مِن نُورٍ يَغْبِطُهُم النَبِيُّونَ والشُهَدَاء».
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالی فرماتا ہے: میری عظمت وجلال کی وجہ سے ایک دوسرے سے محبت رکھنے والوں کے لیے (روزِ قیامت) نور سے بنے منبر ہوں گے۔ ان پر انبیاء اور شہداء بھی رشک کریں گے“۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
نبی ﷺ اپنے رب عزوجل سے روایت کرتے ہوئے مومنین کے ایک گروہ کا حال بیان کر رہے ہیں کہ قیامت کے دن اللہ کی طرف سے ان کے اعزاز میں ان کے لیے منبر اور بلند جگہوں کا انتظام ہو گا جن پر وہ بیٹھیں گے۔ ایسا اس وجہ سے ہوگا کیوں کہ انہوں نے اللہ کی خاطر اور اس کی تعظیم میں ایک دوسرے سے محبت کی ہوگی اور ایمان میں یکسانیت کی وجہ سے ایک دوسرے سے چاہت رکھی ہوگی۔ یہاں تک کہ انبیاء علیہم السلام بھی تمنا کریں گے کہ کاش وہ ان کی جگہ ہوتے۔ تاہم اس سے یہ بات لازم نہیں آتی کہ وہ انبیاء سے بہتر ہیں۔کیونکہ کوئی مخصوص فضیلت عمومی فضیلت کو ختم نہیں کرتی۔
حوالہ
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي، ط1، دار ابن الجوزي، الدمام، 1415هـ.
تطريز رياض الصالحين، للشيخ فيصل المبارك، ط1، تحقيق: عبد العزيز بن عبد الله آل حمد، دار العاصمة، الرياض، 1423هـ.
جامع الترمذي، تحقيق وتعليق: أحمد محمد شاكر وآخرون، ط2، شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي، مصر، 1395هـ.
دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين، لمحمد علي بن محمد بن علان، ط4، اعتنى بها: خليل مأمون شيحا، دار المعرفة، بيروت، 1425هـ.
رياض الصالحين للنووي، ط1، تحقيق: ماهر ياسين الفحل، دار ابن كثير، دمشق، بيروت، 1428 هـ.
رياض الصالحين، ط4، تحقيق: عصام هادي، وزارة الأوقاف والشؤون الإسلامية القطرية، دار الريان، بيروت، 1428هـ.
كنوز رياض الصالحين، مجموعة من الباحثين برئاسة حمد بن ناصر العمار، ط1، كنوز إشبيليا، الرياض، 1430هـ.
مسند الإمام أحمد بن حنبل، تحقيق: شعيب الأرنؤوط و عادل مرشد، وآخرون، تحت إشراف: د عبد الله بن عبد المحسن التركي، ط1، مؤسسة الرسالة، 1421هـ.
مشكاة المصابيح للتبريزي، تحقيق: محمد ناصر الدين الألباني، ط3، المكتب الإسلامي، بيروت، 1985م.
حارثہ بن وہب خزاعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں: میں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو کہتے ہوئے سنا: کیا میں تمہیں جنتیوں کے اوصاف نہ بتاؤں؟ ہر کمزور اور متواضع شخص، اگر اللہ پر قسم اٹھا لے، تو اللہ اس کی قسم کی لاج رکھ لے۔ کیا میں تمھیں جہنمیوں کے اوصاف نہ بتاؤں؟ ہر تند خو، سرکش وبخیل اور متکبر شخص"۔
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے یہاں اہل جنت اور اہل جہنم کے کچھ اوصاف بیان کیے ہیں۔
اہل جنت کی اکثریت ایسے لوگوں کی ہوگی جو تواضع کے پیکر، اللہ کے آگے جھکنے والے اور اس اس سامنے فروتنی اختیار کرنے والے ہوں گے۔ یہی وجہ ہے کہ کچھ لوگ انھیں کمزور اور کم تر تصور کرتے ہیں۔ لیکن اللہ کے یہاں ان کی عظمت کا حال یہ ہوتا ہے کہ اگر اللہ کے فضل وکرم کی امید میں کوئی قسم کھا لیں، تو اللہ ان کی قسم کی لاج رکھ لے اور ان کے دامن مراد کو بھر دے۔
جب کہ جہنم میں اکثریت ایسے لوگوں کی ہوگی، جو «عُتُل» یعنی بدخلق اور جھگڑا لو یا ایسے سرکش ہوں گے، جو خیر کی کوئی بات نہ مانیں۔ «جواظ» یعنی گھمنڈی، پیٹ کے پجاری، بھاری بھرکم جسم والے، اکڑ کر چلنے والے اور بدخلق ہوں گے۔ «مستكبر» یعنی ایسے نک چڑھے جو حق کو ٹھکرا دیں اور دوسرے لوگوں کو کم تر دیکھیں۔
فوائد
اہل جنت کی صفات سے متصف ہونے کی ترغیب اور اہل جہنم کی صفات سے ڈرانا اور خبردار کرنا۔
تواضع کا اظہار اللہ کے سامنے ہوتا ہے، اس کے اوامر ونواہی اور ان پر عمل کے ذریعہ ہوتا ہے اور مخلوق کے سامنے تواضع اس طرح ہوتا ہے کہ بندہ دوسروں کو کم تر نہ دیکھے۔
ابن حجر کہتے ہيں: اکثر جنتی یہی لوگ ہوں گے، جیسے کہ جہنم کے اکثر لوگ دوسری قسم کے لوگ ہوں گے۔ یہ بتانا مقصود نہيں ہے کہ دونوں جانب بس یہی لوگ ہوں گے۔
حوالہ
صحيح البخاري (6/ 159) (4918).
صحيح مسلم (4/ 2190) (2853).
كنوز رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (5/ 5).
شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (3/ 47).
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (1/ 340).
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (1/ 264).
عن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «إنَّ في الجنَّة مائةَ دَرَجَة أعَدَّهَا الله للمُجاهِدين في سَبِيل الله ما بَيْنَ الدَّرَجَتَيْنِ كما بين السماء والأرض».
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جنت میں سو درجے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی راہ میں جہاد کرنے والوں کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ ہر دو درجوں میں اس قدر فاصلہ ہے جتنا آسمان و زمین کے مابین“۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
نبی ﷺ اس حدیث میں اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والوں کی فضیلت بیان فرما رہے ہیں اور اس بات کی وضاحت کر رہے ہیں کہ اللہ تعالی نے ان کے لیے جنت میں سو درجے تیار کر رکھے ہیں جن میں سے ہر دو درجوں کے مابین اتنا فاصلہ ہے جتنا آسمان و زمین کے مابین کی مسافت ہے ۔
حوالہ
- رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين؛ للإمام أبي زكريا النووي، تحقيق د. ماهر الفحل، دار ابن كثير-دمشق، الطبعة الأولى، 1428ه.
صحيح البخاري -للإمام أبي عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري، عناية محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة، الطبعة الأولى، 1422هـز
- بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين؛ تأليف سليم بن عيد الهلالي، دار ابن الجوزي- الطبعة الأولى1418ه.
- نزهة المتقين شرح رياض الصالحين؛ تأليف د. مصطفى الخِن وغيره، مؤسسة الرسالة-بيروت، الطبعة الرابعة عشرة، 1407هـ.
- شرح رياض الصالحين؛ للشيخ محمد بن صالح العثيمين، مدار الوطن، الرياض، 1426هـ.
-شرح صحيح البخارى لابن بطال الأندلسي،تحقيق: أبو تميم ياسر بن إبراهيم مكتبة الرشد - السعودية، الرياض الطبعة: الثانية، 1423هـ - 2003م.
عن أبي هريرة رضي الله عنه عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «إنه لَيَأتي الرَّجلُ السَّمين العظيم يوم القيامة لا يَزِنُ عند الله جَناح بَعُوضة».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قیامت کے دن بہت موٹا اور عظیم آدمی لایا جائے گا لیکن اللہ کے نزدیک وہ مچھر کے پر کے برابر بھی نہ ہوگا“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
یقیناً ایک بڑا آدمی، عظیم ساخت والا، دنیا میں مخلوق پر تکبر کرنے والا، گھمنڈی، اپنے اقوال و افعال کے ذریعہ اِترانے والا قیامت کے دن وہ اس حال میں آئے گا کہ اس کا وزن مچھر کے پر کے برابر بھی نہیں ہوگا اور نہ ہی اس کا کوئی مقام مرتبہ ہوگا۔
حوالہ
كنوز رياض الصالحين، أ. د. حمد بن ناصر بن عبد الرحمن العمار، دار كنوز اشبيليا، الطبعة الأولى : 1430 هـ.
بهجة الناظرين، الشيخ: سليم بن عيد الهلالي، دار ابن الجوزي.
نزهة المتقين، د. مصطفى سعيد الخن، د. مصطفى البغا، محي الدين مستو، علي الشرجبي، محمد أمين لطفي، مؤسسة الرسالة، بيروت، الطبعة الأولى: 1397 هـ 1977 م- الطبعة الرابعة عشر 1407- هـ 1987م.
شرح رياض الصالحين، المؤلف: محمد بن صالح بن محمد العثيمين، الناشر: دار الوطن للنشر، الرياض، الطبعة: 1426هـ.
رياض الصالحين، د. ماهر بن ياسين الفحل، الناشر: دار ابن كثير للطباعة والنشر والتوزيع، دمشق - بيروت
الطبعة: الأولى، 1428 هـ - 2007 م .
صحيح البخاري، لمحمد بن إسماعيل البخاري، دار طوق النجاة، الطبعة : الأولى، 1422هـ.
صحيح مسلم، لمسلم بن الحجاج أبو الحسن القشيري النيسابوري، المحقق: محمد فؤاد عبد الباقي، الناشر: دار إحياء التراث العربي - بيروت.
تطريز رياض الصالحين، المؤلف: فيصل المبارك الحريملي النجدي، المحقق: د. عبد العزيزآل حمد، الناشر: دار العاصمة للنشر والتوزيع، الرياض، الطبعة: الأولى، 1423 هـ - 2002 م.
یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com