سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

ہمارا رب قیامت کے دن اپنی پنڈلی کھولے گا اس وقت ہر مومن مرد اور ہر مومنہ عورت اس کے لیے سجدہ میں گر پڑیں گے۔ صرف وہ باقی رہ جائیں گے جو دنیا میں دکھاوے اور ناموری کے لیے سجدہ کرتے تھے۔ جب وہ سجدہ کرنا چاہیں گے تو ان کی پیٹھ تختہ ہو جائے گی اور وہ سجدے کے لیے نہ مڑ سکے گی۔

عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه مرفوعاً: «يكشِف ربُّنا عن ساقِه، فيسجدُ له كلُّ مؤمنٍ ومؤمنةٍ، فيبقى كلُّ مَن كان يسجدُ في الدنيا رياءً وسُمْعةً، فيذهبُ ليسجدَ، فيعودَ ظهرُه طبقًا واحدًا».
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہمارا رب قیامت کے دن اپنی پنڈلی کھولے گا اس وقت ہر مومن مرد اور ہر مومنہ عورت اس کے لیے سجدہ میں گر پڑیں گے۔صرف وہ باقی رہ جائیں گے جو دنیا میں دکھاوے اور ناموری کے لیے سجدہ کرتے تھے۔ جب وہ سجدہ کرنا چاہیں گے تو ان کی پیٹھ تختہ ہو جائے گی اور وہ سجدے کے لیے نہ مڑ سکے گی“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

اللہ تعالیٰ اپنی پنڈلی مبارک کھولے گا، تو ہر مومن مرد و عورت سجدے میں گر جائیں گے۔ تاہم منافقین جو دنیا میں ریاکاری کے لیے سجدہ کرتے تھے، سجدہ کرنے سے روک دیے جائیں گے اور ان کی کمریں ایک تختے کی طرح ہو جائیں گی اور وہ جھک نہ سکیں گے اور نہ سجدہ کر سکیں گے۔ اس لیے کہ وہ دنیا میں حقیقتاً اللہ تعالیٰ کو سجدہ نہیں کرتے تھے بلکہ وہ اپنی دنیوی مقاصد کے لیے سجدہ کرتے تھے۔ حدیث میں وارد پنڈلی (ساق) کی تاویل سختی، کرب وغیرہ سے کرنا جائز نہیں بلکہ اس کو بغیر تکییف و تمثیل اور بغیر تحریف و تعطیل کے اللہ تعالیٰ کے لیے ثابت کرنا ضروری ہے۔

حوالہ

صحيح البخاري، نشر: دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى، 1422ه. عمدة القاري شرح صحيح البخاري، لمحمود بن أحمد بن موسى الحنفى بدر الدين العينى، الناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت. مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، لعلي بن سلطان الملا الهروي القاري، الناشر: دار الفكر، بيروت – لبنان، الطبعة: الأولى، 1422هـ - 2002م. شرح كتاب التوحيد من صحيح البخاري، لعبد الله بن محمد الغنيمان، الناشر: مكتبة الدار، المدينة المنورة، الطبعة: الأولى، 1405 هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
توحيدِ اسماء وصفات

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com