اللہ تعالی حیادار ہے، پردہ پوشی کرنے والا ہے اور حیا اور پردہ پوشی کو پسند فرماتا ہے لہٰذا جب تم میں سے کوئی نہائے تو ستر کو چھپا لے۔
عن يعلى بن أمية رضي الله عنه أنَّ رسولَ الله صلى الله عليه وسلم رأى رجلًا يغتسل ُبالبَراز بلا إزار، فصعِد المِنْبر، فحَمِد اللهَ وأثنى عليه، ثم قال صلى الله عليه وسلم: «إنَّ اللهَ عزَّ وجلَّ حَيِيٌّ سَتِيرٌ، يحب الحياءَ والسَّتر؛ فإذا اغتسل أحدُكم فليستتر».
یعلی ابن امیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ کھلی فضاء میں بغیر ازار کے غسل کر رہا تھا۔ اس پر آپ ﷺ منبر پر تشریف لے گیے اور اللہ تعالی کی حمد و ثناء کے بعد فرمایا: ”اللہ تعالی حیادار ہے، پردہ پوشی کرنے والا ہے اور حیا اور پردہ پوشی کو پسند فرماتا ہے لہٰذا جب تم میں سے کوئی نہائے تو ستر کو چھپا لے“۔
اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
نبی ﷺ نے ایک شخص کو دیکھا جو کھلی فضاء میں برہنہ ہو کر نہا رہا تھا۔ اس پر آپ ﷺ منبر پر تشریف لے گیے اور حمد و ثنا کے بعد فرمایا: اللہ عز وجل انتہائی حیا والا اور انتہائی پردہ پوشی کرنے والا ہے اور وہ حیا اور پردہ پوشی کو پسند کرتا ہے۔ چنانچہ جب تم میں سے کوئی غسل کرے ستر کو چھپا لے۔
یعنی 'الحیی' اور 'الستیر' اللہ کے اسماء میں سے ہیں۔ اللہ سبحانہ و تعالی حیا اور پردہ پوشی کو پسند فرماتا ہے۔ چنانچہ کسی مسلمان کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ جب غسل کرے تو لوگوں کے سامنے اپنی شرم گاہ کھول دے بلکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے آپ کو چھپائے۔ ’حیا‘ اللہ کے شایان شان اس کی ایک صفت ہے جو کہ انسانوں کی ’حیا‘ کی مانند ہر گز نہیں ہے جس میں تغیر اور انکساری ہوتا ہے اور یہ حیا کسی شخص میں اس وقت پیدا ہوتی ہے جب اسے کسی معیوب یا مذموم شے کا اندیشہ ہو۔ اللہ کی حیا سے مراد ہر ایسی شے کو ترک کر دینا ہے جو اللہ کی رحمت کی وسعت، اس کے کمالِ جود و کرم اور اس کے درگزر اور حلم کی عظمت سے مناسبت نہیں رکھتی۔
حوالہ
سنن أبي داود، تحقيق: محمد محيي الدين عبد الحميد، نشر: المكتبة العصرية، صيدا – بيروت.
السنن الصغرى للنسائي "المجتبى"، تحقيق: عبد الفتاح أبو غدة، نشر: مكتب المطبوعات الإسلامية – حلب، الطبعة: الثانية، 1406ه – 1986م.
مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، لعلي بن سلطان الملا الهروي القاري، الناشر: دار الفكر، بيروت – لبنان، الطبعة: الأولى، 1422هـ - 2002م.
إرواء الغليل في تخريج أحاديث منار السبيل، للألباني، نشر: المكتب الإسلامي – بيروت، الطبعة: الثانية 1405هـ - 1985م.
معجم اللغة العربية المعاصرة، للدكتور أحمد مختار عبد الحميد عمر بمساعدة فريق عمل، الناشر: عالم الكتب، الطبعة: الأولى، 1429 هـ - 2008 م.
صفات الله عز وجل الواردة في الكتاب والسنة : علوي بن عبد القادر السَّقَّاف دار الهجرة الطبعة : الثالثة ، 1426 هـ - 2006 م.
یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com