اس حدیث کا مفہوم وہی ہے جو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں ہے کہ ہر کسی کا جنت میں بھی ایک ٹھکانہ ہے اور جہنم میں بھی۔ مومن جب جنت میں جاتا ہے تو جہنم میں اس کی جگہ کافر چلا جاتا ہے کیونکہ وہ اپنے کفر کی وجہ سے اس کا مستحق ہے۔ ”فِکاک“ کا معنیٰ یہ ہے کہ تو جہنم میں داخل ہونے والا تھا، اب یہ تیرا تاوان ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جہنم کے لیے لوگوں کی اتنی مقدار متعین کر رکھی ہے جو اسے بھر دے گی۔ جب کافر لوگ اپنے گناہوں اور کفر کی بدولت اس میں جائیں گے تو وہ گویا مسلمانوں کے لیے تاوان بن جائیں گے۔ واللہ اعلم۔
رياض الصالحين، للنووي، نشر: دار ابن كثير للطباعة والنشر والتوزيع، دمشق – بيروت، تحقيق: ماهر ياسين الفحل، الطبعة: الأولى، 1428هـ - 2007م. نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، نشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة: الرابعة عشر، 1407ه 1987م. كنوز رياض الصالحين، نشر: دار كنوز إشبيليا، الطبعة: الأولى، 1430ه 2009م. بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، للهلالي، نشر: دار ابن الجوزي. صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، نشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت..