سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

قیامت کے دن سورج کو مخلوق کے نزدیک کر دیا جائے گا، یہاں تک کہ وہ ان سے ایک میل کے فاصلے پر رہ جائے گا۔

عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ رَضيَ اللهُ عنهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «تُدْنَى الشَّمْسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنَ الْخَلْقِ، حَتَّى تَكُونَ مِنْهُمْ كَمِقْدَارِ مِيلٍ»، قَالَ سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ: فَوَاللهِ مَا أَدْرِي مَا يَعْنِي بِالْمِيلِ؟ أَمَسَافَةَ الْأَرْضِ، أَمِ الْمِيلَ الَّذِي تُكْتَحَلُ بِهِ الْعَيْنُ قَالَ: «فَيَكُونُ النَّاسُ عَلَى قَدْرِ أَعْمَالِهِمْ فِي الْعَرَقِ، فَمِنْهُمْ مَنْ يَكُونُ إِلَى كَعْبَيْهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَكُونُ إِلَى رُكْبَتَيْهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَكُونُ إِلَى حَقْوَيْهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يُلْجِمُهُ الْعَرَقُ إِلْجَامًا» قَالَ: وَأَشَارَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ إِلَى فِيهِ.
مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن ( میدان حشر میں) سورج کو مخلوق کے نزدیک کر دیا جائے گا، یہاں تک کہ وہ ان سے ایک میل کے فاصلے پر رہ جائے گا۔ راوی سلیم بن عامر کہتے ہیں کہ مقداد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! مجھے نہیں معلوم کی میل سے مراد زمین کی ایک متعینہ مسافت ہے یا وہ سلائی جس سے آنکھ میں سرمہ لگایا جاتا ہے؟ فرمایا: تمام لوگ اپنے اعمال کے بقدر پسینے میں شرابور ہوں گے۔ چنانچہ ان میں سے بعض لوگ وہ ہوں گے جن کے ٹخنوں تک پسینہ ہوگا، بعض لوگ وہ ہوں گے جن کے گھٹنوں تک پسینہ ہوگا، بعض لوگ وہ ہوں گے جو کمر تک پسینے میں ڈوبے ہوں گے اور بعض لوگ وہ ہوں گے جن کے لیے ان کا پسینہ لگام بن جائے گا۔ یہ فرما کر رسول کریم ﷺ نے اپنے دست مبارک سے اپنے دہن مبارک کی طرف اشارہ فرمایا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قیامت کے دن لوگ پسینے میں شرابور ہو جائیں گے اور حالت یہ ہو جائے گی کہ ان کا پسینہ زمین پر ستر ہاتھ تک پھیل جائے گا اور منہ تک پہنچ کر کانوں کو چھونے لگے گا“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ - متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

اللہ تبارک و تعالی روز قیامت سورج کو انسانوں کے قریب کر دے گا، یہاں تک کہ وہ ان کے اور سورج کے مابین چار ہزار ہاتھ کا فاصلہ رہ جائے گا، لوگوں کا حشر ان کے اعمال کے حساب سے ہو گا اور وہ اپنے اچھے اور برے اعمال کے لحاظ سے پسینے میں ڈوبے ہوئے ہوں گے۔ کچھ ایسے ہوں گے، جن کے ٹخنوں تک پسینہ پہنچ رہا ہو گا، کچھ ایسے ہوں گے، جن کے گھٹنوں تک پسینہ پہنچ رہا ہو گا، کچھ کے ازار بند کی جگہ تک پسینہ پہنچ رہا ہو گا اور کچھ کے منہ اور کانوں تک پسینہ پہنچ رہا ہو گا اور ان کی لگام بن رہا ہو گا۔ ایسا قیامت کے دن کی پریشانی اور ہول ناکی کے باعث ہو گا۔

حوالہ

صحيح مسلم (4/ 2196) (2864)، (4/ 2196) (2863). نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (1/ 368). بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (1/ 475). المعجم الوسيط (2/ 816).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
اخروی زندگی

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com