میرے رب نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ وہ میری امت میں سے ستّر ہزار لوگوں کو حساب اور عذاب کے بغیر جنت میں داخل کرے گا اور ( ان ستر ہزار میں سے) ہر ہزار کے ساتھ مزید ستر ہزار لوگ ہوں گے اور میرے رب کے لپوں میں سے تین لپ بھر کر لوگ جنت میں جائیں گے۔
عن أبي أمامة رضي الله عنه مرفوعاً: «وَعَدَني ربِّي أنْ يُدْخِلَ الجنةَ من أُمَّتي سبعين ألفًا بغير حسابٍ ولا عذابٍ، مع كلِّ ألفٍ سبعون ألفًا، وثلاثُ حَثَيَاتٍ مِن حَثَيَاتِ ربِّي».
ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میرے رب نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ وہ میری امت میں سے ستر ہزار لوگوں کو حساب اور عذاب کے بغیر جنت میں داخل کرے گا اور (ان ستر ہزار میں سے) ہر ہزار کے ساتھ مزید ستر ہزار لوگ ہوں گے اور میرے رب کے لپوں میں سے تین لپ بھر کر لوگ جنت میں جائیں گے“۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
نبی ﷺ ہمیں بتا رہے ہیں کہ اللہ تعالی نے آپ ﷺ سے وعدہ کیا ہے کہ وہ اس امت کے ستر ہزار افراد کو بغیر حساب اور عذاب کے جنت میں داخل کرے گا اور ان میں سے ہر ہزار کے ساتھ مزید ستر ہزار دیگر لوگوں کو بھی جنت میں داخل کر دے گا اور اللہ اپنے بزرگی والے ہاتھ سے مزید تین لپ بھر کر لوگوں کو جنت میں داخل کرے گا۔
حوالہ
مسند الإمام أحمد بن حنبل، تحقيق: شعيب الأرنؤوط - عادل مرشد، وآخرون، نشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة: الأولى، 1421هـ - 2001م.
سنن الترمذي، نشر: شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي – مصر، الطبعة: الثانية، 1395هـ - 1975م.
سنن ابن ماجه، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، نشر: دار إحياء الكتب العربية - فيصل عيسى البابي الحلبي.
مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، لعلي بن سلطان الملا الهروي القاري، الناشر: دار الفكر، بيروت – لبنان، الطبعة: الأولى، 1422هـ - 2002م.
كتاب الشفاعة، مُقْبلُ بنُ هَادِي الوادعي دَارُ الآثَار للنشر وَالتوزيع، صَنعاء - اليمن، الطبعة: الثالثة، 1420 هـ - 1999.
صحيح الجامع الصغير وزياداته، للألباني، نشر: المكتب الإسلامي.
صفات الله عز وجل الواردة في الكتاب والسنة : علوي بن عبد القادر السَّقَّاف دار الهجرة الطبعة : الثالثة ، 1426 هـ - 2006 م.
یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com