سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

تم میں سےجنت میں سب سے ادنیٰ درجے کے جنتی کا مرتبہ یہ ہوگا کہ اس سے اللہ کہے گا کہ تو اپنی خواہشات بیان کر، وہ اپنی تمنائیں بیان کرے گا پھر اس سے پوچھے گا کہ کیا تیری ساری تمنائیں پوری ہوگئیں؟ وہ کہے گا:جی ہاں تو اللہ فرمائے گا کہ تو نے جتنی تمنائیں ظاہر کیں وہ بھی پوری کی جائیں گی اور اتنی ہی مزید عطا کی جائیں گی۔

عَن أَبِي هُرَيْرَةَ رَضيَ اللهُ عنهُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ أَدْنَى مَقْعَدِ أَحَدِكُمْ مِنَ الْجَنَّةِ أَنْ يَقُولَ لَهُ: تَمَنَّ فَيَتَمَنَّى، وَيَتَمَنَّى، فَيَقُولُ لَهُ: هَلْ تَمَنَّيْتَ؟ فَيَقُولُ: نَعَمْ، فَيَقُولُ لَهُ: فَإِنَّ لَكَ مَا تَمَنَّيْتَ وَمِثْلَهُ مَعَهُ».
ابو ہر یرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سےجنت میں سب سے ادنیٰ درجے کے جنتی کا مرتبہ یہ ہوگا کہ اس سے اللہ کہے گا کہ تو اپنی خواہشات بیان کر، وہ اپنی تمنائیں بیان کرے گا پھر اس سے پوچھے گا کہ کیا تیری ساری تمنائیں پوری ہوگئیں؟وہ کہے گا:جی ہاں تو اللہ فرمائے گا کہ تونے جتنی تمنائیں ظاہر کیں وہ بھی تجھے دی جائیں گی اور اتنی ہی مزید عطا کی جائیں گی“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

جنتيوں ميں سے ملكيت و مرتبے كے اعتبار سے سب سے کم تر وہ ہوگا جس کی سب خواہشات پوری ہوں گی بایں طور کہ اس کی کوئی ایسی خواہش نہیں رہے گی جو پوری نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ اس سے کہے گا کہ ’خواہش کر‘، چنانچہ وہ جو چاہے گا خواہش کرے گا یہاں تک کہ جب اپنی سب خواہشات کا اظہار کرچکے گا تو اللہ تعالی اس سے فرمائےگا کہ تو نے جتنی تمنائیں ظاہر کیں وہ بھی تجھے دی جائیں گی اور اتنی ہی مزید عطا کی جائیں گی۔ ایسا اللہ تعالیٰ کی طرف سے بڑھا کر دینے اور ازراہ نوازش و کرم ہوگا۔

حوالہ

صحيح مسلم (1/ 167) (182). مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، لعلي القاري (9/ 3585). تطريز رياض الصالحين، لفيصل آل مبارك (ص1090). بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (3/ 348). نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (2/ 1292).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
اخروی زندگی

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com