سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

میں خوب جانتا ہوں کہ اہلِ جہنم میں سے کون سب سے آخر میں وہاں سے نکلے گا اور اہلِ جنت میں کون سب سے آخر میں داخل ہو گا۔ ایک شخص جہنم سے سرین کے بل گھسٹتے ہوئے نکلے گا اور اللہ تعالی اس سے کہے گا کہ: جاؤ اور جنت میں داخل ہو جاؤ، وہ جنت کے پاس آئے گا لیکن اسے ایسا معلوم ہو گا کہ جنت بھری ہوئی ہے۔

عن المغيرة بن شعبة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «سَأل موسى صلى الله عليه وسلم ربَّه: ما أدْنَى أهل الجَنَّة مَنْزِلَة؟ قال: هو رَجُل يَجِيءُ بعد ما أُدخِل أهل الجَنَّة الجَنَّة، فَيُقَال له: ادخل الجَنَّة. فيقول: أيْ رب، كيف وقد نَزَل النَّاس مَنَازِلَهُم، وأخَذُوا أَخَذَاتِهِم؟ فَيُقَال له: أَتَرْضَى أن يكون لك مثل مُلْكِ مَلِكٍ من مُلُوكِ الدُّنيا؟ فيقول: رَضِيْتُ رَبِّ، فيقول: لك ذلك ومثله ومِثْلُه ومِثْلُه ومِثْلُه، فيقول في الخامِسة. رَضِيْتُ رَبِّ، فيقول: هذا لك وَعَشَرَةُ أَمْثَالِه، ولك ما اشْتَهَتْ نَفْسُكَ، وَلَذَّتْ عَيْنُكَ. فيقول: رَضِيتُ رَبِّ. قال: رَبِّ فَأَعْلاَهُمْ مَنْزِلَة؟ قال: أُولَئِكَ الَّذِينَ أَرَدْتُ غَرَسْتُ كَرامَتَهُم بِيَدِي، وخَتَمْتُ عليها، فلم تَر عَيْنٌ، ولم تسمع أُذُنٌ، ولم يَخْطُر على قَلْب بَشَر». وعن ابن مسعود رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «إنِّي لأَعْلَمُ آخِر أَهل النَّارِ خُرُوجًا منها، وآخِر أهل الجنَّة دخولًا الجنَّة. رَجُل يخرج من النَّار حَبْوا، فيقول الله عز وجل له: اذهب فادخل الجنَّة، فيَأتِيَها، فَيُخَيَّل إليه أَنَّها مَلْأَى، فيرجع، فيقول: يا رب وجَدُتها مَلْأَى! فيقول الله عز وجل له: اذهب فادخل الجَنَّة، فيأتيها، فَيُخَيَّل إليه أَنَّها مَلْأَى، فيرجع فيقول: يا ربِّ وجَدُتها مَلْأَى، فيقول الله عز وجل له: اذهب فادخل الجَنَّة، فإن لك مثل الدنيا وَعَشَرَةَ أَمْثَالِهَا؛ أو إن لك مثل عَشَرَةَ أَمْثَالِ الدُّنْيَا، فيقول: أَتَسْخَرُ بِي، أو تضحك بِي وأنت الْمَلِكُ!». قال: فلقد رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم ضَحِك حتى بَدَت نَوَاجِذُه فكان يقول: «ذلك أَدْنَى أهل الجَنَّة مَنْزِلة».
مغيره بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: موسی علیہ السلام نے اپنے رب سے پوچھا کہ سب سے کم درجے والا جنتی کون ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا وہ شخص ہے جو سب جنتیوں کے جنت میں جانے کے بعد آئے گا اور اس سے کہا جائے گا جنت میں چلا جا۔ وہ کہے گا: اے میرے رب! کیسے جاؤں ؟ وہاں تو سب لوگو ں نے اپنے اپنے ٹھکانے بنالیے ہیں اور اپنی اپنی چیزیں لے لی ہیں۔ اس سے کہا جائے گا کیا تو اس بات پر راضی ہے کہ تجھے اتنا ملے جتنا دنیا کے بادشاہوں میں سے کسی بادشاہ کے پاس ہوتا ہے؟۔ وہ کہے گا میں راضی ہوں اے میرے رب!۔ اللہ تعالی فرمائیں گے: جا اتنا ہم نے تجھے دیا ہے اور اتنا ہی اور ، اور اتناہی اور ، اور اتنا ہی اور ، او ر اتنا ہی اور۔ پانچویں بار میں وہ کہے گا: میں راضی ہوں اے میرے رب! ۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: یہ بھی تیرے لیے اوراس کا دس گنا اور بھی تیرا ہے۔ اور جو تیرا جی چاہے اور جو تجھے اچھا نظر آئے وہ بھی تیرا ہے۔ وہ کہے گا اے میرے رب! میں راضی ہوگیا ۔ پھر حضرت موسی علیہ السلام نے پوچھا کہ: سب سے بڑے درجے والا جنتی کون ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وہ تو وہ لوگ ہیں جن کو میں نے خود چنا اور ان کی بزرگی اور عزت کو میں نے اپنے ہاتھ سے جمایا اور اس پر مہر کردی۔ نہ تو کسی آنکھ نے دیکھا، نہ کسی کان نے سنا، اور نہ کسی انسان کے دل میں کبھی خیال بن کر گزرا ہے۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں خوب جانتا ہوں کہ اہلِ جہنم میں سے کون سب سے آخر میں وہاں سے نکلے گا اور اہلِ جنت میں کون سب سے آخر میں داخل ہو گا۔ ایک شخص جہنم سے سرین کے بل گھسٹتے ہوئے نکلے گا اور اللہ تعالیٰ اس سے کہے گا کہ: جاؤ اور جنت میں داخل ہو جاؤ، وہ جنت کے پاس آئے گا لیکن اسے ایسا معلوم ہو گا کہ جنت بھری ہوئی ہے۔چنانچہ وہ واپس آئے گا اور عرض کرے گا: اے میرے رب! میں نے جنت کو بھرا ہوا پایا، اللہ تعالیٰ پھر اس سے کہے گا کہ: جاؤ اور جنت میں داخل ہو جاؤ۔ وہ پھر آئے گا لیکن اسے ایسا لگے گا کہ جنت بھری ہوئی ہے۔ وہ واپس لوٹے گا اور عرض کرے گا کہ: اے رب! میں نے جنت کو بھرا ہوا پایا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: جاؤ اور جنت میں داخل ہو جاؤ۔ تمہیں دنیا اور اس کے ساتھ اس کا دس گنا دیا جاتا ہے یا (اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ) تمہیں دنیا کے دس گنا دیا جاتا ہے۔ وہ شخص کہے گا تو میرا مذاق بناتا ہے حالانکہ تو شہنشاہ ہے؟۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ اس بات پر رسول اللہ ﷺ ہنس دیے یہاں تک کہ آپ ﷺ کے آگے کے دندان مبارک ظاہر ہو گیے اور آپ ﷺ کا کہنا تھا کہ وہ جنت کا سب سے کم درجے والا شخص ہو گا۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ - متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

اس حدیث میں اللہ تعالی کے کرم اور اس کی رحمت کی کشادگی کا بیان ہے اور جنتی لوگوں کے مقام کی وضاحت ہے بایں طور کہ ان کا سب سے کم تر درجے والا بھی ان نعمتوں سے کئی گنا زیادہ کے ساتھ لطف اندوز ہوگا جو دنیا کے کسی بادشاہ کے پاس ہوتی ہیں۔

حوالہ

صحيح البخاري، محمد بن إسماعيل البخاري الجعفي، تحقيق: محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى 1422هـ. صحيح مسلم، مسلم بن الحجاج القشيري النيسابوري، تحقيق محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، الطبعة: 1423هـ. رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين، أبو زكريا محيي الدين النووي، تحقيق ماهر الفحل، دار ابن كثير، دمشق، بيروت، الطبعة: الأولى 1428هـ، 2007م. المنهاج شرح صحيح مسلم بن الحجاج، أبو زكريا محيي الدين النووي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، الطبعة: الثانية 1392هـ. عمدة القاري شرح صحيح البخاري، محمود بن أحمد بدر الدين العينى، الناشر: دار إحياء التراث العربي، بيروت. كنوز رياض الصالحين، مجموعة من الباحثين برئاسة حمد بن ناصر العمار، كنوز إشبيليا، الرياض، الطبعة: الأولى1430هـ، 2009م. بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، سليم بن عيد الهلالي، دار ابن الجوزي، الطبعة: الأولى 1418 هـ، 1997م.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
اخروی زندگی

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com