ابن عباس رضي الله عنهما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”ہم سب سے آخری امت ہیں، اور سب سے پہلے ہمارا حساب وکتاب ہوگا، کہا جائے گا: امی امت اور اس کا نبی کہاں ہے؟ چنانچہ ہم ہی سب سے پیچھے اور سب سے آگے ہیں۔“
رواه ابن ماجهدرجہصحيح
تشریح
نبی ﷺ نے خبر دی کہ آپ کی امت وجود اور زمانے کے اعتبار سے آخری امت ہے اور یہی وہ پہلی امت ہے جس کا بروز قیامت سب سے پہلے حساب وکتاب ہوگا۔ چنانچہ بروز قیامت کہا جائے گا: ”امی امت اور اس کے نبی کہاں ہیں؟“ یہ نسبت آپ ﷺ کے امی ہونے یعنی پڑھنے اور لکھنے سے ناواقفیت کی طرف ہے۔ چنانچہ انہیں سب سے پہلے حساب کے لیے بلایا جائے گا، ہم زمانے اور وجود کے اعتبار سے سب سے پیچھے ہیں، اور قیامت کے دن حساب وکتاب میں اور جنت میں داخل ہونے میں سب سے آگے ہوں گے۔
فوائد
سابقہ امتوں پر اس امت کی فضیلت۔
حوالہ
حاشية السندي على سنن ابن ماجه (2/575).
ذخيرة العقبى في شرح المجتبى (16/52).
مرشد ذوي الحجا والحاجة إلى سنن ابن ماجه (26/241).
یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com