سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

قضا و قدر پر ایمان

26 احادیث

مومن مرد اور مومن عورت پر اس کی جان، اولاد اور مال میں مصائب آتے رہتے ہیں، یہاں تک کہ وہ اس حال میں اللہ سے ملتا ہے کہ اس کا کوئی گناہ باقی نہيں رہ جاتا"۔

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا يَزَالُ البَلاَءُ بِالمُؤْمِنِ وَالمُؤْمِنَةِ فِي نَفْسِهِ وَوَلَدِهِ وَمَالِهِ حَتَّى يَلْقَى اللَّهَ وَمَا عَلَيْهِ خَطِيئَةٌ».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: "مومن مرد اور مومن عورت پر اس کی جان، اولاد اور مال میں مصائب آتے رہتے ہیں، یہاں تک کہ وہ اس حال میں اللہ سے ملتا ہے کہ اس کا کوئی گناہ باقی نہيں رہ جاتا"۔
رواه الترمذي وأحمددرجہحسن
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہيں کہ آزمائشیں کبھی مومن مرد و عورت کا پیچھا نہيں چھوڑتیں۔ آزمائش کبھی اس کی جان سے جڑی ہوتی ہے، جیسے طبیعت خراب ہو گئی اور جسم ٹھیک نہیں رہا۔ کبھی بال بچوں سے جڑی ہوتی ہے، جیسے کوئی بیمار ہو گیا، کوئی فوت ہو گیا یا کوئی نافرمان نکل گیا وغیرہ وغیرہ۔ کبھی مال سے جڑی ہوئی ہوتی ہے، جیسے محتاجی کا سامنا کرنا پڑا، تجارت بیٹھ گئی، چوری ہو گئی، کساد بازاری کا دور آگیا اور روزی میں تنگی کا سامنا کرنا پڑ گيا۔ ان آزما‎ئشوں کے نتیجے میں اللہ بندے کے تمام گناہوں کو مٹا دیتا ہے اور آخر میں جب وہ اللہ سے ملتا ہے، تو اپنے کیے ہوئے تمام گناہوں سے پاک و صاف ہو چکا ہوتا ہے۔

فوائد
  1. مومن بندوں پر اللہ کے رحم و کرم کا ایک پہلو یہ ہے کہ وہ دنیا کی مصیبتوں اور آفتوں کے ذریعے دنیا میں کیے ہوئے ان کے گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔
  2. مصیبت گناہوں کو مٹانے کا کام کرتی ہے۔ بشرط یہ کہ انسان صاحب ایمان ہو۔ بندہ صبر سے کام لے اور اللہ کے فیصلے سے ناراض نہ رہے، تو اجر ملتا ہی ہے۔
  3. تمام امور میں صبر کی ترغیب۔ پسندیدہ میں بھی اور ناپسندیدہ میں بھی۔ بندہ اللہ کے واجب کردہ کاموں کی انجام دہی میں صبر سے کام لے اور اس کے حرام کردہ امور سے دور رہنے میں صبر سے کام لے۔ اللہ کے ثواب کی امید رکھے اور اس کے عقاب سے ڈرتا رہے۔
  4. نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے الفاظ "بالمؤمن والمؤمنة" میں لفظ "مومنہ" کا اضافہ عورت کے حق میں تاکید کے طور پر ہوا ہے۔ ورنہ اگر صرف "مومن" کہتے، تب بھی اس میں "مومنہ" داخل ہو جاتی۔ کیوں کہ لفظ "مومن" مرد کے ساتھ خاص نہیں ہے۔ چناں چہ اگر عورت کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو اس سے بھی گناہوں اور خطاؤں کے کفارے کے لیے اسی بدلے کا وعدہ کیا گیا ہے۔
  5. مصائب کے نتیجے میں ملنے والے اجر و ثواب کا وعدہ انسان کے لیے مصائب کا سامنا کرنا آسان کر دیتا ہے۔
حوالہ

سنن الترمذي (4/ 204) (2399). مسند أحمد (13/ 248) (7859). بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (1/ 113). تطريز رياض الصالحين، لفيصل آل مبارك (ص51). شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (1/ 273). نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (1/ 80).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

اگر تم چاہو تو صبر کرو تمہیں اس پر جنت ملے گی اور اگر چاہو تو میں تمہارے لیے اللہ سے اس مرض سے نجات کی دعا کر دیتا ہوں۔

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضيَ اللهُ عنهما: أنَّهُ قَالَ لعَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ: أَلَا أُرِيكَ امْرَأَةً مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ؟ قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: هَذِهِ الْمَرْأَةُ السَّوْدَاءُ، أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: إِنِّي أُصْرَعُ وَإِنِّي أَتَكَشَّفُ، فَادْعُ اللهَ لِي، قَالَ: «إِنْ شِئْتِ صَبَرْتِ وَلَكِ الْجَنَّةُ، وَإِنْ شِئْتِ دَعَوْتُ اللهَ أَنْ يُعَافِيَكِ» قَالَتْ: أَصْبِرُ، قَالَتْ: فَإِنِّي أَتَكَشَّفُ فَادْعُ اللهَ أَنْ لَا أَتَكَشَّفَ، فَدَعَا لَهَا.
عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے عطاء ابن ابی رباح سے کہا کہ کیا تمہیں میں ایک جنتی عورت کو نہ دکھاؤں؟ عطاء بن ابی رباح کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ ضرور دکھائیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ایک سیاہ فام عورت نبی ﷺ کی خدمت میں آئی اور کہنے لگی کہ مجھے مرگی کا دورہ پڑتا ہے اور اس کی وجہ سے میرا ستر کھل جاتا ہے۔ میرے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تم چاہو تو صبر کرو تمہیں اس پر جنت ملے گی اور اگر چاہو تو میں تمہارے لیے اللہ سے اس مرض سے نجات کی دعا کر دیتا ہوں“۔ اس نے عرض کیا کہ میں صبر کروں گی۔ پھر اس نے کہا کہ (مرگی کے وقت) میرا ستر کھل جاتا ہے، آپ دعا فرما دیں کہ میرا ستر نہ کھلا کرے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے اس کے لیے دعا فرمائی۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

حدیث شریف میں اس بات کا بیان ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اپنے شاگرد عطاء بن ابی رباح رحمۃ اللہ علیہ سے فرمایا کہ کیا میں تمہیں ایک جنتی عورت نہ دکھاؤں؟ وہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: کیوں نہیں! حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ اس سیاہ فام عورت کو دیکھ لو۔ سیاہ فام عورت جس کی طرف توجہ بھی نہیں جاتی اور زیادہ تر لوگ اسے پہنچانتے تک نہیں۔ اسے مرگی کا دورہ پڑتا اور اس کا ستر کھل جاتا تھا۔ اس نے نبی ﷺ کو اس بارے میں بتایا اور آپ ﷺ سے گزارش کی کہ آپ اللہ سے دعا کریں کہ اسے مرگی کے مرض سے شفاء مل جائے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا:”اگر تم چاہو تو میں اللہ سے تمہارے لیے دعا کر دیتا ہوں اور اگر تم چاہو تو پھر صبر کرو اور اس کے بدلے میں تمہیں جنت ملے گی“۔ تواس نے جواب دیا کہ میں صبر کرتی ہوں۔ اگرچہ اس عورت کو مرگی کی وجہ سے درد اور اذیت ہوتی تھی لیکن اس نے جنت کو پانے کے لیے صبر کو اختیار کیا۔ تاہم اس نے آپ ﷺ سے کہا کہ اے اللہ کے رسول! میرا ستر کھل جاتا ہے۔ اللہ سے دعا کردیں کہ میرا ستر نہ کھلے۔ چنانچہ نبی ﷺ نے اللہ سے دعا فرمائی کہ وہ ننگی نہ ہوا کرے۔بعد ازاں اسے مرگی کا دورہ تو پڑتا لیکن اس کا ستر نہیں کھلتا تھا۔

حوالہ

صحيح البخاري (7/ 116) (5652). صحيح مسلم (4/ 1994) (2576). بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (1/ 95). شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (1/ 235).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

آزمائش جتنی بڑی ہوتی ہے اسی حساب سے اس کا بدلہ بھی بڑا ہوتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ جب کسی قوم کو پسند فرماتا ہے تو اس کو آزمائش سے دوچار فرماتا ہے۔ پس جو کوئی اس سے راضی و خوش رہے تو وہ اس سے راضی رہتا ہے اور جو کوئی اس سے خفا ہو تو وہ بھی اس سے خفا ہو جاتا ہے۔

عن أنس بن مالك رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: "إن عِظَمَ الجزاءِ مع عِظَمِ البلاءِ، وإن الله تعالى إذا أحب قوما ابتلاهم، فمن رَضِيَ فله الرِضا، ومن سَخِطَ فله السُّخْطُ".
انس بن مالك رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”آزمائش جتنی بڑی ہوتی ہے اسی حساب سے اس کا بدلہ بھی بڑا ہوتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ جب کسی قوم کو پسند فرماتا ہے تو اس کو آزمائش سے دوچار کرتا ہے۔ پس جو کوئی اس سے راضی و خوش رہے تو وہ اس سے راضی رہتا ہے اور جو کوئی اس سے خفا ہو تو وہ بھی اس سے خفا ہو جاتا ہے“۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

اس حدیث میں نبی ﷺ ہمیں بتا رہے ہیں کہ مومن کو اس کے جان و مال وغیرہ میں مصائب کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اگر وہ صبر کرے گا تو اللہ ان مصائب پر اسے ثواب دے گا اور یہ کہ مصیبت جتنی بڑی اور خطرناک ہوتی ہے اس پر اللہ کی طرف سے اتنا ہی بڑا ثواب ملتا ہے۔ پھر نبی ﷺ وضاحت فرما رہے ہیں کہ مصائب کا آنا اللہ تعالیٰ کی مومن کے ساتھ محبت کی علامت ہے اور یہ کہ جو اللہ کی قضا و قدر میں لکھا ہے وہ لا محالہ ہو کر رہنا ہے لیکن جو شخص صبر و رضا کا مظاہرہ کرتا ہے اسے اللہ تعالی اپنی رضا کے ساتھ نوازے گا اور اسے ثواب دے گا اور جو برہم ہوتا ہے اور اللہ کی قضا و قدر کو ناپسند کرتا ہے اللہ بھی اس پر برہم ہوتا ہے اور اسے سزا دیتا ہے۔

فوائد
  1. مصیبتیں گناہوں کا کفّارہ بن جاتی ہیں، جب تک ان کی وجہ سے کوئی واجب نہ چھوڑا جائے جیسے صبر کا دامن ہاتھ سے نہ جانے دیا جائے یا کسی حرام کام کا ارتکاب نہ ہو، جیسے گریبان نہ پھاڑا جائے یا گال نہ پیٹا جائے۔
  2. اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے لیے اس کی شان کے مطابق صفت محبت کا اثبات۔
  3. مؤمن کے لیے آزمائش ایمان کی نشانی ہے۔
  4. اللہ کے لیے رضامندی اور ناراضگی جیسے اوصاف کا اس کی شان کے مطابق اثبات۔
  5. اللہ کی قضا و قدر سے راضی رہنے کا استحباب۔
  6. اللہ کی قضا و قدر سے ناراضگی کا حرام ہونا۔
  7. مصائب پر صبر کرنے کی ترغیب۔
  8. انسان بسا اوقات کسی چیز کو ناپسند کرتا ہے، حالاں کہ وہ اس کے حق میں بہتر ہوتی ہے۔
  9. اللہ سبحانہ تعالیٰ کے افعال میں حکمت کا اثبات۔
  10. بدلے کا عمل کی جنس سے ہونا۔
حوالہ

كتاب التوحيد للإمام محمد بن عبد الوهاب، ت: د. دغش العجمي، مكتبة أهل الأثر, الطبعة الخامسة, 1435ه. الجديد في شرح كتاب التوحيد، لمحمد بن عبد العزيز السليمان القرعاوي, ت: محمد بن أحمد سيد, مكتبة السوادي، الطبعة: الخامسة، 1424ه. الملخص في شرح كتاب التوحيد، دار العاصمة، الرياض، الطبعة: الأولى 1422هـ - 2001م. جامع الترمذي، ت: أحمد شاكر, شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابي, الطبعة: الثانية، 1395هـ. صحيح الجامع الصغير , للألباني , المكتب الإسلامي.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

’’ہر چیز (اللہ کی مقرر کردہ) تقدیر کے تحت سامنے آتی ہے، یہاں تک کہ (کسی کام کو) نہ کر سکنا اور کر سکنا بھی۔ یا پھر یہ کہا کہ (کسی کام کو) کر سکنا اور نہ کر سکنا بھی۔‘‘

عَنْ طَاوُسٍ أَنَّهُ قَالَ: أَدْرَكْتُ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُونَ كُلُّ شَيْءٍ بِقَدَرٍ، قَالَ: وَسَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ رضي الله عنهما يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُلُّ شَيْءٍ بِقَدَرٍ، حَتَّى الْعَجْزِ وَالْكَيْسِ، أَوِ الْكَيْسِ وَالْعَجْزِ».
طاوس سے مروی ہے, وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کے متعدد صحابہ کو پایا، وہ سب کے سب یہ کہتے تھے کہ ہر چیز (اللہ کی مقرر کردہ) تقدیر کے تحت سامنے آتی ہے اور میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ہے، وہ کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے : ’’ہر چیز (اللہ کی مقرر کردہ) تقدیر کے تحت سامنے آتی ہے، یہاں تک کہ (کسی کام کو) نہ کر سکنا اور کر سکنا بھی۔ یا پھر یہ کہا کہ (کسی کام کو) کر سکنا اور نہ کر سکنا بھی۔‘‘
رواه مسلمدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ وضاحت فرمائی ہے کہ ہر چیز (اللہ کی مقرر کردہ) تقدیر کے تحت سامنے آتی ہے۔ یہاں تک کہ عاجزی بھی۔ یعنی جو کام کرنا واجب ہے، اسے ترک کرنا، اس میں ٹال مٹول کرنا اور اسے اس کے وقت سے مؤخر کرنا بھی۔ کام خواہ دنیوی ہو یا اخروی۔ اور یہاں تک کہ چاق و چوبند ہونا بھی، جس کے معنی ہیں، دنیوی اور اخروی امور میں نشاط اور مہارت۔ اللہ عز و جل نے عاجزی، قدرت و نشاط اور ہر ایک چیز کو مقدر فرما رکھا ہے۔ کوئی بھی چیز اللہ کے علم اور مشیت کے بغیر واقع نہیں ہوتی۔

فوائد
  1. تقدیر کے سلسلے میں صحابۂ کرام کے عقیدے کی وضاحت۔
  2. ہر ایک چیز اللہ کی (مقرر کردہ) تقدیر کے مطابق سامنے آتی ہے، یہاں تک کہ عاجزی اور قدرت و نشاط بھی۔
  3. اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کو منتقل کرنے میں صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا احتیاط اور بیدار مغزی۔
  4. بھلی بری ہر تقدیر ہر ایمان رکھنا۔
حوالہ

صحيح مسلم (4/ 2045) (2655)، إكمال المعلم (8/143)، شرح النووي على مسلم (16/205)، الفتح الرباني لترتيب مسند الإمام أحمد بن حنبل الشيباني (1/ 122).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

’’جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے بارے میں یہ فیصلہ کر دیتا ہے کہ وہ فلاں جگہ میں مرے گا، تو وہاں اس کی ضرورت رکھ دیتا ہے۔‘‘

عَنْ مَطَرِ بْنِ عُكَامِسٍ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا قَضَى اللَّهُ لِعَبْدٍ أَنْ يَمُوتَ بِأَرْضٍ جَعَلَ لَهُ إِلَيْهَا حَاجَةً».
مَطَر بن عُکامس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "’’جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے بارے میں یہ فیصلہ کر دیتا ہے کہ وہ فلاں جگہ میں مرے گا، تو وہاں اس کی ضرورت رکھ دیتا ہے۔‘‘
رواه الترمذيدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس حدیث میں بتا رہے ہیں کہ اللہ تعالی جب کسی بندے کے حق میں یہ مقدر کرتا ہے کہ وہ ایسی زمین میں فوت ہوگا، جہاں وہ موجود نہیں ہوتا، تو اللہ تعالی وہاں اس کی کوئی حاجت وضرورت پیدا کر دیتا ہے۔ چنانچہ وہ شخص وہاں جاتا ہے اور اسی زمین میں اس کی روح قبض کی جاتی ہے۔

فوائد
  1. یہ حدیث اللہ تعالی کے اس فرمان کی تصدیق کرتی ہے: "نہ کسی کو یہ معلوم ہے کہ کس زمین میں مرے گا۔"
حوالہ

سنن الترمذي (4/ 23) (2146)، تحفة الأحوذي (6/ 299).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ" کہہ دیجیے، میں قیامت کے دن آپ کے لیے اس کےبارے میں گواہ بن جاؤں گا

عَنْ ‌أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَمِّهِ: «قُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، أَشْهَدُ لَكَ بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ»، قَالَ: لَوْلَا أَنْ تُعَيِّرَنِي قُرَيْشٌ، يَقُولُونَ: إِنَّمَا حَمَلَهُ عَلَى ذَلِكَ الْجَزَعُ لَأَقْرَرْتُ بِهَا عَيْنَكَ. فَأَنْزَلَ اللهُ: {إِنَّكَ لا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَكِنَّ اللهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ } [القصص: 56].
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے اپنے چچا سے فرمایا: "لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ" کہہ دیجیے، میں قیامت کے دن آپ کے لیے اس کےبارے میں گواہ بن جاؤں گا۔‘‘ انہوں نے (جواب میں) کہا: اگر مجھے یہ ڈر نہ ہوتا کہ قریش مجھے عار دلائیں گے، کہیں گے کہ اسے (موت کی) گھبراہٹ نےاس بات پر آمادہ کیا ہے، تو میں یہ کلمہ پڑھ کر تمہاری آنکھیں ٹھنڈی کر دیتا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: "آپ جسے چاہتے ہوں اسے راہ راست پر نہیں لا سکتے، لیکن اللہ تعالیٰ جسے چاہے راہ راست پر لے آتا ہے۔" [القصص: 56].
رواه مسلمدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا سے، جب کہ وہ مرض الموت میں تھے، یہ مطالبہ کیا کہ وہ لا الہ الا اللہ کا اقرار کر لیں، تاکہ آپ اس کی بدولت قیامت کے دن ان کے حق میں سفارش کر سکیں اور ان کے اسلام لانے کی گواہی دے سکیں، لیکن انہوں نے اس خوف سے کلمۂ شہادت پڑھنے سے انکار کر دیا کہ قریش کے لوگ انہیں سب وشتم کریں گے اور کہیں گے کہ انہوں نے موت کے خوف سے کمزور پڑ کر اسلام قبول کر لیا! انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ اگر ایسی بات نہ ہوتی، تو وہ کلمۂ شہادت پڑھ کر آپ کے دل کو خوش کر دیتے اور آپ کی آرزو پوری کردیتے۔ اسی موقع پر اللہ نے وہ آیت نازل فرمائی، جو اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس بات پر قادر نہیں کہ اسلام قبول کرنے کی ہدایت دے سکیں، بلکہ صرف اللہ عز وجل ہی جسے چاہتا ہے اس کی توفیق دیتا ہے، جب کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مخلوق کی رہنمائی کرتے، ان کے سامنے حق بیان کرتے اور انہیں راہ مستقیم کی دعوت دیتے ہیں۔

فوائد
  1. لوگوں کے تبصرے کے خوف سے حق کو چھوڑنا درست نہیں۔
  2. اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم صرف اس بات پر قادر تھے کہ لوگوں کی رہنمائی کر سکیں، ہدایت قبول کرنے کی توفیق دینا اللہ کا کام ہے۔
  3. اسلام کی دعوت دینے کے لیے کافر کی زیارت کرنا مشروع ہے۔
  4. اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر حال میں اللہ تعالی کی طرف دعوت دینے کا خوب سے خوب اہتمام کرتے تھے۔
حوالہ

صحيح مسلم (1/ 55) (25)، البحر المحيط الثجاج في شرح صحيح الإمام مسلم بن الحجاج (1/ 539)، النهاية في غريب الحديث والأثر (ص 742).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

”تم میں سے ہر ایک کے مادۂ تخلیق کو اس کی ماں کے پیٹ میں چالیس دن تک نطفے کی شكل میں جمع كيا جاتا ہے

عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ الصَّادِقُ المَصْدُوقُ: «إِنَّ أَحَدَكُمْ يُجْمَعُ خَلْقُهُ فِي بَطْنِ أُمِّهِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا، ثُمَّ يَكُونُ عَلَقَةً مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ يَكُونُ مُضْغَةً مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ يُرْسَلُ إلَيْهِ المَلَكُ فَيَنْفُخُ فِيهِ الرُّوحَ، وَيُؤْمَرُ بِأَرْبَعِ كَلِمَاتٍ: بِكَتْبِ رِزْقِهِ، وَأَجَلِهِ، وَعَمَلِهِ، وَشَقِيٍّ أَوْ سَعِيدٍ؛ فَوَالَّذِي لَا إلَهَ غَيْرُهُ إنَّ أَحَدَكُمْ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الجَنَّةِ حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا إلَّا ذِرَاعٌ فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ الكِتَابُ فَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ فَيَدْخُلُهَا، وَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا إلَّا ذِرَاعٌ، فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ الكِتَابُ فَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الجَنَّةِ فَيَدْخُلُهَا».
ابو عبدالرحمن عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہمیں اللہ کے رسول ﷺ نے بتایا، جو صادق و مصدوق ہیں: ”تم میں سے ہر ایک کے مادۂ تخلیق کو اس کی ماں کے پیٹ میں چالیس دن تک نطفے کی شكل میں جمع كيا جاتا ہے، پھر اتنے ہی دن وہ جمے ہوئے خون کی شکل میں رہتا ہے، پھر اتنے ہی دن گوشت کے لوتھڑے کی شکل میں رہتا ہے، پھر اس کی طرف فرشتے کو بھیجا جاتا ہے جو اس میں روح پھونکتا ہے، اور اسے چار باتیں لکھنے کا حکم دیا جاتا ہے: اس كا رزق، مدتِ عمر، عمل اور یہ کہ (وه) نیک بخت ہے یا بد بخت۔ اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، تم میں سے کوئی جنت والوں کا عمل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کے اور جنت کے بیچ صرف ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے، تو اس پر نوشتهٔ تقدیر غالب آجاتا ہے اور وہ جہنم والوں کا عمل کرنے لگتا ہے اور بالآخر جہنم میں داخل ہو جاتا ہے۔ اور تم میں سے کوئی جہنم والوں کا عمل کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ اس کے اور جہنم کے بیچ صرف ایک ہاتھ کا فاصلہ باقی رہ جاتا ہے، تو اس پر تقدیر کا لکھا ہوا غالب آجاتا ہے اور وہ جنت والوں کا عمل کرنے لگتا ہے اور بالآخر جنت میں داخل ہو جاتا ہے۔“
اسے بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہےدرجہصحيح
تشریح

عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا، جو کہ اپنے قول میں سچے ہیں اور مصدوق بھی ہیں کہ اللہ تعالی نے آپ کو صادق قرار دیا ہے۔ آپ نے فرمایا: تم میں سے ہرایک کی پیدائش کی بنیاد اس کی ماں کے پیٹ میں (نطفہ امتزاج کی شکل میں) جمع کی جاتی ہے، بایں طور کہ انسان جب اپنی بیوی سے جماع کرتا ہے تو اس کی بکھری ہوئی منی عورت کے شکم میں چالیس دن تک نطفے کی شکل میں جمع کی جاتی ہے۔ پھر وہ نطفہ علقہ میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ یعنی گاڑھے اور جامد خون کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ دوسری چالیسویں دن تک یہی شکل رہتی ہے۔ پھر وہ مضغہ بن جاتا ہے۔ یعنی گوشت کے ٹکڑے کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ گوشت کا اتنا بڑا ٹکڑا، جسے ایک بار میں چبایا جا سکے۔ تیسرے چالیس دنوں میں یہی شکل رہتی ہے۔ پھر اس کے پاس اللہ تعالی فرشتہ بھیجتا ہے، جو تیسرے چالیسویں دن ختم ہونے کے بعد اس میں روح پھونکتا ہے۔ اس فرشتہ کو حکم دیا جاتا ہے کہ وہ چار چیزیں لکھ دے۔ اس کا رزق یعنی وہ اپنی عمر میں کس قدر نعمتیں حاصل کرنے والا ہے، لکھا جاتا ہے۔ اس کی موت لکھی جاتی ہے۔ یعنی دنیا میں وہ کتنی مدت تک رہنے والا ہے۔ اس کا عمل لکھا جاتا ہے کہ وہ کیا عمل کرے گا اور یہ کہ وہ بد بخت ہوگا یا خوش بخت؟ پھر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھا کر بتایا کہ انسان بظاہر لوگوں کی نظر میں جنتیوں کا عمل کرتا رہتا ہے اور نیک عمل میں منہمک رہتا ہے، وہ اسی حال میں رہتا ہے یہاں تک کہ اس کے اور جنت کے درمیان صرف ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے۔ یعنی جنت تک پہنچنے میں صرف اتنی ہی مسافت رہ جاتی ہے جتنی ایک ہاتھ زمین کی ہوتی ہے کہ اچانک لکھی ہوئی تقدیر اس پر غالب آجاتی ہے اور وہ جہنمیوں کا عمل کرنے لگتا ہے اور اس کا خاتمہ اسی عمل پر ہوتا ہے۔ چناں چہ وہ جہنم رسید ہوجاتا ہے۔ کیوں کہ عمل کی قبولیت کے لیے شرط ہے کہ انسان اس پر ثابت قدم رہے اور بدلے نہیں۔ جب کہ دوسرا انسان وہ ہے جو جہنمیوں کا عمل کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ جہنم میں داخل ہونے کے قریب پہنچ جاتا ہے۔ گویا اس کے اور جہنم کے درمیان صرف ایک ہاتھ زمین کا فاصلہ رہ گیا ہو۔ پھر اس پر لکھی ہوئی تقدیر غالب آجاتی ہے۔ چنانچہ وہ جنتیوں کا عمل کرنے لگتا ہے اور جنت میں داخل ہوجاتا ہے۔

فوائد
  1. انسان کی تخلیق کے مراحل کا بیان۔
  2. قضا و قدر پر ایمان۔
  3. تمام معاملات کا آخری انجام اللہ کى طے کئى ہوئى تقدیر وقضاء کے مطابق ہوتا ہے۔
  4. اعمال کی ظاہری شکل وصورت دیکھ کر دھوکا کھانے سے منع کیا گیا ہے، کیوں کہ تمام اعمال کا اعتبار ان کے خاتمے سے ہوتا ہے۔
حوالہ

صحيح البخاري (9/ 135) (7454)، (4/ 111) (3208). صحيح مسلم (4/ 2036) (2643). عمدة القاري شرح صحيح البخاري (15/ 130). شرح الأربعين النووية للعثيمين (ص: 84).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

”اے لڑکے! میں تجھے چند (اہم) باتیں بتلاتا ہوں (انھیں یاد رکھ): تو اللہ (کے احکام) کی حفاظت کر! وہ تیری حفاظت فرمائے گا۔ تو اللہ (کے حقوق) کا خیال رکھ، تو اسے اپنے سامنے پائے گا۔ جب تو مانگے تو صرف اللہ سے مانگ، اور جب تو مدد طلب کرے تو صرف اللہ سے مدد طلب کر

عَنْ أَبِي العَبَّاسِ، عَبْدِ الله بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: كُنْت خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا، فَقَالَ: «يَا غُلَامِ! إنِّي أُعَلِّمُك كَلِمَاتٍ: احْفَظِ اللَّهَ يَحْفَظْكَ، احْفَظِ الله تَجِدْهُ تُجَاهَكَ، إذَا سَأَلْتَ فَاسْأَلِ اللهَ، وَإِذَا اسْتَعَنْتَ فَاسْتَعِنْ بِاَللهِ، وَاعْلَمْ أَنَّ الأُمَّةَ لَوْ اجْتَمَعَتْ عَلَى أَنْ يَنْفَعُوكَ بِشَيْءٍ لَمْ يَنْفَعُوكَ إلَّا بِشَيْءٍ قَدْ كَتَبَهُ اللَّهُ لَكَ، وَإِنِ اجْتَمَعُوا عَلَى أَنْ يَضُرُّوكَ بِشَيْءٍ لَمْ يَضُرُّوكَ إلَّا بِشَيْءٍ قَدْ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَيْكَ؛ رُفِعَتِ الأَقْلَامُ، وَجَفَّتِ الصُّحُفُ». وَفِي رِوَايَةِ غَيْرِ التِّرْمِذِيِّ: «احْفَظِ اللهَ تَجِدْهُ أَمَامَكَ، تَعَرَّفْ إلَى اللهِ فِي الرَّخَاءِ يَعْرِفْكَ فِي الشِّدَّةِ، وَاعْلَمْ أَنَّ مَا أَخْطَأَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُصِيبَكَ، وَمَا أَصَابَك لَمْ يَكُنْ لِيُخْطِئَكَ، وَاعْلَمْ أَنَّ النَّصْرَ مَعَ الصَّبْرِ، وَأَنْ الفَرَجَ مَعَ الكَرْبِ، وَأَنَّ مَعَ العُسْرِ يُسْرًا».
ابو العباس عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں: ایک دن میں اللہ کے رسول ﷺ کے پیچھے سواری پر بیٹھا تھا کہ آپ نے فرمایا: ”اے لڑکے! میں تجھے چند (اہم) باتیں بتلاتا ہوں (انھیں یاد رکھ): تو اللہ (کے احکام) کی حفاظت کر! وہ تیری حفاظت فرمائے گا۔ تو اللہ (کے حقوق) کا خیال رکھ، تو اسے اپنے سامنے پائے گا۔ جب تو مانگے تو صرف اللہ سے مانگ، اور جب تو مدد طلب کرے تو صرف اللہ سے مدد طلب کر۔ اور یہ بات جان لے کہ اگر ساری امت بھی اکٹھا ہو کر تجھے کچھ نفع پہنچانا چاہے تو اس سے زیادہ کچھ نفع نہیں پہنچا سکتی جو اللہ نے تیرے لیے لکھ دیا ہے، اور اگر وہ تجھے کچھ نقصان پہنچانے کے لیے اکٹھا ہو جائے، تو اس سے زیادہ کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتی، جو اللہ نے تیرے لیے لکھ دیا ہے۔ قلم اٹھا لیے گئے ہیں اور صحیفے خشک ہو گئے ہيں۔“ جب کہ ترمذی کے علاوہ ایک دوسری روایت میں ہے: ”تو اللہ (کے حقوق) کا خیال رکھ، تو اسے اپنے سامنے پائے گا۔ تو خوش حالی میں اللہ کو پہچان اور اس کی طرف توجہ رکھ، وہ تجھے سختی اور مصیبت میں پہچانے گا، جان لے کہ جو کچھ تجھ سے چوک گیا وہ تجھے پہنچنے والا نہ تھا، اور جو کچھ تجھے پہنچ گیا وہ تجھ سے چوکنے والا نہیں تھا۔ نیز جان لے کہ (اللہ کی) مدد صبر کے ساتھ ہے‘ کشادگی تکلیف کے ساتھ ہے اور دشواری کے ساتھ آسانی ہے۔“
اسے ترمذی وغیرہ نے روایت کیا ہے۔درجہصحيح
تشریح

ابن عباس رضی اللہ عنہ بتا رہے ہيں کہ ایک دن وہ اللہ کے نبی ﷺ کے پیچھے سواری پر بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ نے کہا: میں تمھیں کچھ باتیں سکھاؤں گا، جن سے اللہ تمھیں فائدہ پہنچائے گا: اللہ کے احکام کی حفاظت کر کے اور اس کی منع کی ہوئی چیزوں سے دور رہ کر اس طرح اللہ کی حفاظت کرو کہ وہ تم کو نیکی اور اللہ سے قریب کرنے والے کاموں میں مشغول اور نافرمانیوں اور گناہوں سے دور پائے۔ اگر تم ایسا کروگے، تو بدلے میں اللہ دنیا وآخرت کی ناخوش گوار چیزوں سے تمھاری حفاظت کرے گا اور تم جہاں بھی جاؤگے، ہر کام میں تمھاری مدد کرے گا۔ جب تم کچھ مانگنا چاہو، تو صرف اللہ سے مانگو۔ کیوں کہ وہی مانگنے والوں کی مرادیں پوری کرتا ہے۔ جب مدد طلب کرنی ہو، تو بس اللہ سے طلب کرو۔ تمھارے دل میں اس بات کا یقین ہونا چاہیے کہ اگر روئے زمین پر موجود سارے لوگ تمھارا بھلا کرنا چاہيں، تو اتنا ہی کر سکتے ہيں، جتنا اللہ نے تمھاری قسمت میں لکھ رکھا ہے اور اگر روئے زمین پر بسنے والے سارے لوگ تمھارا برا کرنا چاہيں، تو اس سے زیادہ نہیں کر سکتے، جتنا اللہ نے تمھاری قسمت میں لکھ رکھا ہے۔ ان ساری باتوں کو اللہ تبارک و تعالی نے اپنی حکمت اور علم کے تقاضے کے مطابق لکھ رکھا ہے اور اللہ کے لکھے ہوئے میں کوئی تبدیلی ممکن نہيں ہے۔ جو اللہ کے اوامر کی بجا آوری اور اس کے نواہی سے اجتناب کے ذریعے اللہ کی حفاظت کرتا ہے، اللہ سبحانہ و تعالی ایسے بندے کے سامنے ہوتا ہے۔ اس کے حالات سے واقف ہوتا ہے اور اس کی مدد اور تائید کرتا ہے۔ اگر انسان خوش حالی کے وقت اللہ کی فرماں برداری کرتا ہے، تو اللہ مشکلات کے وقت اس کے لیے کشادگی اور نکلنے کا راستہ مہیا کر دیتا ہے۔ لہذا ہر انسان کو راضی بہ رضا رہنا چاہیے اور مشکلات کا سامنا ہو تو صبر سے کام لینا چاہیے۔ کیوں کہ صبر کشادگی کی کنجی ہے۔ مشکلات جب سوا ہو جائيں تو اللہ کی جانب سے آسانیاں آتی ہیں۔

فوائد
  1. چھوٹے بچوں کو توحید و آداب اور اس طرح کے دین کی دیگر باتیں سکھانے کی اہمیت۔
  2. انسان کو بدلہ اسی نوعیت کا دیا جاتا ہے، جس نوعیت کا اس کا عمل ہوتا ہے۔
  3. اللہ پر بھروسہ رکھنے اور اس پر توکل کرنے کا حکم، کیوں کہ وہ سب سے بہترین کار ساز ہے۔
  4. قضا و قدر پر ایمان اور اس سے رضامندی اور یہ کہ اللہ نے ساری چیزیں پہلے ہی مقدر کر رکھی ہے۔
  5. جو اللہ کے حکم کو ضا‏ئع کرے گا، اللہ اسے ضائع کرے گا اور اس کی حفاظت نہیں کرے گا۔
  6. یہ عظیم بشارت کہ انسان کو جب مشکل حالات کا سامنا ہو، تو آسانی کا انتظار کرے۔
  7. محبوب چیز کے فوت ہونے اور مصیبت لاحق ہونے کے وقت بندے کو تسلی دینی چاہیے۔ جیسا کہ آپ کے اس فرمان میں ہے: ’’جان لو کہ جو چیز تمہیں مل گئی وہ تم سے خطا کرنے والی نہیں تھی اور جو چیز تمھیں نہیں ملی وہ تمھیں ملے بغیر رہنے والی نہیں تھی۔‘‘ پہلے جملہ میں تکلیف پہنچنے پر اور دوسرے جملے میں محبوب چیز کے فوت ہونے پر تسلی دی گئی ہے۔
حوالہ

سنن الترمذي (4/ 284) (2516). التحفة الربانية في شرح الأربعين حديثًا النووية (ص42). شرح الأربعين النووية، لابن عثيمين (ص200). فتح القوي المتين في شرح الأربعين وتتمة الخمسين، للعباد (ص69).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com