اس حدیث میں نبی ﷺ ہمیں بتا رہے ہیں کہ مومن کو اس کے جان و مال وغیرہ میں مصائب کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اگر وہ صبر کرے گا تو اللہ ان مصائب پر اسے ثواب دے گا اور یہ کہ مصیبت جتنی بڑی اور خطرناک ہوتی ہے اس پر اللہ کی طرف سے اتنا ہی بڑا ثواب ملتا ہے۔ پھر نبی ﷺ وضاحت فرما رہے ہیں کہ مصائب کا آنا اللہ تعالیٰ کی مومن کے ساتھ محبت کی علامت ہے اور یہ کہ جو اللہ کی قضا و قدر میں لکھا ہے وہ لا محالہ ہو کر رہنا ہے لیکن جو شخص صبر و رضا کا مظاہرہ کرتا ہے اسے اللہ تعالی اپنی رضا کے ساتھ نوازے گا اور اسے ثواب دے گا اور جو برہم ہوتا ہے اور اللہ کی قضا و قدر کو ناپسند کرتا ہے اللہ بھی اس پر برہم ہوتا ہے اور اسے سزا دیتا ہے۔
- مصیبتیں گناہوں کا کفّارہ بن جاتی ہیں، جب تک ان کی وجہ سے کوئی واجب نہ چھوڑا جائے جیسے صبر کا دامن ہاتھ سے نہ جانے دیا جائے یا کسی حرام کام کا ارتکاب نہ ہو، جیسے گریبان نہ پھاڑا جائے یا گال نہ پیٹا جائے۔
- اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے لیے اس کی شان کے مطابق صفت محبت کا اثبات۔
- مؤمن کے لیے آزمائش ایمان کی نشانی ہے۔
- اللہ کے لیے رضامندی اور ناراضگی جیسے اوصاف کا اس کی شان کے مطابق اثبات۔
- اللہ کی قضا و قدر سے راضی رہنے کا استحباب۔
- اللہ کی قضا و قدر سے ناراضگی کا حرام ہونا۔
- مصائب پر صبر کرنے کی ترغیب۔
- انسان بسا اوقات کسی چیز کو ناپسند کرتا ہے، حالاں کہ وہ اس کے حق میں بہتر ہوتی ہے۔
- اللہ سبحانہ تعالیٰ کے افعال میں حکمت کا اثبات۔
- بدلے کا عمل کی جنس سے ہونا۔
كتاب التوحيد للإمام محمد بن عبد الوهاب، ت: د. دغش العجمي، مكتبة أهل الأثر, الطبعة الخامسة, 1435ه. الجديد في شرح كتاب التوحيد، لمحمد بن عبد العزيز السليمان القرعاوي, ت: محمد بن أحمد سيد, مكتبة السوادي، الطبعة: الخامسة، 1424ه. الملخص في شرح كتاب التوحيد، دار العاصمة، الرياض، الطبعة: الأولى 1422هـ - 2001م. جامع الترمذي، ت: أحمد شاكر, شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابي, الطبعة: الثانية، 1395هـ. صحيح الجامع الصغير , للألباني , المكتب الإسلامي.