سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

قضاء و قدر کے مسائل

9 احادیث

جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے، اسے آزمائش میں ڈالتا ہے۔

عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «مَنْ يُرِدِ اللهُ بِهِ خَيْرًا يُصِبْ مِنْهُ».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: "جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے، اسے آزمائش میں ڈالتا ہے۔"
رواه البخاريدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی ﷺ بتا رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ جب اپنے کسی مؤمن بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے، تو اسے جان، مال اور اہل و عیال کے سلسلے میں آزمائش میں ڈالتا ہے، کیوں کہ اس سے بندے کو اللہ تعالیٰ سے لو لگانے کا موقع ملتا ہے، اس کے گناہ معاف ہوتے ہیں اور اس کے درجات بلند ہوتے ہيں۔

فوائد
  1. مؤمن کو طرح طرح کی آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
  2. آزمائش کبھی کبھی بندے سے اللہ تعالیٰ کی محبت کی نشانی ہوا کرتی ہے۔ اللہ بندے کو آزماتا اس لیے ہے کہ اس کا درجہ بلند ہو، اس کا مرتبہ اونچا ہو اور اس کے گناہ بخش دیے جائیں۔
  3. مصیبتوں کے وقت جزع فزع کرنے کی ممانعت اور صبر سے کام لینے کی ترغیب۔
حوالہ

صحيح البخاري (7/ 115) (5645). كنوز رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (1/ 509). بهجة الناظرين، لسليم الهلالي (1/ 98). تطريز رياض الصالحين، لفيصل آل مبارك (ص45). نزهة المتقين، مجموعة من المشايخ (1/ 71). شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (1/ 244). مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، لعلي القاري (3/ 1127).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے مصیبت کے وقت چیخ چیخ کر رونے والی، بال منڈوانے والی اور کپڑے پھاڑنے والی عورتوں سے براءت کا اظہار کیا ہے۔

عَن أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: وَجِعَ أَبُو مُوسَى وَجَعًا شَدِيدًا، فَغُشِيَ عَلَيْهِ وَرَأْسُهُ فِي حَجْرِ امْرَأَةٍ مِنْ أَهْلِهِ، فَلَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يَرُدَّ عَلَيْهَا شَيْئًا، فَلَمَّا أَفَاقَ، قَالَ: أَنَا بَرِيءٌ مِمَّنْ بَرِئَ مِنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَرِئَ مِنَ الصَّالِقَةِ وَالحَالِقَةِ وَالشَّاقَّةِ.
ابو بردہ بن ابو موسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ابو موسی اشعری رضی اللہ بہت زیادہ بیمار ہو گئے۔ (بیماری اتنی سخت تھی کہ) بے ہوش ہو گئے۔ ان کا سر ان کے گھر کی ایک عورت کی گود میں تھا، (جو اونچی آواز میں رو رہی تھی) اور وہ (بے ہوشی کے سبب) اسے کوئی جواب نہ دے سکے۔ لہذا جب ہوش میں آئے تو فرمایا: میں ان تمام لوگوں سے براءت کا اظہار کرتا ہوں، جن سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے براءت کا اظہار کیا ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے مصیبت کے وقت چیخ چیخ کر رونے والی، بال منڈوانے والی اور کپڑے پھاڑنے والی عورتوں سے براءت کا اظہار کیا ہے۔
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

ابو بردہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ابو موسی رضی اللہ عنہ ایک بار بہت زیادہ بیمار ہو گئے۔ بیماری اتنی سخت تھی کہ نوبت بے ہوشی تک پہنچ گئی۔ اس وقت ان کا سر ان کے گھر کی کسی عورت کی گود میں تھا، جو ان کی بیماری دیکھ کر چیخ چیخ کر رونے اور نوحہ کرنے لگی۔ لیکن بے ہوشی کے سبب وہ کوئی جواب نہ دے سکے۔ لہذا ہوش میں آئے تو فرمایا : میں ان تمام لوگوں سے براءت کا اظہار کرتا ہوں، جن سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے براءت کا اظہار کیا ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے درج ذیل عورتوں سے براءت کا اظہار کیا ہے: صالقہ : مصیبت کے وقت چیخ چیخ کر رونے والی عورت۔ حالقہ : مصیبت کے وقت بال منڈوانے والی عورت۔ شاقہ: مصیبت کے وقت کپڑے پھاڑنے والی عورت۔ کیوں کہ یہ دور جاہلیت کے امور ہیں۔ اسلام کا حکم یہ ہے کہ مصیبتوں کے وقت صبر سے کام لیا جائے اور اللہ سے اجر وثواب کی امید رکھی جائے۔

فوائد
  1. مصیبت کے وقت کپڑا پھاڑنے، بال منڈوانے اور بلند آواز سے رونے کی ممانعت۔ یہ ایک کبیرہ گناہ ہے۔
  2. اگر نوحہ کی شکل نہ ہو اور آواز اونچی نہ کی جائے، تو غم کرنا اور رونا حرام نہيں ہے کیوں کہ یہ اللہ کے فیصلے پر صبر کرنے کے منافی نہیں ہے۔ یہ دراصل رحمت ومہربانی کا اظہار ہے۔
  3. اللہ کے تکلیف دہ فیصلوں پر قول و فعل کے ذریعے ناراضگی کا اظہار کرنا حرام ہے۔
  4. مصیبت کے وقت صبر کرنا واجب ہے۔
حوالہ

صحيح البخاري (2/ 81) (1296). صحيح مسلم (1/ 100) (104). تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، لعبد الله البسام (ص287). تنبيه الأفهام شرح عمدة الأحكام، لابن عثيمين (2/ 371).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

مضبوط مومن اللہ کے نزدیک کمزور مومن سے بہتر اور محبوب ہے۔ تاہم خیر تو دونوں ہی میں ہے۔

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمُؤْمِنُ الْقَوِيُّ، خَيْرٌ وَأَحَبُّ إِلَى اللهِ مِنَ الْمُؤْمِنِ الضَّعِيفِ، وَفِي كُلٍّ خَيْرٌ، احْرِصْ عَلَى مَا يَنْفَعُكَ، وَاسْتَعِنْ بِاللهِ وَلَا تَعْجَزْ، وَإِنْ أَصَابَكَ شَيْءٌ، فَلَا تَقُلْ لَوْ أَنِّي فَعَلْتُ كَانَ كَذَا وَكَذَا، وَلَكِنْ قُلْ قَدَرُ اللهِ وَمَا شَاءَ فَعَلَ، فَإِنَّ (لَوْ) تَفْتَحُ عَمَلَ الشَّيْطَانِ».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا : "مضبوط مومن اللہ کے نزدیک کمزور مومن سے بہتر اور محبوب ہے۔ تاہم خیر تو دونوں ہی میں ہے۔ جو چیز تمہارے لیے فائدے مند ہو، اس کی حرص رکھو اور اللہ سے مدد مانگو اور عاجز نہ بنو۔ اگر تم پر کوئی مصیبت آ جائے، تو یہ نہ کہو کہ اگر میں ایسا کر لیتا، تو ایسا ہوجاتا۔ بلکہ یہ کہو کہ یہ اللہ کی تقدیر ہے اور وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ کیوں کہ ”اگر“ شیطان کے عمل دخل کا دروازہ کھول دیتا ہے“۔
رواه مسلمدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ ویسے تو ہر مومن میں خیر ہوتی ہے، لیکن ایمان، عزیمت اور مال وغیرہ طاقت کے پہلوؤں میں قوی مومن اللہ عز و جل کے یہاں کمزور مومن سے بہتر اور زیادہ محبوب ہے۔ اس کے بعد اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے مومن کو ایسے اسباب اختیار کرنے کی وصیت فرمائی جن سے دنیا وآخرت کی بھلائی حاصل ہو سکے‘ ساتھ ہی اللہ پر اعتماد، اس سے مدد مانگنے کا جذبہ اور اس پر بھروسہ شامل حال ہوں۔ پھر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے عاجزی، سستی اور دونوں جہانوں میں نفع پہنچانے والی چيزوں سے پیچھے رہنے سے منع فرمایا ہے۔ جب مومن پوری تندہی سے عمل کرے، اسباب اختیار کرے، اللہ سے مدد اور خیر طلب کرتا رہے، تو اس کے بعد بس اتنا بچ جاتا ہے کہ اپنا معاملہ اللہ کے حوالے کر دے اور اس بات کا یقین رکھے کہ اللہ جو کرے گا، وہ خیر ہی ہوگا۔ اس کے بعد اگر کوئی مصیبت لاحق ہو، تو یہ نہ کہے : "اگر میں ایسا کر لیتا، تو ایسا اور ایسا ہوتا۔" "کیوں کہ لفظ (اگر) شیطان کے عمل کے راستے کھول دیتا ہے۔" یعنی انسان تقدیر پر اعتراض اور فوت شدہ چيز پر افسوس کرنے لگتا ہے۔ انسان کو راضی بہ رضا رہتے ہوئے اور خود سپردگی کا ثبوت دیتے ہوئے بس اتنا کہنا چاہیے : "یہ اللہ کا فیصلہ ہے اور اللہ جو چاہتا ہے، کرتا ہے۔" لہذا جو کچھ ہوا، وہ اللہ کے ارادے کے مطابق ہوا۔ کیوں کہ وہ جو چاہتا ہے، کر گزرتا ہے۔ اس کے فیصلے کو کوئی ٹال نہيں سکتا اور اس کے حکم کو کوئی روک نہیں سکتا۔

فوائد
  1. ایمان میں لوگوں کا تفاوت۔
  2. اعمال میں قوت کا استحباب، کیوں کہ قوت سے وہ وہ فوائد حاصل ہو سکتے ہيں، جو ضعف سے حاصل نہيں ہو سکتے۔
  3. انسان کو چاہیے کہ نفع بخش چیزوں کا اہتمام کرے اور نقصان دہ امور سے اجتناب کرے۔
  4. مومن پر واجب ہے کہ اپنے تمام معاملات میں اللہ سے مدد طلب کرے اور اپنی ذات پر بھروسہ کرکے نہ بیٹھے۔
  5. قضا اور قدر کا ثبوت۔ قضا و قدر پر ایمان اسباب اختیار کرنے اور خیر كی کوشش کرنے سے متصادم نہیں ہے۔
  6. مصیبتوں کے وقت ناراضگی کے طور پر لفظ "اگر" کہنے کی ممانعت اور قضا و قدر پر اعتراض کرنے کی حرمت۔
حوالہ

صحيح مسلم (4/ 2052) (2664). توضيح الأحكام من بلوغ المرام، لعبد الله البسام (7/ 492). منحة العلام في شرح بلوغ المرام، لعبد الله الفوزان (10/ 338). فتح ذي الجلال والإكرام، لابن عثيمين (6/ 430).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

جب تم سنو کہ کسی جگہ طاعون کی وبا پھیل چکی ہے تو اس جگہ مت جاؤ اور اگر کسی جگہ طاعون پھیل جائے اور تم اس جگہ ہو تو پھراس جگہ سے باہر مت نکلو۔

عن أسامة بن زيد رضي الله عنهما مرفوعاً: «إذا سمعتم الطاعونَ بأرض فلا تدخلوها وإذا وقع بأرض وأنتم فيها فلا تخرجوا منها».
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم سنو کہ کسی جگہ طاعون کی وبا پھیل چکی ہے تو اس جگہ مت جاؤ اور اگر کسی جگہ طاعون پھیل جائے اور تم اس جگہ ہو تو پھر اس جگہ سے باہر مت نکلو“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

اگر کسی جگہ کوئی وبا پھیل چکی ہو اور آدمی اس جگہ نہ ہو تو خود اپنی اور دوسروں کی صحت کی حفاظت کے پیش نظر اس کے لیے اس جگہ جانا جائز نہیں ہے اور اگر مرض کسی ایسی جگہ پھیل جائے جہاں وہ پہلے سے موجود ہو تو اس صورت میں اس کا وہاں سے باہر نکلنا جائز نہیں ہے اور اس پر لازم ہے کہ وہ اللہ کی تقدیر پر صبر کرے تاکہ اجر کا سزاوار ہو سکے۔

حوالہ

- صحيح البخاري ،للإمام محمد بن إسماعيل البخاري، عناية محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة، الطبعة الأولى، 1422هـ. - صحيح مسلم؛ للإمام مسلم بن الحجاج، حققه ورقمه محمد فؤاد عبد الباقي، دار عالم الكتب-الرياض، الطبعة الأولى، 1417هـ. - كنوز رياض الصالحين»،لحمد بن ناصر العمار،دار كنوز إشبيليا- الطبعة الأولى1430ه. - شرح رياض الصالحين؛ للشيخ محمد بن صالح العثيمين، مدار الوطن، الرياض، 1426هـ. - منار القاري شرح مختصر صحيح البخاري تأليف- حمزة محمد قاسم مكتبة دار البيان، دمشق - الجمهورية العربية السورية، مكتبة المؤيد، الطائف - المملكة العربية السعودية-1410 هـ - 1990 م. -دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين/محمد علي بن محمد بن علان البكري -اعتنى بها: خليل مأمون شيحا- دار المعرفة للطباعة والنشر والتوزيع، بيروت – لبنان- الطبعة: الرابعة، 1425 هـ - 2004 م. - بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين؛ تأليف سليم بن عيد الهلالي، دار ابن الجوزي- الطبعة الأولى1418ه. - نزهة المتقين شرح رياض الصالحين؛ تأليف د. مصطفى الخِن وغيره، مؤسسة الرسالة-بيروت، الطبعة الرابعة عشرة، 1407هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

اگر تم احد کے برابر سونا بھی، اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کر دو تو اللہ تعالیٰ اس کو تمہاری طرف سے قبول نہیں فرمائے گا جب تک کہ تم تقدیر پر ایمان نہ لے آؤ اور یہ جان لو کہ جو کچھ تمہیں پہنچا ہے وہ ایسا نہیں ہے کہ نہ پہنچتا اور جو کچھ تمہیں نہیں پہنچا وہ ایسا نہیں کہ تمہیں پہنچ جاتا، اور اگر تم اس عقیدے کے علاوہ کسی اور عقیدے پر مر گیے تو ضرور جہنمیوں میں سے ہوگے۔

عن ابن الدَّيْلَمِي قال: أتيتُ أُبَيَّ بن كعب فقلتُ: في نفْسي شيء من القدر، فحَدِّثْني بشيء لعل الله يُذْهِبَه مِن قلبي. فقال: «لو أنفقتَ مثل أُحُد ذَهَبًا ما قَبِلَه الله منك حتى تؤمن بالقدَر، وتعلمَ أنَّ ما أصابك لم يكن ليُخطِئك، وما أخْطأك لم يكن لِيُصِيبَك، ولو مُتَّ على غير هذا لكنتَ مِن أهل النار». قال: فأتيتُ عبد الله بن مسعود، وحذيفة بن اليمان، وزيد بن ثابت، فكلهم حدَّثني بمثل ذلك عن النبي صلى الله عليه وسلم .
ابن دیلمی کہتے ہیں کہ میں ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے کہا کہ میرے دل میں تقدیر کے بارے میں کچھ شبہ پیدا ہو گیا ہے، لہٰذا آپ مجھے کوئی ایسی چیز بتائیے جس سے یہ امید ہو کہ اللہ تعالیٰ اس شبہ کو میرے دل سے نکال دے گا، انھوں نے فرمایا: اگر تم احد پہاڑ کے برابر سونا بھی، اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کر دو تو اللہ تعالیٰ اس کو تمہاری طرف سے قبول نہیں فرمائے گا جب تک کہ تم تقدیر پر ایمان نہ لے آؤ اور یہ جان لو کہ جو کچھ تمہیں پہنچا ہے وہ ایسا نہیں ہے کہ تمہیں نہیں پہنچتا، اور جو کچھ تمہیں نہیں پہنچا وہ ایسا نہیں کہ تمہیں پہنچ جاتا اور اگر تم اس عقیدے کے علاوہ کسی اور عقیدے پر مر گیے تو ضرور جہنمیوں میں سے ہوگے۔ابن دیلمی کہتے ہیں: پھر میں عبداللہ بن مسعود ، حذیفہ بن یمان اور زید بن ثابت رضی اللہ عنھم اجمعین کے پاس آیا تو ان سب نے مجھ سے اسی کے مثل نبی اکرم ﷺ کی مرفوع روایت بیان کی۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

عبداللہ بن فیروز دیلمی رحمہ اللہ اس بات کی خبر دے رہے ہیں کہ ان کے دل میں تقدیر کے مسئلہ میں کچھ اشکال و اشتباہ پیدا ہوگیا اور انھیں اس بات کا خدشہ لاحق ہوا کہ کہیں یہ اشکال انھیں تقدیر کے انکار تک نہ پہنچادے، چنانچہ اس اشکال کو دور کرنے کے لیے وہ اہلِ علم صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اجمعین سے مسئلہ کا حل دریافت کرنے لگے۔ لہذا اسی طرح ہر مومن کو چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان: ﴿فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِن كُنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ﴾ ”پس اگر تم نہیں جانتے تو اہل علم سے دریافت کر لو“ پر عمل کرتے ہوئے، اپنے مشتبہ و مشکل مسائل کے بارے میں علمائے کرام سے حل دریافت کرے۔ چنانچہ ان سارے علماء نے ابن فیروز دیلمی کو یہی فتویٰ دیا کہ قضاء و قدر پر ایمان لانا لازمی ہے اور عظیم کمیت پر مبنی انفاق فی سبیل اللہ کو اس شخص سے قبول نہیں کیا جائے گا جس کا تقدیر پر ایمان نہ ہو اور جو اس حال میں مرجائے کہ تقدیر پر اس کا ایمان نہ ہو تو وہ جہنمیوں میں سے ہوگا۔

حوالہ

- سنن أبي داود, أبو داود سليمان بن الأشعث الأزدي السِّجِسْتاني, المحقق: محمد محيي الدين عبد الحميد, المكتبة العصرية، صيدا – بيروت. - سنن ابن ماجه, ابن ماجه أبو عبد الله محمد بن يزيد القزويني، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي, الناشر: دار إحياء الكتب العربية - فيصل عيسى البابي الحلبي. - مسند الإمام أحمد بن حنبل، تحقيق: شعيب الأرنؤوط - عادل مرشد، وآخرون، نشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة: الأولى، 1421هـ - 2001م. - مشكاة المصابيح، تأليف: محمد بن عبد الله، التبريزي، تحقيق : محمد ناصر الدين الألباني، الناشر: المكتب الإسلامي، الطبعة: الثالثة، 1985م. - الملخص في شرح كتاب التوحيد، دار العاصمة الرياض، الطبعة: الأولى 1422هـ- 2001م. - الجديد في شرح كتاب التوحيد، مكتبة السوادي، جدة، المملكة العربية السعودية، الطبعة: الخامسة، 1424هـ/2003م.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

رسول اللہ ﷺ نے جن بھلی باتوں کا ہم سے عہد لیا تھا کہ ان میں ہم آپ کی نافرمانی نہیں کریں گے وہ یہ تھیں کہ ہم (کسی کے مرنے پر) نہ منہ نوچیں گے، نہ تباہی و بربادی کو پکاریں گے، نہ کپڑے پھاڑیں گے اور نہ بال بکھیریں گے۔

عن أسيد بن أبي أسيد التابعي، عن امرأة من المبايعات، قالت: كان فيما أخذ علينا رسولُ الله صلى الله عليه وسلم في المعروف الذي أخذ علينا أن لا نعصيه فيه: أن لا نَخْمِشَ وجهًا، ولا نَدْعُوَ وَيْلًا، ولا نَشُقَّ جَيْبًا، وأن لا نَنْشُرَ شَعْرًا.
اُسید بن ابی اسید تابعی ایک خاتون سے بیان کرتے ہیں جس نے رسول اللہ ﷺ سے بیعت کی تھی، وہ کہتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جن بھلی باتوں کا ہم سے عہد لیا تھا کہ ان میں ہم آپ کی نافرمانی نہیں کریں گے وہ یہ تھیں کہ ہم (کسی کے مرنے پر) نہ منہ نوچیں گے، نہ تباہی و بربادی کو پکاریں گے، نہ کپڑے پھاڑیں گے اور نہ بال بکھیریں گے۔
اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

نبی ﷺ بیعت کرتے وقت صحابیات سے اس بات کا عہد لیتے تھے کہ وہ آپ کی نافرمانی نہیں کریں گی اور یہ بھی کہ عورت اپنا چہرہ نہ نوچے، یا اپنا چہرہ یا اپنے رخسار کو نہ پیٹے اور نوحہ کر کے اپنی آواز بلند نہ کرے جس سے کہ روکا گیا ہے، اپنے کپڑے نہ پھاڑے اور نہ اپنے بال بکھیرے اور نہ مصیبت کے وقت اسے نوچے۔

حوالہ

نزهة المتقين، تأليف: جمعٌ من المشايخ، الناشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة الأولى: 1397 هـ الطبعة الرابعة عشر 1407هـ. كنوز رياض الصالحين، تأليف: حمد بن ناصر بن العمار، الناشر: دار كنوز أشبيليا، الطبعة الأولى: 1430هـ. بهجة الناظرين، تأليف: سليم بن عيد الهلالي، الناشر: دار ابن الجوزي، سنة النشر: 1418هـ- 1997م. سنن أبي داود، تأليف: سليمان بن الأشعث السِّجِسْتاني، تحقيق: محمد محيي الدين عبد الحميد، الناشر: المكتبة العصرية، صيدا. صحيح الترغيب والترهيب، تأليف: محمد ناصر الدين الألباني، الناشر: مكتبة المعارف، الطبعة: الخامسة. رياض الصالحين، تأليف: محيي الدين يحيى بن شرف النووي ، تحقيق: د. ماهر بن ياسين الفحل، الطبعة: الأولى، 1428هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

جب اللہ نے آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا اور ان کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرا تو اس سے ان کی اولاد کی وہ ساری روحیں باہر آ گئیں جنہیں وہ قیامت تک پیدا کرنے والا ہے۔

عن أبي هريرة رضي الله عنه ، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «لما خلق اللهُ آدمَ مسح ظهره، فسقط من ظهره كل نَسَمة هو خالقها من ذُرِّيته إلى يوم القيامة، وجعل بين عيني كل إنسان منهم وَبِيصًا من نور، ثم عرضهم على آدم فقال: أي رب، مَن هؤلاء؟ قال: هؤلاء ذريتك، فرأى رجلا منهم فأعجبه وَبِيصُ ما بين عينيه، فقال: أي رب مَن هذا؟ فقال: هذا رجل من آخر الأمم من ذُرِّيتك يقال له: داود. فقال: رب كم جعلتَ عُمُرَه؟ قال: ستين سنة، قال: أي رب، زِده من عُمُري أربعين سنة. فلما قضي عمر آدم جاءه مَلَكُ الموت، فقال: أوَلَم يبقَ من عمري أربعون سنة؟ قال: أوَلَم تُعْطِها ابنَك داود قال: فجَحَدَ آدمُ فجحدت ذُرِّيتُه، ونسي آدمُ فنسيت ذُرِّيتُه، وخَطِئ آدم فخَطِئت ذُرِّيتُه».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب اللہ نے آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا اور ان کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرا تو اس سے ان کی اولاد کی وہ ساری روحیں باہر آ گئیں جنہیں وہ قیامت تک پیدا کرنے والا ہے۔ پھر ان میں سے ہر انسان کی آنکھوں کی بیچ میں نور کی ایک ایک چمک رکھ دی، پھر انہیں آدم کے سامنے پیش کیا، تو آدم نے کہا : میرے رب ! کون ہیں یہ لوگ ؟ اللہ نے کہا : یہ تمہاری ذریت (اولاد) ہیں، پھر انہوں نے ان میں ایک ایسا شخص دیکھا جس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کی چمک انہیں بہت اچھی لگی، انہوں نے کہا : اے میرے رب ! یہ کون ہے ؟ اللہ نے فرمایا : تمہاری اولاد کی آخری امتوں میں سے ایک فرد ہے۔اسے داؤد کہتے ہیں : انہوں نے کہا : میرے رب ! اس کی عمر کتنی رکھی ہے ؟ اللہ نے کہا : ساٹھ سال، انہوں نے کہا : میرے رب ! میری عمر میں سے چالیس سال لے کر اس کی عمر میں اضافہ فرما دے، پھر جب آدم (علیہ السلام) کی عمر پوری ہوگئی، ملک الموت ان کے پاس آئے تو انہوں نے کہا : کیا میری عمر کے چالیس سال ابھی باقی نہیں ہیں ؟ فرشتے نے کہا کہ وہ تو آپ اپنے بیٹے داؤد (علیہ السلام) کو دے چکے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا : پھر آدم (علیہ السلام) نے انکار کر دیا، چنانچہ ان کی اولاد بھی انکاری بن گئی۔ آدم بھول گئے تو ان کی اولاد بھی بھول گئی۔ آدم نے غلطی کی تو ان کی اولاد بھی خطاکار بن گئی“۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

”جب اللہ تعالی نے آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا اور ان کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرا تو اس سے ان کی اولاد کی وہ ساری روحیں باہر آ گئیں جنہیں وہ قیامت تک پیدا کرنے والا تھا“ یہ ہاتھ کا پھیرنا اور ذریت کا نکالنا اپنی حقیقت پر قائم ہے، اس میں کسی قسم کی تاویل جو اسے اس کے ظاہری معنی سے پھیر دے جائز نہیں جیسا کہ اہل سنت کا مذہب ہے۔ پھر ان میں سے ہر انسان کی آنکھوں کی بیچ میں نور کی ایک ایک چمک رکھ دی، پھر انہیں آدم کے سامنے پیش کیا، تو آدم نے کہا : میرے رب! کون ہیں یہ لوگ ؟ اللہ نے کہا : یہ تمہاری ذریت (اولاد) ہیں، پھر انہوں نے ان میں ایک ایسا شخص دیکھا جس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کی چمک انہیں بہت اچھی لگی، انہوں نے کہا: اے میرے رب! یہ کون ہے ؟ اللہ نے فرمایا: یہ داؤد ہیں، انہوں نے کہا: میرے رب! اس کی عمر کتنی رکھی ہے؟ اللہ نے کہا: ساٹھ سال، انہوں نے کہا: میرے رب! میری عمر میں سے چالیس سال لے کر ان کی عمر میں اضافہ فرما دے۔ پھر جب آدم علیہ السلام کی ساری عمر ختم ہو گئی اور چالیس برس رہ گئے، ان کے پاس موت کا فرشتہ آیا تاکہ ان کی روح قبض کرے، آدم علیہ السلام نے کہا: میری عمر کے چالیس سال ابھی باقی ہیں، اس نے کہا کہ آپ نے یہ چالیس برس اپنے بیٹے داؤد کو دے دیا تھا، آدم علیہ السلام نے انکار کردیا، کیونکہ وہ عالم ذر میں وعدہ کیے تھے اور ملک الموت کے آنے کے وقت انہیں یاد نہ رہا، چنانچہ ان کی اولاد بھی انکاری بن گئی، آدم علیہ السلام بھول گئے، تو ان کی اولاد بھی بھول گئی، آدم علیہ السلام نے درخت سے پھل کھا کر غلطی کی تو ان کی اولاد بھی خطاکار بن گئی کیونکہ اولاد اپنے باپ کے مشابہ ہوتی ہے۔ لہذا داؤد (علیہ السلام) جن کی عمر ساتھ سال تھی اللہ نے چالیس سال کا اضافہ کردیا اور اللہ ہی تمام ہونے والی اور ہو چکی باتوں کو جاننے والا ہے، اور وہ یہ بھی جانتا ہے کہ وہ چیزیں جو رونما نہیں ہوئیں، اگر رونما ہوتیں تو کیسی ہوتیں، اللہ ہی ہے جو جانتا ہے کہ کس کے لیے کتنا ہے، اور اس کے بعد کتنا زیادہ ہونا ہے، فرشتوں کو اس بارے میں کوئی علم نہیں اِلاّ یہ کہ وہ علم جسے اللہ انہیں عطا کر دے، اللہ تعالی ہی ان تمام چیزوں کو ان کے وجود میں آنے سے قبل اور وجود میں آجانے کے بعد جانتا، اسی لیے علماء کہتے ہیں جو بھی محو (مٹانا) اور اثبات ہے وہ صرف فرشتوں کے صحیفے میں ہوتا ہے، رہا اللہ سبحانہ وتعالی کا علم تو اس میں کوئی اختلاف نہیں ہوتا ہے اور نہ ہی اس میں کوئی ایسی بات رونما ہوتی ہے جسے وہ پہلے نہیں جانتا تھا، اسی لیے اللہ کے علم میں کوئی محو اور اثبات نہیں ہوتا۔

حوالہ

سنن الترمذي، نشر: شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي – مصر، الطبعة: الثانية، 1395هـ - 1975م. صحيح الجامع الصغير وزياداته، للألباني، نشر: المكتب الإسلامي. المصباح المنير في غريب الشرح الكبير، لأحمد بن محمد بن علي الفيومي، الناشر: المكتبة العلمية – بيروت. مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، لعلي بن سلطان الملا الهروي القاري، الناشر: دار الفكر، بيروت – لبنان، الطبعة: الأولى، 1422هـ - 2002م. مجموع الفتاوى، لتقي الدين أحمد بن عبد الحليم بن تيمية الحراني، المحقق: عبد الرحمن بن محمد بن قاسم، الناشر: مجمع الملك فهد لطباعة المصحف الشريف، المدينة النبوية، المملكة العربية السعودية، عام النشر: 1416هـ/1995م. صفات الله عز وجل الواردة في الكتاب والسنة- علوي بن عبد القادر السَّقَّاف- الناشر: الدرر السنية - دار الهجرة-الطبعة: الثالثة، 1426 هـ - 2006م. قصص الأنبياء-أبو الفداء إسماعيل بن عمر بن كثير -تحقيق: مصطفى عبد الواحد -الناشر: مطبعة دار التأليف - القاهرة-الطبعة: الأولى، 1388 هـ - 1968 م.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کی موت کے لیے کسی زمین کا فیصلہ کر دیتا ہے تو وہاں اس کی کوئی حاجت پیدا کر دیتا ہے۔

عن أبي عزة الهذلي رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله وسلم: «إذا أراد اللهُ قَبْضَ عبد بأرض جعلَ له بها حاجة».
ابو عزۃ الھذلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کی موت کے لیے کسی زمین کا فیصلہ کر دیتا ہے تو وہاں اس کی کوئی حاجت پیدا کر دیتا ہے“۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے ابو داؤد الطیالسی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کی روح کسی مخصوص زمین میں نکالنے کا ارادہ کر لے اور بندہ اس جگہ نہ ہو، تو اللہ تعالیٰ اس جگہ اس کی کوئی ضرورت پیدا کر دیتا ہے۔ جب بندہ اپنی ضرورت پوری کرنے کے لیے اس جگہ جاتا ہے تو اللہ اسے وہاں موت دے دیتا ہے۔ جو کچھ اللہ تعالی نے بندے کے حق میں مقدر اور لکھ کر رکھا ہے وہ ویسے ہی ہو کر رہے گا، یہ قضاء و قدر پر ایمان رکھنے کا حصہ ہے۔

حوالہ

سنن الترمذي، محمد بن عيسى الترمذي، تحقيق وتعليق: أحمد محمد شاكر، ومحمد فؤاد عبد الباقي، وإبراهيم عطوة عوض، شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي، مصر، الطبعة: الثانية، 1395هـ، 1975م. مسند الإمام أحمد بن حنبل، أحمد بن حنبل أبو عبدالله الشيباني، تحقيق: شعيب الأرنؤوط و عادل مرشد، وآخرون، تحت إشراف: عبد الله بن عبد المحسن التركي، مؤسسة الرسالة، الطبعة: الأولى1421هـ. مسند أبي داود الطيالسي، أبو داود سليمان بن داود الطيالسي، تحقيق: محمد بن عبد المحسن التركي، الناشر: دار هجر، مصر، الطبعة: الأولى، 1419هـ، 1999م. سلسلة الأحاديث الصحيحة وشيء من فقهها وفوائدها، محمد ناصر الدين الألباني، مكتبة المعارف للنشر والتوزيع، الرياض، الطبعة الأولى لمكتبة المعارف، 1422هـ. الصحاح تاج اللغة وصحاح العربية، إسماعيل بن حماد الجوهري الفارابي، تحقيق: أحمد عبد الغفور عطار، دار العلم للملايين، بيروت، الطبعة: الرابعة 1407هـ، 1987م. فيض القدير شرح الجامع الصغير، زين الدين محمد عبد الرؤوف المناوي، المكتبة التجارية الكبرى، مصر، الطبعة: الأولى 1356هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
9 میں سے 8
9 احادیث
  1. جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے، اسے آزمائش میں ڈالتا ہے۔
  2. اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے مصیبت کے وقت چیخ چیخ کر رونے والی، بال منڈوانے والی اور کپڑے پھاڑنے والی عورتوں سے براءت کا اظہار کیا ہے۔
  3. مضبوط مومن اللہ کے نزدیک کمزور مومن سے بہتر اور محبوب ہے۔ تاہم خیر تو دونوں ہی میں ہے۔
  4. جب تم سنو کہ کسی جگہ طاعون کی وبا پھیل چکی ہے تو اس جگہ مت جاؤ اور اگر کسی جگہ طاعون پھیل جائے اور تم اس جگہ ہو تو پھراس جگہ سے باہر مت نکلو۔
  5. اگر تم احد کے برابر سونا بھی، اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کر دو تو اللہ تعالیٰ اس کو تمہاری طرف سے قبول نہیں فرمائے گا جب تک کہ تم تقدیر پر ایمان نہ لے آؤ اور یہ جان لو کہ جو کچھ تمہیں پہنچا ہے وہ ایسا نہیں ہے کہ نہ پہنچتا اور جو کچھ تمہیں نہیں پہنچا وہ ایسا نہیں کہ تمہیں پہنچ جاتا، اور اگر تم اس عقیدے کے علاوہ کسی اور عقیدے پر مر گیے تو ضرور جہنمیوں میں سے ہوگے۔
  6. رسول اللہ ﷺ نے جن بھلی باتوں کا ہم سے عہد لیا تھا کہ ان میں ہم آپ کی نافرمانی نہیں کریں گے وہ یہ تھیں کہ ہم (کسی کے مرنے پر) نہ منہ نوچیں گے، نہ تباہی و بربادی کو پکاریں گے، نہ کپڑے پھاڑیں گے اور نہ بال بکھیریں گے۔
  7. جب اللہ نے آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا اور ان کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرا تو اس سے ان کی اولاد کی وہ ساری روحیں باہر آ گئیں جنہیں وہ قیامت تک پیدا کرنے والا ہے۔
  8. جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کی موت کے لیے کسی زمین کا فیصلہ کر دیتا ہے تو وہاں اس کی کوئی حاجت پیدا کر دیتا ہے۔
  9. جب اللہ تعالی کسی بندے کے ساتھ بھلائی چاہتا ہے تو اسے اس کی موت سے پہلے استعمال کرتا ہے۔

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com