سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کی موت کے لیے کسی زمین کا فیصلہ کر دیتا ہے تو وہاں اس کی کوئی حاجت پیدا کر دیتا ہے۔

عن أبي عزة الهذلي رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله وسلم: «إذا أراد اللهُ قَبْضَ عبد بأرض جعلَ له بها حاجة».
ابو عزۃ الھذلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کی موت کے لیے کسی زمین کا فیصلہ کر دیتا ہے تو وہاں اس کی کوئی حاجت پیدا کر دیتا ہے“۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے ابو داؤد الطیالسی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کی روح کسی مخصوص زمین میں نکالنے کا ارادہ کر لے اور بندہ اس جگہ نہ ہو، تو اللہ تعالیٰ اس جگہ اس کی کوئی ضرورت پیدا کر دیتا ہے۔ جب بندہ اپنی ضرورت پوری کرنے کے لیے اس جگہ جاتا ہے تو اللہ اسے وہاں موت دے دیتا ہے۔ جو کچھ اللہ تعالی نے بندے کے حق میں مقدر اور لکھ کر رکھا ہے وہ ویسے ہی ہو کر رہے گا، یہ قضاء و قدر پر ایمان رکھنے کا حصہ ہے۔

حوالہ

سنن الترمذي، محمد بن عيسى الترمذي، تحقيق وتعليق: أحمد محمد شاكر، ومحمد فؤاد عبد الباقي، وإبراهيم عطوة عوض، شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي، مصر، الطبعة: الثانية، 1395هـ، 1975م. مسند الإمام أحمد بن حنبل، أحمد بن حنبل أبو عبدالله الشيباني، تحقيق: شعيب الأرنؤوط و عادل مرشد، وآخرون، تحت إشراف: عبد الله بن عبد المحسن التركي، مؤسسة الرسالة، الطبعة: الأولى1421هـ. مسند أبي داود الطيالسي، أبو داود سليمان بن داود الطيالسي، تحقيق: محمد بن عبد المحسن التركي، الناشر: دار هجر، مصر، الطبعة: الأولى، 1419هـ، 1999م. سلسلة الأحاديث الصحيحة وشيء من فقهها وفوائدها، محمد ناصر الدين الألباني، مكتبة المعارف للنشر والتوزيع، الرياض، الطبعة الأولى لمكتبة المعارف، 1422هـ. الصحاح تاج اللغة وصحاح العربية، إسماعيل بن حماد الجوهري الفارابي، تحقيق: أحمد عبد الغفور عطار، دار العلم للملايين، بيروت، الطبعة: الرابعة 1407هـ، 1987م. فيض القدير شرح الجامع الصغير، زين الدين محمد عبد الرؤوف المناوي، المكتبة التجارية الكبرى، مصر، الطبعة: الأولى 1356هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
قضاء و قدر کے مسائل

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com