سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

جب تم سنو کہ کسی جگہ طاعون کی وبا پھیل چکی ہے تو اس جگہ مت جاؤ اور اگر کسی جگہ طاعون پھیل جائے اور تم اس جگہ ہو تو پھراس جگہ سے باہر مت نکلو۔

عن أسامة بن زيد رضي الله عنهما مرفوعاً: «إذا سمعتم الطاعونَ بأرض فلا تدخلوها وإذا وقع بأرض وأنتم فيها فلا تخرجوا منها».
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم سنو کہ کسی جگہ طاعون کی وبا پھیل چکی ہے تو اس جگہ مت جاؤ اور اگر کسی جگہ طاعون پھیل جائے اور تم اس جگہ ہو تو پھر اس جگہ سے باہر مت نکلو“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

اگر کسی جگہ کوئی وبا پھیل چکی ہو اور آدمی اس جگہ نہ ہو تو خود اپنی اور دوسروں کی صحت کی حفاظت کے پیش نظر اس کے لیے اس جگہ جانا جائز نہیں ہے اور اگر مرض کسی ایسی جگہ پھیل جائے جہاں وہ پہلے سے موجود ہو تو اس صورت میں اس کا وہاں سے باہر نکلنا جائز نہیں ہے اور اس پر لازم ہے کہ وہ اللہ کی تقدیر پر صبر کرے تاکہ اجر کا سزاوار ہو سکے۔

حوالہ

- صحيح البخاري ،للإمام محمد بن إسماعيل البخاري، عناية محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة، الطبعة الأولى، 1422هـ. - صحيح مسلم؛ للإمام مسلم بن الحجاج، حققه ورقمه محمد فؤاد عبد الباقي، دار عالم الكتب-الرياض، الطبعة الأولى، 1417هـ. - كنوز رياض الصالحين»،لحمد بن ناصر العمار،دار كنوز إشبيليا- الطبعة الأولى1430ه. - شرح رياض الصالحين؛ للشيخ محمد بن صالح العثيمين، مدار الوطن، الرياض، 1426هـ. - منار القاري شرح مختصر صحيح البخاري تأليف- حمزة محمد قاسم مكتبة دار البيان، دمشق - الجمهورية العربية السورية، مكتبة المؤيد، الطائف - المملكة العربية السعودية-1410 هـ - 1990 م. -دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين/محمد علي بن محمد بن علان البكري -اعتنى بها: خليل مأمون شيحا- دار المعرفة للطباعة والنشر والتوزيع، بيروت – لبنان- الطبعة: الرابعة، 1425 هـ - 2004 م. - بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين؛ تأليف سليم بن عيد الهلالي، دار ابن الجوزي- الطبعة الأولى1418ه. - نزهة المتقين شرح رياض الصالحين؛ تأليف د. مصطفى الخِن وغيره، مؤسسة الرسالة-بيروت، الطبعة الرابعة عشرة، 1407هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
قضاء و قدر کے مسائل

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com