جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے، اسے آزمائش میں ڈالتا ہے۔
عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «مَنْ يُرِدِ اللهُ بِهِ خَيْرًا يُصِبْ مِنْهُ».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: "جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے، اسے آزمائش میں ڈالتا ہے۔"
رواه البخاريدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی ﷺ بتا رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ جب اپنے کسی مؤمن بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے، تو اسے جان، مال اور اہل و عیال کے سلسلے میں آزمائش میں ڈالتا ہے، کیوں کہ اس سے بندے کو اللہ تعالیٰ سے لو لگانے کا موقع ملتا ہے، اس کے گناہ معاف ہوتے ہیں اور اس کے درجات بلند ہوتے ہيں۔
فوائد
مؤمن کو طرح طرح کی آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
آزمائش کبھی کبھی بندے سے اللہ تعالیٰ کی محبت کی نشانی ہوا کرتی ہے۔ اللہ بندے کو آزماتا اس لیے ہے کہ اس کا درجہ بلند ہو، اس کا مرتبہ اونچا ہو اور اس کے گناہ بخش دیے جائیں۔
مصیبتوں کے وقت جزع فزع کرنے کی ممانعت اور صبر سے کام لینے کی ترغیب۔
حوالہ
صحيح البخاري (7/ 115) (5645).
كنوز رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (1/ 509).
بهجة الناظرين، لسليم الهلالي (1/ 98).
تطريز رياض الصالحين، لفيصل آل مبارك (ص45).
نزهة المتقين، مجموعة من المشايخ (1/ 71).
شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (1/ 244).
مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، لعلي القاري (3/ 1127).
یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com