سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

’’جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے بارے میں یہ فیصلہ کر دیتا ہے کہ وہ فلاں جگہ میں مرے گا، تو وہاں اس کی ضرورت رکھ دیتا ہے۔‘‘

عَنْ مَطَرِ بْنِ عُكَامِسٍ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا قَضَى اللَّهُ لِعَبْدٍ أَنْ يَمُوتَ بِأَرْضٍ جَعَلَ لَهُ إِلَيْهَا حَاجَةً».
مَطَر بن عُکامس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "’’جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے بارے میں یہ فیصلہ کر دیتا ہے کہ وہ فلاں جگہ میں مرے گا، تو وہاں اس کی ضرورت رکھ دیتا ہے۔‘‘
رواه الترمذيدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس حدیث میں بتا رہے ہیں کہ اللہ تعالی جب کسی بندے کے حق میں یہ مقدر کرتا ہے کہ وہ ایسی زمین میں فوت ہوگا، جہاں وہ موجود نہیں ہوتا، تو اللہ تعالی وہاں اس کی کوئی حاجت وضرورت پیدا کر دیتا ہے۔ چنانچہ وہ شخص وہاں جاتا ہے اور اسی زمین میں اس کی روح قبض کی جاتی ہے۔

فوائد
  1. یہ حدیث اللہ تعالی کے اس فرمان کی تصدیق کرتی ہے: "نہ کسی کو یہ معلوم ہے کہ کس زمین میں مرے گا۔"
حوالہ

سنن الترمذي (4/ 23) (2146)، تحفة الأحوذي (6/ 299).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
قضا و قدر پر ایمان

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com