عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں ایک دن اللہ کے رسول ﷺ کے پیچھے سوار تھا کہ اسی درمیان آپ نے فرمایا : "اے لڑکے! میں تمھیں کچھ باتیں سکھانا چاہتا ہوں۔ اللہ (کے حقوق) کی حفاظت کرو، اللہ تمھاری حفاظت کرے گا۔ تم اللہ (کے حقوق) کا خیال رکھو، اللہ کو اپنے سامنے پاؤ گے۔ جب مانگو، تواللہ ہی سے مانگو اور جب مدد طلب کرو، تو اللہ ہی سے مدد طلب کرو۔ اس بات کو جان لو کہ اگر سب مل کر بھی تمھیں فائدہ پہنچانا چاہیں، تو تمھیں اتنا ہی فائدہ پہنچا سکتے ہیں، جتنا اللہ نے تمھارے لیے لکھ دیا ہے اور اگر سب مل کر بھی تمھیں نقصان پہنچانا چاہیں، تو تمھیں اتنا ہی نقصان پہنچا سکتے ہیں، جتنا اللہ نے تمھارے لیے لکھ دیاہے۔ قلم اٹھالیے گئے ہیں اور صحیفے خشک ہو چکے ہيں"۔
رواه الترمذيدرجہصحيح
تشریح
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بتا رہے ہيں کہ ایک دن وہ اللہ کے نبی صلی اللہ کے پیچھے سواری پر بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ نے کہا : میں تمھیں کچھ باتیں سکھاؤں گا، جن سے اللہ تمھیں فائدہ پہنچائے گا :
اللہ کے احکام کی حفاظت کرکے اور اس کی منع کی ہوئی چیزوں سے دور رہ کر اس طرح اللہ کی حفاظت کرو کہ وہ تم کو نیکی اور اللہ سے قریب کرنے والے کاموں میں مشغول پائے اور نافرمانیوں اور گناہوں میں مشغول نہ پائے۔ اگر تم ایسا کروگے، تو بدلے میں اللہ دنیا و آخرت کی ناخوش گوار چیزوں سے تمھاری حفاظت کرے گا اور تم جہاں بھی جاؤگے، ہر کام میں تمھاری مدد کرے گا۔
جب تم کچھ مانگنا چاہو، تو صرف اللہ سے مانگو۔ کیوں کہ وہی مانگنے والوں کی مرادیں پوری کرتا ہے۔
جب مدد طلب کرنی ہو، تو بس اللہ سے طلب کرو۔
تمھارے دل میں اس بات کا یقین ہونا چاہیے کہ اگر روئے زمین پر موجود سارے لوگ تمھارا بھلا کرنا چاہيں، تو اتنا ہی کر سکتے ہيں، جتنا اللہ نے تمھاری قسمت میں لکھ رکھا ہے اور اگر دھرتی پر بسنے والے سارے لوگ تمھارا برا کرنا چاہيں، تو اس سے زیادہ نہیں کر سکتے، جتنا اللہ نے تمھاری قسمت میں لکھ رکھا ہے۔
ان ساری باتوں کو اللہ تبارک و تعالی نے اپنی حکمت اور علم کے تقاضے کے مطابق لکھ رکھا ہے اور اللہ کے لکھے ہوئے میں کوئی تبدیلی ممکن نہيں ہے۔
فوائد
چھوٹے بچوں کو توحید و آداب اور اس طرح کے دین کی دیگر باتیں سکھانے کی اہمیت۔
انسان کو بدلہ اسی نوعیت کا دیا جاتا ہے، جس نوعیت کا اس کا عمل ہوتا ہے۔
اللہ پر بھروسہ رکھنے اور اس پر توکل کرنے کا حکم، کیوں کہ وہ سب سے بہترین کار ساز ہے۔
قضا و قدر پر ایمان اور اس سے رضامندی اور یہ کہ اللہ نے ساری چیزیں پہلے ہی مقدر کر رکھی ہے۔
جو اللہ کے حکم کو ضائع کرے گا، اللہ اسے ضائع کرے گا اور اس کی حفاظت نہیں کرے گا۔
حوالہ
سنن الترمذي (4/ 284) (2516).
التحفة الربانية في شرح الأربعين حديثًا النووية (ص42).
شرح الأربعين النووية، لابن عثيمين (ص200).
فتح القوي المتين في شرح الأربعين وتتمة الخمسين، للعباد (ص69).
عن عبادة بن الصامت رضي الله عنه قال: يا بُنَيَّ، إنك لن تجد طعم الإيمان حتى تعلم أن ما أصابك لم يكن ليخطئك، وما أخطأك لم يكن ليصيبك، سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «إن أول ما خلق الله القلم، فقال له: اكتب. فقال: رب، وماذا أكتب؟ قال: اكتب مقادير كل شيء حتى تقوم الساعة». يا بني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «من مات على غير هذا فليس مني».
وفي رواية لأحمد: «إن أول ما خلق الله تعالى القلم، فقال له: اكتب، فجرى في تلك الساعة بما هو كائن إلى يوم القيامة».
وفي رواية لابن وهب قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «فمن لم يؤمن بالقدر خيره وشره أحرقه الله بالنار».
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: اے میرے بیٹے! تم اس وقت تک ایمان کی حلاوت محسوس نہیں کر سکتے جب تک کہ تم یہ نہ جان لو کہ جو کچھ تمہیں (اچھا یا برا) ملنا ہے وہ تمہیں مل کر ہی رہے گا اور جو تمہیں نہیں ملا وہ تمہیں مل ہی نہیں سکتا تھا۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ ”اللہ نے سب سے پہلے جس کو پیدا کیا وہ قلم ہے اور اس سے فرمایا: لکھ۔اس نے پوچھا: اے میرے رب! میں کیا لکھوں؟۔ اللہ تعالی نے فرمایا: قیامت تک ہونے والی ساری چیزوں کی تقدیریں لکھ“۔
اے میرے بیٹے! میں ںے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ ”جو شخص اس عقیدے کے بجائے کسی اور عقیدے پر مر گیا اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں“۔
مسند احمد کی روایت میں ہے کہ ”اللہ تعالی نے سب سے پہلے قلم پیدا کیا اور اسے فرمایا: لکھو ۔ چنانچہ قلم اسی وقت وہ سب کچھ لکھنے لگ گیا جو قیامت تک ہونا ہے“۔
ابن وہب سے مروی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص اچھی اور بری تقدیر پر ایمان نہ لایا اسے اللہ (دوزخ کی) آگ میں جلاے گا“۔
اسے ابنِ وھب نے اپنی کتاب ”القدر“ میں روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ اپنے بیٹے ولید کو اچھی اور بری تقدیر پر ایمان لانے کی نصیحت کر رہے ہیں اور تقدیر پر ایمان لانے سے دنیا و آخرت میں جو پاکیزہ پھل اور اچھے نتائج ملتے ہیں اور تقدیر کے انکار پر جو دنیا و آخرت کی برائیاں اورآفات جنم لیتی ہیں ان کی وضاحت کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں وہ رسول اللہ ﷺ کی اس حدیث کو بطور دلیل پیش کر رہے ہیں جس کے مطابق اللہ تعالی نے مخلوقات کے وجود میں آنے سے پہلے ہی تقدیر متعین کر دی ہے اور قلم کو اس کے لکھنے کا حکم فرما دیا ہے۔ چنانچہ قیامت آنے تک اس کائنات میں جو کچھ بھی وقوع پذیر ہو گا وہ قضاء و قدر کے مطابق ہی ہوگا۔
حوالہ
سنن أبي داود - سليمان بن الأشعث السِّجِسْتاني تحقيق: محمد محيي الدين عبد الحميد: المكتبة العصرية، صيدا - بيروت.
سنن الترمذي - محمد بن عيسى ، الترمذي، تحقيق وتعليق: أحمد محمد شاكر ومحمد فؤاد عبد الباقي وإبراهيم عطوة عوض -شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي - مصر - الطبعة: الثانية، 1395 هـ - 1975 م.
مسند الإمام أحمد بن حنبل المحقق: شعيب الأرنؤوط - عادل مرشد، وآخرون إشراف: د عبد الله بن عبد المحسن التركي مؤسسة الرسالة الطبعة: الأولى، 1421 هـ - 2001 م.
- الجديد في شرح كتاب التوحيد- محمد بن عبد العزيز السليمان القرعاوي- دارسة وتحقيق: محمد بن أحمد سيد أحمد- مكتبة السوادي، جدة، المملكة العربية السعودية- الطبعة: الخامسة، 1424هـ/2003م.
- الملخص في شرح كتاب التوحيد- صالح بن فوزان بن عبد الله الفوزان - دار العاصمة الرياض - الطبعة: الأولى 1422هـ- 2001م.
- القول المفيد على كتاب التوحيد- محمد بن صالح بن محمد العثيمين - دار ابن الجوزي، المملكة العربية السعودية- الطبعة: الثانية, محرم 1424هـ.
- القدر وما ورد في ذلك من الآثار: عبد الله بن وهب المصري - المحقق: د. عبد العزيز عبد الرحمن العثيم -دار السلطان - مكة المكرمة الطبعة: الأولى، 1406 هـ.
عن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «احتجَّ آدمُ وموسى، فقال له موسى: يا آدمُ أنت أبونا خَيَّبتنا وأخرجتَنا من الجنة، قال له آدمُ: يا موسى اصطفاك اللهُ بكلامِه، وخطَّ لك بيدِه، أتلومُني على أمرٍ قَدَّره اللهُ عليَّ قبل أنْ يخلُقَني بأربعين سنةً؟ فحَجَّ آدمُ موسى، فحَجَّ آدمُ موسى».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”آدم اور موسی علیہما السلام میں مباحثہ ہوا۔ موسی علیہ السلام نے ان سے کہا: اے آدم! آپ ہمارے باپ ہیں۔ آپ ہی ہماری محرومی کا سبب بنے اور آپ نے ہمیں جنت سے نکلوا دیا۔ (اس پر) آدم علیہ السلام نے ان سے کہا: اے موسی! آپ کو اللہ تعالیٰ نے ہم کلامی کے لیے منتخب كيا اور آپ کے لیے اپنے ہاتھ سے تورات کو لکھا۔ کیا آپ مجھے ایک ایسی بات پر ملامت کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے مجھے پیدا کرنے سے چالیس سال پہلے میری تقدیر میں لکھ دیا تھا؟ چنانچہ آدم علیہ السلام (دلیل میں) موسی علیہ السلام پر غالب آگئے۔ آدم علیہ السلام (دلیل میں) موسی علیہ السلام پر غالب آگئے“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
”آدم اور موسی علیہما السلام میں مباحثہ ہوا“ یعنی ان میں سے ہر ایک نے دوسرے کے سامنے اپنی دلیل بیان کی۔ ممکن ہے کہ ایسا موسیٰ علیہ السلام کی وفات کے بعد ہوا ہو یا پھر خواب میں ہوا ہو کیونکہ انبیاء کے خواب بھی وحی ہوتے ہیں۔ اس طرح کی بات کو تسلیم کرنا ضروری ہے، اور ہم اس کی حقیقت سے آگاہ ہونے سے قاصر ہیں۔
”موسی علیہ السلام نے کہا: اے آدم! آپ ہمارے باپ ہیں۔ آپ ہی ہماری محرومی کا سبب بنے اور آپ نے ہمیں جنت سے نکلوا دیا“ یعنی آپ اس غلطی کے سبب ہماری محرومی اور دوری کی وجہ بنے جس کی وجہ سے آپ کو جنت سے نکال دیا گیا اور پھر ہم بھی شیطانوں کے بہکاؤں کے برسرِ پیکار ہوگئے۔
”آدم علیہ السلام نے ان سے کہا: اے موسی! آپ کو اللہ تعالیٰ نے ہم کلامی کے لیے منتخب کیا“ یعنی اپنا کلام سنانے کے لیے اللہ نے آپ کو چنا۔ تمام رسولوں میں سے صرف موسی علیہ السلام کا یہ خاصہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بغیر کسی واسطے کے ان سے ہم کلام ہوا اور انہیں اپنا وه کلام سنایا جو الله کی طرف سے انہی کے ليے تھا۔
”اپنے ہاتھ سے آپ کے لیے (تورات کو) لکھا“ یعنی توریت کو اپنے ہاتھ سے آپ کے لیے لکھا۔ ہمارے اوپر واجب ہے کہ ہم اس بات پر بغیر کسی تکییف و تعطیل اور بنا کسی تحریف و تمثیل کے ایمان لائیں۔
”کیا آپ مجھے ایسی بات پر ملامت کر رہے ہیں جو اللہ نے میری تخلیق سے چالیس سال پہلے میرے لیے مقدر کر دی تھی؟“ یعنی ایک ایسی بات پر آپ مجھے کیسے ملامت کر رہے ہیں جسے اللہ نے میری تخلیق سے چالیس سال پہلے لوح محفوظ میں اور توریت کے صحیفوں اور اس کی تختیوں میں لکھ دیا تھا۔
”چنانچہ آدم علیہ السلام دلیل میں موسی علیہ السلام پر غالب آگئے“ یعنی حجت کے ذریعے ان پر غالب آ گئے۔ آدم علیہ السلام کی موسی علیہ السلام پر حجت یہ تھی کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کو جب آدم علیہ السلام کے بارے میں اس بات کا علم تھا کہ وہ جنت سے نکل کر زمین پر اتر جائیں گے تو وہ اللہ کے علم کو کیسے رد کر سکتے تھے۔ آدم علیہ السلام کی حجت غالب آ گئی کیونکہ جو شے نوشتۂ تقدیر ہو اس میں رد و بدل نہیں ہوسکتا۔ بلکہ وہ تقدیر ہوتی ہے جسے علیم و قدیر ذات نے متعین کیا ہوتا ہے چنانچہ اسے ٹالا نہیں جا سکتا اور نہ ہی اس کے واقع ہونے کے بعد اس کا ازالہ کیا جا سکتا ہے۔ اسے تسلیم کر لینے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا۔ تاہم جو شے واقع نہیں ہوئی ہے اس میں تقدیر حجت نہیں بن سکتی کیونکہ انسان کو حکم ہے کہ وہ نیک اعمال کرےاور برائی سے اجتناب کرے اور اسے نہیں معلوم کہ اس کے حق میں کون سی شے مقدر ہے یہاں تک کہ وہ واقع ہو جائے۔ جب کوئی بات واقع ہو جائے اور اس کا ٹالنا ناممکن ہو جائے تو اس وقت وہ تقدیر کے سپرد کرے اور کہے کہ: یہ اللہ کی طرف سے مقدر تھا اور اس نے جو چاہا کیا۔ اور وہ اپنے گناہ پر معافی کا طلب گار ہو اور اپنے رب سے توبہ کرے۔
چنانچہ واضح ہو گیا کہ آدم علیہ السلام موسی علیہ السلام پر اس وقت دلیل میں غالب آ گئے جب موسی علیہ السلام نے آدم علیہ السلام کو اس (خطا) پر ملامت کرنا چاہا جس کی بدولت ان کی اولاد مصیبت سے دوچار ہوئی۔ آدم علیہ السلام نے دلیل دی کہ یہ مصیبت پہلے سے ہی مقدر تھی اور اس کو واقع ہو کر ہی رہنا تھا۔ چاہے مصائب وہ ہوں جو بندوں کے افعال کی وجہ سے آتے ہیں یا ان کے علاوہ ہوں، بندے پر (ہر صورت میں) صبر و تسلیم ہی واجب ہے، تاہم اس کی بنا پر مجرم سے ملامت اور اس کی سزا ساقط نہیں ہوتی۔
حوالہ
صحيح البخاري، نشر: دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى، 1422ه.
صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، نشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت.
شرح صحيح البخاري لابن بطال، تحقيق: أبي تميم ياسر بن إبراهيم، نشر: مكتبة الرشد، الرياض-السعودية، الطبعة: الثانية 1423ه، 2003م.
عمدة القاري شرح صحيح البخاري، لمحمود بن أحمد بن موسى الحنفى بدر الدين العينى، الناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت.
المنهاج شرح صحيح مسلم بن الحجاج، للنووي، نشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت، الطبعة: الثانية، 1392ه.
شرح كتاب التوحيد من صحيح البخاري، لعبد الله بن محمد الغنيمان، الناشر: مكتبة الدار، المدينة المنورة، الطبعة: الأولى، 1405 هـ.
عن علي رضي الله عنه قال: كُنَّا في جَنَازة في بَقِيعِ الغَرْقَدِ، فَأتَانَا رسول الله صلى الله عليه وسلم فَقَعَدَ، وَقَعَدْنَا حَوْلَه ومعه مِخْصَرَةٌ فَنَكَّسَ وجعل يَنْكُتُ بِمِخْصَرَتِهِ، ثم قال: «ما مِنْكُمْ من أحَدٍ إلا وقد كُتِبَ مَقْعَدُه من النَّار ومَقْعَدُه من الجنَّة» فقالوا: يا رسول الله، أفلا نَتَّكِلُ على كِتَابِنَا؟ فقال: «اعملوا؛ فَكلٌّ مُيَسَّرٌ لما خُلِقَ له...» وذكر تمام الحديث.
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ بقیع الغرقد میں ایک جنازے میں شریک تھے۔ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشريف لائے اور بيٹھ گئے۔ ہم بھی آپ کے گرد بیٹھ گئے۔ آپ کے پاس ایک چھڑی تھی، آپ ﷺ نے سرجھکایا اور چھڑی سے زمین کو کریدنا شروع کردیا۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: تم ميں سے ہر ايک شخص کا جہنم اورجنت کا ٹھکانا لکھ دیا گیا ہے۔ لوگوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول اللہ ﷺ! کیا ہم اپنے لکھے ہوئے پر بھروسا نہ کرلیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”عمل کرو، اس لیے کہ ہر شخص کو اسی عمل کی توفیق ہوگی جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے... (اس کے بعد مکمل حديث ذکر کی)۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم ايک صحابی کے جنازہ ميں اہل مدينہ کے قبرستان ميں تھے۔ نبی ﷺ تشریف لائے اور صحابہ کے درميان بيٹھ گئے۔ آپ کے ہاتھ ميں ایک چھڑی تھی۔ آپ ﷺ نے کسی غمگين، فکرمند کی طرح اپنا سر مبارک جھکا لیا اور چھڑی سے زمین کو کریدنےلگے، پھر فرمايا: بلا شبہ اللہ نے لوگوں کی تقديريں اور جنت اور جہنم ميں ان کے ٹھکانے لکھ ديے ہيں۔
جب صحابہ نے نبی ﷺ سے يہ سنا تو عرض كيا کہ جب تقدير ميں يہ بات لکھ دی گئی ہے کہ بدبخت برا ہوگا اورنيک بخت اچھا ہوگا، نيز جو جنتی ہے جنت ميں جائے گا اور جہنمی جہنم ميں رہے گا، جب معاملہ ايسا ہےتو کيوں نہ ہم عمل کرنا چھوڑديں۔ اس ليے کہ کوشش کرنے کا کوئی فائدہ نہيں ہے، کیوں کہ ہر چيز لکھ دی گئی ہے اور مقدر کر دی گئی ہے۔
توآپ ﷺ نے انہيں جواب ديتے ہوئے ارشاد فرمايا: اعمال انجام ديتے رہو اور جو اللہ نے اچھا يا برا مقدر کرديا ہے اس پر اعتماد کرکے نہ بيٹھ جاؤ، بلکہ جس کا حکم ديا گيا ہے اس کے مطابق عمل کرو اور جس سے روکا گيا ہے اس سے بازرہو۔کیوں کہ جنت عمل ہی کے ذريعہ حاصل ہوگی اور جہنم ميں عمل ہی کے سبب جانا پڑےگا۔ چنانچہ صرف وہی شخص جہنم ميں جائے گا جو جہنميوں کا کام کرے گا اور صرف وہی شخص جنتی ہوگاجو جنتيوں والے اعمال انجام دے گا۔ ۔ہر شخصکو اس کی تقدير کے مطابق ہی اچھائی يا برائی کی توفيق ملتی ہے۔ پس جو نيک بختوں ميں سے ہوتا ہے اس کے ليے اللہ نيک بختوں کے اعمال آسان کر ديتا ہے اور جو بدبختوں ميں سے ہوتا ہے اس کے ليے اللہ بدبختوں کے اعمال آسان کر ديتا ہے۔
حوالہ
نزهة المتقين، تأليف: مصطفى الخن وآخرون، الناشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة الأولى: 1397هـ الطبعة الرابعة عشر 1407هـ.
كنوز رياض الصالحين، تأليف: حمد بن ناصر بن العمار، الناشر: دار كنوز أشبيليا، الطبعة الأولى: 1430هـ.
بهجة الناظرين، تأليف: سليم بن عيد الهلالي، الناشر: دار ابن الجوزي، سنة النشر: 1418 هـ- 1997م.
صحيح مسلم، تأليف: مسلم بن الحجاج النيسابوري، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي الناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت.
رياض الصالحين، تأليف: محيي الدين يحيى بن شرف النووي، تحقيق: د. ماهر بن ياسين الفحل، الطبعة: الأولى، 1428هـ.
صحيح البخاري، تأليف: محمد بن إسماعيل البخاري، تحقيق: محمد زهير الناصر، الناشر: دار طوق النجاة الطبعة: الأولى، 1422هـ.
دليل الفالحين، تأليف: محمد بن علان، الناشر: دار الكتاب العربي، نسخة الكترونية، لا يوجد بها بيانات نشر.
شرح رياض الصالحين، تأليف: محمد بن صالح العثيمين، الناشر: دار الوطن للنشر، الطبعة: 1426هـ.
شرح الطيبي على مشكاة المصابيح، تأليف: شرف الدين الحسين بن عبد الله الطيبي، تحقيق: د. عبد الحميد هنداوي، الناشر: مكتبة نزار مصطفى الباز، مكة المكرمة، الرياض، الطبعة الأولى، 1417 هـ - 1997م.
مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، تأليف: علي بن سلطان القاري، الناشر: دار الفكر، الطبعة: الأولى، 1422هـ.
عن عبد الله بن جعفر رضي الله عنهما : أن النبي صلى الله عليه وسلم أمهل آل جعفر ثلاثا، ثم أتاهم، فقال: «لا تبكوا على أخي بعد اليوم» ثم قال: «ادعوا لي بني أخي» فجيء بنا كأننا أفْرُخٌ فقال: «ادعوا لي الحلاق» فأمره، فحلق رؤوسنا».
عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے جعفر بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کے گھر والوں کو تین دن کی مہلت دی۔ پھر آپ ﷺ ان کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: آج کے بعد میرے بھائی پر مت رونا۔ پھر فرمایا: میرے بھتیجوں کو میرے پاس لاؤ۔ چنانچہ ہمیں لایا گیا،اس وقت ہم چوزوں کی طرح لگ رہے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: نائی کو میرے پاس بلاؤ۔ اور آپ نے اسے حکم دیا تو اس نے ہمارے سر مونڈے۔
اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
حدیث کا مفہوم: غزوہ موتہ میں جب جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی شہادت ہوئی تو نبی ﷺ نے ان کے گھر والوں کو تین دن تک(سوگ کرنے) کی مہلت دی تا کہ ان کے دلوں کو اطمینان و تسلی ہو جائےاور ان کے دلوں میں موجود رنج و غم زائل ہوجائے۔ پھر آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”آج کے بعد تم میرے بھائی پر مت رونا“۔ یعنی تین دن کے بعد آپ ﷺ نے انہیں رونے دھونے سے منع فرما دیا کیونکہ ابتدائی صدمہ اور رنج و غم کا وقت لمبا نہیں ہوتا اور نہ ہی ہمہ وقت جاری رہتا ہے۔ یہاں یہ ممانعت تنزیہی ہے کیونکہ تین دن کے بعد بھی رونا مباح ہے جب تک کہ اس کے ساتھ کسی حرام فعل کا ارتکاب نہ ہو۔
پھر آپ ﷺ نے فرمایا: میرے بھتیجوں کو میرے پاس لاؤ۔ یہ محمد، عبد اللہ اور عوف رضی اللہ عنہم تھے۔ چنانچہ ہمیں لایا گیا جب کہ ہم ایسے لگ رہے تھے جیسے چوزے ہوں۔”فرخ“ پرندے کے بچہ کو کہتے ہیں۔ ان کی یہ حالت اپنے والد کو کھو دینے پر طاری ہونے والے غم کی وجہ سے تھی۔
آپﷺ نے فرمایا: نائی کو بلاؤ۔ نائی کے آنے پر آپ ﷺ نے اسے حکم دیا تو اس نے ہمارے سر مونڈے۔ یعنی نبی ﷺ نے نائی کو ان کے سر مونڈنے کا حکم دیا۔ چنانچہ حکم کی تعمیل میں ان کے سر مونڈ دیے گئے۔ کیوں کہ نبی ﷺ نے دیکھا کہ ان کی ماں اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا اللہ کے راستے میں شہید ہو جانے والے اپنے شوہر کے غم میں مبتلا ہونے کی وجہ سے ان کے بالوں کو سنوار نہیں پا رہی ہیں تو آپ ﷺ کو اندیشہ لاحق ہوا کہ کہیں ان میں میل کچیل نہ گھر کر لے اور جوئیں نہ پڑ جائیں، لہٰذا اگر ان کو ہٹا دیا جائے تو اس میں فائدہ ومصلحت اور ان کی والدہ کے لیے راحت و سکون کا باعث ہے جو اپنے اوپر آپڑنے والی مصیبت کے سبب اپنے بچوں کے بالوں کی دیکھ بھال پر توجہ نہیں دے پارہی ہیں۔
نوٹ: یہ بات معلوم ہے کہ مصیبت کے وقت سر منڈانا جائز نہیں ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ: ”رسول اللہ ﷺ نے صالقہ، حالقہ اور شاقہ پر لعنت فرمائی“۔
حالقہ اس عورت کو کہتے ہیں جو مصیبت کے وقت اپنے بال منڈا دیتی ہے۔
شاقہ وہ عورت ہے جو کسی مصیبت کے آنے پر اپنے کپڑوں کو پھاڑتی ہے۔
اور صالقہ اس عورت کو کہا جاتا ہے جو بوقت مصیبت با آواز بلند بین کرتی ہے۔
لیکن جعفر رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد ان کے بچوں کے بال منڈانے کا مقصد یہ تھا کہ ان کی ماں ان کے سر کے بالوں کی دیکھ بھال پر توجہ نہیں دے پا رہی تھیں۔ چنانچہ نبی ﷺ کو اندیشہ لاحق ہوا کہ کہیں ان میں جوئیں نہ پڑ جائیں اس لئے آپ ﷺ نے انہیں مونڈنے کا حکم دیا۔ یہ مونڈنا مصیبت سے متاثر ہو کر نہیں تھا۔
حوالہ
نزهة المتقين، تأليف: جمعٌ من المشايخ، الناشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة الأولى: 1397 هـ الطبعة الرابعة عشر 1407 هـ
بهجة الناظرين، تأليف: سليم بن عيد الهلالي، الناشر: دار ابن الجوزي ، سنة النشر: 1418 هـ- 1997م
سنن أبي داود، تأليف: سليمان بن الأشعث السِّجِسْتاني، تحقيق: محمد محيي الدين عبد الحميد، الناشر: المكتبة العصرية، صيدا.
السنن الكبرى، تأليف: أحمد بن شعيب النسائي، تحقيق: حسن عبد المنعم شلبي، الناشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة: الأولى، 1421 هـ
رياض الصالحين، تأليف : محيي الدين يحيى بن شرف النووي ، تحقيق: د. ماهر بن ياسين الفحل ، الطبعة: الأولى، 1428 هـ
شرح رياض الصالحين، تأليف: محمد بن صالح العثيمين، الناشر: دار الوطن للنشر، الطبعة: 1426 هـ
عون المعبود شرح سنن أبي داود، تأليف: محمد شمس الحق العظيم آبادي، الناشر: دار الكتب العلمية، الطبعة: الثانية، 1415 هـ
مسند الإمام أحمد بن حنبل-المحقق: شعيب الأرنؤوط - عادل مرشد، وآخرون-إشراف: د عبد الله بن عبد المحسن التركي
الناشر: مؤسسة الرسالة-الطبعة: الأولى، 1421 هـ - 2001 م
مشكاة المصابيح، تأليف: محمد بن عبد الله، التبريزي، تحقيق : محمد ناصر الدين الألباني، الناشر: المكتب الإسلامي، الطبعة: الثالثة، 1985م
شرح سنن أبي داود، تأليف: عبد المحسن بن حمد بن عبد المحسن العباد، نسخة الإلكترونية.
عن النعمان بن بشير رضي الله عنهما قال: أُغْمِي على عبد الله بن رواحة رضي الله عنه فجعلت أُخْتُه تبكي، وتقول: واجَبَلاهُ، واكذا، واكذا: تُعَدِّدُ عليه. فقال حين أفَاق: ما قُلْتِ شيئا إلا قِيل لي أنت كذلك؟
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ پر(ایک مرتبہ کسی مرض میں) بے ہوشی طاری ہوئی تو ان کی بہن رونے لگیں ۔ اور کہنے لگیں: ہائے پہاڑ جیسے قوی و طاقتور! ہائے میرے ایسے اور ویسے! ان کے محاسن اس طرح ایک ایک کر کے شمار کرنے لگیں۔ جب عبد اللہ رضی اللہ عنہ کو ہوش آیا تو انھوں نے کہا کہ تم جب میری کسی خوبی کا بیان کرتی تھیں تو مجھ سے پوچھا جاتا تھا کہ کیا تم واقعی ایسے ہی تھے؟!
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
نعمان بن بشیر نے فرمایا کہ عبداللہ بن رواحہ بیمار ہوئے اور مرض کی شدت کی وجہ سے بے ہوش گیے۔ ان کی بہن نے جب ان کو اس حالت میں دیکھا تو سمجھا کہ وہ فوت ہو گیے ہیں تو اس نے ماتم کرتے ہوئے رونا شروع کر دیا اور یہ کہنا شروع کر دیا ’واجبلاہ‘ یعنی گویا وہ ان کے لیے ایک پہاڑ کی مانند تھے کہ جس میں پہاڑی راستے پر کسی حادثہ کی صورت میں بچاؤ کے لیے ــــــــــــ پناہ لی جا سکتی ہو۔ اس طرح اُس نے اُن کے مختلف امور کی نسبت اور اُن کے محاسن و خصوصیات کا تذکرہ دورِ جاہلیت کے انداز میں شروع کر دیا۔ جب انھیں اپنی بے ہوشی سے افاقہ ہوا تو انھوں نے اپنی بہن کو بتایا کہ انھیں کیا تکلیف پہنچی تھی۔ انہیں یہ کہا گیا کہ:کیا تو پہاڑ ہے جس سے پناہ لی جاتی ہے؟ کیا تو ایسا ایسا ہے جیسے تیرے اوصاف اور خوبیاں بیان کی جار ہی ہیں؟ اپنی بے ہوشی کی کیفیت کے متعلق اپنی بہن کو بتایا اور یہ انداز دھمکانے اور سخت وعید کرنے کے قبیل سے ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ جب آپ فوت ہوئے تو انھوں نے ماتم نہ کیا اور لوگوں کو بھی ماتم نہ کرنے کی نصیحت کی۔
حوالہ
- صحيح البخاري –الجامع الصحيح-؛ للإمام أبي عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري، عناية محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة، الطبعة الأولى، 1422هـ.
- كنوز رياض الصالحين،لحمد بن ناصر العمار، دار كنوز إشبيليا- الطبعة الأولى1430ه.
- شرح رياض الصالحين؛ للشيخ محمد بن صالح العثيمين، مدار الوطن، الرياض، 1426هـ.
- فتح الباري شرح صحيح البخاري- أحمد بن علي بن حجر العسقلاني الشافعي- دار المعرفة - بيروت،رقم كتبه وأبوابه وأحاديثه: محمد فؤاد عبد الباقي- قام بإخراجه وصححه وأشرف على طبعه: محب الدين الخطيب- عليه تعليقات العلامة: عبد العزيز بن عبد الله بن باز.
- عمدة القاري شرح صحيح البخاري/بدر الدين العينى -دار إحياء التراث العربي – بيروت-بدون تاريخ.
- دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين؛ لمحمد بن علان الشافعي،تحقيق خليل مأمون شيحا-دار المعرفة-بيروت-الطبعة الرابعة1425ه.
- بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين؛ تأليف سليم الهلالي، دار ابن الجوزي- الطبعة الأولى1418ه
- نزهة المتقين شرح رياض الصالحين؛ تأليف د. مصطفى الخِن وغيره، مؤسسة الرسالة-بيروت، الطبعة الرابعة عشرة، 1407هـ.
عن عبد الله بن عمرو رضي الله عنهما قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «إنَّ اللهَ عزَّ وجلَّ خلق خَلْقَه في ظُلْمة، فألقى عليهم من نوره، فمَن أصابه مِن ذلك النور اهتدى، ومَن أخطأه ضلَّ»، فلذلك أقول: جَفَّ القلم على علم الله.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کوفرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنی مخلوق کو تاریکی میں پیدا کیا پھر ان پر اپنا نور ڈالا (یعنی اپنے نور کا پرتو) تو جس پر یہ نور پڑ گیا وہ ہدایت یاب ہوگیا اور جس پر نور نہ پڑا (تجاوز کرگیا) تو وہ گمراہ ہوگیا، اسی لیے میں کہتا ہوں کہ اللہ کے علم پر(تقدیر کا) قلم خشک ہو چکا ہے۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
اس حدیث میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کو تاریکی میں پید ا کیا، پھر ان پر اپنے نور میں سےکچھ ڈالا۔ جس کو یہ نور مل گیا اسے جنت کی راہ مل گئی اور جس سے وہ نور چوک گیا اور تجاوز کر گیا اور اُس تک نور نہیں پہنچ سکا تو وہ گمراہ ہو گیا اور حق کے راستے سے بھٹک گیا۔ کیوں کہ ہدایت و گمراہی ہر دو کی توفیق اللہ کے علم میں ہے۔ اس نے روز اول سے جو فیصلے کر دیے ہیں ان میں کوئی تغیر و تبدل نہیں آسکتا۔ اور قلم کا خشک ہو جانا اسی سے عبارت ہے۔
حوالہ
سنن الترمذي، نشر: شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي – مصر، الطبعة: الثانية، 1395هـ - 1975م.
مسند الإمام أحمد بن حنبل، تحقيق: شعيب الأرنؤوط - عادل مرشد، وآخرون، نشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة: الأولى، 1421هـ - 2001م.
صحيح الجامع الصغير وزياداته، للألباني، نشر: المكتب الإسلامي.
تحفة الأحوذي بشرح جامع الترمذي- أبو العلا محمد عبد الرحمن المباركفورى -الناشر: دار الكتب العلمية - بيروت.
فقه الأسماء الحسنى -عبد الرزاق العباد -دارالتوحيد -الرياض.
عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہيں : رسول اللہ ﷺ، جو صادق اور مصدوق ہیں، نے بیان فرمایا: ’’تم میں سے ہر ایک کی پیدائش کی بنیاد اس کی ماں کے پیٹ میں (نطفہ امتزاج کی شکل میں) چالیس دن اور چالیس رات تک رہتی ہے۔ پھر اتنے ہی دنوں تک گاڑھے اور جامد خون کی صورت میں رہتی ہے۔ اس کے بعد اتنے ہی دنوں تک گوشت کے لوتھڑے کی شکل اختیار کرلیتی ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ ایک فرشتے کو چار باتوں کا حکم دے کر بھیجتا ہے۔ وہ اس کی روزی، اس کی موت، اس کا عمل و کردار، اور اس کا نیک بخت یا بدبخت ہونا لکھتا ہے۔ اس کے بعد اس میں روح پھونک دی جاتی ہے۔ کوئی شخص زندگی بھر اہل جنت کے عمل کرتا ہے اور جب اس کے اور جنت کے درمیان صرف ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے تو لکھی ہوئی تقدیر اس کے آگے آجاتی ہے اور وہ اہل جہنم کے عمل کرکے جہنم میں داخل ہوجاتا ہے۔ اسی طرح کوئی شخص زندگی بھر اہل جہنم کے عمل کرتا ہے اور جب اس کے اور جہنم کے درمیان صرف ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے تو لکھی ہوئی تقدیر اس کے آگے آجاتی ہے اور وہ اہل جنت کے عمل کرکے جنت میں داخل ہو جاتا ہے۔‘‘
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا، جو کہ اپنے قول میں سچے ہیں اور مصدوق بھی ہیں کہ اللہ تعالی نے آپ کو صادق قرار دیا ہے۔ آپ نے فرمایا: تم میں سے ہرایک کی پیدائش کی بنیاد اس کی ماں کے پیٹ میں (نطفہ امتزاج کی شکل میں) جمع کی جاتی ہے، بایں طور کہ انسان جب اپنی بیوی سے جماع کرتا ہے تو اس کی بکھری ہوئی منی عورت کے شکم میں چالیس دن تک نطفے کی شکل میں جمع کی جاتی ہے۔ پھر وہ نطفہ علقہ میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ یعنی گاڑھے اور جامد خون کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ دوسری چالیسویں دن تک یہی شکل رہتی ہے۔ پھر وہ مضغہ بن جاتا ہے۔ یعنی گوشت کے ٹکڑے کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ گوشت کا اتنا بڑا ٹکڑا، جسے ایک بار میں چبایا جا سکے۔ تیسرے چالیس دنوں میں یہی شکل رہتی ہے۔ پھر اس کے پاس اللہ تعالی فرشتہ بھیجتا ہے، جو تیسرے چالیسویں دن ختم ہونے کے بعد اس میں روح پھونکتا ہے۔ اس فرشتہ کو حکم دیا جاتا ہے کہ وہ چار چیزیں لکھ دے۔ اس کا رزق یعنی وہ اپنی عمر میں کس قدر نعمتیں حاصل کرنے والا ہے، لکھا جاتا ہے۔ اس کی موت لکھی جاتی ہے۔ یعنی دنیا میں وہ کتنی مدت تک رہنے والا ہے۔ اس کا عمل لکھا جاتا ہے کہ وہ کیا عمل کرے گا اور یہ کہ وہ بد بخت ہوگا یا خوش بخت؟ پھر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھا کر بتایا کہ انسان بظاہر لوگوں کی نظر میں جنتیوں کا عمل کرتا رہتا ہے اور نیک عمل میں منہمک رہتا ہے، وہ اسی حال میں رہتا ہے یہاں تک کہ اس کے اور جنت کے درمیان صرف ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے۔ یعنی جنت تک پہنچنے میں صرف اتنی ہی مسافت رہ جاتی ہے جتنی ایک ہاتھ زمین کی ہوتی ہے کہ اچانک لکھی ہوئی تقدیر اس پر غالب آجاتی ہے اور وہ جہنمیوں کا عمل کرنے لگتا ہے اور اس کا خاتمہ اسی عمل پر ہوتا ہے۔ چناں چہ وہ جہنم رسید ہوجاتا ہے۔ کیوں کہ عمل کی قبولیت کے لیے شرط ہے کہ انسان اس پر ثابت قدم رہے اور بدلے نہیں۔ جب کہ دوسرا انسان وہ ہے جو جہنمیوں کا عمل کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ جہنم میں داخل ہونے کے قریب پہنچ جاتا ہے۔ گویا اس کے اور جہنم کے درمیان صرف ایک ہاتھ زمین کا فاصلہ رہ گیا ہو۔ پھر اس پر لکھی ہوئی تقدیر غالب آجاتی ہے۔ چنانچہ وہ جنتیوں کا عمل کرنے لگتا ہے اور جنت میں داخل ہوجاتا ہے۔
فوائد
تمام معاملات کا آخری انجام اللہ کى طے کئى ہوئى تقدیر وقضاء کے مطابق ہوتا ہے۔
اعمال کی ظاہری شکل وصورت دیکھ کر دھوکا کھانے سے منع کیا گیا ہے، کیوں کہ تمام اعمال کا اعتبار ان کے خاتمے سے ہوتا ہے۔
حوالہ
صحيح البخاري (9/ 135) (7454)، (4/ 111) (3208)، صحيح مسلم (4/ 2036) (2643)، عمدة القاري شرح صحيح البخاري (15/ 130)، شرح الأربعين النووية للعثيمين (ص: 84).
یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com