اس حدیث میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کو تاریکی میں پید ا کیا، پھر ان پر اپنے نور میں سےکچھ ڈالا۔ جس کو یہ نور مل گیا اسے جنت کی راہ مل گئی اور جس سے وہ نور چوک گیا اور تجاوز کر گیا اور اُس تک نور نہیں پہنچ سکا تو وہ گمراہ ہو گیا اور حق کے راستے سے بھٹک گیا۔ کیوں کہ ہدایت و گمراہی ہر دو کی توفیق اللہ کے علم میں ہے۔ اس نے روز اول سے جو فیصلے کر دیے ہیں ان میں کوئی تغیر و تبدل نہیں آسکتا۔ اور قلم کا خشک ہو جانا اسی سے عبارت ہے۔
سنن الترمذي، نشر: شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي – مصر، الطبعة: الثانية، 1395هـ - 1975م. مسند الإمام أحمد بن حنبل، تحقيق: شعيب الأرنؤوط - عادل مرشد، وآخرون، نشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة: الأولى، 1421هـ - 2001م. صحيح الجامع الصغير وزياداته، للألباني، نشر: المكتب الإسلامي. تحفة الأحوذي بشرح جامع الترمذي- أبو العلا محمد عبد الرحمن المباركفورى -الناشر: دار الكتب العلمية - بيروت. فقه الأسماء الحسنى -عبد الرزاق العباد -دارالتوحيد -الرياض.