سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ پر (ایک مرتبہ کسی مرض میں) بے ہوشی طاری ہوئی تو ان کی بہن رونے لگیں۔ اور کہنے لگیں: ہائے پہاڑ جیسے قوی و طاقتور! ہائے میرے ایسے اور ویسے! ان کے محاسن اس طرح ایک ایک کر کے شمار کرنے لگیں۔ جب عبد اللہ رضی اللہ عنہ کو ہوش آیا تو انھوں نے کہا کہ تم جب میری کسی خوبی کا بیان کرتی تھیں تو مجھ سے پوچھا جاتا تھا کہ کیا تم واقعی ایسے ہی تھے؟!

عن النعمان بن بشير رضي الله عنهما قال: أُغْمِي على عبد الله بن رواحة رضي الله عنه فجعلت أُخْتُه تبكي، وتقول: واجَبَلاهُ، واكذا، واكذا: تُعَدِّدُ عليه. فقال حين أفَاق: ما قُلْتِ شيئا إلا قِيل لي أنت كذلك؟
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ پر(ایک مرتبہ کسی مرض میں) بے ہوشی طاری ہوئی تو ان کی بہن رونے لگیں ۔ اور کہنے لگیں: ہائے پہاڑ جیسے قوی و طاقتور! ہائے میرے ایسے اور ویسے! ان کے محاسن اس طرح ایک ایک کر کے شمار کرنے لگیں۔ جب عبد اللہ رضی اللہ عنہ کو ہوش آیا تو انھوں نے کہا کہ تم جب میری کسی خوبی کا بیان کرتی تھیں تو مجھ سے پوچھا جاتا تھا کہ کیا تم واقعی ایسے ہی تھے؟!
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

نعمان بن بشیر نے فرمایا کہ عبداللہ بن رواحہ بیمار ہوئے اور مرض کی شدت کی وجہ سے بے ہوش گیے۔ ان کی بہن نے جب ان کو اس حالت میں دیکھا تو سمجھا کہ وہ فوت ہو گیے ہیں تو اس نے ماتم کرتے ہوئے رونا شروع کر دیا اور یہ کہنا شروع کر دیا ’واجبلاہ‘ یعنی گویا وہ ان کے لیے ایک پہاڑ کی مانند تھے کہ جس میں پہاڑی راستے پر کسی حادثہ کی صورت میں بچاؤ کے لیے ــــــــــــ پناہ لی جا سکتی ہو۔ اس طرح اُس نے اُن کے مختلف امور کی نسبت اور اُن کے محاسن و خصوصیات کا تذکرہ دورِ جاہلیت کے انداز میں شروع کر دیا۔ جب انھیں اپنی بے ہوشی سے افاقہ ہوا تو انھوں نے اپنی بہن کو بتایا کہ انھیں کیا تکلیف پہنچی تھی۔ انہیں یہ کہا گیا کہ:کیا تو پہاڑ ہے جس سے پناہ لی جاتی ہے؟ کیا تو ایسا ایسا ہے جیسے تیرے اوصاف اور خوبیاں بیان کی جار ہی ہیں؟ اپنی بے ہوشی کی کیفیت کے متعلق اپنی بہن کو بتایا اور یہ انداز دھمکانے اور سخت وعید کرنے کے قبیل سے ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ جب آپ فوت ہوئے تو انھوں نے ماتم نہ کیا اور لوگوں کو بھی ماتم نہ کرنے کی نصیحت کی۔

حوالہ

- صحيح البخاري –الجامع الصحيح-؛ للإمام أبي عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري، عناية محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة، الطبعة الأولى، 1422هـ. - كنوز رياض الصالحين،لحمد بن ناصر العمار، دار كنوز إشبيليا- الطبعة الأولى1430ه. - شرح رياض الصالحين؛ للشيخ محمد بن صالح العثيمين، مدار الوطن، الرياض، 1426هـ. - فتح الباري شرح صحيح البخاري- أحمد بن علي بن حجر العسقلاني الشافعي- دار المعرفة - بيروت،رقم كتبه وأبوابه وأحاديثه: محمد فؤاد عبد الباقي- قام بإخراجه وصححه وأشرف على طبعه: محب الدين الخطيب- عليه تعليقات العلامة: عبد العزيز بن عبد الله بن باز. - عمدة القاري شرح صحيح البخاري/بدر الدين العينى -دار إحياء التراث العربي – بيروت-بدون تاريخ. - دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين؛ لمحمد بن علان الشافعي،تحقيق خليل مأمون شيحا-دار المعرفة-بيروت-الطبعة الرابعة1425ه. - بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين؛ تأليف سليم الهلالي، دار ابن الجوزي- الطبعة الأولى1418ه - نزهة المتقين شرح رياض الصالحين؛ تأليف د. مصطفى الخِن وغيره، مؤسسة الرسالة-بيروت، الطبعة الرابعة عشرة، 1407هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
قضاء و قدر کے مراتب

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com