حدیث کا مفہوم: غزوہ موتہ میں جب جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی شہادت ہوئی تو نبی ﷺ نے ان کے گھر والوں کو تین دن تک(سوگ کرنے) کی مہلت دی تا کہ ان کے دلوں کو اطمینان و تسلی ہو جائےاور ان کے دلوں میں موجود رنج و غم زائل ہوجائے۔ پھر آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”آج کے بعد تم میرے بھائی پر مت رونا“۔ یعنی تین دن کے بعد آپ ﷺ نے انہیں رونے دھونے سے منع فرما دیا کیونکہ ابتدائی صدمہ اور رنج و غم کا وقت لمبا نہیں ہوتا اور نہ ہی ہمہ وقت جاری رہتا ہے۔ یہاں یہ ممانعت تنزیہی ہے کیونکہ تین دن کے بعد بھی رونا مباح ہے جب تک کہ اس کے ساتھ کسی حرام فعل کا ارتکاب نہ ہو۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: میرے بھتیجوں کو میرے پاس لاؤ۔ یہ محمد، عبد اللہ اور عوف رضی اللہ عنہم تھے۔ چنانچہ ہمیں لایا گیا جب کہ ہم ایسے لگ رہے تھے جیسے چوزے ہوں۔”فرخ“ پرندے کے بچہ کو کہتے ہیں۔ ان کی یہ حالت اپنے والد کو کھو دینے پر طاری ہونے والے غم کی وجہ سے تھی۔ آپﷺ نے فرمایا: نائی کو بلاؤ۔ نائی کے آنے پر آپ ﷺ نے اسے حکم دیا تو اس نے ہمارے سر مونڈے۔ یعنی نبی ﷺ نے نائی کو ان کے سر مونڈنے کا حکم دیا۔ چنانچہ حکم کی تعمیل میں ان کے سر مونڈ دیے گئے۔ کیوں کہ نبی ﷺ نے دیکھا کہ ان کی ماں اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا اللہ کے راستے میں شہید ہو جانے والے اپنے شوہر کے غم میں مبتلا ہونے کی وجہ سے ان کے بالوں کو سنوار نہیں پا رہی ہیں تو آپ ﷺ کو اندیشہ لاحق ہوا کہ کہیں ان میں میل کچیل نہ گھر کر لے اور جوئیں نہ پڑ جائیں، لہٰذا اگر ان کو ہٹا دیا جائے تو اس میں فائدہ ومصلحت اور ان کی والدہ کے لیے راحت و سکون کا باعث ہے جو اپنے اوپر آپڑنے والی مصیبت کے سبب اپنے بچوں کے بالوں کی دیکھ بھال پر توجہ نہیں دے پارہی ہیں۔ نوٹ: یہ بات معلوم ہے کہ مصیبت کے وقت سر منڈانا جائز نہیں ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ: ”رسول اللہ ﷺ نے صالقہ، حالقہ اور شاقہ پر لعنت فرمائی“۔ حالقہ اس عورت کو کہتے ہیں جو مصیبت کے وقت اپنے بال منڈا دیتی ہے۔ شاقہ وہ عورت ہے جو کسی مصیبت کے آنے پر اپنے کپڑوں کو پھاڑتی ہے۔ اور صالقہ اس عورت کو کہا جاتا ہے جو بوقت مصیبت با آواز بلند بین کرتی ہے۔ لیکن جعفر رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد ان کے بچوں کے بال منڈانے کا مقصد یہ تھا کہ ان کی ماں ان کے سر کے بالوں کی دیکھ بھال پر توجہ نہیں دے پا رہی تھیں۔ چنانچہ نبی ﷺ کو اندیشہ لاحق ہوا کہ کہیں ان میں جوئیں نہ پڑ جائیں اس لئے آپ ﷺ نے انہیں مونڈنے کا حکم دیا۔ یہ مونڈنا مصیبت سے متاثر ہو کر نہیں تھا۔
نزهة المتقين، تأليف: جمعٌ من المشايخ، الناشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة الأولى: 1397 هـ الطبعة الرابعة عشر 1407 هـ بهجة الناظرين، تأليف: سليم بن عيد الهلالي، الناشر: دار ابن الجوزي ، سنة النشر: 1418 هـ- 1997م سنن أبي داود، تأليف: سليمان بن الأشعث السِّجِسْتاني، تحقيق: محمد محيي الدين عبد الحميد، الناشر: المكتبة العصرية، صيدا. السنن الكبرى، تأليف: أحمد بن شعيب النسائي، تحقيق: حسن عبد المنعم شلبي، الناشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة: الأولى، 1421 هـ رياض الصالحين، تأليف : محيي الدين يحيى بن شرف النووي ، تحقيق: د. ماهر بن ياسين الفحل ، الطبعة: الأولى، 1428 هـ شرح رياض الصالحين، تأليف: محمد بن صالح العثيمين، الناشر: دار الوطن للنشر، الطبعة: 1426 هـ عون المعبود شرح سنن أبي داود، تأليف: محمد شمس الحق العظيم آبادي، الناشر: دار الكتب العلمية، الطبعة: الثانية، 1415 هـ مسند الإمام أحمد بن حنبل-المحقق: شعيب الأرنؤوط - عادل مرشد، وآخرون-إشراف: د عبد الله بن عبد المحسن التركي الناشر: مؤسسة الرسالة-الطبعة: الأولى، 1421 هـ - 2001 م مشكاة المصابيح، تأليف: محمد بن عبد الله، التبريزي، تحقيق : محمد ناصر الدين الألباني، الناشر: المكتب الإسلامي، الطبعة: الثالثة، 1985م شرح سنن أبي داود، تأليف: عبد المحسن بن حمد بن عبد المحسن العباد، نسخة الإلكترونية.