عن عبادة بن الصامت رضي الله عنه قال: يا بُنَيَّ، إنك لن تجد طعم الإيمان حتى تعلم أن ما أصابك لم يكن ليخطئك، وما أخطأك لم يكن ليصيبك، سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «إن أول ما خلق الله القلم، فقال له: اكتب. فقال: رب، وماذا أكتب؟ قال: اكتب مقادير كل شيء حتى تقوم الساعة». يا بني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «من مات على غير هذا فليس مني».
وفي رواية لأحمد: «إن أول ما خلق الله تعالى القلم، فقال له: اكتب، فجرى في تلك الساعة بما هو كائن إلى يوم القيامة».
وفي رواية لابن وهب قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «فمن لم يؤمن بالقدر خيره وشره أحرقه الله بالنار».
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: اے میرے بیٹے! تم اس وقت تک ایمان کی حلاوت محسوس نہیں کر سکتے جب تک کہ تم یہ نہ جان لو کہ جو کچھ تمہیں (اچھا یا برا) ملنا ہے وہ تمہیں مل کر ہی رہے گا اور جو تمہیں نہیں ملا وہ تمہیں مل ہی نہیں سکتا تھا۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ ”اللہ نے سب سے پہلے جس کو پیدا کیا وہ قلم ہے اور اس سے فرمایا: لکھ۔اس نے پوچھا: اے میرے رب! میں کیا لکھوں؟۔ اللہ تعالی نے فرمایا: قیامت تک ہونے والی ساری چیزوں کی تقدیریں لکھ“۔
اے میرے بیٹے! میں ںے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ ”جو شخص اس عقیدے کے بجائے کسی اور عقیدے پر مر گیا اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں“۔
مسند احمد کی روایت میں ہے کہ ”اللہ تعالی نے سب سے پہلے قلم پیدا کیا اور اسے فرمایا: لکھو ۔ چنانچہ قلم اسی وقت وہ سب کچھ لکھنے لگ گیا جو قیامت تک ہونا ہے“۔
ابن وہب سے مروی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص اچھی اور بری تقدیر پر ایمان نہ لایا اسے اللہ (دوزخ کی) آگ میں جلاے گا“۔
اسے ابنِ وھب نے اپنی کتاب ”القدر“ میں روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ اپنے بیٹے ولید کو اچھی اور بری تقدیر پر ایمان لانے کی نصیحت کر رہے ہیں اور تقدیر پر ایمان لانے سے دنیا و آخرت میں جو پاکیزہ پھل اور اچھے نتائج ملتے ہیں اور تقدیر کے انکار پر جو دنیا و آخرت کی برائیاں اورآفات جنم لیتی ہیں ان کی وضاحت کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں وہ رسول اللہ ﷺ کی اس حدیث کو بطور دلیل پیش کر رہے ہیں جس کے مطابق اللہ تعالی نے مخلوقات کے وجود میں آنے سے پہلے ہی تقدیر متعین کر دی ہے اور قلم کو اس کے لکھنے کا حکم فرما دیا ہے۔ چنانچہ قیامت آنے تک اس کائنات میں جو کچھ بھی وقوع پذیر ہو گا وہ قضاء و قدر کے مطابق ہی ہوگا۔
حوالہ
سنن أبي داود - سليمان بن الأشعث السِّجِسْتاني تحقيق: محمد محيي الدين عبد الحميد: المكتبة العصرية، صيدا - بيروت.
سنن الترمذي - محمد بن عيسى ، الترمذي، تحقيق وتعليق: أحمد محمد شاكر ومحمد فؤاد عبد الباقي وإبراهيم عطوة عوض -شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي - مصر - الطبعة: الثانية، 1395 هـ - 1975 م.
مسند الإمام أحمد بن حنبل المحقق: شعيب الأرنؤوط - عادل مرشد، وآخرون إشراف: د عبد الله بن عبد المحسن التركي مؤسسة الرسالة الطبعة: الأولى، 1421 هـ - 2001 م.
- الجديد في شرح كتاب التوحيد- محمد بن عبد العزيز السليمان القرعاوي- دارسة وتحقيق: محمد بن أحمد سيد أحمد- مكتبة السوادي، جدة، المملكة العربية السعودية- الطبعة: الخامسة، 1424هـ/2003م.
- الملخص في شرح كتاب التوحيد- صالح بن فوزان بن عبد الله الفوزان - دار العاصمة الرياض - الطبعة: الأولى 1422هـ- 2001م.
- القول المفيد على كتاب التوحيد- محمد بن صالح بن محمد العثيمين - دار ابن الجوزي، المملكة العربية السعودية- الطبعة: الثانية, محرم 1424هـ.
- القدر وما ورد في ذلك من الآثار: عبد الله بن وهب المصري - المحقق: د. عبد العزيز عبد الرحمن العثيم -دار السلطان - مكة المكرمة الطبعة: الأولى، 1406 هـ.
یہ حدیث HadeethEnc.com پر