سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

مومن مرد اور مومن عورت پر اس کی جان، اولاد اور مال میں مصائب آتے رہتے ہیں، یہاں تک کہ وہ اس حال میں اللہ سے ملتا ہے کہ اس کا کوئی گناہ باقی نہيں رہ جاتا"۔

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا يَزَالُ البَلاَءُ بِالمُؤْمِنِ وَالمُؤْمِنَةِ فِي نَفْسِهِ وَوَلَدِهِ وَمَالِهِ حَتَّى يَلْقَى اللَّهَ وَمَا عَلَيْهِ خَطِيئَةٌ».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: "مومن مرد اور مومن عورت پر اس کی جان، اولاد اور مال میں مصائب آتے رہتے ہیں، یہاں تک کہ وہ اس حال میں اللہ سے ملتا ہے کہ اس کا کوئی گناہ باقی نہيں رہ جاتا"۔
رواه الترمذي وأحمددرجہحسن
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہيں کہ آزمائشیں کبھی مومن مرد و عورت کا پیچھا نہيں چھوڑتیں۔ آزمائش کبھی اس کی جان سے جڑی ہوتی ہے، جیسے طبیعت خراب ہو گئی اور جسم ٹھیک نہیں رہا۔ کبھی بال بچوں سے جڑی ہوتی ہے، جیسے کوئی بیمار ہو گیا، کوئی فوت ہو گیا یا کوئی نافرمان نکل گیا وغیرہ وغیرہ۔ کبھی مال سے جڑی ہوئی ہوتی ہے، جیسے محتاجی کا سامنا کرنا پڑا، تجارت بیٹھ گئی، چوری ہو گئی، کساد بازاری کا دور آگیا اور روزی میں تنگی کا سامنا کرنا پڑ گيا۔ ان آزما‎ئشوں کے نتیجے میں اللہ بندے کے تمام گناہوں کو مٹا دیتا ہے اور آخر میں جب وہ اللہ سے ملتا ہے، تو اپنے کیے ہوئے تمام گناہوں سے پاک و صاف ہو چکا ہوتا ہے۔

فوائد
  1. مومن بندوں پر اللہ کے رحم و کرم کا ایک پہلو یہ ہے کہ وہ دنیا کی مصیبتوں اور آفتوں کے ذریعے دنیا میں کیے ہوئے ان کے گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔
  2. مصیبت گناہوں کو مٹانے کا کام کرتی ہے۔ بشرط یہ کہ انسان صاحب ایمان ہو۔ بندہ صبر سے کام لے اور اللہ کے فیصلے سے ناراض نہ رہے، تو اجر ملتا ہی ہے۔
  3. تمام امور میں صبر کی ترغیب۔ پسندیدہ میں بھی اور ناپسندیدہ میں بھی۔ بندہ اللہ کے واجب کردہ کاموں کی انجام دہی میں صبر سے کام لے اور اس کے حرام کردہ امور سے دور رہنے میں صبر سے کام لے۔ اللہ کے ثواب کی امید رکھے اور اس کے عقاب سے ڈرتا رہے۔
  4. نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے الفاظ "بالمؤمن والمؤمنة" میں لفظ "مومنہ" کا اضافہ عورت کے حق میں تاکید کے طور پر ہوا ہے۔ ورنہ اگر صرف "مومن" کہتے، تب بھی اس میں "مومنہ" داخل ہو جاتی۔ کیوں کہ لفظ "مومن" مرد کے ساتھ خاص نہیں ہے۔ چناں چہ اگر عورت کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو اس سے بھی گناہوں اور خطاؤں کے کفارے کے لیے اسی بدلے کا وعدہ کیا گیا ہے۔
  5. مصائب کے نتیجے میں ملنے والے اجر و ثواب کا وعدہ انسان کے لیے مصائب کا سامنا کرنا آسان کر دیتا ہے۔
حوالہ

سنن الترمذي (4/ 204) (2399). مسند أحمد (13/ 248) (7859). بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (1/ 113). تطريز رياض الصالحين، لفيصل آل مبارك (ص51). شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (1/ 273). نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (1/ 80).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
قضا و قدر پر ایمان

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com