سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

”بے شک اللہ تعالیٰ نے میری خاطر میری امت سے غلطی، بھول چوک اور مجبوراً کرائے گئے کام کو معاف کر دیا ہے۔“

عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إنَّ اللَّهَ تَجَاوَزَ لِي عَنْ أُمَّتِي الخَطَأَ وَالنِّسْيَانَ وَمَا اسْتُكْرِهُوا عَلَيْهِ».
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ نے میری خاطر میری امت سے غلطی، بھول چوک اور مجبوراً کرائے گئے کام کو معاف کر دیا ہے۔“
اسے ابن ماجہ اور بیہقی وغیرہ نے روایت کیا ہے۔درجہنووی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
تشریح

اللہ کے نبی ﷺ بتا رہے ہیں کہ اللہ نے آپ کی امت سے درج ذیل تین احوال میں ہونے والے گناہوں کو معاف کر دیا ہے: 1- غلطی سے ہونے والے گناہ۔ یعنی ایسے گناہ جو بالارادہ نہ کیے گئے ہوں۔ مثلا کوئی مسلمان کوئی کام کرنے کا ارادہ کرے، لیکن اس سے کچھ اور ہو جائے۔ 2- بھول چوک سے ہونے والے گناہ۔ یعنی کسی مسلمان کو کوئی بات یاد تو ہو، لیکن جب کرنے کا وقت آئے، تو بھول جائے۔ ایسا ہونے پر کوئی گناہ نہيں ہے۔ 3- زور زبردستی سے کرایا گیا گناہ۔ کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ انسان کو کوئی ایسا کام کرنے پر مجبور کر دیا جاتا ہے، جسے وہ کرنا نہیں چاہتا اور اس کے پاس حالات کا مقابلہ کرنے کی طاقت بھی نہیں ہوتی۔ اس طرح کی صورت حال میں اسے کوئی گناہ نہیں ہوگا۔ یہاں یہ یاد رہے کہ اس حدیث کا تعلق ایسے گناہ سے ہے، جن کا تعلق بندہ اور اس کے رب سے ہو۔ کسی مامور فعل کو بھول جانے سے وہ ساقط نہيں ہو جاتا۔ اسی طرح اگر کسی کے بھول کر کوئی کام کردینے سے کسی مخلوق کا کچھ نقصان ہو جائے، تو مخلوق کا حق ساقط نہيں ہوگا۔ مثلا غلطی سے کسی کا قتل کر دے، تو دیت دینی ہوگی۔ اسی طرح کسی کی گاڑی کا نقصان کر دے، تو اس کا ہرجانہ دینا ہوگا۔

فوائد
  1. بندوں پر اللہ کا بے پایاں لطف وکرم کہ اس نے مذکورہ احوال میں صادر ہونے والے گناہوں سے درگزر فرمایا ہے۔
  2. محمد عربی ﷺ اور آپ کی امت پر اللہ کا فضل وکرم۔
  3. گناہ نہ ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ حکم نافذ نہيں ہوگا اور ہرجانہ نہيں بھرنا پڑے گا۔ مثلا کوئی وضو کرنا بھول گیا اور یہ سمجھ کر کہ باوضو ہے، نماز پڑھ لی، تو اسے کوئی گناہ تو نہيں ہوگا، لیکن وضو کر کے دوبارہ نماز پڑھنی پڑے گی۔
  4. زور زبردستی کی صورت میں گناہ نہ ہونے کے لیے اس کی شرطوں کا پایا جانا ضروری ہے۔ مثلا زبردستی کرنے والا وہ کام کرنے پر قادر بھی ہو، جس کی دھمکی وہ دے رہا ہے۔
حوالہ

الأربعون النووية (ص127) (ح39). سنن ابن ماجه (3/ 200) (2045). السنن الكبرى للبيهقي (7/ 584) (15094). التحفة الربانية في شرح الأربعين حديثًا النووية، لإسماعيل الأنصاري (ص89). شرح الأربعين النووية، لابن عثيمين (ص382).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
اللہ عز و جل پر ایمان

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com