سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

توحیدِ اُلوہیت

42 احادیث

اللہ عز و جل تمھیں اپنے باپ دادوں کی قسم کھانے سے منع کرتا ہے

عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَنْهَاكُمْ أَنْ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ»، قَالَ عُمَرُ: فَوَاللهِ مَا حَلَفْتُ بِهَا مُنْذُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهَا ذَاكِرًا وَلَا آثِرًا.
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "اللہ عز و جل تمھیں اپنے باپ دادوں کی قسم کھانے سے منع کرتا ہے۔" عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : اللہ کی قسم! جب سے میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو اس سے منع کرتے سنا ہے، کبھی باپ دادوں کی قسم نہیں کھائی۔ نہ جان بوجھ کر اور نہ کسی کی قسم نقل کرتے ہوئے۔
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ اللہ تعالی نے باپ دادوں کی قسم کھانے سے منع کیا ہے۔ لہذا جسے قسم کھانی ہو، وہ اللہ کی قسم کھائے۔ کسی اور کی نہیں۔ بعد ازاں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ جس دن سے انھوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو باپ دادوں کی قسم کھانے سے منع کرتے ہوئے سنا ہے، انھوں نے باپ دادوں کی قسم نہيں کھائی ہے۔ نہ جان بوجھ کر اور نہ کسی دوسرے کے ذریعے غیراللہ کی کھائی ہوئی قسم کو نقل کرتے ہوئے۔

فوائد
  1. اللہ کے علاوہ کسی اور کی قسم کھانا حرام ہے۔ آپ نے یہاں باپ دادوں کا ذکر اس لیے کیا ہے کہ زمانۂ جاہلیت میں باپ دادوں کی قسم کھانا ایک عام بات تھی۔
  2. عربی لفظ "الحَلِف" کے معنی ہیں، کسی بات کی تاکید کے لیے اللہ، اس کے اسما یا صفات کی قسم کھانا۔
  3. عمر رضی اللہ عنہ کی یہ فضیلت کہ وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے احکامات کو فورا بجا لاتے، شرعی اسرار و رموز کو سمجھتے اور پرہیزگاری کی بہترین مثال پیش کرتے تھے۔
حوالہ

صحيح البخاري (8/ 132) (6647). صحيح مسلم (3/ 1266) (1646). تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، للبسام (ص684). الإلمام بشرح عمدة الأحكام، لإسماعيل الأنصاري (2/ 134).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

یہود ونصاری پر اللہ کی لعنت ہو، انہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو مسجد بنالیا

عن عائشة أم المؤمنين وعبد الله بن عباس رضي الله عنهما قالا: لَمَّا نَزَلَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَفِقَ يَطْرَحُ خَمِيصَةً لَهُ عَلَى وَجْهِهِ، فَإِذَا اغْتَمَّ بِهَا كَشَفَهَا عَنْ وَجْهِهِ، فَقَالَ وَهُوَ كَذَلِكَ: «لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى اليَهُودِ وَالنَّصَارَى، اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ» يُحَذِّرُ مَا صَنَعُوا.
عائشہ اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے، دونوں کہتے ہیں: جب اللہ کے رسول ﷺ کی وفات کا وقت آیا، تو آپ اپنی ایک چادر اپنے چہرے پر ڈالنے لگے اور جب اس سے منہ ڈھک جانے کی وجہ سے دم گھٹنے لگتا، تو اسے اپنے چہرے سے ہٹا دیتے۔ اسی (بے چینی) کی حالت میں آپ نے فرمایا : ”یہود ونصاری پر اللہ کی لعنت ہو، انہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو مسجد بنالیا“۔ (راوی کہتے ہیں کہ) آپ ﷺ اپنی امت کو یہود و نصاریٰ کے عمل سے خبردار کر رہے تھے۔
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

عائشہ اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم بتا رہے ہیں کہ جب اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے انتقال کا وقت آیا، تو آپ اپنے چہرے پر کپڑے کا ایک ٹکڑا رکھنے لگے۔ پھر جب موت کی تکلیفوں کی وجہ سے سانس لینے میں دشواری ہونے لگی، تو اسے اپنے چہرے سے ہٹا دیا۔ پھر اسی مشکل حالت میں آپ نے فرمایا : اللہ کی لعنت ہو یہودیوں اور عیسائیوں پر۔ یعنی اللہ ان کو اپنی رحمت سے دور رکھے۔ ایسا اس لیے کہ انھوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کے اوپر مسجدیں بنا ڈالیں۔ یہاں یہ یاد رہے کہ اگر قبروں کے اوپر مسجد تعمیر کرنے کا مس‏ئلہ ایک سنگین مسئلہ نہ ہوتا، تو آپ اس مشکل گھڑی میں اس کا ذکر نہ کرتے۔ اس مسئلے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ہی آپ نے اپنی امت کو یہودیوں اور عیسائیوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اس طرح کا کام کرنے سے منع کیا ہے۔ اس کام سے منع کرنے کی ایک دوسری وجہ یہ ہے کہ اس سے شرک کے دروازے کھلتے ہیں۔

فوائد
  1. نبیوں اور اللہ کے نیک بندوں کی قبروں کو مسجد بنا کر ان کے اندر اللہ کے لیے نماز پڑھنا منع ہے، کیوں کہ یہ شرک کےدروازے اور وسائل ہيں۔
  2. توحید پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی پوری توجہ اور قبروں کی تعظیم سے آپ کا ڈر، کیوں کہ یہ شرک کا دروازہ اور ذریعہ ہے۔
  3. یہودیوں، عیسائیوں اور ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے قبروں پر عمارت کھڑی کرنے والوں اور ان کو مسجد بنانے والوں پر لعنت کرنا جائز ہے۔
  4. قبروں پر عمارت بنانا یہودیوں اور عیسائیوں کا طور طریقہ ہے اور حدیث میں اس سے منع کیا گيا ہے۔
  5. قبروں کو مسجد بنانے کی ایک شکل ان کے پاس اور ان کی جانب منہ کرکے نماز پڑھنا بھی ہے، چاہے تعمیر کھڑی نہ بھی کی جائے۔
حوالہ

صحيح البخاري (1/ 95) (435)، (2/ 102) (1390). صحيح مسلم (1/ 377) (531)، (1/ 376) (529). الملخص في شرح كتاب التوحيد، للشيخ صالح الفوزان (ص170). الجديد في شرح كتاب التوحيد، لمحمد بن عبد العزيز السليمان القرعاوي (ص185).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

میں تمام شریکوں سے بڑھ کر شرک سے بے نیاز ہوں۔ جو کوئی ایسا عمل کرے، جس میں میرے ساتھ کسی دوسرے کو بھی شریک کرے، میں اس کو اور اس کے شرک کو چھوڑ دیتا ہوں

عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: أَنَا أَغْنَى الشُّرَكَاءِ عَنِ الشِّرْكِ، مَنْ عَمِلَ عَمَلًا أَشْرَكَ فِيهِ مَعِي غَيْرِي تَرَكْتُهُ وَشِرْكَهُ».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: "اللہ تعالی کا ارشاد ہے : میں تمام شریکوں سے بڑھ کر شرک سے بے نیاز ہوں۔ جو کوئی ایسا عمل کرے، جس میں میرے ساتھ کسی دوسرے کو بھی شریک کرے، میں اس کو اور اس کے شرک کو چھوڑ دیتا ہوں۔"
رواه مسلمدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ اللہ تبارک و تعالی نے فرمایا ہے کہ وہ تمام شریکوں سے زیادہ شرک سے بے نیاز ہے۔ وہ ہر چیز سے بے نیاز ہے۔ جب انسان نیکی کا کوئی کام کرتا ہے اور اسے اللہ اور غیراللہ دونوں کے لیے کرتا ہے، تو اسے اللہ قبول نہیں کرتا، بلکہ عمل کرنے والے کے منہ پر دے مارتا ہے۔ اس لیے کوئی بھی کام کرتے وقت خالص اللہ کی رضامندی کا حصول سامنے رکھنا چاہیے، کیوں کہ اللہ اسی عمل کو قبول کرتا ہے، جو خالص اسی کی رضامندی کے حصول کے لیے کیا جائے۔

فوائد
  1. اس میں تمام طرح کے شرک سے متنبہ کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ شرک عمل کی قبولیت کی راہ میں رکاوٹ بنتا ہے۔
  2. اللہ کی بے نیازی اور عظمت کا احساس عمل کے اندر اخلاص پیدا کرنے میں ممد و مددگار ہوتا ہے۔
حوالہ

صحيح مسلم (4/ 2289) (2985). شرح النووي على مسلم (18/ 115). الملخص في شرح كتاب التوحيد، لصالح الفوزان (ص287). الجديد في شرح كتاب التوحيد، لمحمد القرعاوي (ص325).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

میں اللہ تعالی کے سامنے اس چیز سے بری ہوں کہ تم میں سے کسی کو اپنا خلیل (سب سے پیارا دوست) بناؤں؛ کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنا خلیل بنایا ہے، جیسا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خلیل بنایا تھا

عن جندب رضي الله عنه قال: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ بِخَمْسٍ وَهُوَ يَقُولُ «إِنِّي أَبْرَأُ إِلَى اللهِ أَنْ يَكُونَ لِي مِنْكُمْ خَلِيلٌ فَإِنَّ اللهَ تَعَالَى قَدِ اتَّخَذَنِي خَلِيلًا كَمَا اتَّخَذَ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلًا، وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا مِنْ أُمَّتِي خَلِيلًا لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ خَلِيلًا! أَلَا وَإِنَّ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ كَانُوا يَتَّخِذُونَ قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ وَصَالِحِيهِمْ مَسَاجِدَ، أَلَا فَلَا تَتَّخِذُوا الْقُبُورَ مَسَاجِدَ! إِنِّي أَنْهَاكُمْ عَنْ ذَلِكَ».
جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو وفات سے پانچ دن پہلے کہتے ہوئے سنا: "میں اللہ تعالی کے سامنے اس چیز سے بری ہوں کہ تم میں سے کسی کو اپنا خلیل (سب سے پیارا دوست) بناؤں؛ کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنا خلیل بنایا ہے، جیسا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خلیل بنایا تھا اور اگر میں اپنی امت میں سے کسی کو اپنا خلیل بناتا، تو ابوبکر (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کو بناتا۔ خبردار! بے شک تم سے پہلے لوگ اپنے نبیوں کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا کرتے تھے۔ لہذا خبردارتم قبروں کو سجدہ گاہ نہ بنانا، میں تمھیں اس سے منع کرتا ہوں“۔
رواه مسلمدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اللہ کے یہاں اپنے مقام و مرتبہ پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ آپ محبت کے اعلی درجے پر فائز ہیں۔ آپ کو اللہ کے یہاں محبت کا وہی مقام حاصل ہے، جو ابراہیم علیہ السلام کو حاصل تھا۔ اسی لیے آپ نے اس بات کی نفی کر دی ہے کہ اللہ کے علاوہ آپ کا کوئی خلیل ہو۔ کیوں کہ آپ کا دل اللہ کی محبت، تعظیم اور معرفت سے بھرا ہوا ہے، لہذا اس میں کسی اور کے لیے کوئی جگہ نہيں ہے۔ ہاں، اگر کوئی مخلوق آپ کا خلیل ہوتا، تو یہ مقام ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حاصل ہوتا۔ پھر آپ نے محبت کے بارے میں جائز حد سے آگے بڑھنے سے متنبہ کیا، جیساکہ یہودیوں اور عیسائیوں نے اپنے نبیوں اور نیک لوگوں کی قبروں کے ساتھ کیا اور ان کو معبود بنا کر اللہ کی بجائے پوجنا شروع کر دیا اور ان کى قبروں کو سجدہ گاہ اور عبادت گاہ بنا لیا۔ آپ نے اپنی امت کو ان کے نقش قدم پر چلنے سے منع کیا۔

فوائد
  1. ابو بکر رضی اللہ عنہ کی فضیلت، ان کا افضل ترین صحابی اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی موت کے بعد آپ کی خلافت کا سب سے زیادہ مستحق ہونا۔
  2. قبروں پر مسجد تعمیر کرنا پچھلی امتوں کے غلط کاموں میں سے ایک ہے۔
  3. اس میں قبروں کو عبادت کی جگہ بناکر ان کے پاس یا ان کی جانب منہ کرکے نماز پڑھنے اور ان کے اوپر مسجد یا گنبد بنانے سے منع کیا گیا ہے، تاکہ اس کی وجہ سے کوئی شرک کا شکار نہ ہو۔
  4. اس میں نیک لوگوں کی قبروں کے بارے میں غلو سے کام لینے سے منع کیا گیا ہے، کیوں کہ یہ شرک کا سبب بنتا ہے۔
  5. اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ذریعے آگاہ کیے گئے اس کام کی خطرناکی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ آپ نے اپنی وفات سے پانچ دن پہلے اس سے بچنے کی تاکید کی ہے۔
حوالہ

صحيح مسلم (1/ 377) (532). شرح النووي على مسلم (5/ 13). الجديد في شرح كتاب التوحيد، لمحمد القرعاوي (ص188). الملخص في شرح كتاب التوحيد، لصالح الفوزان (ص172).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

اس طرح مت کہو کہ جو اللہ چاہے اور فلاں چاہے، بلکہ یہ کہو کہ جو اللہ چاہے اور اس کے بعد پھر جو فلاں چاہے۔

عَنْ حُذَيْفَةَ رضي الله عنه أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تَقُولُوا: مَا شَاءَ اللهُ وَشَاءَ فُلَانٌ، وَلَكِنْ قُولُوا: مَا شَاءَ اللهُ ثُمَّ شَاءَ فُلَانٌ».
حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "اس طرح مت کہو کہ جو اللہ چاہے اور فلاں چاہے، بلکہ یہ کہو کہ جو اللہ چاہے اور اس کے بعد پھر جو فلاں چاہے۔"
رواه أبو داود والنسائي في الكبرى وأحمددرجہصحيح بمجموع طرقه
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ ایک مسلمان دوران گفتگو "جو اللہ چاہے اور جو فلاں چاہے" کہے۔ یا اسی طرح "جو اللہ اور فلاں چاہے" کہے۔ ایسا اس لیے کہ اللہ کی مشیت اور اس کا ارادہ مطلق ہے اور اس میں اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ جب کہ عطف کے لیے "واو" کے استعمال سے اس بات کا اشارہ ملتا ہے کہ اللہ کے ساتھ کوئی شریک ہے اور دونوں برابر ہيں۔ اس لیے ایک مسلمان کو "جو اللہ چاہے اور پھر جو فلاں چاہے" کہنا چاہیے۔ اس لیے "واو" کی جگہ پر "ثم" کے استعمال سے بندے کی مشیت اللہ کی مشیت کے تابع ہو جائے گی۔ کیوں کہ "ثم" کسی کام کے کچھ دیر بعد ہونے کا فائدہ دیتا ہے۔

فوائد
  1. "جو اللہ چاہے اور آپ چاہيں" اور اس طرح دوسرے جملے، جن میں "واو" کے ذریعے اللہ پر عطف کیا گیا ہو، کہنا حرام ہے۔ کیوں کہ ایسا کہنا الفاظ و اقوال کے شرک میں آتا ہے۔
  2. "جو اللہ اور پھر آپ چاہیں" اور اس طرح کے ایسے جملے کہنا جائز ہے، جن کے اندر اللہ پر "ثم" کے ذریعے عطف کیا گیا ہو۔ کیوں کہ اس میں کوئی برائی نہيں ہے۔
  3. اللہ کی مشیت کا ثبوت اور بندے کی مشیت کا ثبوت۔ اس بات کی بھی وضاحت کہ بندے کی مشیت اللہ کی مشیت کے تابع ہے۔
  4. اللہ کی مشیت میں بندے کو شریک بنانے کی ممانعت، خواہ لفظی طور پر ہی کیوں نہ ہو۔
  5. اگر کسی نے اس طرح کا جملہ کہتے وقت اس بات کا یقین رکھا کہ بندے کی مشیت اللہ عز و جل کی مشیت ہی کی طرح عام اور مطلق ہے یا یہ کہ بندے کے پاس اللہ کی مشیت سے ہٹ کر اپنی مستقل مشیت ہوتی ہے، تو یہ شرک اکبر ہے۔ لیکن اگر اس طرح کا یقین نہ رکھا، تو شرک اصغر ہے۔
حوالہ

السنن الكبرى للنسائي (9/ 361) (10755). سنن أبي داود (7/ 334) (4980). مسند أحمد (38/ 299) (23265)، (38/ 364) (23339). الجديد في شرح كتاب التوحيد، لمحمد القرعاوي (ص368). الملخص في شرح كتاب التوحيد، لصالح الفوزان (ص329).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

میرے نزدیک غیر اللہ کی سچی قسم اٹھانے کی بہ نسبت اللہ تعالی کی جھوٹی قسم اٹھانا زیادہ بہتر ہے۔

عن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه قال: "لأن أحلف بالله كاذبًا أحب إليَّ من أن أحلف بغيره صادقًا".
عبد الله بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”میرے نزدیک غیر اللہ کی سچی قسم اٹھانے کی بہ نسبت اللہ تعالی کی جھوٹی قسم اٹھانا زیادہ بہتر ہے“۔
اسے ابنِ ابی شیبہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام عبد الرزّاق نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرما رہے ہیں کہ بالفرض اگر میں کسی ایسی بات پر اللہ کی قسم اٹھاؤں، جس میں میں جھوٹا ہوں، تو یہ مجھے اس سے زیادہ بہتر لگتا ہے کہ میں کسی ایسی شے پر غیر اللہ کی قسم اٹھاؤں جس میں میں سچا ہوں۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے اللہ کی جھوٹی قسم کو غیر اللہ کی سچی قسم پر ترجیح دی؛ کیوں کہ اس حالت میں اللہ کی قسم اٹھانے میں توحید کی نیکی اور جھوٹ کی برائی پائی جاتی ہے، جب کہ غیر اللہ کی قسم اٹھانے میں سچائی کی نیکی اور شرک کی برائی پائی جاتی ہے۔ توحید کی نیکی صدق کی نیکی سے بڑی ہے اور جھوٹ کی برائی شرک کی برائی سے کم تر ہے۔

حوالہ

كتاب التوحيد للإمام محمد بن عبد الوهاب ص252 ت: د. دغش العجمي . مكتبة أهل الأثر , الطبعة الخامسة , 1435ه الجديد في شرح كتاب التوحيد لمحمد بن عبد العزيز السليمان القرعاوي, ت: محمد بن أحمد سيد , مكتبة السوادي، الطبعة: الخامسة، 1424ه الملخص في شرح كتاب التوحيد للشيخ صالح الفوزان , دار العاصمة , الطبعة الأولى 1422ه المصنف لابن أبي شيبة, ت: كمال يوسف الحوت, مكتبة الرشد, الطبعة: الأولى، 1409 إرواء الغليل للألباني , المكتب الإسلامي , ط2, 1405ه

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

”میری تعریف میں ایسے حد سے نہ گزرو، جیسے عیسائی لوگ عیسی ابن مریم (علیہ السلام) کی تعریف میں حد سے گزر گئے۔ میں تو محض اللہ کا بندہ ہوں۔ اس لیے مجھے اللہ کا بندہ اور اس کا رسول کہو“۔

عَن عُمَرَ بنِ الخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قال: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا تُطْرُونِي كَمَا أَطْرَتِ النَّصَارَى ابْنَ مَرْيَمَ؛ فَإِنَّمَا أَنَا عَبْدُهُ، فَقُولُوا: عَبْدُ اللهِ وَرَسُولُهُ».
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو کہتے ہوئے سنا: ”میری تعریف میں ایسے حد سے نہ گزرو، جیسے عیسائی لوگ عیسی ابن مریم (علیہ السلام) کی تعریف میں حد سے گزر گئے۔ میں تو محض اللہ کا بندہ ہوں۔ اس لیے مجھے اللہ کا بندہ اور اس کا رسول کہو“۔
رواه البخاريدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اپنی تعریف میں افراط کے شکار ہونے اور شرعی حد سے آگے بڑھنے، آپ کو اللہ کے اوصاف اور اس کے خاص افعال سے متصف قرار دینے، اللہ کے بارے میں غیب کو جاننے کا دعوی کرنے اور آپ کو اللہ کے ساتھ پکارنے سے منع فرمایا ہے۔ جیسا کہ نصرانیوں نے عیسی ابن مریم علیہ السلام کے ساتھ کیا۔ پھر بتایا کہ آپ اللہ کے بندوں میں سے ایک بندہ ہیں اور اس بات کا حکم دیا کہ ہم آپ کو اللہ کا بندہ اور اس کا رسول کہیں۔

فوائد
  1. اس میں تعظیم اور مدح کے بارے میں شرعی حد سے آگے بڑھنے سے منع کیا گیا ہے، کیوں کہ یہ چیز شرک کی جانب لے جاتی ہے۔
  2. اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے جس بات سے آگاہ کیا تھا، وہ اس امت کے اندر واقع ہو ہی گئی ہے۔ چنانچہ ایک گروہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے بارے میں غلو کا شکار ہو گیا، ایک گروہ اہل بیت کے بارے میں غلو میں پڑ گیا اور ایک گروہ اولیا کے بارے میں غلو میں مبتلا ہو گیا۔ اس طرح یہ سارے لوگ شرک میں مبتلا ہوگئے۔
  3. اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے خود کو اللہ کا بندہ بتایا ہے، تاکہ یہ بتا سکیں کہ آپ کی ساری ضرورتیں اللہ پوری کرتا ہے اور آپ کو رب کی کوئی خصوصیت دینا جائز نہيں ہے۔
  4. اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے خود کو اللہ کا رسول بتایا ہے، تاکہ یہ وضاحت ہوسکے کہ آپ کو اللہ کی جانب سے بھیجا گیا ہے، لہذا آپ کی تصدیق کرنا اور آپ کی اتباع کرنا واجب ہے۔
حوالہ

صحيح البخاري (4/ 167) (3445). عمدة القاري شرح صحيح البخاري، محمود بن أحمد بدر الدين العيني (16/ 37). فتح الباري، لابن حجر (6/ 490). منار القاري شرح مختصر صحيح البخاري، حمزة محمد قاسم (4/ 208).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

قیامت کے دن میری شفاعت کی سعادت سب سے زیادہ اسے حاصل ہو گی، جس نے کلمہ «لا إله إلا الله» خلوص دل سے کہا“۔

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه أَنَّهُ قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَنْ أَسْعَدُ النَّاسِ بِشَفَاعَتِكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَقَدْ ظَنَنْتُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ أَنْ لَا يَسْأَلَنِي عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ أَحَدٌ أَوَّلُ مِنْكَ؛ لِمَا رَأَيْتُ مِنْ حِرْصِكَ عَلَى الْحَدِيثِ، أَسْعَدُ النَّاسِ بِشَفَاعَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ، مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ خَالِصًا مِنْ قَلْبِهِ أَوْ نَفْسِهِ»».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں : کسی نے کہا کہ اے اللہ کے رسول! قیامت کے دن آپ کی شفاعت کی سعادت سب سے زیادہ کسے حاصل ہوگی؟ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ”اے ابو ہریرہ! تمھاری حرصِ حدیث دیکھ کر مجھے یہ اندازہ ہوگیا تھا کہ مجھ سے یہ حدیث تم سے پہلے کوئی نہیں پوچھے گا۔ قیامت کے دن میری شفاعت کی سعادت سب سے زیادہ اسے حاصل ہو گی، جس نے کلمہ «لا إله إلا الله» خلوص دل سے کہا“۔
رواه البخاريدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ قیامت کے دن آپ کی شفاعت کا سب سے زیادہ حق دار وہ شخص ہوگا، جو خالص دل سے اس بات کی گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی برحق معبود نہیں ہے اور شرک وریاکاری جیسی چیزوں سے محفوظ رہے۔

فوائد
  1. اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے لیے آخرت میں شفاعت کا ثبوت اور یہ کہ آپ کی شفاعت صرف موحدین کو حاصل ہوگی۔
  2. آپ کی شفاعت کا مطلب ہے اللہ کے حضور آپ کا اس بات کی سفارش کرنا کہ جو موحد لوگ جہنم کے حق دار بن چکے ہيں، ان کو جہنم میں نہ ڈالا جائے اور جو داخل ہو چکے ہیں، ان کو وہاں سے نکال دیا جائے۔
  3. خالص طور پر اللہ کے لیے کہے گئے کلمۂ توحید کی فضیلت اور اس کا بڑا اثر۔
  4. کلمۂ توحید کو بروئے کار لانے کا مطلب ہے اس کے معنی کو جاننا اور اس کے تقاضوں پر عمل کرنا۔
  5. ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت اور ان کے اندر حصول علم کا شوق۔
حوالہ

صحيح البخاري (1/ 31) (99). منار القاري شرح مختصر صحيح البخاري، لحمزة محمد قاسم (1/ 197). القول المفيد على كتاب التوحيد، لابن عثيمين (1/ 343).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
42 میں سے 8
42 احادیث
  1. اللہ عز و جل تمھیں اپنے باپ دادوں کی قسم کھانے سے منع کرتا ہے
  2. یہود ونصاری پر اللہ کی لعنت ہو، انہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو مسجد بنالیا
  3. میں تمام شریکوں سے بڑھ کر شرک سے بے نیاز ہوں۔ جو کوئی ایسا عمل کرے، جس میں میرے ساتھ کسی دوسرے کو بھی شریک کرے، میں اس کو اور اس کے شرک کو چھوڑ دیتا ہوں
  4. میں اللہ تعالی کے سامنے اس چیز سے بری ہوں کہ تم میں سے کسی کو اپنا خلیل (سب سے پیارا دوست) بناؤں؛ کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنا خلیل بنایا ہے، جیسا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خلیل بنایا تھا
  5. اس طرح مت کہو کہ جو اللہ چاہے اور فلاں چاہے، بلکہ یہ کہو کہ جو اللہ چاہے اور اس کے بعد پھر جو فلاں چاہے۔
  6. میرے نزدیک غیر اللہ کی سچی قسم اٹھانے کی بہ نسبت اللہ تعالی کی جھوٹی قسم اٹھانا زیادہ بہتر ہے۔
  7. ”میری تعریف میں ایسے حد سے نہ گزرو، جیسے عیسائی لوگ عیسی ابن مریم (علیہ السلام) کی تعریف میں حد سے گزر گئے۔ میں تو محض اللہ کا بندہ ہوں۔ اس لیے مجھے اللہ کا بندہ اور اس کا رسول کہو“۔
  8. قیامت کے دن میری شفاعت کی سعادت سب سے زیادہ اسے حاصل ہو گی، جس نے کلمہ «لا إله إلا الله» خلوص دل سے کہا“۔
  9. ”جو شخص اس حال میں مرے کہ وہ اللہ کے سوا اوروں کو بھی پکارتا رہا (اللہ کا شریک و ہمسر ٹھہراتا رہا) ہو، تو وہ جہنم میں داخل گا
  10. غلو کرنے والے ہلاک ہو گئے
  11. بیماری کا ایک سے دوسرے کو لگ جانا اور بد شگونی لینا کوئی چیز نہیں۔ البتہ مجھے فال اچھی لگتی ہے"۔ صحابہ کرام نے پوچھا : فال کیا چیز ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ”اچھی بات“۔
  12. لیکن اب بتائیں کہ آپ سے کس چیز کی بیعت کریں؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ”اس بات پر کہ تم اللہ کی عبادت کرو گے، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو گے، پانچوں نمازیں ادا کرو گے اور اطاعت گزار رہو گے اور ایک جملہ آہستہ آواز میں کہا کہ لوگوں سے کچھ نہیں مانگو گے“۔
  13. جس کو فاقے میں مبتلا کیا گیا اور اس نے اپنی حالت لوگوں سے بیان کرنی شروع کردی تو ایسے شخص کا فاقہ دور نہیں کیا جائے گا لیکن اگر وہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا تو اللہ تعالیٰ جلد یا بدیر اسے رزق عطا فرمائے گا۔
  14. رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے اور آپ ﷺ نے لٹکے ہوئے مشکیزے کے دہانے سے کھڑے کھڑے پانی پیا۔ میں اٹھی اور میں نے مشکیزے کے دہانے کو کاٹ لیا۔
  15. يہود و نصاری پر اللہ کی لعنت ہو، انھوں نے اپنے انبیا کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا۔
  16. اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم ضرور اپنے سے پہلے کی امتوں کے نقش قدم پر چلوگے۔
  17. ایک شخص اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آیا، آپ سے کسی موضوع پر گفتگو کی اور اسی دوران بولا : جو اللہ چاہے اور آپ چاہیں (وہی ہوتا ہے)۔ لہذا آپ ﷺ نے فرمایا : ”کیا تم نے مجھے اللہ کے برابر بنا دیا؟ اس کے بجائے یہ کہا کرو : جو اکیلے اللہ چاہتا ہے (وہی ہوتا ہے)۔
  18. رسول اللہ ﷺ جب کسی شخص کو کسی لشکر یا سریہ کا امیر مقرر کر کے روانہ فرماتے تو اسے اللہ تعالیٰ سے ڈرنے اور اپنے مسلمان ساتھیوں کے ساتھ خیر و بھلائی کی وصیت فرماتے۔
  19. کیا میں تمہیں اس مشن پر نہ بھیجوں، جس پر مجھے رسول اللہﷺ نے بھیجا تھا؟ (آپ نے مجھے یہ ہدایت دے کر بھیجا تھا کہ) تم سے ایسا کوئی مجسمہ نہ چھوٹنے پائے، جسے تم نے مٹا نہ دیا ہو اور کوئی اسی اونچی قبر نہ چھوٹنے پائے، جسے تم نے برابر نہ کر دیا ہو۔
  20. سب سے بڑے گناہ اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانا، اللہ کی رحمت ونعمت سے مایوس ہوجانا، اس کی پوشیدہ تدبیر سے بے خوف ہو جانا۔
  21. اسے اتار دو، کیوں کہ یہ تمہاری کمزوری میں اضافہ ہی کرے گا۔ اگر اسے پہنے ہوئے تم مر گئے تو کبھی فلاح یاب نہیں ہوگے۔
  22. جس اونٹ کی گردن میں بھی تانت کا ہار (گنڈا) یا ہار ہو اسے کاٹ دیا جائے۔
  23. جس نے تعویڈ لٹکایا، اس نے شرک کیا۔
  24. جس نے (اللہ کو چھوڑ کر) کسی اور چیز سے امید لگائی، وہ اسی چیز کے سپرد کر دیا جاتا ہے۔
  25. اے رویفع! شاید تمھاری زندگی دراز ہو، لہٰذا تم لوگوں کو بتا دینا کہ جس آدمی نے اپنی ڈاڑھی میں گرہ لگائی یا تانت کا ہار پہنا اور ڈالا یا جانور کی نجاست یا ہڈی سے استنجا کیا، تو محمد (ﷺ) اس سے بری ہیں۔
  26. جس نے 'لا الہ الا اللہ' کہا اور اللہ کے سوا جن چیزوں کی پوجا کی جاتی ہے، ان کا انکار کیا، تو اس کا مال اور خون حرام ہو گیا اور اس کا حساب اللہ کے ذمہ ہے۔
  27. ”قیامت کے روز اللہ تعالیٰ سب سے ہلکے ‏عذاب کا سامنا کر رہے دوزخی سے فرمائے گا کہ اگر اس وقت تیرے پاس روئے زمین کی ساری دولت موجود ہوتی، تو کیا تو اپنے آپ کو آزاد کرانے کے لیے اسے دے دیتا؟ وہ کہے گا: ہاں۔
  28. اس ایک صحیح بات کو جِن اچک لیتا ہے اور اپنے دوست کے کان میں ایسی آواز میں ڈالتا ہے، جو مرغی کے کڑکڑانے جیسی ہوتی ہے اور یہ کاہن اس میں سو سے زیادہ جھوٹ ملا لیتے ہیں۔
  29. نبی ﷺ فالِ بد نہیں لیا کرتے تھے۔
  30. جو لوگ یہ تصویریں بناتے ہیں انھیں روزِ قیامت عذاب دیا جائے گا اور اُن سے کہا جائے گا کہ جو تم نے بنایا اس میں جان ڈالو۔
  31. فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے، جس میں کوئی کتا یا تصویر ہو"۔
  32. نہ بتوں کی قسم کھاؤ اور نہ ہی اپنے آبا و اجداد کی۔
  33. ميرے یہ دونوں نعلین (بطور نشانی) کے لے جاؤ اورجو شخص تمہیں باغ کے باہر دل کے یقین کے ساتھ ’’لا إله إلا الله‘‘ کہتا ہوا ملے اسے جنت کی بشارت دے دو.
  34. اے ابو عائشہ! تین باتیں ایسی ہیں کہ جس نے ان میں سے ایک بھی بات کہی، اس نے اللہ پر بہت بڑا جھوٹ باندھا۔
  35. زمین ساری کی ساری سجدہ گاہ ہے، سوائے قبرستان اور غسل خانے کے۔
  36. قبروں پر مت بیٹھو اور ان کی جانب منہ کرکے نماز نہ پڑھو۔
  37. بے شک نماز میں لوگوں کی گفتگو (دنیوی بات چیت) میں سے کوئی چیز درست نہیں ہے ، بلکہ نماز تو صرف تسبیح، تکبیر اور قرآن کریم پڑھنے کا نام ہے۔
  38. وہ ایسے لوگ تھے کہ اگر ان میں سے کوئی نیک بندہ (یا یہ فرمایا کہ) نیک آدمی مر جاتا، تو اس کی قبر پر مسجد بنا لیتے
  39. بندوں پر اللہ کا حق یہ ہے کہ وہ صرف اسی کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں اور بندوں کا اللہ پر حق یہ ہے کہ جو کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراتا ہو، اللہ تعالیٰ اسے عذاب نہ دے
  40. جو کسی چیز کو اللہ کے ساتھ شریک نہ کرتا ہوا مرا، وہ جنت میں داخل ہو گا، اور جو اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک ٹھہراتے ہوئے مرا، و ہ جہنم میں داخل ہو گا۔‘‘
  41. جو شخص اللہ سے اس حال میں ملے کہ وہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو تو کوئی گناہ اسے نقصان نہیں دے گا، اور جو شخص اس حال میں مرے کہ وہ اس کے ساتھ شرک کرتا ہو تو کوئی نیکی اسے فائدہ نہیں دے گی۔
  42. غیب کی کنجیاں پانچ ہیں

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com