عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "اللہ عز و جل تمھیں اپنے باپ دادوں کی قسم کھانے سے منع کرتا ہے۔" عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : اللہ کی قسم! جب سے میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو اس سے منع کرتے سنا ہے، کبھی باپ دادوں کی قسم نہیں کھائی۔ نہ جان بوجھ کر اور نہ کسی کی قسم نقل کرتے ہوئے۔
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ اللہ تعالی نے باپ دادوں کی قسم کھانے سے منع کیا ہے۔ لہذا جسے قسم کھانی ہو، وہ اللہ کی قسم کھائے۔ کسی اور کی نہیں۔ بعد ازاں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ جس دن سے انھوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو باپ دادوں کی قسم کھانے سے منع کرتے ہوئے سنا ہے، انھوں نے باپ دادوں کی قسم نہيں کھائی ہے۔ نہ جان بوجھ کر اور نہ کسی دوسرے کے ذریعے غیراللہ کی کھائی ہوئی قسم کو نقل کرتے ہوئے۔
فوائد
اللہ کے علاوہ کسی اور کی قسم کھانا حرام ہے۔ آپ نے یہاں باپ دادوں کا ذکر اس لیے کیا ہے کہ زمانۂ جاہلیت میں باپ دادوں کی قسم کھانا ایک عام بات تھی۔
عربی لفظ "الحَلِف" کے معنی ہیں، کسی بات کی تاکید کے لیے اللہ، اس کے اسما یا صفات کی قسم کھانا۔
عمر رضی اللہ عنہ کی یہ فضیلت کہ وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے احکامات کو فورا بجا لاتے، شرعی اسرار و رموز کو سمجھتے اور پرہیزگاری کی بہترین مثال پیش کرتے تھے۔
حوالہ
صحيح البخاري (8/ 132) (6647).
صحيح مسلم (3/ 1266) (1646).
تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، للبسام (ص684).
الإلمام بشرح عمدة الأحكام، لإسماعيل الأنصاري (2/ 134).
عن عائشة أم المؤمنين وعبد الله بن عباس رضي الله عنهما قالا: لَمَّا نَزَلَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَفِقَ يَطْرَحُ خَمِيصَةً لَهُ عَلَى وَجْهِهِ، فَإِذَا اغْتَمَّ بِهَا كَشَفَهَا عَنْ وَجْهِهِ، فَقَالَ وَهُوَ كَذَلِكَ: «لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى اليَهُودِ وَالنَّصَارَى، اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ» يُحَذِّرُ مَا صَنَعُوا.
عائشہ اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے، دونوں کہتے ہیں: جب اللہ کے رسول ﷺ کی وفات کا وقت آیا، تو آپ اپنی ایک چادر اپنے چہرے پر ڈالنے لگے اور جب اس سے منہ ڈھک جانے کی وجہ سے دم گھٹنے لگتا، تو اسے اپنے چہرے سے ہٹا دیتے۔ اسی (بے چینی) کی حالت میں آپ نے فرمایا : ”یہود ونصاری پر اللہ کی لعنت ہو، انہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو مسجد بنالیا“۔ (راوی کہتے ہیں کہ) آپ ﷺ اپنی امت کو یہود و نصاریٰ کے عمل سے خبردار کر رہے تھے۔
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح
عائشہ اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم بتا رہے ہیں کہ جب اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے انتقال کا وقت آیا، تو آپ اپنے چہرے پر کپڑے کا ایک ٹکڑا رکھنے لگے۔ پھر جب موت کی تکلیفوں کی وجہ سے سانس لینے میں دشواری ہونے لگی، تو اسے اپنے چہرے سے ہٹا دیا۔ پھر اسی مشکل حالت میں آپ نے فرمایا : اللہ کی لعنت ہو یہودیوں اور عیسائیوں پر۔ یعنی اللہ ان کو اپنی رحمت سے دور رکھے۔ ایسا اس لیے کہ انھوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کے اوپر مسجدیں بنا ڈالیں۔ یہاں یہ یاد رہے کہ اگر قبروں کے اوپر مسجد تعمیر کرنے کا مسئلہ ایک سنگین مسئلہ نہ ہوتا، تو آپ اس مشکل گھڑی میں اس کا ذکر نہ کرتے۔ اس مسئلے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ہی آپ نے اپنی امت کو یہودیوں اور عیسائیوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اس طرح کا کام کرنے سے منع کیا ہے۔ اس کام سے منع کرنے کی ایک دوسری وجہ یہ ہے کہ اس سے شرک کے دروازے کھلتے ہیں۔
فوائد
نبیوں اور اللہ کے نیک بندوں کی قبروں کو مسجد بنا کر ان کے اندر اللہ کے لیے نماز پڑھنا منع ہے، کیوں کہ یہ شرک کےدروازے اور وسائل ہيں۔
توحید پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی پوری توجہ اور قبروں کی تعظیم سے آپ کا ڈر، کیوں کہ یہ شرک کا دروازہ اور ذریعہ ہے۔
یہودیوں، عیسائیوں اور ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے قبروں پر عمارت کھڑی کرنے والوں اور ان کو مسجد بنانے والوں پر لعنت کرنا جائز ہے۔
قبروں پر عمارت بنانا یہودیوں اور عیسائیوں کا طور طریقہ ہے اور حدیث میں اس سے منع کیا گيا ہے۔
قبروں کو مسجد بنانے کی ایک شکل ان کے پاس اور ان کی جانب منہ کرکے نماز پڑھنا بھی ہے، چاہے تعمیر کھڑی نہ بھی کی جائے۔
حوالہ
صحيح البخاري (1/ 95) (435)، (2/ 102) (1390).
صحيح مسلم (1/ 377) (531)، (1/ 376) (529).
الملخص في شرح كتاب التوحيد، للشيخ صالح الفوزان (ص170).
الجديد في شرح كتاب التوحيد، لمحمد بن عبد العزيز السليمان القرعاوي (ص185).
عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: أَنَا أَغْنَى الشُّرَكَاءِ عَنِ الشِّرْكِ، مَنْ عَمِلَ عَمَلًا أَشْرَكَ فِيهِ مَعِي غَيْرِي تَرَكْتُهُ وَشِرْكَهُ».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: "اللہ تعالی کا ارشاد ہے : میں تمام شریکوں سے بڑھ کر شرک سے بے نیاز ہوں۔ جو کوئی ایسا عمل کرے، جس میں میرے ساتھ کسی دوسرے کو بھی شریک کرے، میں اس کو اور اس کے شرک کو چھوڑ دیتا ہوں۔"
رواه مسلمدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ اللہ تبارک و تعالی نے فرمایا ہے کہ وہ تمام شریکوں سے زیادہ شرک سے بے نیاز ہے۔ وہ ہر چیز سے بے نیاز ہے۔ جب انسان نیکی کا کوئی کام کرتا ہے اور اسے اللہ اور غیراللہ دونوں کے لیے کرتا ہے، تو اسے اللہ قبول نہیں کرتا، بلکہ عمل کرنے والے کے منہ پر دے مارتا ہے۔ اس لیے کوئی بھی کام کرتے وقت خالص اللہ کی رضامندی کا حصول سامنے رکھنا چاہیے، کیوں کہ اللہ اسی عمل کو قبول کرتا ہے، جو خالص اسی کی رضامندی کے حصول کے لیے کیا جائے۔
فوائد
اس میں تمام طرح کے شرک سے متنبہ کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ شرک عمل کی قبولیت کی راہ میں رکاوٹ بنتا ہے۔
اللہ کی بے نیازی اور عظمت کا احساس عمل کے اندر اخلاص پیدا کرنے میں ممد و مددگار ہوتا ہے۔
حوالہ
صحيح مسلم (4/ 2289) (2985).
شرح النووي على مسلم (18/ 115).
الملخص في شرح كتاب التوحيد، لصالح الفوزان (ص287).
الجديد في شرح كتاب التوحيد، لمحمد القرعاوي (ص325).
جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو وفات سے پانچ دن پہلے کہتے ہوئے سنا: "میں اللہ تعالی کے سامنے اس چیز سے بری ہوں کہ تم میں سے کسی کو اپنا خلیل (سب سے پیارا دوست) بناؤں؛ کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنا خلیل بنایا ہے، جیسا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خلیل بنایا تھا اور اگر میں اپنی امت میں سے کسی کو اپنا خلیل بناتا، تو ابوبکر (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کو بناتا۔ خبردار! بے شک تم سے پہلے لوگ اپنے نبیوں کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا کرتے تھے۔ لہذا خبردارتم قبروں کو سجدہ گاہ نہ بنانا، میں تمھیں اس سے منع کرتا ہوں“۔
رواه مسلمدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اللہ کے یہاں اپنے مقام و مرتبہ پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ آپ محبت کے اعلی درجے پر فائز ہیں۔ آپ کو اللہ کے یہاں محبت کا وہی مقام حاصل ہے، جو ابراہیم علیہ السلام کو حاصل تھا۔ اسی لیے آپ نے اس بات کی نفی کر دی ہے کہ اللہ کے علاوہ آپ کا کوئی خلیل ہو۔ کیوں کہ آپ کا دل اللہ کی محبت، تعظیم اور معرفت سے بھرا ہوا ہے، لہذا اس میں کسی اور کے لیے کوئی جگہ نہيں ہے۔ ہاں، اگر کوئی مخلوق آپ کا خلیل ہوتا، تو یہ مقام ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حاصل ہوتا۔ پھر آپ نے محبت کے بارے میں جائز حد سے آگے بڑھنے سے متنبہ کیا، جیساکہ یہودیوں اور عیسائیوں نے اپنے نبیوں اور نیک لوگوں کی قبروں کے ساتھ کیا اور ان کو معبود بنا کر اللہ کی بجائے پوجنا شروع کر دیا اور ان کى قبروں کو سجدہ گاہ اور عبادت گاہ بنا لیا۔ آپ نے اپنی امت کو ان کے نقش قدم پر چلنے سے منع کیا۔
فوائد
ابو بکر رضی اللہ عنہ کی فضیلت، ان کا افضل ترین صحابی اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی موت کے بعد آپ کی خلافت کا سب سے زیادہ مستحق ہونا۔
قبروں پر مسجد تعمیر کرنا پچھلی امتوں کے غلط کاموں میں سے ایک ہے۔
اس میں قبروں کو عبادت کی جگہ بناکر ان کے پاس یا ان کی جانب منہ کرکے نماز پڑھنے اور ان کے اوپر مسجد یا گنبد بنانے سے منع کیا گیا ہے، تاکہ اس کی وجہ سے کوئی شرک کا شکار نہ ہو۔
اس میں نیک لوگوں کی قبروں کے بارے میں غلو سے کام لینے سے منع کیا گیا ہے، کیوں کہ یہ شرک کا سبب بنتا ہے۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ذریعے آگاہ کیے گئے اس کام کی خطرناکی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ آپ نے اپنی وفات سے پانچ دن پہلے اس سے بچنے کی تاکید کی ہے۔
حوالہ
صحيح مسلم (1/ 377) (532).
شرح النووي على مسلم (5/ 13).
الجديد في شرح كتاب التوحيد، لمحمد القرعاوي (ص188).
الملخص في شرح كتاب التوحيد، لصالح الفوزان (ص172).
حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "اس طرح مت کہو کہ جو اللہ چاہے اور فلاں چاہے، بلکہ یہ کہو کہ جو اللہ چاہے اور اس کے بعد پھر جو فلاں چاہے۔"
رواه أبو داود والنسائي في الكبرى وأحمددرجہصحيح بمجموع طرقه
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ ایک مسلمان دوران گفتگو "جو اللہ چاہے اور جو فلاں چاہے" کہے۔ یا اسی طرح "جو اللہ اور فلاں چاہے" کہے۔ ایسا اس لیے کہ اللہ کی مشیت اور اس کا ارادہ مطلق ہے اور اس میں اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ جب کہ عطف کے لیے "واو" کے استعمال سے اس بات کا اشارہ ملتا ہے کہ اللہ کے ساتھ کوئی شریک ہے اور دونوں برابر ہيں۔ اس لیے ایک مسلمان کو "جو اللہ چاہے اور پھر جو فلاں چاہے" کہنا چاہیے۔ اس لیے "واو" کی جگہ پر "ثم" کے استعمال سے بندے کی مشیت اللہ کی مشیت کے تابع ہو جائے گی۔ کیوں کہ "ثم" کسی کام کے کچھ دیر بعد ہونے کا فائدہ دیتا ہے۔
فوائد
"جو اللہ چاہے اور آپ چاہيں" اور اس طرح دوسرے جملے، جن میں "واو" کے ذریعے اللہ پر عطف کیا گیا ہو، کہنا حرام ہے۔ کیوں کہ ایسا کہنا الفاظ و اقوال کے شرک میں آتا ہے۔
"جو اللہ اور پھر آپ چاہیں" اور اس طرح کے ایسے جملے کہنا جائز ہے، جن کے اندر اللہ پر "ثم" کے ذریعے عطف کیا گیا ہو۔ کیوں کہ اس میں کوئی برائی نہيں ہے۔
اللہ کی مشیت کا ثبوت اور بندے کی مشیت کا ثبوت۔ اس بات کی بھی وضاحت کہ بندے کی مشیت اللہ کی مشیت کے تابع ہے۔
اللہ کی مشیت میں بندے کو شریک بنانے کی ممانعت، خواہ لفظی طور پر ہی کیوں نہ ہو۔
اگر کسی نے اس طرح کا جملہ کہتے وقت اس بات کا یقین رکھا کہ بندے کی مشیت اللہ عز و جل کی مشیت ہی کی طرح عام اور مطلق ہے یا یہ کہ بندے کے پاس اللہ کی مشیت سے ہٹ کر اپنی مستقل مشیت ہوتی ہے، تو یہ شرک اکبر ہے۔ لیکن اگر اس طرح کا یقین نہ رکھا، تو شرک اصغر ہے۔
حوالہ
السنن الكبرى للنسائي (9/ 361) (10755).
سنن أبي داود (7/ 334) (4980).
مسند أحمد (38/ 299) (23265)، (38/ 364) (23339).
الجديد في شرح كتاب التوحيد، لمحمد القرعاوي (ص368).
الملخص في شرح كتاب التوحيد، لصالح الفوزان (ص329).
عن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه قال: "لأن أحلف بالله كاذبًا أحب إليَّ من أن أحلف بغيره صادقًا".
عبد الله بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”میرے نزدیک غیر اللہ کی سچی قسم اٹھانے کی بہ نسبت اللہ تعالی کی جھوٹی قسم اٹھانا زیادہ بہتر ہے“۔
اسے ابنِ ابی شیبہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام عبد الرزّاق نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرما رہے ہیں کہ بالفرض اگر میں کسی ایسی بات پر اللہ کی قسم اٹھاؤں، جس میں میں جھوٹا ہوں، تو یہ مجھے اس سے زیادہ بہتر لگتا ہے کہ میں کسی ایسی شے پر غیر اللہ کی قسم اٹھاؤں جس میں میں سچا ہوں۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے اللہ کی جھوٹی قسم کو غیر اللہ کی سچی قسم پر ترجیح دی؛ کیوں کہ اس حالت میں اللہ کی قسم اٹھانے میں توحید کی نیکی اور جھوٹ کی برائی پائی جاتی ہے، جب کہ غیر اللہ کی قسم اٹھانے میں سچائی کی نیکی اور شرک کی برائی پائی جاتی ہے۔ توحید کی نیکی صدق کی نیکی سے بڑی ہے اور جھوٹ کی برائی شرک کی برائی سے کم تر ہے۔
حوالہ
كتاب التوحيد للإمام محمد بن عبد الوهاب ص252 ت: د. دغش العجمي . مكتبة أهل الأثر , الطبعة الخامسة , 1435ه
الجديد في شرح كتاب التوحيد لمحمد بن عبد العزيز السليمان القرعاوي, ت: محمد بن أحمد سيد , مكتبة السوادي، الطبعة: الخامسة، 1424ه
الملخص في شرح كتاب التوحيد للشيخ صالح الفوزان , دار العاصمة , الطبعة الأولى 1422ه
المصنف لابن أبي شيبة, ت: كمال يوسف الحوت, مكتبة الرشد, الطبعة: الأولى، 1409
إرواء الغليل للألباني , المكتب الإسلامي , ط2, 1405ه
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو کہتے ہوئے سنا: ”میری تعریف میں ایسے حد سے نہ گزرو، جیسے عیسائی لوگ عیسی ابن مریم (علیہ السلام) کی تعریف میں حد سے گزر گئے۔ میں تو محض اللہ کا بندہ ہوں۔ اس لیے مجھے اللہ کا بندہ اور اس کا رسول کہو“۔
رواه البخاريدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اپنی تعریف میں افراط کے شکار ہونے اور شرعی حد سے آگے بڑھنے، آپ کو اللہ کے اوصاف اور اس کے خاص افعال سے متصف قرار دینے، اللہ کے بارے میں غیب کو جاننے کا دعوی کرنے اور آپ کو اللہ کے ساتھ پکارنے سے منع فرمایا ہے۔ جیسا کہ نصرانیوں نے عیسی ابن مریم علیہ السلام کے ساتھ کیا۔ پھر بتایا کہ آپ اللہ کے بندوں میں سے ایک بندہ ہیں اور اس بات کا حکم دیا کہ ہم آپ کو اللہ کا بندہ اور اس کا رسول کہیں۔
فوائد
اس میں تعظیم اور مدح کے بارے میں شرعی حد سے آگے بڑھنے سے منع کیا گیا ہے، کیوں کہ یہ چیز شرک کی جانب لے جاتی ہے۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے جس بات سے آگاہ کیا تھا، وہ اس امت کے اندر واقع ہو ہی گئی ہے۔ چنانچہ ایک گروہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے بارے میں غلو کا شکار ہو گیا، ایک گروہ اہل بیت کے بارے میں غلو میں پڑ گیا اور ایک گروہ اولیا کے بارے میں غلو میں مبتلا ہو گیا۔ اس طرح یہ سارے لوگ شرک میں مبتلا ہوگئے۔
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے خود کو اللہ کا بندہ بتایا ہے، تاکہ یہ بتا سکیں کہ آپ کی ساری ضرورتیں اللہ پوری کرتا ہے اور آپ کو رب کی کوئی خصوصیت دینا جائز نہيں ہے۔
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے خود کو اللہ کا رسول بتایا ہے، تاکہ یہ وضاحت ہوسکے کہ آپ کو اللہ کی جانب سے بھیجا گیا ہے، لہذا آپ کی تصدیق کرنا اور آپ کی اتباع کرنا واجب ہے۔
حوالہ
صحيح البخاري (4/ 167) (3445).
عمدة القاري شرح صحيح البخاري، محمود بن أحمد بدر الدين العيني (16/ 37).
فتح الباري، لابن حجر (6/ 490).
منار القاري شرح مختصر صحيح البخاري، حمزة محمد قاسم (4/ 208).
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں : کسی نے کہا کہ اے اللہ کے رسول! قیامت کے دن آپ کی شفاعت کی سعادت سب سے زیادہ کسے حاصل ہوگی؟ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ”اے ابو ہریرہ! تمھاری حرصِ حدیث دیکھ کر مجھے یہ اندازہ ہوگیا تھا کہ مجھ سے یہ حدیث تم سے پہلے کوئی نہیں پوچھے گا۔ قیامت کے دن میری شفاعت کی سعادت سب سے زیادہ اسے حاصل ہو گی، جس نے کلمہ «لا إله إلا الله» خلوص دل سے کہا“۔
رواه البخاريدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ قیامت کے دن آپ کی شفاعت کا سب سے زیادہ حق دار وہ شخص ہوگا، جو خالص دل سے اس بات کی گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی برحق معبود نہیں ہے اور شرک وریاکاری جیسی چیزوں سے محفوظ رہے۔
فوائد
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے لیے آخرت میں شفاعت کا ثبوت اور یہ کہ آپ کی شفاعت صرف موحدین کو حاصل ہوگی۔
آپ کی شفاعت کا مطلب ہے اللہ کے حضور آپ کا اس بات کی سفارش کرنا کہ جو موحد لوگ جہنم کے حق دار بن چکے ہيں، ان کو جہنم میں نہ ڈالا جائے اور جو داخل ہو چکے ہیں، ان کو وہاں سے نکال دیا جائے۔
خالص طور پر اللہ کے لیے کہے گئے کلمۂ توحید کی فضیلت اور اس کا بڑا اثر۔
کلمۂ توحید کو بروئے کار لانے کا مطلب ہے اس کے معنی کو جاننا اور اس کے تقاضوں پر عمل کرنا۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت اور ان کے اندر حصول علم کا شوق۔
حوالہ
صحيح البخاري (1/ 31) (99).
منار القاري شرح مختصر صحيح البخاري، لحمزة محمد قاسم (1/ 197).
القول المفيد على كتاب التوحيد، لابن عثيمين (1/ 343).
یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com