سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

قبروں پر مت بیٹھو اور ان کی جانب منہ کرکے نماز نہ پڑھو۔

عن أبي مَرْثَدٍ الغَنَوِيّ رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لَا تَجْلِسُوا عَلَى الْقُبُورِ، وَلَا تُصَلُّوا إِلَيْهَا».
ابو مَرثَد غَنَوی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "قبروں پر مت بیٹھو اور ان کی جانب منہ کرکے نماز نہ پڑھو۔"
رواه مسلمدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے قبروں کے اوپر بیٹھنے سے منع فرمایا ہے۔ اسی طرح قبروں کی جانب اس طرح منہ کرکے نماز پڑھنے سے منع کیا ہے کہ قبر نمازی کے قبلے کی جانب ہو۔ ممانعت کی وجہ یہ ہے کہ یہ شرک کا ذریعہ ہے۔

فوائد
  1. قبرستان میں، قبروں کے بیچ یا قبروں کی جانب منہ کرکے نماز پڑھنے کی ممانعت۔ البتہ جنازے کی نماز اس سے مستثنی ہے، جیسا کہ سنت سے ثابت ہے۔
  2. قبروں کی جانب منہ کرکے نماز پڑھنے سے ممانعت کی وجہ شرک کے دروازے کو بند کرنا ہے۔
  3. اسلام نے قبروں کے بارے میں غلو سے کام لینے اور ان کی بے حرمتی کرنے دونوں سے منع کیا ہے۔ یہاں نہ افراط کی گنجائش ہے، نہ تفریط کی۔
  4. مسلمان کی حرمت اس کی موت کے بعد بھی باقی رہتی ہے۔ کیوں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان ہے : "مرے ہوئے آدمی کی ہڈی کو توڑنا زندہ آدمی کی ہڈی کو توڑنے کی طرح ہے۔"
حوالہ

صحيح مسلم (2/ 668) (972). توضيح الأحكام مِن بلوغ المرام، لعبد الله البسام (2/ 30). فتح ذي الجلال والإكرام شرح بلوغ المرام، لمحمد العثيمين (1/ 522). منحة العلام في شرح بلوغ المرام، لعبد الله الفوزان (4/ 285).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
توحیدِ اُلوہیت

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com